ہوم << خاندانی تعلقات کی استواری - بشری تسنیم

خاندانی تعلقات کی استواری - بشری تسنیم

اللہ رب العالمین نے خاتم النبیین ﷺ پہ کتاب اُتاری جو ھُدًی للعٰلمین ہے اور اس میں کائنا ت کے بارے میں بے شمار آیات اُتاریںاور عقل والوں کے لیے اس میں غور وفکر کی دعوت ہے۔ ارض وسما کی ہر شے اللہ تعالیٰ سے رابطے کا ذریعہ ہے ۔ قرآن پاک میں جابجا آیات الٰہی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ عقل وخرد رکھنے والے آثار کائنات پر غور کرکے توحید کا اقرار کریں۔ اس کو وحدہ لاشریک تسلیم کریں اور اس کے حقیقی بندے بن جائیں۔ سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور وہی ہے جس نے دوسمندروں کو ملا رکھا ہے۔ ایک لذیذ شیریں اور دوسرا تلخ وشور، اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔‘‘(آیت ۵۳)
اس آیت کی تشریح میں تفہیم القرآن جلد سوم حاشیہ۲۸ میں مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آکر گرتاہے۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس قائم رکھتاہے۔
ترکی امیر البحر سیدی علی ریئس(کاتب والی) اپنی کتاب مرأۃ الممالک میں جو سولہویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے،خلیج فارس کے اندر ایسے مقام کی نشان دہی کرتاہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لئے پینے کا پانی حاصل کرتا رہاہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کاکام شروع کیا تو ابتداً وہ خلیج فارس کے انہی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی۔ بعدمیں ظہران کے پاس کنویں کھود لیے گئے اوران سے پانی لیاجانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہہ میں آبِ شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ وقت پہلے تک پینے کاپانی حاصل کرتے رہے ہیں۔
یہ تو ہے آیت کا ظاہری مضمون، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے سے اس کے الٰہ واحد اورربِ واحد ہونے پر استدلال کررہاہے۔ مگر اس کے بین السطورسے بھی ایک لطیف اشارہ ایک دوسرے مضمون کی طرف نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے کا سمندر خواہ کتنا ہی تلخ وشورہوجائے اللہ تعالیٰ جب چاہے اس کی تہہ سے ایک جماعت صالحہ کا چشمہ شیریں نکال سکتاہے اور سمندر کے آبِ تلخ کی موجیں خواہ کتنا ہی زورمارلیں وہ اس میٹھے چشمے کو ہڑپ کرجانے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں(تفہیم القرآن، ج سوم،ص۴۵۸)
اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہرچیز کا جوڑا بنایا ہے۔ جوڑا بنانے میں بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ ایک حقیقت تو نرومادہ کے جوڑے سے پیدائش کا تسلسل بنایا۔ ذی روح مخلوق ہو نباتات ان کے جوڑے مسلمہ حقیقت ہیں۔ اس کے علاوہ پہچان کے لئے، غوروفکر کے لئے او ر بہت سی پوشیدہ مصلحتوں کے تحت کائنات میں ہرطرف تزویج کا عمل جاری وساری ہے کہ یکتا وتنہا صرف رب العالمین کی ذات ہے۔
دن رات، دھوپ چھائوں، گرمی سردی،غم خوشی، اندھیرااجالا، صحت بیماری غرض ہر معاملے میں دوطرح کا احساس نمایاں ہے۔ اسی طرح دریائوں کا پانی میٹھا بنایا۔ سمندروں کا پانی کھارا بنایا اور اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ کھاری پانی کے طویل وعریض سمندر میں میٹھے پانی کے چشمے جاری کردیے۔ بظاہر پانی ایک جیسا نظرآتاہے، مگر دونوں کے درمیان ایک نظرنہ آنے والا پردہ حائل ہے۔ ایک اورنظام جو سمندروں کے حوالے سے ازل سے چل رہاہے وہ یہ ہے کہ اسی کھاری اوربھاری پانی کو ہوائیں اُڑا کر لے جاتی ہیں جو کہ میٹھا اور ہلکا ہوتاہے۔ یہ پانی بارش کی شکل میں جہاں اللہ اپنی مرضی سے چاہتاہے برساتاہے اوریہی پانی ندی نالوں، چشموں، دریائوں سے ہوتا ہوا دوبارہ سمندرمیں ضم ہوجاتاہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہ کارندے اپنے کام میں مستعد ہیں اور جب تک مالک کا حکم ہوگا اپنے فرض سے عہدہ برآ ہوتے رہیں گے اور اس میٹھے اور کھاری پانی کا دائرہ چلتارہے گا۔ اب تو کھاری پانی کو عام استعمال کے لئے حتیٰ کہ گھروں او رکھیتوں میں روزمرہ کے استعمال کے لئے صاف کرنے کے انتظام ہونے لگے ہیں۔ تلخ او رکھاری پانی کو میٹھابنانے کے لیے پلانٹ لگائے جاتے ہیں۔ انسانی دماغ وقت، محنت ، مشقت اوربہت کچھ قربان کرکے تلخ کو شیریں بنانے میں کامیاب ہوہی جاتاہے۔ جب کائنات انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہے تو مسخر کرنے کے لئے عقل اور وسائل بھی مہیا کیے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان کی مذکور پہلی آیت کے بعد فرمایا، اللہ تعالیٰ کی ہر آیت کا تعلق او رنسبت ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، ہر آیت دوسری آیت کا مفہوم واضح کرتی ہے:
’’اور وہ ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے۔ تیرا رب بڑی ہی قدر ت والا ہے۔‘‘(الفرقان۲۵:۵۴)
یہ اسی کی قدرت ہے کہ دونوں کی یکجائی کے نتیجے میں نسب کا سلسلہ بنتا ہے اور یہ دائرہ چلتا رہتاہے۔ ا س کی تشریح میں مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:’’یعنی بجائے خود یہی کرشمہ کیا کم تھا کہ وہ ایک حقیر پانی کی بوندسے انسان میں حیرت انگیز مخلوق بنا کھڑی کرتاہے مگر اس پر مزید کرشمہ یہ ہے کہ اس نے انسان کا بھی ایک نہیں بلکہ دونمونے (عورت اورمرد)بنائے جو انسانیت میں یکساں مگر جسمانی ونفسانی خصوصیات میں نہایت مختلف ہیں، اور اس اختلاف کی وجہ سے باہم مخالف ومتضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کا پوراجوڑ ہیں اورپھر ان جوڑوں کوملا کر وہ عجیب توازن کے ساتھ(جس میں کسی دوسرے کی تدبیر کا ادنیٰ دخل بھی نہیں ہے)دنیا میں مرد بھی پیدا کررہاہے اور عورتیں بھی، جن سے سلسلہ تعلقات بیٹوں اورپوتوں کا چلتا ہے۔ جو دوسرے گھروں سے بہوئیں لاتے ہیں اور ایک دوسرا سلسلہ تعلقات بیٹیوں اورنواسیوں کا چلتاہے جو دوسرے گھر میں بہو ئیں بن کرجاتی ہیں۔اس طرح خاندان جڑکر پورے ملک ایک نسل اورایک تمدن سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔
یہاں بھی ایک لطیف اشارہ اس مضمون کی طرف ہے کہ سارے کارخانۂ حیات میں جو حکمت کام کررہی ہے اس کا اندازِ کار ہی کچھ ایسا ہے کہ یہاں اختلاف اورپھر مختلفین کے جوڑسے ہی سارے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ لہٰذا(اے انسانو!)جس اختلاف سے تم دوچار ہو، اس سے گھبرائونہیں یہ بھی ایک نتیجہ خیز چیز ہے۔(تفہیم القرآن، حصہ سوم،ص۴۵۹)
آدمؑ وحواؑ بحیثیت انسان ایک مخلوق ہے مگر دونوں میں اختلاف بھی ہے۔ دونوں میں جسمانی ونفسانی اختلاف ایک دوسرے کا تتمہ ہے۔
اسی طرح انسانی دل کو مختلف قسم کے احساسات سے آشنا کردیا۔ قلب جس میں انقلاب، تبدیلی، مسلسل حرکت کی خاصیت ہے۔منفی ومثبت سوچوں سے جذبات واحساسات سے دوچار رہتاہے۔ قلب میں انقلاب پوشیدہ ہے۔ اس کی ماہیت ہی تبدیل ہوتے رہنا ہے اوراس کی حرکت ہی انسان کی زندگی کی علامت ہے۔ ایک انسان کے اسی ایک دل میں نہ جانے کب میٹھے جذبات کھاری پن میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے کہ ہم اپنے دل کی کیفیات کو آن کی آن تبدیل ہوتا محسوس کرتے ہیں۔کچھ چہرے،کچھ مقام ہمارے دل کو بھاتے ہیں۔ اسی لمحے اگر ناپسند چہرے اورمقام آجائیں تو دل میں انقباض پیدا ہوتاہے۔کچھ کام ہم دل کی پوری آمادگی سے کرتے ہیں اورکچھ بادل نخواستہ۔ کچھ معاملات پیش آنے پر ہمارا دل رنجیدہ ہوتاہے اور ہم ہی ہوتے ہیں جو اپنے اسی رنجیدہ دل میں کچھ معاملات میں راحت وخوشی محسوس کرتے ہیں۔
چونکہ کائنات میں ہر چیز جوڑا یعنی اصولِ تزویج پہ بنائی گئی ہے اسی لیے سلطنت کائنات میں قانونِ طبعی کے ساتھ ساتھ قانونِ اخلاق بھی کارفرما ہے۔ چونکہ فطرت خود عدل پر قائم کی گئی ہے اس لئے تقاضا کرتی ہے کہ ہر جگہ عدل ہو، اور توازن دراصل عدل ہی کا دوسرا نام ہے۔ اور توازن کسی بھی عمل اور چیز کو حُسن بخشتا ہے۔ تزویج میں تضاد واختلاف ہونا، حقیقت میں تکمیل ہونا ہے۔ کائنات ہویا انسانی اخلاق، توازن حاصل کرنے اور چیزوں کی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ تضاد اور اختلاف ہی ہے۔ ہرچیز اپنی ضد کے ذریعے ہی شعوری پہچان دیتی ہے۔
