ہوم << مسلمانوں کا ماضی، غیرمسلموں کی نظر سے - عماد بزدار

مسلمانوں کا ماضی، غیرمسلموں کی نظر سے - عماد بزدار

"دلیل" کے لیے کچھ لکھنے سے پہلے جب قیاس کے گھوڑے دوڑانے شروع کیے تو سوچا کہ کیا کچھ ایسا لکھا جائے. سوچتے سوچتے اس نتیجے پر پنہچا کہ کیوں نہ ایک ایسے رحجان پہ لکھا جائے جس نے آج کل توجہ ذرا ضرورت سے زیادہ ہی اپنی جانب مبذول کروا لی ہے.
ہوتا یوں ہے کہ سوشل میڈیا کے بزعم خود ملک الشعرا میں سے کوئی ایک مسلمانوں کی موجودہ حالات کو بنیاد بنا کر طرح مصرع یارانِ نقطہ داں کے لیے فیس بک کے بحرِ ظلمات میں اچھال دیتا ہے، پھر ویلے مقتدی ، بلا تخصیص جنس و عمر اُ مّہ کی لتریشن میں پوری غزل کہہ ڈالتے ہیں.
.میری نظر میں ایسے لوگوں کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔
1۔ مذہب بیزار
2۔ مسلمانوں کی موجودہ حالات سے ناخوش مخلص مسلمان
3۔ حاضر پیچھے امام کے چلنے والے ’’انے واہ‘‘ مقتدی
.
اس تحریر کے بنیادی مخاطب یہی لوگ ہیں کہ عام زاویوں پر چلنے کے بجائے اپنی آنکھوں سے معاملات کو سمجھیں، جیسے سیانے کہتے ہیں کہ دستار کے ہر پیچ کی تحقیق لازم ہے کہ ہر صاحبِ دستار معزز نہیں ہوتا ویسے ہی ہر بڑے لکھاری کے ایک ایک لفظ کو تحقیق کے معیار پر جانچیں پرکھیں اور رائے رکھیں کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر بڑا لکھاری سچ بھی بول رہا ہوتا ہے یا حقائق ہی بیان کر رہا ہوتا ہے.
.
اس میں ہرگز دو رائے نہیں کہ موجودہ مسلم دنیا ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے. اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں منیر نیازی کی زبانی ہم کہہ سکتے ہیں کہ شہر دے لوک وی ظالم نیں تے سانوں مرن دا شوق وی ہے.اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ہمیں موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے جہاں زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے وہیں ایسا کرتے ہوئے دانستہ یا نادانستہ حقائق کو مسخ کرنے سے گریز کرتے ہوئے ایک متوازن رائے رکھنی چاہیے. اپنی داخلی کمزوریوں، کمیوں کوتاہیوں کے بارے ہمارا رویہ کسی گاؤں دیہات کے "ملامتی صوفی" جیسا نہیں ہونا چاہیے جس کا مطمح نظر اپنی اصلاح کے بجائے اپنا مذاق اڑا کر چوہدری کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
.
اس تمہید کے بعد کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھتا ہوں. رمضان کے مہینے میں کسی برطانوی سٹور نے پیپسی پر ڈسکاؤنٹ کا اشتہار دیا حسبِ معمول مخصوص طبقہ لعن طعن میں مصروف ہوگیا کہ دیکھیں غیرمسلموں کو تو اتنی توفیق ہے کہ ہمارے مقدس مہینے میں چیزیں سستی کریں لیکن خود بحیثیتِ مسلمان ہمیں یہ توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ اگر تو پاکستان کی حد تک کہا جائے تو میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہاں کے حاجی و میاں صاحبان ایسی چیزوں کی طلب بڑھنے پر زیادہ منافع کما کر عموما آخری عشرہ ارضِ مقدس میں گزارنے کے لیے قیمتیں بڑھا کر ثوابِ دارین حاصل کرتے رہتے ہیں لیکن اس ڈسکاؤنٹ کو بنیاد بنا کر پوری مسلم اُمّہ کو لپیٹ میں لینا حقائق کے یکسر منافی ہے۔ عربوں کا شدید ناقد ہونے کے باوجود، عرب امارات، جہاں میں رہتا ہوں، وہاں رمضان میں صرف پیپسی ہی نہیں اور بھی بہت ساری چیزیں سستی ہو جاتی ہیں. مساجد میں بہترین کھانا وافر مقدار میں دستیاب ہوتا ہے. سعودیہ اور ترکی کے بارے بھی یہی سنا ہے کہ وہاں بھی یہ رحجان پایا جاتا ہے. اب آپ بتائیں کہ اس بات پہ پوری امت مسلمہ کو مطعون کرنا کہاں کی منصف مزاجی ہے؟
.
