مرد حر ڈاکٹر محمد مرسی - عالم خان

مرد حر ڈاکٹر محمد مرسی شہید کمال کا انسان تھا زندہ تھا تب بھی مغرب کی منافقت اور مسلمانوں کے آزاد اور غلام ذہنوں کی نشاندہی کرتا تھا اپنے رب کے پاس گیا تو بھی جمہوریت کے دعویداروں کے منہ پہ کالک لگا کر دنیا کے سامنے آزاد اور غلام ذہنوں کو بھی اشکارا کرگیا۔

ڈاکٹر محمد مرسی کی جیل میں شہادت نے یہ اشکار کیا کہ دنیا میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں یہ صرف مغرب کا فریب اور دھوکا ہے جو یہود اور نصاری اپنے مقاصد کے لیے مسلمانوں کے اندر غلام پیدا کرنے اور شیروں کو کاٹ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی زندہ مثال لیبیا کا معمر قذافی اور عراق کا صدام حسین ہی ہے۔ڈاکٹر محمد مرسی کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ حرمین [مکہ و مدینہ] آزاد ہوکر بھی غلاموں کی وجہ سے مقبوضہ ہیں اور بیت المقدس مقبوضہ ہوکر بھی آزاد ہے کیونکہ حرمین شریفین میں کسی نے غائبانہ نماز جنازہ تو دور کی بات ہے اجتماعی دعا کے لیے بھی ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہیں کی ہے اور بیت المقدس میں سنگینوں کے سایہ میں ڈاکٹر محمد مرسی کی نماز جنازہ پڑھائی گئی ہے۔ ڈاکٹر محمد مرسی کی شہادت نے نام نہاد مسلم حکمرانوں کی ذہنی غلامی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مذہب کے ٹھیکیداروں اور نام نہاد امت کے فکر مند اور غم خواروں مولویوں کا پردہ بھی چاک کردیا جو کل سے ایک مرد قلندر، سچے عاشق رسول [ص] اور مجاہد کی شہادت پر بالکل خاموش ہیں گویا کہ کچھ ہوا ہی نہیں .

دوسری طرف ہمارے حکمران افغانستان کے اشرف غنی سے لے کر پاکستان کے عمران خان اور اردن کے کنگ عبد اللہ تک نیلسن منڈیلا اور فیڈرل کاسترو کی موت پر تعزیتی بیان جاری کرسکتے ہیں لیکن ایک منتخب معزول مظلوم صدر ڈاکٹر محمد مرسی شہید کے حوالے سے ایک لفظ ان کی زبانوں سے نہیں نکل سکتا۔ مسلم دنیا میں ایک اردوغان ہی ہے جو روز اوّل سے عہد حاضر کے فرعون سیسی کے خلاف کھڑا ہے اور سیسی غاصب کے ساتھ نہ صرف ہر فورم پر ملاقات کرنے سے بائیکاٹ کیا ہے بلکہ ہزاروں اخوانیوں کو اپنے ملک میں پناہ بھی دی ہے اور ترکی واحد ملک ہے جس نے سرکاری سطح پر وزارت اوقاف [مذہبی امور] کی طرف سے ملک بھر میں ڈاکٹر محمد مرسی شہید کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان کیا ہے، ایک وقت تھا بعض نادان “پاکستانی اردوغان” کے نعرے لگاتے تھے میرے خیال میں اب وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ اردوغان جیسا کوئی نہیں اردوغان بننے کے لیے پہاڑوں جیسے دل گردے کی ضرورت ہے۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.