انسانی مزاج اور خصلت میں منفی اور مثبت دونوں رخ پائے جاتے ہیں۔وہ ظالم بھی ہے مظلوم بھی ،حاکم بھی ہے محکوم بھی ہے۔ وہ احسان کیش بھی ہے احسان فراموش بھی۔ وہ محبت کرتا ہے تونفرت بھی، کبھی سخی ہے کبھی بخیل۔ منفی ومثبت احساسات وجذبات کی ایک طویل فہرست ہے جس سے انسان وقت وحالات کے ساتھ نبردآزمارہتاہے۔ کبھی وہ سسرال ہوتاہے اور کہیں نسبی رشتہ نبھانا ہوتاہے۔ گویا ہر فرد نسب اور مہر سے جڑا ہواہے جیسے دایاں اوربایاں بازو جسم سے جڑے ہیںیا پھر جیسے تصویر کے دورخ ہوتے ہیں۔
انسانی رشتوں کو نبھانے کے لئے کتنے ہی نشیب وفراز منفی ومثبت اندازِ فکر سے گزرنا پڑتاہے۔یہ ایک عجیب وغریب معاملہ ہے کہ ایک انسان سے کچھ رشتے اور تعلق ایسا ہوتاہے کہ محبت وعقیدت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دل میں موجز ن ہوتاہے، مگر اسی انسان سے کچھ لوگوں کی وابستگی میں وہ فریفتگی اور تعلق نہیں ہوتا، چاہیں بھی تو نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ایک انسان کچھ لوگوں کی محبت سمیٹتا ہے تو وہی انسان کچھ لوگوں کے لئے قابلِ نفرت ہوتاہے۔ متضاد، طبعی حالتیں اور فطری جذبات کی کمی بیشی اس زمین کے باسیوں کو قدرت کی طرف سے ودیعت کی گئی ہیں۔اورکچھ آفاقی واخلاقی قوانین کی بنا پر انسانوں کے مزاج ایک دوسرے سے ہم آہنگ بھی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اختلافات سے مبرا نہیں ہوسکتے۔ حتیٰ کہ جڑواں بچے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے قانونِ تزویج پہ دوا لگ سلسلے چلائے۔ جن کو نسب اورسسرال کا نام دیا۔ ان دونوں کے درمیان تلخ وشیریں پانی اور مزاجوں اور تزویج کی مثال دی جاسکتی ہے۔ انسانوں کے اس وسیع وعریض سمندر میں رشتوں ناطوں کا میٹھا پن اورکھاری پانی نمایاں نظرآتاہے۔ بظاہر سب انسان ایک جیسے ہیں مگرجیسے پانی کے درمیان ایک اَن دیکھا پردہ حائل رہتاہے جیسے ایک انسان مختلف منفی ومثبت مزاج کا حامل ہے جیسے دل کی کیفیات میں تبدیلی آنے میں دیر نہیں لگتی۔
نسب اور صھر کے رشتوں میں بھی ایک حجاب حائل رہتاہے۔ یہ کسی خاص قوم یا معاشرے کا معاملہ نہیں ہے۔ اس دنیا کی ہرقوم میں ’’نسب‘‘ اور’’ صھر‘‘میں تعلقات کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ نسب کے رشتے جب سسرالی رشتوں میں تبدیل ہوتے ہیں تو احساسات،جذبات ،گمان، توقعات میں فرق آجاتا ہے۔ منتوں مرادوں سے حاصل کردہ رشتوں میں بھی برائیاں نظرآنے لگتی ہیں۔ اور گلے شکوئوں کے انبار لگنے لگتے ہیں۔مرد ہو یا عورت، اپنے سسرال اورمیکے والوں کے درمیان کچھ نہ کچھ امتیاز ضروربرت رہاہوتاہے۔ معاملات، جذبات واحساسات کا فطری میلان نسب کے رشتوں کے ساتھ کچھ اور ہے اور صھر کے ساتھ کچھ اور۔اللہ تعالیٰ نے بھی قانونِ وراثت میں نسب اور سسرال کے امتیاز کو اپنی فطری میلانات کے ساتھ بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کی اہمیت ان کی ترتیب کے ساتھ متعین کی ہے، وراثت کی تقسیم ہویا رشتوں کی تعظیم۔ اطاعت وفرماں برداری ہو یا خدمت ،رشتوں کے فطری میلانات کا خیال رکھا گیا ہے۔ بیٹے کے لئے ماں اور بیوی کے لیے شوہر افضل ہے اور اس میں توازن رکھنا ہی امتحان ہے۔ جب بہن بھائی اپنے بچوں کے رشتے آپس میں کرتے ہیں تو اولاد کا میٹھا رشتہ فطرتاًزیادہ قریب ہوتاہے۔ یہاں بھی عدل وتوازن اور فطری جذبے نفس اورانا کے ہتھے نہ چڑھیں تو زندگی کے اس سمندر سے سکون اور خوشی کے جواہرات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
پوری دنیا کی معاشرت گواہ ہے کہ ایک عورت اپنی بیٹی کے لئے جو کچھ تمنائیں وخواہشات رکھتی ہے وہ اپنی بہو کے لئے نہیں رکھتی۔ وہ داماد کو بیٹی کا تابع دار اوربہو کو اپنے بیٹے کی تابع دار دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک بہو اپنی ماں کی سخت مزاجی کو برداشت کرتی آئی ہوتی ہے مگر اپنی ساس کی جائز بات بھی برداشت نہیں کرتی۔اسی طرح مرد کے رویے اپنے والدین اوربہن بھائیوں سے اور ’’صھر‘‘ کے رشتوں سے فرق ہوتے ہیں۔ نسب کے رشتے بھی جب سسرال کے رشتے میں تبدیل ہوتے ہیں اور اکثردل کی مٹھاس میں کمی آجاتی ہے۔ پھر اسی صھر کی نسبت سے نسب کے میٹھے رشتے بنتے ہیں۔ ان میں تعلق کی نوعیت کچھ اور ہی بن جاتی ہے۔ گویا قانونی رشتوں کے نمکین پانی سے پھر میٹھا پانی وجود میں آنے لگتاہے۔