اب آتے ہیں دوسرے اور اہم موضوع پر. ہمارے بہت سارے لکھاری ، بڑے دانشور، اپنی تحریروں اور بیانات میں بارہا ایسا تاثر دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے مسلمانوں نے ماضی میں گلے کاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا یا ہماری تاریخ ایسی ہے کہ اس میں ایسے مواقع آئے ہی نہیں کہ جس پر ہم فخر کر سکیں. یہاں میں ایک وضاحت کر دوں کہ میرا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ایسے کسی واقعے سے مکمل انکار کردوں کہ مسلمانوں میں خونریزیاں نہیں ہوئیں یا انہوں نے کچھ غلط کیا ہی نہیں، میرا اعتراض ان سویپنگ سٹیٹمنٹس پر ہے جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے جیسے مسلمانوں کے ہتھ پلے کچھ بھی نہیں اور ہماری تاریخ میں جو کچھ ہوتا رہا وہ ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہے. جب ہم دوسرے مذاہب کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو مجموعی طور پر مسلمانوں کے اندر حصولِ علم، رواداری اور دوسرے مزاہب کو برداشت کرنے کی صلاحیت باقیوں کے مقابلے زیادہ نظر آتی ہے. اسلام کے ابتدائی چند سالوں کے بعد بھی بارہا تاریخ کی نظر سے ایسے واقعات گزرے جن پر مسلمان آج بھی بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
رابرٹ بریفالٹ "تشکیلِ انسانیت" میں لکھتے ہیں کہ " یورپ کی حیاتِ ثانیہ عربوں کی وجہ سے ہوئی. یورپ کی حیاتِ نو کا گہوارہ اٹلی نہیں بلکہ سپین تھا. جس وقت یورپ جہالت و بربریت کے تاریک ترین گڑھوں میں گرا ہوا تھا، اس وقت بغداد، قرطبہ طلیطلہ سے وہ تہذیب و زندگی نمودار ہو رہی تھی جس نے بعد میں انسانی ارتقا کو نئی صورت دی۔" آگے چل کر لکھتے ہیں کہ" اگر عرب نہ ہوتے تو عصرِ رواں کی مغربی تہذیب جنم ہی نہ لیتی۔یورپی نشوونما کا کوئی پہلو ایسا نہیں،جس میں اسلامی تہذیب کا یقینی سراغ نہ مل سکے. یہ صحیح ہے کہ عربوں نے کوئی کاپر نیکی یا نیوٹن پیدا نہیں کیا لیکن عربوں کے بغیر کاپر نیکی یا نیوٹن کا پیدا ہونا ناممکن تھا۔ مزید لکھتے ہیں کہ عربوں کے نفیس کتانی،سوتی، اونی اور ریشمی لباس، بغداد کے حریر و پرنیاں، دشمقی مشجر، موصل کی ململ، غزہ کی جالی، غرناطہ کے اونی کپڑے، ایرانی تافتہ اور طرابلس کے شیفون نے یورپ کی نیم برہنہ آبادی کو اعلیٰ لباس کا شوقین بنا دیا. اس قسم کے مناظر اکثر دیکھنے میں آئے کہ ایک بشپ گرجے میں عبادت کر رہا ہے اور اس کی عبا پر قرآنی آیات کاڑھی ہوئی ہیں. مرد تو رہے ایک طرف عورتیں بھی عربی قمیص اور جبہ بڑے فخر سے پہنتی تھیں."
