ہوم << مدارس کےساتھ جامعات کی اصلاح بھی - زاھد مغل

مدارس کےساتھ جامعات کی اصلاح بھی - زاھد مغل

20523_800084413418302_6421615929894229381_nطویل عرصہ سے ان صداؤں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ مدارس والے بچوں کو جدید تعلیم نہیں دیتے، انہیں جدید دنیا کے تقاضوں اور ذھن کا علم ہی نہیں ہوتا، یہ بچے آخر معاشرے کی باگ دوڑ کیسے سنبھال سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے یہاں کے دانشوران کے ساتھ ساتھ جدید تعلیمی اداروں کے منتظمین بھی اس امر پر نوحہ کناں ہوتے ہیں۔ اس میں تو بہرحال کوئی شک نہیں کہ ایسی باتیں حقیقت پسندانہ و مفید ہیں اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اہل مدارس ان کی طرف بالکلیہ توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ اہل مدارس میں اس حوالے سے نہ صرف احساس بڑھتا جارہا ہے بلکہ کچھ مدارس نے نصاب میں ایسی تبدیلیاں کرنے کے عملی اقدامات بھی اٹھانا شروع کردیے ہیں۔ بہت سے مدارس میں اب انگریزی زبان، ٹیلی کام کی ضروری سوجھ بوجھ و سماجی علوم پڑھائے جارہے ہیں اور اہل مدارس یہ سب کچھ عوام کے ساتھ اپنے روابط کی بنا پر سرکاری مالی سرپرستی کے بغیر از خود کر رہے ہیں۔ تو یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔
تصویر کے دوسرے رخ کو سامنے رکھتے ہوئے بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل مدارس کو ہمہ وقت ایسے مفید مشورے دینے والے جدید تعلیمی اداروں کے یہ احباب اور ہمارے دانشوران اس بات پر غور کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے کہ جدید تعلیمی اداروں سے جن نسلوں کو ہم تیار کر رہے ہیں، آیا دین کی طرف ان کا لگاؤ کیسا بنتا ہے؟ ان احباب کو یہ فکر کتنی دفعہ اور کتنی شدت کے ساتھ دامن گیر ہوئی کہ ہماری جامعات میں سالہا سال علم حاصل کرکے فارغ ہونے والے بچوں اور بچیوں کو جو نصاب ہم پڑھاتے ہیں وہ نصاب ان کا اپنے دین کے ساتھ فکری و عملی ربط قائم کرنے میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ نیز ایسا تو نہیں کہ ان جامعات میں ہم انہیں جو فکر اور ماحول فراھم کررھے ھیں، آگے چل کر کہیں وہ انہیں دینی عقائد و اقدار ہی سے دور لے جائے؟ ھماری جامعات کے منتظمین اور دانشوران کبھی ان سوالوں پر بھی سنجیدگی سے سوچیں گے یا صرف اھل مدارس ہی کو مفت مشورے دینے سے کام چلایا جائے گا؟ یہ سوالات اس تناظر میں اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرجاتے ہیں کہ ھمارے معاشرے کے بالائی طبقے سے رکھنے والے اور ذھین طلباء حصول علم کے لئے بالعموم انہی جامعات کا رخ کرتے ہیں نیز ان جامعات کو مکمل یا جزوی سرکاری سرپرستی بھی میسر ہے۔ ان سوالات کو نظر انداز کرنے کا مطلب گویا یہ ہے کہ ھمیں ملائی کے برباد ہونے کی تو فکر نہیں، البتہ چھاج سے مکھن حاصل کرنے پر سارا زور صرف کیا جارہا ہے۔ تو کچھ توجہ دوسری طرف بھی کیجیے۔

Comments

Click here to post a comment

  • زاہد مغل صاحب نے انتہائی درست انداز میں تجزیہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جب بھی تقابلی تجزیہ کرتے ہیں بلخصوص مدارس کے حوالے سے ہم انکھیں بند کرے سرپٹ دوڑنا شروع کرتے ہیں جو یقینا مناسب نہیں۔۔۔۔۔ مغل صاحب نے مختصر مگر پراثر بات کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