نسب اورصھر کے رشتوں کے مابین غوروفکر کی بات یہ ہے کہ قانونی رشتوں کے لئے زاویہ نگاہ کہاں او رکیوں بدل جاتاہے؟ لفظوں کے انتخاب میں بداحتیاطی کی وجہ کیا ہے؟ دلوں میں احساسِ نازک کی ڈور کیوں ٹوٹ جاتی ہے؟
انسانی مزاجوں میں اچانک تبدیلی کیسے آجاتی ہے؟ قانونی رشتے کے بارے میں اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ’’نسب‘‘ا ور صھر‘‘ کا معاملہ سمندر اوربارش او رپھر دریا کے پانی کا سمندر میں آملنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کے کھاری پانی اورمیٹھے پانی کی مثال دے کر متصلاً آدمؑ کی پیدائش اور پھر دوسلسلوں کی بات کرکے ایک گہری نشان دہی کی ہے کہ جس طرح کھاری پانی سے ہی پھر میٹھے پانی کا حصول ہوگا(بارش کی صورت میں)اسی طرح’’صھر‘‘ سے ہی ’’نسب‘‘ کا میٹھا رشتہ وجود میں آئے گا۔ گویا کہ ہر انسان دوقسم کے جذبات رکھتاہے،دوقسم کے رشتے رکھتا ہے۔ قانونی رشتے کے لیے زاویۂ نگاہ بدل جاتاہے کہ قانون کا احترام یا تو سزا کے خوف سے ہوتاہے یا پھر انعام کے لالچ میں۔
اگرچہ قانون لوگوں کے مفاد کے لئے ہوتاہے۔ درست سمت چلنے کے لئے ہوتاہے مگر طبیعت پہ شاق گزرتاہے۔ وہ اگر اللہ تعالیٰ کا قانون ہوتو دوجہاں کے لئے کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور دونوں جہان کی زندگی آسان بنانے کے لئے قانون کی پابندی میں جب دل کی رغبت اوربھلائی کا یقین شامل ہوگا تو قانون پر عمل بھی آسان ہوجائے گا اور احساسِ نازک کی ڈور خوفِ خدا کی وجہ سے جڑی رہے گی۔ اورانعامات الٰہی کے حصول کے لالچ سے معاملات میں سُدھار کا احساس غالب رہے گا۔ بے شک یہ سب کرنے کے لئے نفس پہ جبر کرنا ہوگا۔
جو قانون کی افادیت کو جان لیتا ہے، وہ سزا سے بچنے اورانعام پانے کی تگ ودو میں لگ جاتاہے۔ وہ قانون کا احترام کرتاہے اسی میں اس کا فائدہ ہے۔ قانون سب کے لئے ہوتاہے۔ قانونی رشتوں سے بھی واسطہ ہر مرد اورعورت کو پڑتاہے، دونوں کے لئے ان کا احترام لازم ہے۔ انسانی وجود کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے دورُ خ ہیں، دوپہلو ہیں۔ دایاں پہلو جو اعضا رکھتاہے وہی بایاں بھی رکھتا ہے، ایک جیسے ہونے کے باوجود دونوں الگ ہیں۔ دونوں اپنے مقام پہ رہ کر ہی کارآمد اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے ہی دنیا میں کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح رشتوں کی حقیقت کو پہچان کر ان کے تضادات کا ادراک کرکے ان کے طبعی اختلافات سے گھبرانے کے بجائے ان کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ایک ہی درخت کے پھل مختلف ذائقے کے ہیں۔ کوئی کھٹا ہے کوئی میٹھا۔ ایک ہی آدم کی اولاد مختلف مزاج رکھتی ہے۔ کوئی نافرمان ہے، کوئی فرماں بردار، کوئی حلاوت والا ہے تو کوئی ملاحت والا مزاج رکھتا ہے۔ کوئی میٹھے مزاج کا ہے کوئی کڑوے یا کھٹے مزاج کا۔ جیسے پھلوں کا کھٹا میٹھا ذائقہ او رکڑواہٹ کی وجہ سے مٹھاس کی پہچان ہوتی ہے۔ یہی امتیازات ہی دنیامیں دل چسپی کا اور رونق کا باعث ہیں تو یہی جذبات ومعاملات اور اخلاقی رویے امتحان بھی ہیں، ایک دوسرے کے لئے آزمائش ہیں اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے مواقع بھی ہیں۔ ان سب حقیقتوں کو جان کر قانونی رشتوں کے نمکین اورکھاری پانی میں میٹھے چشمے تلاش کرنے کے لئے محنت مشقت کرنا ہوگی۔ جس طرح منفی جذبات، منفی اعمال، غصہ، غیبت،کینہ، حسد وغیرہ کو نفس پہ جبر کرکے درست کیاجاسکتاہے۔اوررشتوں کے آبِ تلخ کی موجیں خواہ کتنا ہی زور لگالیں وہ اس میٹھے چشمے کو ہڑپ کر جانے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ اس میٹھے چشمے تک پہنچنے سے پہلے انسان کے لئے رشتوں کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے توقعات کی ترجیحات بھی متعین کرنا لازم ہیں۔ بے محل توقعات سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ عقل مند وہ ہے جو توقعات وابستہ کرنے سے پہلے تعلقات کی نوعیت اور ترتیب وترجیحات کو پرکھ لے۔