ڈاکٹر ڈریپر "معرکہ مذہب و سائنس "میں لکھتے ہیں کہ " قرونِ وسطیٰ میں سائنس کی ترقی مسلمانوں کی بدولت تھی۔اس وقت عیسائی دنیا پر جہل و اوہام کی تاریکی محیط تھی اور انھیں علمی مشاغل کی ہوا تک نہیں لگی تھی۔"
کیرن آرمسٹرانگ ایک کیتھولک عیسائی ہیں، 7 سال نن رہی ہیں، بہت ساری کتابوں کی مصنفہ ہیں. اپنی کتاب Battle for God میں لکھتی ہیں "1492 ہماری بھی بعض الجھنیں اور مسائل سامنے لاتا ہے۔ پہلا واقعہ 2 جنوری کو ہوا جب کیتھولک حکمرانوں شاہ فرڈی نینڈ اور ملکہ ازابیلا کی شادی سے پرانی آیئبیرین بادشاہتوں اراگون اور کاستیل میں اتحاد قائم ہوا. اور ان کی فوجوں نے غرناطہ کی شہری ریاست پر قبضہ کر لیا. غرناطہ عیسائی دنیا میں مسلمانوں کا آخری قلعہ تھا. مشرقِ وسطیٰ میں صلیبی جنگ ناکام ہوگئی لیکن یورپ سے آخری مسلمان بھی نکال دیا گیا۔ 1499 میں اسپین کے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ عیسائی ہوجائیں ورنہ ملک سے چلے جائیں. اب وہاں کوئی مسلمان نہیں رہا. دوسرا واقعہ اسی سال 31 مارچ کو پیش آیا جب فرڈی نینڈ اور ازابیلا نے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت یہودیوں سے کہا گیا کہ وہ عیسائی ہوجائیں یا ملک چھوڑ دیں ۔ بہت سے یہودی اندلس میں بس گئے تھے کہ وہ عیسائی ہو گئے لیکن 80 ہزار کے قریب سرحد پار کر کے پرتگال چلے گئے جبکہ 50 ہزار یہودی مسلمانوں کی نئی عثمانی سلطنت میں جا پہنچے جہاں ان کی بہت آؤ بھگت ہوئی". آگے چل کر وہ لکھتی ہیں کہ " کہ اندلس کے مسلم علاقوں پر سپین کا قبضہ یہودیوں کے لیے بہت تباہ کن ثابت ہوا. اسلامی ریاست میں یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں چھ سو سال سے امن اور دوستی کے ساتھ اکٹھے رہ رہے تھے. وہاں یہودی خاص طور پر اپنی کلچری اور روحانی نشاۃ ثانیہ کی کیفیت میں تھے اور وہ اس منظم قتلِ عام سے بالکل محفوظ رہے تھے جو باقی یورپ میں یہودیوں کا مقدر تھا. اسلامی علاقوں پر عیسائیوں کے قبضے سے یہودیوں پر بڑی آفت آئی. 1378 اور 1391 میں عیسائیوں نے اراگون اور کاستیل میں یہودیوں پر حملے کیے اور انھیں گھسیٹتے ہوئے عیسائی بنانے لے گئے۔ اراگون میں ڈومینکن پادری ونسنٹ مسلسل یہودی دشمن فسادات بھڑکاتا رہا۔ یہودیت کو رد کرنے کے لیے وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مذہبی رہنماؤں کے درمیان مناظرے بھی کرواتا۔ بعض یہودی ایذاؤں سے بچنے کے لیے رضاکارانہ طور پر عیسائی بن گئے. انہیں سرکاری طور پر تو عیسائی کہا جاتا تھا مگر عیسائی انھیں خنزیر کہتے تھے " وہ مزید لکھتی ہیں کہ " 1492 میں جب فرڈی نینڈ اور ازابیلا نے غرناطہ پر قبضہ کیا تو وہاں یہودی خاصی بڑی تعداد میں تھے. انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس صورتِ حال سے عہدہ برآ نہیں ہو سکیں گے ۔ یہودیوں کے مسئلہ کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ ان کے اخراج کا فرمان جاری کر دیا. یہودی بستیاں تباہ کر دیں اور 70 ہزار یہودی جبرا عیسائی بنا لیے ۔