حقوق نسواں؛ حقیقت یا فراڈ - رانا اورنگزیب رنگا

مغربی دنیا میں حقوق نسواں کی تحریک انیسویں صدی میں فرانسیسی سرزمین سے شروع ہوئی، جسے Feminism یا ’نسائیت‘ کا نام دیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد خواتین کو سماجی حقوق کے ساتھ ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے یعنی ووٹ ڈالنے کا حق دلوانا تھا۔ نسائیت کی تحریک کے مقاصد میں عورتوں کے لیے حقِ رائے دہی، مساوات، عورتوں کی ضروریات، حقِ وراثت، آزادیٴ رائے، خود کفالت اور آزاد خیالی کے ساتھ ساتھ خانگی ایذا یا گھریلو تشدد اور آبروریزی سے تحفظ وغیرہ بھی شامل ہیں

مغربی معاشروں میں سیاسی سطح پر خواتین کو ان میں سے بہت سے حقوق دلوانے کے لیے حقوق نسواں کی علم بردار تنظیموں اور سرگرم افراد کی کوششیں کافی حد تک رنگ لائیں اور مذکورہ حقوق میں سے بیشتر مغربی عورتوں کو رفتہ رفتہ مل ہی گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ مغربی معاشروں میں زندگی کے بہت سے شعبوں میں اب بھی خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق اور مقام حاصل نہیں ہے تاہم آزادیٴ رائے، تعلیم، خود کفالت اور گھریلو تشدد وغیرہ کے خلاف قانونی تحفظ جیسے حقوق انہیں حاصل ہو گئے۔

مگر کیا ان تمام کوششوں اور کاوشوں نے مغربی معاشرے میں عورت کو واقعی کوئی اعليٰ مقام دیا ؟
آئیں!
مشرقی معاشرے اور عورت کےبارے میں اسلامی روایات کا جائزہ لینے سے پہلے مغرب میں عورت کے مقام کو دیکھتے ہیں جس کے بارے میں ہمارے ذہنی غلام دن رات شوروغل کرتے ہیں اور پاکستانی معاشرے میں عورت کو اس آزادی کی ترغیب دیتے ہیں۔
چلیں پہلے ذرا مغربی معاشروں اور قدیم تہزیبوں میں عورت کے مقام کا جائزہ لیتے ہیں
مغرب جو آج عورت کی آزادی، عظمت اور معاشرے میں اس کو مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتاہے۔
لیکن اس معاشرے نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو سبوتاژ کیا، اور عورت کو اپنی محکومہ اور مملوکہ بنا کر رکھا۔

یونانی معاشرے میں عورت کی حیثیت
یونان جو فلسفے میں آج بھی دنیا میں مشہور ہے اس کی تاریخ میں مرد نے عورت کو صرف اپنی نفسانی تسکین و مسرت کا ذریعہ اور آلہ کار سمجھا، یونانیوں کے نزدیک عورت ’’شجرۃ مسمومۃ‘‘ ایک زہر آلود درخت اور ’’رجس من عمل الشيطان‘‘ کے مطابق عورت شیطان سے زیادہ ناپاک سمجھی جاتی تھی، ایک عام خیال یہ بھی تھا کہ وہ فطرتًا مرد سے زیادہ معیوب، حاسد، بدکردار، آوارہ اور بدگفتار ہوتی ہے۔

رومی تہذیب میں عورت کی حیثیت
رومن قوم یورپ میں ایک عظیم الشان روایت کی حامل قوم تھی، جس کو قانون سازی میں وہی امتیاز حاصل ہے جو یونان کو فلسفہ میں، حتی کہ رومن قانون آج بھی دنیا کے مختلف ممالک کے قوانین کا سنگِ بنیاد ہے، اس اعلیٰ ترین قانون میں عورت کی حیثیت پست و کمزور تھی اور ان کا عقیدہ تھا کہ ’’عورت کے لیے کوئی روح نہیں بلکہ وہ عذاب کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ عورت شادی کے بعد شوہر کی زرخرید غلام ہو جاتی تھی، عورت کسی بھی عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتی تھی، گویا کہ تمام بنیادی حقوق سے اس کو محروم رکھا گیا تھا۔

فارسی تہذیب میں عورت کی حیثیت
فارس کی تہذیب بہت پرانی ہے، یہاں بھی عورت کی وہی زبوں حالی تھی، باپ کا بیٹی اور بھائی کا بہن کو اپنی زوجیت میں لینا وہاں کوئی غیر موزوں بات نہ سمجھی جاتی تھی، شوہر اپنی بیوی پر موت کا حکم لگا سکتا تھا، اسے اپنی عیش و عشرت کیلئے استعمال کرنا وہاں کےبادشاہوں اور صاحب ثروت کا محبوب مشغلہ تھا۔

