ہوم << میناروں کی وفا - محمد حسان

میناروں کی وفا - محمد حسان

hassan ”مسجدیں ہماری چھائونیاں ہیں، گنبد ہمارے ڈھال ہیں، مینار ہماری سنگینیں ہیں اور مومن ہمارے سپاہی ہیں۔“
1999ء میں نوجوان سیاستدان رجب طیب اردوان نے یہ نظم پڑھی تو انھیں مذہبی بنیاد پر اشتعال انگیزی کے جرم میں چار ماہ جیل میں گزارنے پڑے۔۔۔ آج ٹھیک سترہ سال بعد اُنہیں اپنے کہے ہوئے الفاظ کی تعبیر مل گئی۔۔۔ فوج کی بغاوت پر ترک صدر طیب اردوان نے جب عوام کو پکارا تو استنبول کی مساجد چھاؤنیاں بن گئیں، گنبد ڈھال،مینار سنگینیں اور مومن عوام طیب اردوان کے سپاہی بن چکے تھے۔۔۔ سترہ سال بیشتر جن مساجد کے مینار طیب اردوان کو جیل سے نہ بچاسکے آج انہیں میناروں نے اردوان سے وفا کا حق ادا کردیا۔ ساری رات ان میناروں سے طیب اردوان کے حق میں صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ ۔۔
دیسی لبرلز اور سیکولرز دیکھ لیں کہ ترکی میں جمہوریت کو بچانے اور فوجی آمریت کو کچلنے میں مساجد نے بنیادی کردار ادا کیا۔
ٹینکوں کے آگے سینہ سُپر جمہوریت پسند عوام کے لبوں سے نکلنے والے نعرے تو سنو۔
”لا الہ۔۔۔ الااللہ۔۔۔ اللہ اکبر“ کا نعرہ مستانہ ان کے لبوں پر رقصاں تھا۔
ٹینک کے آگے لیٹنے کے لیے جس عزم و ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے، وہ اپنے اصول، نظریے پر مضبوطی سے جمے افراد کو ہی میسر ہوتا ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔ یہ ٹینک کے آگے کون کھڑا ہے۔۔۔؟ کیا یہ محض گوشت پوشت کا کڑیل جوان ہے۔۔۔؟
نہیں جناب! یہ اللہ کی نصرت پر کامل ایمان کھڑا ہے۔۔۔ اصول اور نظریہ کھڑا ہے۔۔۔!
وہ جو اقبال نے کہا تھانا کہ ”مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی“ ۔۔۔ جس مصرعے کالبرلز مذاق اڑاتے نہیں تھکتے۔۔۔ تو جناب ترک قوم نے اسی مصرعے کی ہی توعملی تشریح کی ہے۔۔۔ یہ جو غزہ کی گلیوں میں اسرائیلی ٹینکوں کو فلسطینی نوجوان دن رات پتھر مارتے ہیں تو دراصل وہ اپنے اصول نظریہ اور ایمان کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں۔۔۔ یہ جو وادی کشمیر میں مردو خواتین اور بچے، بوڑھے، نوجوان بھارتی فوج کی درندگی کے آگے صف آرا رہتے ہیں، تو وہ اپنے جذبہ حریت کا اظہار ہی تو کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔
مگر ان سب حریت پسندوں کے بارے میں لبرلز اور سیکولرز کی زبانیں بدستور گنگ ہیں۔۔۔
ان لبرلز سیکولرز دانشوروں اور جمہوریت نواز عالمی برادری نے مصر میں جس طرح عوامی امنگوں کی ترجمان جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے پر نہ صرف منہ پھیر ا بلکہ الٹا صدر مرسی اور اس کی پالیسیوں کو ہی ہر حوالے سے مورد الزام ٹھہرایا۔۔۔ اس سے ان کی منافقت کا پردہ چاک اور مکروہ چہرہ عیاں ہوچکا ہے۔۔۔ ابھی تو یہ لبرلز ترکی کے حالیہ معاملے میں پھیکے منہ سے کہہ رہے ہیں کہ عوامی طاقت نے جمہوریت کو فتح دلادی۔۔۔
اگر خدانخواستہ فوجی بغاوت کامیاب ہوجاتی تو سب لبرلز منہ پھاڑے چھنگاڑتے رہتے کہ اردوان کو اس کے مذہبی رحجانات لے ڈوبے، اس نے مساجد کو چھاؤنیاں، میناروں کو سنگینیں اور گنبدوں کو ڈھالیں قرار دیا تھا۔۔۔ حالانکہ ترکی کے درو دیوار گواہی دے رہے ہیں کہ دنیا بھر کی سیکولر اور لبرل طاقتیں سازشوں میں مصروف رہیں جبکہ مسجدوں کے میناروں نے جمہوریت سے وفا کی ۔

Comments

Click here to post a comment