ہوم << خوابوں کے مقتل میں – محمد شفیق اعوان
600x314

خوابوں کے مقتل میں – محمد شفیق اعوان

(ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس کے خواب، ایک بے رحم معاشرے کے ہاتھوں لہولہان ہوگئے۔)

شہر کے کنارے ایک بوسیدہ مکان تھا، جس کی دیواروں پر وقت کی گَرد جمی ہوئی تھی۔ چھت برسات میں ٹپکتی، دروازہ ہوا کے جھونکوں سے کراہتا اور صحن میں رکھا مٹی کا گھڑا گرمیوں میں بھی پانی کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اسی مکان میں بشیر احمد اپنی بیوی زینب اور اکلوتی بیٹی ماہ نور کے ساتھ رہتا تھا۔

بشیر احمد کوئی جاگیردار، سرمایہ دار یا بڑے عہدے پر فائز افسر نہیں تھا۔ وہ ایک معمولی محنت کش تھا، جو صبح سویرے اپنی موٹر سائیکل پر دودھ کے ڈبے لادتا اور گلی گلی آوازیں لگاتا پھرتا تھا۔ اس کی زندگی کا سورج دوسروں کے گھروں میں دودھ پہنچاتے ہوئے طلوع ہوتا اور تھکے ماندے قدموں کے ساتھ شام کو ڈوب جاتا۔ اس کی ہتھیلیوں کی لکیروں میں دولت کے خزانے نہیں، محنت کے چھالے تھے؛ آنکھوں میں اپنے لیے کوئی بڑا خواب نہیں، بس ایک آرزو تھی کہ اس کی بیٹی پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے۔
ماہ نور اس غریب گھرانے کی وہ ننھی سی شمع تھی، جس نے غربت کے اندھیروں میں بھی روشنی پھیلانے کی ٹھان رکھی تھی۔ وہ کتابوں سے محبت کرتی، وقت کی قدر جانتی اور اپنی محرومیوں کو اپنی کمزوری نہیں، اپنی طاقت سمجھتی تھی۔ کبھی بجلی چلی جاتی تو صحن میں بیٹھ کر لالٹین کی روشنی میں پڑھتی، کبھی سردیوں کی راتوں میں لحاف کے اندر کتاب چھپا کر امتحان کی تیاری کرتی۔

اس کے والد جب تھکے ہارے گھر لوٹتے تو وہ مسکرا کر پانی کا گلاس ان کے سامنے رکھ دیتی۔
ایک روز بشیر احمد نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا، ’’بیٹی! میں نے ساری عمر دوسروں کے گھروں میں دودھ پہنچایا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ایک دن تمہاری کامیابی کی خبر بھی لوگوں کے گھروں تک پہنچے۔‘‘
ماہ نور نے باپ کے کھردرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا، ’’ابّا جان! آپ نے مجھے غربت میں پالا ہے، مگر میرے خوابوں کو کبھی غریب نہیں ہونے دیا۔ میں ایک دن آپ کی محنت کا صِلہ ضرور دوں گی۔‘‘
باپ نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ شاید اس کی خاموش دُعا نے بھی اسی لمحے عرش کی طرف پرواز کی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ ماہ نور نے جامعہ میں تعلیم حاصل کی اور اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت سے امتیازی پوزیشن حاصل کرلی۔ جب اسے طلائی تمغے سے نوازا گیا تو اس کی ماں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ بشیر احمد نے اپنی پرانی واسکٹ کی جیب سے رومال نکالا، آنکھیں صاف کیں اور بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔
اس روز غریب باپ کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی ساری عمر کی مشقت نے پھولوں کی چادر اوڑھ لی ہو۔

لیکن ماہ نور کی منزل ابھی دُور تھی۔ وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ بیرونِ ملک کسی اچھی جامعہ میں داخلہ لے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور واپس آکر اپنے جیسے محروم بچوں کے لیے کچھ کرے۔
ایک شام اس نے اپنے والدین کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔
’’ابّا جان! اگر مجھے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل جائے تو میں بہت کچھ سیکھ سکتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہمارے علاقے کے وہ بچے بھی آگے بڑھیں جن کے والدین فیسیں ادا نہیں کرسکتے۔‘‘
بشیر احمد کچھ دیر خاموش رہا۔ اس نے مکان کی دیواروں پر نگاہ دوڑائی، پھر بیٹی کے چہرے کو دیکھا۔
’’بیٹی! تمہاری خواہش میری خواہش ہے، مگر اس سفر کے لیے بہت پیسہ درکار ہوگا۔ میرے پاس تو یہ چھوٹا سا پلاٹ ہے، جسے میں نے تمہارے مستقبل کے لیے سنبھال رکھا ہے۔‘‘