مرد اورعورت دونوں کی یہ خواہش اورمطالبہ ہوتاہے کہ وہ اس کے والدین اور رشتہ داروںکو ویسی ہی مثبت نگاہ سے دیکھے جیسے کہ وہ خود دیکھتا یا دیکھتی ہے۔ دونوں خود اپنے رشتہ داروں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہوں تو بھی وہ اپنے ساتھی سے توقع رکھتے اورمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے خاندان کے بارے میں ایک لفظ منہ سے نہ نکالے۔ ایک دوسرے سے بے محل اور انتہا درجے کی توقعات رکھنے کے کوئی اچھے نتائج سامنے نہیں آتے۔ ساس اپنی بہو سے توقع رکھتی اورمطالبہ کرتی ہے کہ وہ سگی بیٹی سے بھی بڑھ کر فرمانبردار اور محبت کرنے والی ہو اور بہو اپنی ساس سے اپنی ماں جیسی بلکہ کچھ زیادہ ہی عفوودرگزر چاہتی ہے۔ دونوں اس پیمانے پر پورا نہیں اترتیں۔
دنیا کی کوئی عورت اپنی کوکھ سے جنم دینے والے بچے سے زیادہ کسی کونہیں چاہ سکتی، اور جس نے جنم دیا ہے اس کی جگہ اور مقام کوئی نہیں لے سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے رشتوں کی جو ترتیب اور ترجیحات متعین کی ہیں ان کی حقیقت کو ساتھ لے کر سمجھ کر اورپورے شعور اور ادراک کے ساتھ، ان کے اصلی مقام پہ رکھتے ہوئے زندگی کی راہ پہ چلنا ہوگا۔
اور یہی اصول ہررشتے کو نبھانے کے لئے کارفرما رکھنا ہوگا۔ رشتوں کے اس گلستان میں جس رشتۂ گل کا جو مقام ہے رنگ اور خوشبو ہے اس کو قبول کرنا ہوگا۔ گلاب کے ساتھ اگر کانٹے ہیں تو یہ قدرت کا اٹل فیصلہ اور حکمت عظیم ہے۔
ہر انسان نسب اور صھر کے رشتے سے منسلک ہے کیونکہ یہ ایک سرکل ہے۔ ہر جوڑا قانون کے تحت یک جا ہوتاہے۔ پھران سے(صھر کے رشتے سے) نسب کا سلسلہ چلتاہے۔ جیسے لطیف ہوا مل کر سمندر کے کھاری اور بھاری پن کو زندگی بخش بارش میں تبدیل کردیتی ہے۔ اسی طرح ہر مرد اور عورت اپنی پرخلوص محبت کی حرارت اورحُسن عمل کی ہوا سے معاشرے میں امن وسکون کا ابرباراں اور رحمت کا باعث بن سکتا ہے۔
سورۃ فرقان کی مندرجہ بالا آیات کے بعد توحید ورسالت اورآثارِ کائنات پہ غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے بعد معاشرے میں آئیڈیل اورمثالی لوگوں کے کردار کو واضح کیا گیاہے اور رشتے کی تلاش کے لئے کردار جانچنے کا ایک پیمانہ بھی دے دیا گیا ہے اور باہمی تضاد وانتشار، اختلافات ونزاعات میں ایک ربانی کردار کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ یہ تنازعات خاندانی ہوں، نسب کے رشتوں میں ہو ںیا صھر کے ادارے کے کارکنان کے درمیان ہوں، کسی قوم برادری کے درمیان ہوں غرض زندگی کے ہر شعبے میں،یہ ایک نسخۂ کارگر ہے جو اخلاقی بیماریوں کی مکمل شفا کا باعث ہے۔ تلخ وشور جذبات کو ہرممکن میٹھا بنانے کا فارمولا۔ اس نسخے اور فارمولے کو ہر خاص وعام کے لئے یکساں مفید بنایاگیاہے۔ عمر،جنس، رشتے، مقام، ماحول اورحالات وواقعات کوئی قید نہیں ہے، جو زندگی میں رشتوں کی مٹھاس کشید کرنا چاہتاہے وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتاہے مگر شرط رب سے اجر کی توقع ہے۔ رب کی رضا جب نصب العین ہو تو انسانوں سے توقعات کا پودا پنپنے نہیں پاتا۔ اور ایسے ہی کردار مومنین کو اس رحمن ورحیم ذات نے اپنے خالص اوراصلی بندے ہونے کا اعزاز بخشاہے۔ جیسے کسی بڑی کمپنی میں کسی ملازمت کی پیش کش ہوجائے۔ کمپنی خود اس کو اپنے ادارے میں جگہ دے، اس کی کارکردگی کے پیش نظر ا س کو اعزازت سے نوازے اورفخر کرے اوردنیا میں تشہیر کرے کہ یہ شخص ہمارے ادارے کا ممبر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کے معزز کارندے کا تعارف کراتے ہیں اور رشتے کی تلاش کے لئے ایک ایسا خاکہ تیار کرکے دیاگیا ہے جو’’معزز‘‘ ہونے کی دلیل ہے۔
رحمن کے اصلی بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں۔ ان کی شخصیت پہلی نظرمیں ہی اپنے کردار کی وضاحت کردیتی ہے۔ چال ڈھال سے اللہ کے بندے کا مقام ومرتبہ اور احساسِ ذمہ داری نمایاں ہوتاہے۔ اس کے ذہن ا س کی سیرت وکردار کی اولین ترجمان بھی اس کی چال ڈھال ہی ہوتی ہے۔ کسی سابقہ تعارف کے بغیر ہی رحمن کے بندے اپنی پہچان کرادیتے ہیں۔ اسی طرح خاندان،قوم اپنی خاص شناخت رکھتے ہیں۔ نئے رشتوں میں بندھنے سے پہلے، اگر ایسا کردار تلاش کیا جائے اور ایسی ہی شخصیت اپنی بنائی جائے تو بنیادیں مضبوط ہوںگی۔ رحمن کے اصلی بندوں والے گھر انے خاص ترکیب سے تشکیل پاتے ہیں۔ رحمن کی بندگی ان کی ذہنیت اور سیرت کو دوسروں سے ممتاز بنا دیتی ہیں۔؎