ہندی معاشرہ میں عورت کی حیثیت
دنیا کے قدیم ترین ممالک میں ہندوستانی معاشرہ بھی شامل ہے۔ ہندوؤں نے اس صنف نازک پر جس طرح ظلم روا رکھے ہیں اور اس کو جس طرح ذلیل و خوار کیا اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ ویدوں کے احکام کے مطابق عورتیں مذہبی کتاب کو چھو نہیں سکتیں، شوہر کے مرجانے کے بعد عورت کو معاشرے میں زندہ رہنے کا حق نہیں تھا اس کو بھی خاوند کے ساتھ زندہ جلادیا جاتا تھا. ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں درج کیا ہے کہ جنگل میں دو جوان آدمی فوت ہوۓ جب انکی چتا تیار ہوئ تو گھوڑوں پر سوار دو جوان اور خوبصورت عورتوں کو لایا گیا انکو رشتہ دار مردو خواتین کی طرف سے دعائیں اور پیغامات دئیے گئے پھر انکو بھی انکے شوہروں کے ساتھ زندہ جلا دیا گیا۔

ویسٹرمارک (westermark) اپنی کتاب waves of the history of Hindus میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی متبرک بت کو چھولے تو اس بت کی الوہیت اور تقدس تباہ ہو جاتا ہے لہٰذا اس کو پھینک دینا چاہیے۔

عورتوں کو محکومیت اور غلامی کا درجہ دیا گیا تھا، بعض فرقوں نے عورتوں کی یہاں تک بے عزتی کی تھی کہ نہ صرف یہ کہ بیوی اور ماں، بہن، بیٹی میں کوئی فرق باقی نہ رہ گیا تھا، بلکہ وہ اس حرکت مذمومہ کو ذریعہ نجات تصور کرتے تھے۔
(ڈاکٹر علی جمعہ، مفتی جمہوریہ مصر العربیہ، المرأۃ بین انصاف الاسلام و شبھات الآخر)

عیسائی معاشرہ میں عورت کی حیثیت
عیسائیوں میں رہبانیت کی تعلیم کا اثر یہ ہوا کہ عیسائی عورت کو قابلِ نفرت سمجھنے لگے، اس پر طرح طرح کے مظالم ڈھانے لگے، عورت کے وجود کو تسلیم کرنا بھی اُن کے نزدیک گناہ سمجھا جانے لگا۔ حتی کہ 576ء میں فرانسیسیوں نے ایک کانفرنس اس مسئلہ کے حل کے لئے منعقد کی کہ عورت میں روح ہے یا نہیں، ایک پادری نے یہاں تک سوال کیا کہ عورت کا شمار بنی نوع انسان میں بھی ہے یا نہیں؟

خود اس نے عورتوں کو انسانوں میں شامل کرنے سے انکار کردیا، آخر کار اس کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ عورت صنف انسانی سے تعلق رکھتی ہے مگر صرف اس دنیاوی زندگی میں مرد کی خدمت کرنے کے لیے اور قیامت کے روز تمام عورتیں غیر جنس جانداروں کی شکل میں ظاہر ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا گھر کوئی نہیں - منزہ ذوالفقار

عرب معاشرے میں عورت پر روا رکھے جانے والے ظلم کا تذکرہ بعد میں ہوگا۔
فی الحال مغربی معاشرے میں عورت کو ملنے والی آزادی کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا ہزاروں سال پرانی تہزیبوں میں جو عورت کو سمجھا جاتا تھا وہ آج کے ترقی یافتہ یورپ میں جاری ہے یا مغربی معاشرہ اس ظلم کو ختم کرنے میں کامیاب ہو چکا.

مغرب نے عورت کو آزادی دی ہے۔جیسے ہی بچی سولہ سال کی ہوئ اس کو کہہ دیا کہ تم آزاد ہو خود مختار ہو۔تم چاہو تو بار میں شرابی مردوں کو پیگ بنا کے دو۔چاہو تو کلب میں ناچو۔سیاحوں کے ساتھ ہوٹلوں میں رات گزارو۔تم چاہو تو کسی جنرل سٹور میں سیلزگرل بن جاٶ۔مگر اپنا خرچ خود اٹھاؤ۔ کوئی سیکولر لبرل کوئی کاٹھا انگریز کوئی حقوق نسواں کا علمبردار بتانا پسند کرے گا کہ کتنے فیصد لڑکیاں اپنی تعلیم کے دوان اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے کون کون سے پیشے اپناتی ہیں؟