ماہ نور نے فوراً کہا، ’’ابّا جان! میں آپ کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی۔ اگر یہ ممکن نہ ہوا تو میں یہیں رہ کر بھی تعلیم حاصل کرسکتی ہوں۔‘‘
زینب نے بیٹی کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’نہیں بیٹی! باپ کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ اولاد کے خواب ہوتے ہیں۔ ہم اپنی استطاعت کے مطابق کوشش ضرور کریں گے۔‘‘
چند روز بعد ایک جاننے والے نے انہیں ایک تعلیمی مشیر کے بارے میں بتایا۔ اس کا دفتر شہر کے پوش علاقے میں تھا۔ شیشے کے دروازے، چمکتے ہوئے فرنیچر، دیوار پر آویزاں غیر ملکی جامعات کی تصاویر اور میز پر رکھے قیمتی قلم اس کی خوش حالی کا اعلان کررہے تھے۔
اس شخص کا نام کامران شاہ تھا۔ لباس نفیس، گفتگو شیریں اور لہجہ اس قدر پُراعتماد کہ سننے والا اس کی ہر بات کو سچ سمجھنے لگتا۔

اس نے ماہ نور کی تعلیمی اسناد دیکھیں، چند رسمی سوالات کیے اور پھر کرسی سے ذرا آگے جھکتے ہوئے بولا، ’’آپ کی بیٹی غیر معمولی ذہانت کی مالک ہے۔ اس کے لیے امریکہ کی ایک اچھی جامعہ میں داخلہ اور ویزا حاصل کرنا مشکل نہیں۔ البتہ اس سارے عمل پر تقریباً ستر لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔‘‘
بشیر احمد کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
’’ستر لاکھ! صاحب، میں تو دودھ بیچ کر گھر چلاتا ہوں۔ اتنی بڑی رقم کہاں سے لاؤں گا؟‘‘
کامران شاہ نے مسکرا کر کہا، ’’بشیر صاحب! بڑے خوابوں کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ آج آپ خرچ کریں گے تو کل آپ کی بیٹی لاکھوں کمائے گی۔ آپ کا گھر بدل جائے گا، آپ کی قسمت بدل جائے گی۔ بس مجھ پر اعتماد رکھیے۔‘‘
یہ جملے بشیر احمد کے کانوں میں امید کی گھنٹیوں کی طرح بجنے لگے۔ غربت نے اس کی آنکھوں پر برسوں سے محرومی کے پردے ڈال رکھے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید قدرت نے اس کے گھر کے دروازے پر خوش حالی بھیجنے کے لیے اسی شخص کو منتخب کیا ہے۔

اس نے اپنا پلاٹ فروخت کردیا۔ زندگی بھر کی جمع پونجی اور پلاٹ کی رقم ملا کر اکیس لاکھ روپے کامران شاہ کے حوالے کردیے۔ باقی رقم کا بندوبست کرنے کے لیے زینب نے اپنے زیورات بھی بینک میں گروی رکھوا دیے۔
جب ماہ نور کو اس بات کا علم ہوا تو وہ پریشان ہوگئی۔
’’ابّا جان! آپ نے میرے لیے اپنا پلاٹ بھی بیچ دیا؟ امّی نے اپنے زیورات بھی گروی رکھوا دیے؟ اگر کچھ غلط ہوگیا تو ہم کیا کریں گے؟‘‘
بشیر احمد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، ’’بیٹی! تمہاری قابلیت پر مجھے بھروسا ہے۔ میں نے پلاٹ نہیں بیچا، تمہارے مستقبل کے لیے راستہ خریدا ہے۔‘‘
ماہ نور خاموش ہوگئی۔ وہ باپ کو کیا بتاتی کہ بعض راستے منزل تک نہیں پہنچاتے، بلکہ انسان کو ایسی کھائی کے کنارے لے جاتے ہیں جہاں سے واپسی دشوار ہوجاتی ہے۔