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
جب متعین ہوگیا کہ رحمن کے بندوں کی ظاہری شخصیت، شرافت، حلم اور بردباری وہمدردی ہے تواگلی صفت خودبخود ظاہر ہونے لگتی ہے۔
٭جب جاہل ان کے منہ کو آئیں توکہہ دیتے ہیں، تم کو سلام۔(۶۳)
یعنی رشتوں ناتوں او ردیگر معاملات میں کوئی غیر شریفانہ طرزِ عمل اختیار کرے تو وہ نزاع کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں نہ کہ بحثا بحثی میں پڑ کر طول دیتے۔ اور اپنی انا کا بت پوجنے میں لگ جاتے ہیں۔ بیوقوف سے تکرار کرنا اور بھی زیادہ بے وقوفی ہے۔قیامت کے دن جب لوگ گزرے ہوئے حالات ایک دوسرے سے پوچھیں گے تو جنتی لوگ کہیں ’’ہم دنیا میں اپنے گھروالوں کے درمیان بے خوف ہوکر نہیں بلکہ احساسِ جواب دہی کے ساتھ ذمہ داریاں اداکرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے(تقویٰ کی)زندگی گزارتے تھے، اسی لئے آج اللہ کریم نے ہم پہ فضل فرمایاہے(الطور،۲۵۔۲۵۔۲۷)
٭ وہ جب کوئی غیر شریفانہ طرزِ عمل سے دوچار ہوتے ہیں یا بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اس کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بھائی! ہمارے اعمال ہمارے لیے تمہارے اعمال تمہارے لیے، سلام ہے تم پر(ہماری طرف سے)ہم جاہلوں کے منہ نہیں لگتے۔ (القصص۲۶:۵۵)
انسانی معاشرے میںجب فطرت کے خلاف طرز زندگی پنپنے لگتا ہے توسکون اورعافیت رخصت ہوجاتاہے۔ مسلم گھرانوں میں شب وروز کے اوقات جس طرح غیر فطری ہوگئے ہیں تو عبادتوں اور ریاضتوں کا رخ بھی بدل گیا ہے۔رات کے اوقات سکون اور آرام کے لئے ہوتے ہیں، یا اپنے رب سے مناجات کے لئے کہ محبوب سے ملاقات کا وقت تنہائی کا ہی ہوتاہے۔
دن میں شریفانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ معاملات طے کرتے ہیں تو رات کو اپنے رب کے ساتھ خشوع وخضوع ، الحاح وزاری کا معاملہ رکھتے ہیں:
وہی شخص رب سے ڈرتے ہوئے رات کے اوقات بسر کرے گا جو دن کواپنے معاملات رحمن کا بندہ ہونے کی حیثیت سے طے کرے گا۔ راتیں لہو ولعب کے لئے نہیں ہیں اوردنیا کی رنگینیوں میں مگن ان کی مسرتوں میں مبتلا ہونے کے لئے نہیں ہیں۔ رحمن کے خالص بندے تو یہ ہیں۔
٭ جو اپنے رب کے حضور سجدے اورقیام میں راتیں گزارتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ ہمارے رب ، جہنم کے عذاب سے ہم کوبچا لے اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے، وہ تو بہت ہی برا مستقر اورمقام ہے(الفرقان۲۵:۶۶)
جو جہنم کے عذاب سے بچنے کی فکر کرتاہے وہ اپنے معاملات پہ بھی کڑی نظر رکھتاہے۔ ہر گھر،خاندان میں باہمی چپقلش کی ایک وجہ معاشی رویے بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کا حل بیان کیا ہے کہ تلخی، دلوں سے دور ہو۔ اوربرکت کی مٹھاس معاشی معاملات میں نظر آئے جس سے معاشرت میں حُسن پیداہو۔
٭جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہائوںکے درمیان اعتدال پہ قائم رہتاہے۔
٭اور کسی بھی حال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود نہیں بناتے۔ نہ ہی اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔(۶۸)
معبود انِ باطل ، اقتدار، شہرت،نفس پرستی، مال ودولت وغیرہ سے اپنا دامن بچا کر رکھتے ہیں اور قتلِ ناحق کی وجہ ان سب معبودانِ باطل سے وابستگی کی بنا پر ہوتاہے۔ او رپھر ایک خاص گناہ کی طرف اشارہ ہے جس سے معاشرے میں ابتری پھیلتی ہے۔ گھروں اوردلوں میں پاکیزگی کے بجائے گندگی پھیلتی ہے۔ جب عزت آبرو سے بے نیازی کا چلن عام ہوجائے تو گونا گوں عذاب نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اس بے حیائی کے عذاب سے ڈرایا جارہاہے ’’جوکوئی یہ کام کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا، قیامت کے روز اس کو بار بار عذاب دیاجائے گا اور وہ ہمیشہ اسی ذلت میں پڑا رہے گا۔(۶۹)