باقی ایک لاکھ تیس ہزار یہودی جلاوطن کر دیے گئے۔ اسپین سے نکالے جانے والے یہودیوں کو بالخصوص یہ یقین تھا کہ وہاں ان کے قدم اکھڑ گئے ہیں. انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے صوبوں بلقان اور شمالی افریقہ میں پناہ لی۔ انہیں مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی عادت تھی"
اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ مسلمان کتنے روادار رہے ہیں کہ ایک غیر مسلم مصنف کے بقول تینوں مذاہب کے ماننے والے 6 سو سال تک مسلمانون کے دورِ حکومت میں ایک دوسرے کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہے. اور جب یہودیوں کو جب جلا وطن بھی کیا گیا تب بھی پناہ انہیں مسلمانوں کے ہاں ملی۔
صلیبی جنگوں بارے لکھی گئی اپنی کتاب " مقدس جنگ" میں یہی مصنفہ لکھتی ہیں کہ " 15 جولائی 1099 کو صلیبی شہر میں داخل ہو گئے۔ انھوں نے دو دن تک یروشلم کے مسلم اور یہودی باشندوں کا قتلِ عام جاری رکھا. انھوں نے مردو زن کی تمیز کیے بغیر ہر کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس قتلِ عام کے اگلے دن صلیبی مسجدالاقصیٰ کی چھت پر چڑھ گئے. انھوں نے مسلمانوں کے ایک گروپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا، حالانکہ ٹینکرڈ نے ضمانت دی تھی کہ انہھں مسجد میں قتل نہیں کیا جائے گا. صلیبیوں کے نزدیک مسلمان معزز دشمن نہیں رہے تھے بلکہ خداوند کے دشمن بن چکے تھے لہٰذا انھیں سفاکی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا جانا ان کا نصیب بن گیا تھا. وہ اس مقدس شہر کو ناپاک کر رہے تھے اس لیے انہیں کیرے مکوڑوں کی طرح فنا کر دیا جانا تھا۔صلیبی مسلمانوں کے لیے 'گند' کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے. اس قتلِ عام کے ایک عینی شاہد نے لکھا ہے: : بڑے ہی زبردست مناظر دیکھنے کو ملے. ہمارے کچھ سپاہیوں نے (رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے) اپنے دشمنوں کے سر کاٹ دیے. دوسروں نے انھیں تیروں کا نشانہ بنایا اور کچھ نے انھیں شعلوں کی نذر کر کے طویل اذیت دی. شہر کی گلیوں میں سروں، ہاتھوں اور پیروں کے ڈھیر دیکھے جا سکتے تھے. انسان انسانوں اور گھوڑوں کی لاشوں پر پاؤں رکھے بغیر گزر نہیں سکتا تھا. تاہم ہیکلِ سلیمانی میں جو کچھ ہوا اس کے مقابلے میں تو یہ کچھ بھی نہیں ہے. وہاں کیا ہوا؟ اگر میں سچ بیان کروں تو تمھیں یقین نہیں آئے گا، لہٰذا تمھارے اطمینان کے لیے کم از کم اتنا کہنا کافی ہے کہ ہیکل سلیمانی کے اندر اور اس کے دالان میں اتنا خون تھا کہ گھوڑ سواروں کے گھٹنوں سے اوپر اور گھوڑوں کی لگاموں تک آ گیا تھا۔ بلاشبہ یہ خداوند کا ایک منصفانہ اور شاندار فیصلہ تھا کہ یہ مقام کافروں کے خون سے بھر جائے، کیونکہ وہ بہت طویل عرصے سے اس کی توہین کر رہے تھے":
.