مغرب میں عورت سب سے زیادہ پیسہ کس کام میں کماتی ہے؟
عورت مغرب میں پہلے بھی دل بہلانے کی چیز تھی آج بھی دل بہلانے کی چیز ہی ہے۔ پہلے مرد اس کی مرضی کے خلاف سب کرتا تھا آج بھی اس کی مرضی کے خلاف ہی سب ہوتا ہے، فرق اتنا ہے کہ پہلے زبردستی بستر پر لائی جاتی تھی، آج وہ خود مجبور ہوکے جاتی ہے۔ مغربی معاشرے نے اتنی چکا چوند پیدا کی کہ عورت کی آنکھیں سچائی دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہیں۔پہلے وہ خاوند کے ساتھ اپنی مرضی سے ہاتھ بٹاتی اب مجبور ہوکے مرد کے برابر کھڑی ہے۔

پہلے وہ کچھ دیر آرام بھی کرتی تھی، مرضی ہوئی تو کام کر لیا، نہ ہوئی تو آرام کر لیا مگر بیچاری کو ورکنگ وومین کا خطاب دے کے آٹھ گھنٹے کی پابند کر دیا۔ بہت سے نابغے کہتے ہیں کہ عورت اپنی کمائی اپنی مرضی سے خرچ کر سکتی ہے مان لیا مگر کہاں خرچ کرتی ہے اور کس لیے؟

چلیں ایک پھر مغربی جدید معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں۔امریکن یورپین زرائع ابلاغ جو ہمارے روشن خیالوں کے نزدیک صحیفوں کا درجہ رکھتے ہیں کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے 155ممالک میں خواتین پر تشدد ہورہا ہے ، جن میں گھریلو تشدد سرفہرست ہے۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں عورتوں کی موت اور معذوری کا بڑا سبب گھریلو تشدد ہے۔ وہاں عورتوں کی بڑی تعداد اپنے سابقہ اور موجودہ شوہروں کے ہاتھوں قتل کر دی جاتی ہے۔وہ عورتیں جن کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ان کی عمریں 16 سے 44 کے درمیان ہوتی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سال بھر میں تقریباً سات لاکھ واقعات گھریلو تشدد کے رونما ہوئے، جبکہ گینگ ریپ اور اغوا کے کیسز اس کے علاوہ ہیں۔اسپین میں عورتوں کی بڑی تعدادگھریلو تشدد کاشکار ہے۔ جنوبی افریقہ میں اکثر مرد اپنی عورتوں کو تشدد کے بعد گولی مارکر ہلاک کر دیتے ہیں۔ روس میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ابتری کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ روسی حکومت نے خودیہ بات تسلیم کی ہے کہ صرف1999ء میں تقریباً چودہ ہزار خواتین اپنے ہی خاندان کے مردوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوئیں۔

بھارت دنیا کا ایک بڑا سیکولر ملک ہے، وہاں ہر 24 منٹ بعد کسی نہ کسی عورت کو پیٹا جاتا ہے، ہر 34 منٹ بعد کسی نہ کسی کا ریپ ، ہر 34 منٹ بعد کسی نہ کسی عورت کو اغوا کیا جاتا ہے، جبکہ ہر 93 منٹ بعدکسی نہ کسی عورت کو کم جہیز لانے پرجلا کر مار دیاجاتا ہے۔

یہ ان ممالک کی حالت زار ہے جو حقوق نسواں کے علمبردارسمجھے جاتے ہیں۔دن رات آزادی نسواں اور مساوات کا ڈھنڈورا پیٹتے ،اسلام کی مقدس تعلیمات و اقدار کو خواتین کے حقوق کے منافی قرار دیتے ،مشرقی معاشرے میں خواتین کی حالت زار پر دل گرفتہ نظر آتے اورمشرقی خواتین کی معاشی ترقی وآزادی کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔لیکن اگر ہم اعداد وشمار کی روشنی میں جائزہ لیں کہ حقوق نسواں کے علمبردار معاشرے نے عورت کوکیا ترقی دی ؟کتنی وزیر اعظم یا صدر بنیں؟اور کتنوں کو دیگر بڑے مناصب عطاہوئے ؟توایسی عورتوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ان گنی چنی عورتوں کو مناصب دینے کے نام پر لاکھوں خواتین کو بڑی بے دردی سے گھسیٹ کر سڑکوں ،بازاروں ،چوراہوں پر لایاگیا اور مردوں کی تسکین ہوس کے لیے عورت کے جسم کو ہوٹلوں ،کاؤنٹروں اوردکانوں پر سجایا گیا، جہاں ہر دم وہ ہوس زادوں کی غلیظ نظروں سے پامال ہوتی ہیں۔