دن گزرتے رہے۔ کامران شاہ کبھی کسی دستاویز کا بہانہ کرتا، کبھی کسی نئے خرچ کا ذکر چھیڑ دیتا۔ کبھی کہتا کہ جامعہ کی طرف سے جواب آنے والا ہے، کبھی دعویٰ کرتا کہ ویزا کارروائی آخری مرحلے میں ہے۔
پھر ایک روز ماہ نور نے تمام دستاویزات کی تصدیق کروانے کا فیصلہ کیا۔
اس نے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا، جامعہ کی ویب سائٹ پر معلومات دیکھیں اور اپنے کاغذات کی جانچ کروائی۔ چند ہی روز میں اس کے سامنے ایسا انکشاف ہوا جس نے اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی۔
کچھ دستاویزات جعلی تھیں۔ داخلے کے دعوے مشکوک تھے اور ویزے کے بارے میں کیے گئے وعدوں کی کوئی معتبر بنیاد موجود نہیں تھی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے والد کو فون کیا۔

’’ابّا جان! ہمیں دھوکا دیا گیا ہے۔ کاغذات درست نہیں ہیں۔‘‘
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
’’کیا کہا تم نے، بیٹی؟‘‘
’’ابّا جان! وہ سب جھوٹ تھا۔ داخلہ، ویزا، سب کچھ!‘‘
بشیر احمد کے ہاتھ سے فون تقریباً چھوٹ گیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے سینے میں برسوں سے روشن چراغ ایک ہی پھونک میں بجھا دیے ہوں۔
وہ اسی روز کامران شاہ کے دفتر پہنچا، مگر وہاں تالا لگا ہوا تھا۔ دروازے پر لٹکا ہوا بورڈ اتار دیا گیا تھا۔ دفتر کا نمبر بند تھا اور جن لوگوں نے اس شخص کی تعریفوں کے پل باندھے تھے، وہ بھی اب پہچاننے سے انکار کررہے تھے۔
بشیر احمد نے تھانے کا رخ کیا۔ درخواست دی، ثبوت جمع کیے اور انصاف کی دہائی دی۔ مگر کارروائی کی سست رفتاری، بار بار دفتر کے چکر، کاغذات کی طلب اور مختلف لوگوں کے سوالات نے اسے مزید تھکا دیا۔

ایک اہلکار نے رسمی انداز میں کہا، ’’بشیر صاحب! ایسے معاملات میں وقت لگتا ہے۔ آپ صبر کریں۔‘‘
بشیر احمد نے دل ہی دل میں سوچا، ’’صبر تو میں نے ساری عمر کیا ہے، صاحب! مگر میری بیٹی کے خوابوں کا جو خون ہوا ہے، اس کا حساب کون دے گا؟‘‘
ادھر ماہ نور کی دنیا بدل چکی تھی۔
وہ کتاب کھولتی تو الفاظ دھندلا جاتے۔ جامعہ جانے کا خیال آتا تو دل پر بوجھ سا اترنے لگتا۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ اپنے والدین کی محنت کی مجرم ہے، حالاں کہ جرم کسی اور نے کیا تھا۔
رات کو نیند نہ آتی۔ وہ چھت پر جا کر آسمان کو دیکھتی اور سوچتی کہ کیا قابلیت کا یہی صِلہ ہے؟ کیا غریب کے خواب دیکھنے پر بھی کوئی پابندی ہے؟ کیا انصاف صرف ان لوگوں کے دروازے پر دستک دیتا ہے جن کے پاس اسے خریدنے کے وسائل ہوتے ہیں؟