لیکن جب مسلمان فاتح رہے تو ان کا طرزِ عمل کیسا رہا آیئے اسی مصنفہ کی زبانی سنتے ہیں."
.
آخر صلاح الدین نے یروشلم کا محاصرہ کر لیا. شہر میں موجود عیسائی خوفزدہ تھے کہ شاید صلاح الدین ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جیسا کہ انہوں نے 1099 میں یروشلم کے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا. تاہم صلاح الدین نے عیسایئوں کو ایک پیشکش کی. اس نے کہلوایا کہ اگر وہ شہر غیر مشروط طور پر اس کے حوالے کر دیں تو کوئی خون خرابہ نہیں ہوگا. عیسایئوں نے یہ پیشکش رد کر دی اور لڑائی شروع ہو گئی. جلد ہی عیسایئوں کو یقین ہوگیا کہ ان کی شکست یقینی ہے. انہوں نے امن کی درخواست کی لیکن اب صلاح الدین سخت مؤقف اپنا چکا تھا. 2 اکتوبر 1187 کو صلاح الدین اپنی فوج کے ساتھ فاتح کی حیثیت سے یروشلم میں داخل ہوا. صلاح الدین نے یروشلم کو اعلیٰ ترین قرآنی اصولوں کے تحت فتح کیا تھا. اس نے 1099 میں ہونے والے مسلمانوں کے قتلِ عام کا انتقام نہیں لیا. ایک بھی عیسائی قتل نہیں کیا گیا اور لوٹ مار بالکل نہیں ہوئی. قیدیوں کو معمولی تاوان ادا کرنے پر رہا کر دیا گیا. جو غریب قیدی تاوان ادا کرنے سے قاصر تھے، صلاح الدین نے انھیں روتے دیکھ کر آزاد کروا دیا. صلاح الدین کے بھائی العادل کو قیدیوں پر اس قدر ترس آیا کہ اس نے اپنی جیب سے تاوان ادا کر کے ایک ہزار قیدیوں کو آزادی دلوائی. دوسری طرف دولت مند عیسائی اتنی دولت لے کر فرار ہو رہے تھے کہ جو سارے قیدیوں کو رہائی دلوانے کے لیے کافی تھی. جب عماد الدین نے پادری ہیرا کلیئس کو رتھوں پر خزانہ لادے شہر سے فرار ہوتے دیکھا تو اس نے صلاح ا لدین پر زور ڈالا کہ پادری کا خزانہ ضبط کر لیا جائے لیکن صلاح الدین نے انکار کر دیا. قرآن کہتا ہے کہ وعدے اور معاہدے لازما ایفا کیے جایئں اور مسلمانوں کو قانون کی پابندی کرنی چاہیے. صلاح الدین نے عماد الدین کو کہا تھا "عیسائی جہاں بھی ہوں ہماری مہربانی کو یاد کریں گے" پادری ہیرا کلیئس نے دوسروں کی طرح دس دینار تاوان ادا کیا. صلاح الدین نے ٹائر تک کے سفر کے لیے اس کے خزانے کی حفاظت کے واسطے محافظ ساتھ کر دیے."
.
.یہ حوالے میں نے نسیم حجازی کے ناولز یا زید حامد کے ٹی وی پروگرامز سے نہیں دیے بلکہ مغرب کے پڑھے لکھے غیر متعصب لوگوں کی کتابوں سے پیش کیے ہیں جو ہماری کنٹریبیوشن کو تسلیم کرتے ہیں۔ بہتری کی خواہش بجا، خود احتسابی کی ہر کوشش جائز لیکن ایسا کرتے ہوئے ہمیں ان حقائق کو فراموش نہیں کرنا. خصوصا جب نیت اصلاح کی ہو تو تنقید کے نشتر چلانے کے ساتھ ساتھ ان باتوں کو بھی ذہن میں رکھ کر رائے دیں کہ ہم ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے. تبھی ہماری بات وہاں تک پہنچ سکے گی جہاں پہنچنی اور اثر کرنی چاہیے