اس بے حیائی کو عام کرنے والے، فواحش کو آسان کرنے والے اور اس کا ارتکاب کرنے والے توبہ کرکے عملِ صالح کی طرف آجائیں تو باہمی تعلقات کی کڑاوہٹ دورہوجائے گی۔ بدکاری کے مرتکب لوگ صرف اپنے لیے نہیں پورے خاندان اورقبیلہ قوم کے لئے باعث ننگ وعار ہوتے ہیں۔’’مگرجو اپنے گناہوں سے توبہ کرچکا ہو اورایمان لاکر عملِ صالح کرنے لگا ہو تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں میں بدل دے گا، اس لیے کہ وہ بڑا غفور رحیم ہے۔ جو شخص توبہ کرکے نیک عملی اختیار کرتاہے تو وہ اللہ کی طرف ایسے پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔‘‘(۷۱)
معاشرے میں اور باہم گھرانوں میں تعلقات کی درستگی میں اس طرزِ عمل کو بہت عمل دخل ہے۔ گناہ کے بعد ہٹ ،مزید گناہ کا باعث ہے۔ نیک طرزِعمل اور توبہ پہ استقامت ہوگی تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے تائب بندوں کو نیکی کا راستہ آسان کرکے دکھائے اور برائیوں کو نیکیوں سے بدل لینے کے مواقع فراہم کرے۔
جھوٹ اورمومن دومتضاد چیزیں ہیں۔ رحمن کے اصلی بندے اپنے گھروں میں، معاشرے میں نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ جھوٹ کو فروغ دیتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والے لوگ تلخیوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ جھوٹ پر قائم کردہ رشتے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔قانونی رشتوںکو جھوٹ کی بنیاد پر قائم کیسے رکھا جاسکتاہے؟’’ رحمن کے اصلی بندے وہ ہیں جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔‘‘یعنی مومن حق کی معرفت رکھتا ہے اورجھوٹ کی تائید نہیں کرتا۔ گواہ نہیں بنتا۔ رشتے ہوں یا معاملات حق کا ساتھ دیتاہے اورکسی لغو بات پہ ان کا گزر ہوتاہے تو شریف آدمیوں کی طرح گزرجاتے ہیں۔‘‘(۷۲)
یعنی جان بوجھ کر ایسی چیزیں دیکھنے، سننے یا ان میں حصہ لینے کے لئے نہیں جاتے بلکہ اتفاقاً گزرتے ہوئے نظر پڑبھی جائے تو دوسری نگاہ ڈالے بغیر شرافت سے گزرجاتے ہیں۔ غلاظت وگندگی کے ڈھیر سے دامن بچا کر نگاہ ڈالے بغیر تیزی سے گزرجاتے۔ کجا کہ کوئی اس گندگی میں جان بوجھ کر ، رقم خرچ کرکے، اپنا قیمتی وقت برباد کرکے سانس لینے کی حماقت کررہاہو۔خوش ذوق اورمہذب انسان غلاظت کو ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ معاشرے میں ہرطرف پھیلی فواحش کی غلاظت نے گھروں کے باہم تعلقات ومعاملات کو بہت متاثر کیا ہے۔ رحمن کے اصلی اورخالص بندے رشتوں کے تقدس کو قائم رکھتے اور ان میں تلخی گھولنے سے کوسوں دوررہتے ہیں۔ نسب اور قانونی رشتوں کے درمیان فاصلے مٹانے کا نسخہ یہ ہے کہ ’’رحمن کے پیارے بندوں کو جب رب کی آیات سنا کر غلطی پہ متنبہ کیا جاتاہے تو اس پہ اندھے بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔‘‘
باہم رشتوں میں نشیب وفراز آتے ہیں۔ ان پہ اصرار نہیں کرتے۔ تنازعات کے کانٹے ختم کرکے عافیت کی راہ اسی ایک نکتہ میں مستور ہے[pullquote] (وَ لَمْ یُصُِّروا عَلیٰ مَا فَعَلُوْا وَ ھُمْ یَعْلَمُوْنَ۔ آل عمران:۳:۱۳۵)[/pullquote] رحمن کے پیارکو حاصل کرنے والے تو اپنی گھریلو اور خاندانی زندگی میں بہار لانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔’’نسب‘‘ کا رشتہ یا’’صھر‘‘ کا وہ اپنی اولادوں اور زندگی کے ساتھی کے لیے یکساں خیر کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اپنی اولادوں کے علاوہ اپنے بیٹے اوربیٹی سے چلنے والے سلسلے کے لئے دعائیں مانگا کرتے ہیں’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنی زندگی کے ساتھی اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطافرما دے اورہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔‘‘(۷۴)
اپنے نفس کی شرانگیزیوں اورتلخیوں پہ قابو پانے کے لئے وہ صبر واستقامت سے کوشش میں لگے رہیں گے تاکہ دنیا میں ان کی معاشرت امن وسکون کا گہوارہ بنے اوراپنے گھروں میں چین سے رہیں جہاں ’’نسب‘‘ اور’’صھر‘‘ کے رشتے اپنی اپنی مٹھاس کے ساتھ تلخیوں پہ قابو پالیتے ہیں۔ انسانوں کے سمندر میں میٹھے چشمے جیسے متصف لوگوں اورگھرانوں کے لئے خوشخبری ہے