ایک روز اس کی سہیلی عائشہ اس سے ملنے آئی۔ اس نے ماہ نور کے بجھے ہوئے چہرے کو دیکھا تو پریشان ہوگئی۔
’’ماہ نور! تم خود کو کیوں قصوروار سمجھ رہی ہو؟ دھوکا تمہارے ساتھ ہوا ہے، تم نے کسی کو دھوکا نہیں دیا۔‘‘
ماہ نور نے دھیمی آواز میں کہا، ’’عائشہ! میں نے اپنے والد کو ان کی عمر بھر کی کمائی سے محروم کردیا۔ امّی کے زیورات بھی گروی ہیں۔ میں ان کی آنکھوں میں دیکھتی ہوں تو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔‘‘
عائشہ نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔
’’یہ شرمندگی تمہاری نہیں، اس شخص کی ہونی چاہیے جس نے تمہارے خوابوں کو تجارت بنا دیا۔ تم ایک گولڈ میڈلسٹ ہو۔ تمہاری زندگی کسی ایک ناکامی یا کسی جعل ساز کے جھوٹ سے چھوٹی نہیں ہوجاتی۔‘‘

ماہ نور نے پہلی بار اپنی سہیلی کی طرف غور سے دیکھا، مگر اس کے دل میں چھایا ہوا اندھیرا ابھی پوری طرح چھٹنے کے لیے تیار نہ تھا۔
عائشہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر بات کرے، کسی قابلِ اعتماد استاد سے مدد لے اور ضرورت پڑنے پر کسی ماہرِ نفسیات سے بھی مشورہ کرے۔ اس نے کہا کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑے گی۔
چند روز تک ماہ نور نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ کبھی وہ اپنے والد کے پاس بیٹھ جاتی، کبھی ماں کی گود میں سر رکھ کر خاموش رہتی۔ زینب اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہتی، ’’بیٹی! دولت چلی جائے تو دوبارہ کمائی جاسکتی ہے، مگر اولاد کی مسکراہٹ کا کوئی بدل نہیں۔ ہمیں تمہاری زندگی عزیز ہے، تمہاری کامیابی کے تمغے نہیں۔‘‘
لیکن ماہ نور کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ اس کی نیند، بھوک اور یکسوئی متاثر ہوچکی تھی۔ اسے بار بار محسوس ہوتا کہ لوگ اس کی ناکامی پر باتیں کریں گے، اس کی قابلیت کا مذاق اڑائیں گے اور اس کے والدین کو طعنے دیں گے۔

ایک شام بشیر احمد نے اسے اپنے پاس بلایا۔
’’بیٹی! تم جانتی ہو، میں نے ساری عمر محنت کی ہے۔ میں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ پلاٹ چلا گیا تو کیا ہوا؟ میں پھر محنت کروں گا۔ زیورات گروی ہیں تو کیا ہوا؟ ہم انہیں بھی چھڑا لیں گے۔ مگر تم مجھے ایک وعدہ دو۔‘‘
ماہ نور نے نم آنکھوں سے پوچھا، ’’کون سا وعدہ، ابّا جان؟‘‘
’’یہ کہ تم اپنی زندگی کو کسی فراڈیے کے ہاتھوں ہارنے نہیں دو گی۔ تمہاری زندگی کسی کے جھوٹ سے کم قیمتی نہیں ہوسکتی۔‘‘
ماہ نور نے باپ کے سینے سے لگ کر رونا شروع کردیا۔
’’ابّا جان! میں بہت تھک گئی ہوں۔‘‘
بشیر احمد کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔

’’بیٹی! تھک جانا کوئی جرم نہیں۔ بس تھک کر اکیلے مت بیٹھ جانا۔ ہمیں آواز دینا، ہم تمہارے ساتھ بیٹھیں گے۔‘‘
اس رات زینب نے اپنی بیٹی کے لیے دعا کی۔ عائشہ نے اسے پیغام بھیجا۔ اس کے ایک استاد نے بھی فون کرکے کہا کہ وہ جامعہ آئے، اس کے لیے تعلیمی مواقع تلاش کیے جاسکتے ہیں اور اس کی قابلیت کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔
زندگی نے ابھی اس کے لیے اپنے تمام دروازے بند نہیں کیے تھے، مگر اسے یہ بات سمجھنے کے لیے وقت اور سہارے کی ضرورت تھی۔
اگلی صبح شہر میں ایک ہول ناک خبر پھیل گئی۔
شہر کے مضافات میں سڑک کے کنارے ایک نوجوان لڑکی کی لاش ملی تھی۔ ابتدائی اطلاعات میں خودکشی کا شبہ ظاہر کیا جارہا تھا، مگر حالات کی مکمل حقیقت سامنے نہیں آئی تھی۔ پولیس نے تفتیش شروع کردی تھی۔

