(ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس کے خواب، ایک بے رحم معاشرے کے ہاتھوں لہولہان ہوگئے۔) شہر کے کنارے ایک بوسیدہ مکان تھا، جس کی دیواروں پر وقت کی گَرد جمی ہوئی تھی۔ چھت برسات میں ٹپکتی، دروازہ ہوا کے جھونکوں...
کہانی
گزشتہ سے پیوستہ۔ قسط نمبر ۲ دفتر میں نوکری کرنے کے متعلق میرے گھر میں بھی وہی خدشات تھے جو اس بارے میں ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے ہیں۔ اس سے قبل بڑی بہنیں...
رات کا آخری پہر تھا۔ آسمان پر بادلوں کی سیاہ چادر تنی ہوئی تھی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف ایسے چمک رہی تھی جیسے کسی درویش نے سفید چادر اوڑھ رکھی ہو۔ دُور کہیں...
شہر کا نام شہرِ نَوید تھا، مگر اُس رات شہر میں کسی کو نَوید کی خبر نہ تھی۔ آسمان پر بادل ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہوا میں نمی تھی اور سڑکوں پر معمول کی چہل پہل۔ شہر کے...
ایک نوآموز، ابلاغِ عامہ کی طالبہ جس کا آج تک کسی بھی قسم کی نوکری یا انٹرن شپ کا کوئی تجربہ نہیں، اسے امتحانات کے دوران ہی ملک کے سب سے بڑے اخباری گروپ کے...

