ہوم << مذہبی جماعتوں کے لیے عبدالستار ایدھی کی زندگی سے چار سبق - جاوید احمد ملک

مذہبی جماعتوں کے لیے عبدالستار ایدھی کی زندگی سے چار سبق - جاوید احمد ملک

javaid a malik
ایسا کافی مشکل ہے کہ پاکستانی دایاں بازو اپنے فرقے سے باہر کسی اور شخصیت سے کچھ سیکھنے کی ضرورت محسوس کرے- جماعتی گروہ بندی اور ذاتی تعصبات سے اوپر اٹھ کر مشکل سے ہی کسی اور مکتبہ فکر کی اپنی جماعت کے اندر پذیرائی ہو پاتی ہے- اس کی ایک وجہ تو علمی اختلافات کی وہ تنگنائی ہے جس میں جماعت اسلامی صرف مولانا مودودی صاحب کو، تنظیم اسلامی صرف ڈاکٹر اسرار صاحب کو اور منہاج القرآن صرف طاہر القادری صاحب کو پڑھا کرتی ہے- دیوبندی کچھ وسیع المشرب ضرور ہیں، لیکن علمی کبر سے وہ بھی ماورا نہیں ہیں اور اکثر اپنے علم کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے میں اپنا تن من دھن لگانے کے ماہر ہیں- ان کو اس زعم سے ہی فراغت بھی کم ہوتی ہے کہ ان کے علماء بریلویوں اور اہلحدیث علماء سے علم اور سمجھ میں شاید کچھ زیادہ بہتر ہیں-
ایسے میں عبدالستار ایدھی مذہبی لوگوں کو کہاں متاثر کرسکتے تھے- گفتار کے غازیوں کے لیے ایدھی شاید کچھ بھی نہیں ہے لیکن وہ لوگ جو بہرحال اس دنیا کے دکھوں میں کچھ کمی چاہتے ہیں، ان کے لیے ایدھی ایک روشن مثال کی طرح ہے جس سے سب کو لیکن خاص طور پر پاکستانی مذہبی سیاست کو ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے- میری نگاہ میں ایدھی صاحب کی زندگی میں سے کم از کم چار ایسے اسباق ہیں جو ان کو خاص طور پر یاد رکھنے چاہییں -
پہلا سبق، انسانیت سب سے پہلے
حالانکہ ہمارا دین اپنی اصل میں گلوبل اور یونیورسل ہے لیکن ہماری مذہبی جماعتوں کا پہلا مسئلہ گروہی مفاد کا تحفظ ہی رہتا ہے- اکثر کو تو برابری کی بنیاد پر کسی انٹرنیشنل کلچر میں رہنے کا نہ تجربہ ہے اور نہ ہنر - نتیجے کے طور پر ہمارے لوگ بیچارے اس مخمصے میں ہی رہتے ہیں کہ بغیر مسلمان کیے کسی غیر عقیدہ انسان کے ساتھ کیسے نمٹیں- ایدھی صاحب کو یہ مسئلہ نہ تھا - بغیر کسی الجھن کے وہ انسانیت کے نام پر سب کی مدد کیے چلے گئے۔ آج ہمارا سیاسی دایاں بازو اگر انسانیت کو بنیاد بنالے تو شاید ان کو دنیا میں کچھ غیر روایتی حلیف بھی مل جائیں اور اور ان کا فہم اسلام بھی ذرا سے گلوبل اور دنیا سے تال میل ملانے والا ہوجائے- ایدھی صاحب ہو سکتا ہے کچھ سوشلزم سے بھی متاثر ہوں جو کہ یوں بھی مولانا عبیداللہ سندھی سمجھتے تھے کہ اسلامی مزاج کے زیادہ قریب ہے لیکن جس صاف ذہن اور تندہی سے ایدھی صاحب نے کام کیا، وہ ہماری روایت میں سرکاری سرپرستی کے نہ ہوتے ہوئے شاید ہی کوئی اور کر پایا ہو- بلکہ کوئی بھی نہیں کر پایا -
دوسرا سبق، خدمت کے کام کے پیچھے کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے
خدمت خلق اپنے آپ میں بھی ایک ایجنڈا ہو سکتا ہے- اس لحاظ سے ایدھی صاحب ترکی کے فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے کہیں آگے کھڑے نظر آتے ہیں جو آج کل طیب اردگان کی حکومت سے بری طرح برسر پیکار نظر آتے ہیں- پاکستان میں جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن جو سراج الحق صاحب جیسے سیاسی ذہن رکھنے والے امیر کے لیے ایک مخمصہ سی ہی لگتی محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ ہر قیمت پر اسمبلی میں اپنی تعداد بڑھانے پر مرتکز نظر آتے ہیں- حافظ سعید صاحب کی فلاحی تنظیم جماعۃ الدعوہ ان کی سیاسی حکمت عملی کا ایک اظہار ہی تو ہے - ایدھی ایک مختلف اور ارفع انسان تھے جن کے لیے ا نسانوں کی جان بچانا اور ان کی تکریم بذات خود ایک نظریے کا درجہ رکھتا تھا-
تیسرا سبق، خواتین کی شراکت اور شمولیت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں حتیٰ کہ ویلفیئر بھی
مراکش کی عظیم ماہر بشریات ڈاکٹر فاطمہ مرنیسی کا خیال تھا کہ مسلمان معاشروں میں عورت کا محدود کردار ان مرد محدثین اور فقہا کی وجہ سے ہے جو عورتوں کے کردار کو شاید نادانستہ کم کرکے پیش کرتے رہے ہیں - جو بھی وجہ ہو یہ حقیقت ہے کہ مذہبی جماعتوں میں خواتین جلسوں میں محض حاضری بڑھانے کے لیے ہی آپاتی ہیں اور ان کا پالیسی میں کوئی رول نہیں ہو تا- ایدھی صاحب ان الجھنوں سے ماورا رہے - بلقیس ایدھی بالکل ایک عام پاکسانی ماں بہن کی مانند ہیں لیکن خدمت کے کاموں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں- ہماری مذہبی جماعتیں جن کی اکثریت نے فاطمہ جناح کو ایک مرتبہ اپنا صدارتی امیدوار تک بنایا، بعد میں اپنی اس پوزیشن سے پیچھے چلی گئیں، بلکہ عورت کے مسئلے پر شرمسار سے دکھائی دیں - چہرے کا پردہ نہ کرنے والی خواتین کو کم ہی قیادت کے لیے جگہ دی جاتی ہے -
چوتھا سبق، انسانی حقوق پاکستانی قوانین سے متصادم نہیں
اپنے عمل سے تو ایدھی نے ثابت کیا انسانی حقوق کی بحالی کے لیے عملی کام کیسے کرتے ہیں- انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین ایک طویل مذاکرات کے بعد اسلامی ممالک کی مرضی سے طے پائے - اسلامی ممالک کے نامور سفیروں نے اقوام متحدہ میں اس طویل بحث کو اپنے کلچر اور مذہبی تعلیمات کی روشنی میں پرکھا اور منظور کیا - ایدھی صاحب نے بھی فکری طور پر انسانی حقوق کا دائرہ عمل ہی عملی طور پر برت کر دکھا دیا - ہماری مذہبی جماعتیں بھی انسانی حقوق کے فریم ورک سے اپنے لیے ایک نیا محاورہ اور انداز اختیار کرسکتی ہیں - امریکا میں سوڈانی نژاد انسانی حقوق اور اسلام کے پروفیسرعبدللہ اناایمی یہ بات بہت پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات میں ایک عمدہ تال میل ہے اور اسے مزید مستحکم بنیادوں پر بھی قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ مختلف تہذیبیں مل کر کم از کم حقوق کے معاملات میں ایک مشترکہ لائحہ عمل پر کام کرسکیں -
مذہبی جماعتیں کم ہی کسی سے سیکھنے پہ آمادہ ہو پاتی ہیں - تقویٰ کا کبر اور بات بات پر جذبات کا استعمال بھی اس میں رکاوٹ ہے لیکن ہمیں پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم سب ایک قوم بن کر آگے بڑھیں جیسا کہ اس دن ایدھی کے جنازے کے دن نظر آیا -

Comments

Click here to post a comment