خبر سنتے ہی بشیر احمد کے قدم لڑکھڑا گئے۔ زینب نے بے اختیار اپنی بیٹی کا نام پکارا۔ عائشہ نے فوراً ماہ نور کو فون کیا، مگر رابطہ نہ ہوسکا۔
گھر میں قیامت برپا ہوگئی۔
کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ لاش ماہ نور کی نہیں تھی۔ وہ ایک دوسری نوجوان لڑکی تھی، جس کا نام حرا تھا۔
حرا بھی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ اپنے خاندان کی امید تھی، مگر اس کے حالات، اس کی زندگی کے آخری لمحات اور موت کی اصل وجہ کے بارے میں ابھی کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا تھا۔
بشیر احمد نے یہ خبر سنی تو اس کے اندر ایک عجیب سا خوف جاگ اٹھا۔ اسے محسوس ہوا کہ یہ سانحہ صرف ایک لڑکی کا نہیں، ان ہزاروں لڑکیوں کا ہے جو خواب دیکھتی ہیں، محنت کرتی ہیں، آگے بڑھنا چاہتی ہیں، مگر کسی نہ کسی مقام پر دھوکے، استحصال، بلیک میلنگ یا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں۔

اس نے اپنی بیٹی کو اپنے سامنے بٹھایا اور کہا،
’’ماہ نور! آج میں نے ایک اور ماں کی گود اجڑنے کی خبر سنی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ حرا کے ساتھ کیا ہوا، مگر میں جانتا ہوں کہ ہماری بچیوں کو محفوظ ماحول، انصاف اور بروقت مدد کی ضرورت ہے۔ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔‘‘
ماہ نور نے پہلی بار اپنے آنسو پونچھے۔
’’ابّا جان! میں چاہتی ہوں کہ کوئی دوسری لڑکی اس دھوکے کا شکار نہ ہو جس کا سامنا مجھے کرنا پڑا۔ میں چاہتی ہوں کہ ہم اس فراڈ کے خلاف آواز اٹھائیں۔‘‘
بشیر احمد نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ضرور بیٹی! مگر یاد رکھنا، انصاف کی لڑائی سچ، ثبوت اور حوصلے سے لڑی جاتی ہے۔ ہم کسی بے گناہ پر الزام نہیں لگائیں گے، مگر کسی مجرم کو بچنے بھی نہیں دیں گے۔‘‘

اگلے روز ماہ نور اپنے والد، عائشہ اور اپنے استاد کے ساتھ متعلقہ حکام کے پاس گئی۔ انہوں نے تمام دستاویزات جمع کروائیں، مشتبہ تعلیمی مشیر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور دیگر متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کرنے کی کوشش شروع کردی۔
انہیں معلوم ہوا کہ اس شخص کے ہاتھوں چند اور خاندان بھی نقصان اٹھا چکے تھے۔ کسی نے اپنی زمین بیچی تھی، کسی نے قرض لیا تھا، کسی نے بیٹی کی شادی کے لیے جمع کی گئی رقم خرچ کردی تھی۔
ہر گھر کی کہانی الگ تھی، مگر سب کے زخم ایک جیسے تھے۔
ایک شخص نے کہا، ’’ہم نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پیسے دیے تھے، کسی کی جیب بھرنے کے لیے نہیں۔‘‘
ایک خاتون روتے ہوئے بولی، ’’ہماری بیٹی رات بھر پڑھتی تھی۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ کوئی اس کی محنت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنالے گا؟‘‘

ماہ نور نے ان کی باتیں سنیں تو اسے احساس ہوا کہ اس کا دکھ تنہا نہیں۔ اس کے ساتھ بہت سے لوگ کھڑے تھے، جن کی آوازیں بکھری ہوئی تھیں۔ اگر یہ سب آوازیں یکجا ہوجائیں تو شاید ان کی فریاد ایوانِ انصاف تک پہنچ سکے۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھے گی، اپنے والدین کا سہارا بنے گی اور ان لوگوں کے خلاف آواز اٹھائے گی جو نوجوانوں کی مجبوریوں کو کاروبار بناتے ہیں۔
اس نے اپنے جامعہ کے استاد کی مدد سے ایک آگاہی مہم شروع کی۔ اس میں نوجوانوں کو بتایا جاتا کہ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے کسی بھی مشیر کو رقم دینے سے پہلے متعلقہ جامعہ، داخلے، ویزا اور دستاویزات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ادائیگی کا باقاعدہ تحریری معاہدہ، رسید اور قابلِ اعتماد ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔ کسی شخص کے بڑے دفتر، مہنگے لباس یا میٹھی گفتگو کو اس کی دیانت کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔
مہم کا پہلا اجلاس جامعہ کے ایک چھوٹے سے ہال میں منعقد ہوا۔ وہاں طلبہ، والدین، اساتذہ اور چند صحافی موجود تھے۔