معاش کا اضافی بوجھ اٹھانے کے باوجودبھی مغر بی خاتون آج بھی گھریلو ذمہ داریوں سے آزادنہیں ، ستم بالائے ستم مساوات کے علمبردار وں کے ہاں آج بھی عورت کی محنت کا معاوضہ مرد کے مقابلے میں کم ہے ،اور تمام گھٹیا اور نچلے درجے کے کام ہوٹلوں میں ویٹر ، مسافروں کے کمروں کی صفائی ،چادریں بدلنا،روم اٹینڈنٹ کی تمام ذمہ دارریاں حواء کی بیٹی انجام دیتی ہے ، جہاں نام نہاد حقوق نسواں کے چمپئین ،مساوات اورآزادی نسواں کے علمبردار بنت حواء کا تقدس پامال کرتے ہیں جسے ہمارا میڈیا اور نام نہاد روشن خیال طبقہ ترقی اور آزادی کا نام دیتے نہیں تھکتا۔

یہ کیسی روشن خیالی ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے۔ یہ کیسے حقوق نسواں ہیں؟

رات کے 2 بجنے والے ہیں، سونے کی کوشش کر رہا ہوں، مگر نیند آ کے نہیں دے رہی۔ دل میں وسوسے ہیں، ذہن پریشان، خیالات منتشر ہیں۔ سوچیں گڈمڈ ہو رہی ہیں۔ اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل سوچتا ہوں، آنے والے کل کی تصوراتی تصویر بناتا ہوں بگاڑتا ہوں، پھر سے نئے رنگ بھرتا ہوں مگر جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ ہر رنگ میں مجھے ڈرا رہی ہے۔ آنے والے کل کا پاکستان مجھے کاٹنے کو دوڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کا مسئلہ، مرد و خواتین کیا کریں؟ محمد عامر خاکوانی

آج ایک تصویر دیکھی تصویر میں نوجوان لڑکی کا لاشہ ہے جو خون میں لت پت اوندھا پڑا ہے۔ پہلے تو میں نے سوچا شاید برما کے بت پرستوں کا ظلم ہے، پھر خیال آیا شاید شام کی کوئی بدنصیب لڑکی اندھی گولیوں کا شکار ہوگئی۔ پھر مجھے داعش کے ظالموں کا خیال آیا کہ کہیں انہوں نے کسی کے کلیجے کے ٹکڑے کو ذبح کردیا۔ پھر جب میں نے تفصیل دیکھی تو علم ہوا کہ یہ تو پاکستان کی بیٹی کی تصویر ہے، جو قلندر کی سرزمین میں کھیل کے جوان ہوئی۔ جس کا باپ قادر خاصخیلی ایک غریب ابن غریب ابن غریب ہے۔ بچی کا نام تانیہ خاصخیلی معلوم ہوا۔ اس کومارنے والا کوئی مذہبی شدت پسند نہیں تھا، نہ طالبان میں سے نہ داعش میں سے۔ ہنستی بستی بچی کو مارنے والا کوئی برما کا بت پرست تھا نہ شام کا شر پسند۔

یہ ضلع جامشورو ہے، یہ شاہوں کی بستی ہے۔ یہاں کا ایک شاہ سندھ کا وزیراعلیٰ ہے یعنی اپنے تئیں مکمل شاہ ہے۔ یہ لڑکی اسی شاہ کے حلقے کی رہنے والی اور ایک دیہاڑی دار مزدور کی بیٹی بتائی جاتی ہے، گاؤں کا نام جھنگارا ہے، یہ وہی علاقہ ہے جہاں آج بھی بھٹو زندہ ہے، اور جہاں قانون کو مرے صدیاں بیت چکی ہیں۔
بھٹو بھی زندہ ہو اور قانون بھی زندہ رہے چہ معنی دارد؟
جہاں جہاں بھٹو زندہ ہے، وہاں وہاں قانون فوت شدہ ہے، شاہ رخ جتوئی کا تعلق بھی زندہ بھٹو کی سرزمین سے ہی ہے۔ تانیہ کو مارنے والا بھی زندہ بھٹو کے زیرسایہ پرورش پا رہا ہے۔ شنید ہے کہ کئی دن بعد شاہ مراد علی شاہ سرکار لڑکی کے گھر پہنچے ہیں، امید واثق ہے کہ وارثین بھی شاہ صاحب کی کرامت سے متاثر ہو کر حضرت شاہ مراد سائیں کے مستند مرید ہو چکے ہوں گے، اور حضرت کی پکی ٹھکی شاہی پر ایمان کامل لا کے چند ہزار میں اپنی بچی کا خون قاتل کو شیر مادر کی طرح بخش چکے ہوں گے، اگر نہ بخشیں گے تو پھر زندہ بھٹو کے مردہ قانون کی بدروح کسی تھانیدار کی وردی پہن کے سارے خاندان کو بلائے ناگہانی کی طرح چمٹ جائے گی اور سو چھتر اور سوپیاز کھانے کے بعد ٹوٹی ہڈیوں تارتار عزت کے ساتھ صلح نامے پر دستخط و انگوٹھا لگوا کے چھوڑے گی۔