’’وہ اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے۔‘‘حُسن معاشرت کی ایک تصویر دنیا میں ان کے سامنے تھی کہ وہ اپنے رشتوں کو نبھاتے ہوئے گھروں میں بلند مرتبہ رہے۔ تو آخرت میں ان گھرانوں کو منزل بلند کی شکل میں رہائش عطا کی جائے گی۔
’’آداب وتسلیمات سے ان کا استقبال ہوگا۔وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ کیا ہی اچھا مستقر ہے اورکیا ہی بہترین ہے وہ مقام۔‘‘(۷۶)
سبحان اللہ! یہ باہمی رشتوں میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کرتے اور آداب وتسلیمات سے دنیا میں ایک دوسرے کا استقبال کرتے تھے۔ تلخیوں کو نظرانداز کرتے تھے۔ شب وروز کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہوتے تھے۔ آج اسی شیریں عمل کا صلہ دیکھیں گے کہ ہر طرف سے ان کو آداب وتسلیمات سے پکارا جائے گا۔ دنیا میں ایک دوسرے کو دعائوں میں یاد رکھتے تھے۔ تقویٰ اور اطاعت میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا شوق تھا جس میں نہ حسد ہے نہ کینہ۔ اپنی اولادکو متقی لوگوں کا پیشوا بنانے کی دُھن تھی۔ نہ شریکے کی ضد تھی، نہ مال ودولت جمع کرنے کا زُعم، نہ جاہ وحشمت کی مسابقت اور نہ ہی سابقہ احسانات کو جتانے کا عیب تھا۔سب کی ایک ہی لگن تھی کہ کون زیادہ اچھے عمل کرلے۔ دوسرے کو عطا کرکے، معاف کرکے اپنے کردار کو چشمۂ صافی بنالے۔
میاں بیوی ہوں یا ان کے حوالے سے دیگر رشتے، ہر ایک رشتے کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’وہ ذات ہے جس نے زندگی اورموت کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ دیکھے، آزمائے تم میں سے کون زیادہ بہتر عمل کرکے آتاہے۔‘‘(الملک)
جب اپنے مفادات پر زد پڑتی ہوتو کون ’’احسن عملاً‘‘ کی کوشش کرتاہے۔ معاملہ بہترعمل کی تلاش، کوشش اور پھر اس پہ استقامت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نظرمیں کون زیادہ اچھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی جنت کا کون زیادہ مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کا کون زیادہ امیدوار ہے۔ تلخیوں، شکووں کو نظرانداز کرکے کون ان ہمیشگی کے اچھے مقامات، پائیدار عزت کو حاصل کرنا چاہتاہے۔ رشتوںناتوں، مزاجوں کا اختلاف،قوموں، قبیلوں، رنگ ونسل کی رنگا رنگی محض تعارف وپہچان اور آزمائش کے لئے ہے کہ کون تقویٰ کے اس معیار پہ پہنچتا ہے جس کی جزاجنت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اس سے بھی بڑھ کرنعمت ہے۔ یہ نعمت ان کو ملے گی جو غصہ ، انتقام اوربدلہ لینے کے حق رکھنے کے باوجود درگزر کریں گے۔
رشتوں کے درمیان منفی خیالات وجذبات کا آنا غیر فطری نہیں ہے۔ ان کی آڑ بناکر رشتوں سے منہ موڑنا غیر فطری اورغیر مستحسن ہے۔ انسانی جذبات میں منفی طرزِ عمل ہی باور کراتاہے کہ ہمارا ٹارگٹ کیا ہے؟ کس کو چھوڑکر کیاحاصل کرناہے؟ اختلافات وانتشار میں قرآنی اورربانی فیصلے کا اختیار نفس کو دیا جائے یا پھر اُس احکم الحاکمین کو جس کی طرف سارے معاملات لوٹائے جائیں گے۔ جہاں کسی پر ذرہّ برابر ظلم نہ ہوگا۔ جہاں ایسی کتاب سے واسطہ پڑے گا جس میں ہمارے ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج ہوگا۔ اورجہاں رحمن ورحیم اپنے خالص بندوں کی عزت افزائی فرمارہاہوگا۔
اسی عزت افزائی کو حاصل کرنے کے لئے اس دنیا کی جھوٹی عزتوں کو قربان کرنا پڑے گا۔ان کے بت کو پاش پاش کرنا ہوگا۔ دوسروں کی کمزوریوں کو نظرانداز کرکے تحمل اور برداشت کا کلچر رواج دینا ہوگا۔ہر شخص حقوق دینے کے فرائض اداکرنے کی فکر کرے۔ لینے اور حاصل کرنے کی پالیسی کے بجائے دینے اور ایثار کرنے کی پالیسی پہ عمل کیا جائے۔ اختلاف رائے کو زحمت کے بجائے رحمت بنایا جائے۔ متضاد چیزوں اوررویوں کے ساتھ بہتر حکمت عملی اپنا کر معاونت کی راہ تلاش کی جائے۔یگانگت اوربھائی چارے کے میٹھے چشمے انہی تضادات کے کھاری پانی اورنمکین پانی کے اندرہیں۔ کھاری پانی کو میٹھا بنانے کے لئے سائنسی طریقے انسان نے ایجاد کرلیے ہیں تو ان رشتوں کی مٹھاس حاصل کرنے کے لیے قرآنی فارمولے پر ہی عمل کرنا ہوگا۔
گرتو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن بجز قرآں زیستن

Comments

Click here to post a comment