ماہ نور نے مائیک سنبھالا تو اس کے ہاتھ کچھ کانپے، مگر آواز میں آہستہ آہستہ اعتماد پیدا ہونے لگا۔
’’میرے عزیز ساتھیو! میں بیرونِ ملک تعلیم کے خواب کی مخالف نہیں ہوں۔ خواب دیکھنا ہمارا حق ہے، آگے بڑھنا ہمارا حق ہے اور اپنے خاندان کی حالت بدلنے کی کوشش کرنا بھی ہمارا حق ہے۔ مگر ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ خوابوں کی منڈی میں کچھ لوگ ہماری مجبوریوں کو خریدتے ہیں اور ہمارے مستقبل کو فروخت کردیتے ہیں۔
’’ہمیں ہر ایسے شخص کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے جو جعلی دستاویزات، جھوٹے داخلوں یا ویزے کی ضمانتوں کے نام پر لوگوں کو لوٹتا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ہمیں اپنے معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ناکامی کا شکار نوجوان کو طعنہ نہ دیا جائے، بلکہ اس کا ہاتھ تھاما جائے۔‘‘
ہال میں خاموشی چھا گئی۔

ماہ نور نے ایک لمحے کے لیے اپنے والد کو دیکھا۔ بشیر احمد کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس بار ان آنسوؤں میں بے بسی کے ساتھ فخر بھی شامل تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اس کی بیٹی کے خوابوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے، لیکن وہ ابھی زندہ تھی، کھڑی تھی اور اپنے دکھ کو دوسروں کی مدد کا ذریعہ بنا رہی تھی۔
اجلاس کے اختتام پر ایک بوڑھا شخص ماہ نور کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔
’’بیٹی! میرا نواسہ بھی ایک مشیر کے ہاتھوں دھوکا کھا چکا ہے۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ مجھے امید ہے، تم ہماری بات سنو گی۔‘‘
ماہ نور نے فائل لے کر کہا، ’’بابا جی! ہم آپ کی بات سنیں گے۔ مگر ہمیں سب کچھ قانون کے مطابق کرنا ہوگا۔ کسی کے خلاف کارروائی ثبوت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔‘‘
بوڑھے نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
’’اللّہ تمہیں سلامت رکھے، بیٹی! تم نے آج ہمیں یہ احساس دلایا ہے کہ غریب کے پاس بھی آواز ہوتی ہے۔‘‘

وقت گزرتا گیا۔ تحقیقات آگے بڑھیں۔ متعلقہ اداروں نے شکایات کا جائزہ لیا اور مشتبہ شخص کے معاملات کی چھان بین شروع کردی۔ ابھی انصاف کی منزل دُور تھی، مگر کم از کم متاثرہ خاندان خاموش تماشائی بن کر بیٹھنے پر آمادہ نہیں تھے۔
ماہ نور نے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کردی۔ وہ کبھی ماضی کی یاد سے اداس ہوجاتی، کبھی آنے والے وقت سے خوف محسوس کرتی، مگر اب اس نے ایک بات سیکھ لی تھی: ذہنی اذیت کو تنہا برداشت کرنا ضروری نہیں، مدد مانگنا کمزوری نہیں اور زندگی کی قدر کسی ایک ناکامی سے کم نہیں ہوتی۔
اس نے جامعہ میں طالبات کے لیے ایک معاون حلقہ قائم کرنے میں بھی حصہ لیا، جہاں پریشانیوں کا شکار طالبات کو اساتذہ، قابلِ اعتماد مشیروں اور ضرورت پڑنے پر ذہنی صحت کے ماہرین سے رابطے میں مدد دی جاتی تھی۔
ایک روز عائشہ نے اس سے پوچھا، ’’ماہ نور! اگر تمہیں دوبارہ وہی موقع ملے تو کیا تم بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دیکھو گی؟‘‘