سید مراد علی شاہ کا راتب خور پالتو وڈیرہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے ہنستا مسکراتا کسی فائیوسٹار ہسپتال میں مجرا دیکھ رہا ہوگا۔ تانیہ کا قصور تھا وڈیرے کو انکار کرنا۔ یہ پاک سر زمین دنیا کے نقشے پر واقعی جنت ارضی ہے مگر وڈیروں جاگیرداروں سیاست دانوں طاقتوروں لٹیروں کیلئے اور جہنم زار ہے مزدوروں مفلسوں کمزوروں غریبوں کے لیے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ آج تک کسی غریب نے اپنی مادروطن سے غداری نہیں کی۔ وطن کے لیے جان دینے کو اپنا ایمان سمجھا۔ کوئی غریب کہیں پر بھی آپ کو قانون توڑتا نظر نہیں آئے گا ہاں مگر قانون غریب اور کمزور کو توڑتا آپ مملکت خداداد میں چوبیس سات دیکھ سکتے ہیں۔

کسی عاصمہ جہانگیر، کسی شرمین چنائے، کسی حقوق نسواں کی علمبردار این جی او کو توفیق نہیں ہوئی کہ تانیہ کے لیے اخباری بیان ہی جاری کر دیں. ہاں! کوئی غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا اگر اپنے تحفظ میں یا غلطی سے کسی کی جان لے بیٹھے تو پھر پولیس قانون این جی اوز اور موم بتی مافیا سمیت سینکڑوں جھینگر کونے کھدروں سے نکل کے چیختے نظر آئیں گے۔ جو قانون تانیہ کے قاتل وڈیرے کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا، اگر خدانخواستہ تانیہ کے کسی اپنے نے اس وڈیرے سے بدلہ لے لیا، تو فوراً حق نمک ادا کرتے ہوئے اس کو جعلی مقابلے میں مارنے کی کوشش کی جائے گی۔ سندھ میں بیٹھی سرکاروں سے دبئی والی سرکار تک، سب ہی بھاگم بھاگ وڈیرے کے دراقدس پر سلامی دیں گے اور غریب کو جرات و جسارت کا مزہ چکھانے میں یک زبان ہوکے عزم کرتے نظر آئیں گے۔

کمزور کو جینے کا کوئی حق نہیں، یہی جنگل کا قانون ہے، یہی سمندر کا قانون ہے، اور یہی پاکستان کا قانون ہے۔کمزوروں کو اگر جینا ہے تو طاقت کی غلامی کرتے ہوئے جینا ہوگا، کیونکہ طاقتور ہی اس ملک کے مالک ہیں، حاکم ہیں۔ اس لیے ملک پاکستان میں بسنے والے کمزورو یا تو یہ ملک چھوڑ دو یا پھر اپنی زبانوں پر تالے لگاؤ۔ تمہارے مالک چاہیں تمہارے بچے کھا جائیں چاہیں تو تم کو زندہ رکھیں چاہیں تو تم کو لاش میں تبدیل کر دیں۔

خبردار! یہ وڈیرے جاگیردار وڈے شاہ تے نکے شاہ وزیروں ممبران اسمبلی سیاستدان جو کہ تمہارے اصل مالک ہیں ان کے خلاف تم کسی قانون کے پاس نہیں جاسکتے۔ قانونی فرشتوں کی طاقت پرواز انکی بلندوبالا حویلیوں جاگیروں تک نہیں۔ابھی پاکستان کی کسی سٹیل مل کسی فونڈری نے ایسا لوہا نہیں بنایا کہ جس کی ہتھکڑی ان کے ہاتھوں تک پہنچے ابھی ایسی کوئی جیوٹ مل نہیں بنی کہ جس کا رسا ان کی گردن تک پہنچے۔ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں مگر اتنے بھی لمبے نہیں کہ شاہوں کے گریبان کو چھو بھی سکیں۔