ماہ نور مسکرائی۔
’’ضرور! خواب دیکھنا چھوڑ دوں تو دھوکے باز جیت جائے گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب میں خوابوں کے ساتھ احتیاط بھی رکھوں گی، امید کے ساتھ تحقیق بھی اور حوصلے کے ساتھ اپنے حقوق کا شعور بھی۔‘‘
عائشہ نے کہا، ’’اور اگر کسی دوسری لڑکی کے ساتھ ایسا ہو جائے؟‘‘
ماہ نور نے جواب دیا، ’’تو ہم اسے یہ نہیں کہیں گے کہ تم نے خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی۔ ہم اس سے کہیں گے کہ تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے، تمہاری زندگی قیمتی ہے اور ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
یہ الفاظ اس کے لیے محض ایک جواب نہیں تھے، بلکہ ایک نئے عہد کا اعلان تھے۔

کچھ ہفتوں بعد حرا کی موت کے بارے میں شہر میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ کسی نے اسے خودکشی قرار دیا، کسی نے سازش کا شبہ ظاہر کیا اور کسی نے سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر مختلف لوگوں پر انگلیاں اٹھانا شروع کردیں۔
ماہ نور نے ایک اخباری مضمون میں لکھا: ’’کسی نوجوان لڑکی کی پُراسرار موت پر سوال اٹھانا ہمارا حق ہے، لیکن سوال اور فیصلہ دو الگ چیزیں ہیں۔ موت کی اصل وجہ کا تعین شواہد، طبی و فرانزک جانچ اور غیر جانب دار تفتیش سے ہونا چاہیے۔ محض افواہوں کی بنیاد پر کسی کو قاتل قرار دینا بھی ناانصافی ہے اور کسی ممکنہ جرم کو خودکشی کہہ کر نظرانداز کردینا بھی۔
’’اگر کسی لڑکی کو بلیک میل کیا گیا ہو، اسے ہراساں کیا گیا ہو، اس کی عزت کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی ہو یا اسے ذہنی اذیت کے ذریعے کسی انتہائی قدم کی طرف دھکیلا گیا ہو تو ان تمام پہلوؤں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔ قانون کا کام صرف لاش کی شناخت کرنا نہیں، بلکہ جرم کے ہر ممکن پہلو کو سامنے لانا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنا بھی ہے۔‘‘

اس مضمون نے بہت سے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا۔
ایک صحافی نے ماہ نور سے پوچھا، ’’کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ہمارا معاشرہ جنگل بن چکا ہے؟‘‘
ماہ نور نے کچھ دیر سوچا، پھر بولی، ’’جنگل میں طاقتور جانور کمزور کو شکار بناتا ہے، مگر انسان کو عقل، ضمیر اور قانون دیا گیا ہے۔ اگر ہم طاقتور کو ظلم کی آزادی اور کمزور کو خاموش رہنے کی سزا دیں تو ہم جنگل سے بھی بدتر معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ کیونکہ جنگل کے درندے قانون کا دعویٰ نہیں کرتے، مگر انسان قانون کی آڑ میں بھی ظلم کرسکتا ہے۔‘‘
صحافی خاموش ہوگیا۔
ماہ نور نے اپنی بات جاری رکھی۔

’’ہمیں صرف عورتوں کی عزت کے تحفظ کی بات نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کے حقِ زندگی، حقِ تعلیم، حقِ تحفظ اور حقِ انصاف کی بھی بات کرنی چاہیے۔ کسی عورت کی عزت اس کے لباس، اس کے خاندان یا اس کی معاشرتی حیثیت سے مشروط نہیں۔ وہ انسان ہے، اور انسان ہونے کی حیثیت سے اس کی جان، آزادی اور وقار محترم ہیں۔
’’اگر کسی لڑکی کے ساتھ بلیک میلنگ یا جنسی استحصال ہو تو اس کا قصور تلاش کرنے کے بجائے مجرم کے خلاف ثبوت جمع کرکے کارروائی کی جائے۔ اگر کوئی لڑکی ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اسے طعنے دینے کے بجائے اس کی بات سنی جائے۔ اگر کوئی خاندان انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹا رہا ہو تو اس کی غربت کو اس کی بے بسی نہ سمجھا جائے۔‘‘
اس کے الفاظ شہر کی گلیوں میں پھیلنے لگے۔ کچھ لوگوں نے اس کی حمایت کی، کچھ نے مخالفت، مگر اب خاموشی کی دیوار میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔
ایک سال بعد اسی جامعہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ ہال کے دروازے پر ایک بینر آویزاں تھا:

’’خوابوں کی حفاظت کیجیے؛ انسانوں کو دھوکے، استحصال اور مایوسی سے بچائیے۔‘‘
ماہ نور اب بھی ایک طالبہ تھی۔ اس کی زندگی میں مشکلات ختم نہیں ہوئی تھیں۔ والد کا پلاٹ واپس نہیں آیا تھا، ماں کے زیورات چھڑانے کے لیے ابھی مزید رقم درکار تھی اور مشتبہ تعلیمی مشیر کے خلاف قانونی کارروائی اپنے مراحل سے گزر رہی تھی۔
لیکن ماہ نور اب پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس نے اپنے زخموں کو چھپانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کیا تھا۔ اس نے جان لیا تھا کہ انصاف کا راستہ طویل ہوسکتا ہے، مگر اس کی تلاش ترک کردینا ظلم کو مزید طاقت دینا ہے۔
تقریب میں بشیر احمد بھی موجود تھا۔ اس نے اپنی پرانی واسکٹ پہنی ہوئی تھی، وہی واسکٹ جس کی جیب میں کبھی اپنی بیٹی کے لیے چھوٹی چھوٹی بچتیں رکھتا تھا۔
تقریب کے بعد وہ اسٹیج کے قریب آیا اور ماہ نور سے بولا، ’’بیٹی! میں نے تمہیں کبھی دولت کا وارث نہیں بنایا، مگر تم نے مجھے عزت اور حوصلے کا ایسا سرمایہ دیا ہے جسے کوئی فراڈیا نہیں چھین سکتا۔‘‘

ماہ نور نے باپ کا ہاتھ چوم لیا۔
’’ابّا جان! یہ سرمایہ آپ ہی کی محنت سے ملا ہے۔ آپ نے مجھے سکھایا تھا کہ انسان کی اصل دولت اس کا کردار ہے۔‘‘
بشیر احمد کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
اسی وقت ہال کے باہر سے ایک کم سن بچی اپنی ماں کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں اور آنکھوں میں تجسس۔
اس نے ماہ نور کو پہچان کر پوچھا، ’’آپ وہی باجی ہیں نا، جو کہتی ہیں کہ خواب دیکھنا نہیں چھوڑنا چاہیے؟‘‘
ماہ نور جھک کر اس کے برابر بیٹھ گئی۔
’’ہاں، میں وہی ہوں۔‘‘
بچی نے معصومیت سے پوچھا، ’’اگر کوئی ہمارے خواب توڑ دے تو پھر کیا کرنا چاہیے؟‘‘

ماہ نور چند لمحے خاموش رہی۔ پھر اس نے بچی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، ’’پہلے اپنے دل کو سنبھالنا چاہیے، پھر اپنے گھر والوں اور قابلِ اعتماد لوگوں سے مدد لینی چاہیے۔ ظلم کو ظلم کہنا چاہیے، ثبوت کے ساتھ انصاف مانگنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی دوسرے کا جرم تمہاری زندگی کی قیمت طے نہیں کرسکتا۔‘‘
بچی نے سر ہلایا اور اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
ماہ نور اسے دیکھتی رہی۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید زندگی نے اسے ایک نیا مقصد دے دیا ہے: وہ خود تو اپنے زخموں سے گزر رہی تھی، مگر اب کسی دوسری بچی کے لیے روشنی کا راستہ بھی بن سکتی تھی۔
ہال کی کھڑکی سے دھوپ کی ایک کرن اندر داخل ہوئی اور فرش پر پھیل گئی۔

بشیر احمد نے اس کرن کو دیکھا تو بے اختیار بولا، ’’اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی کا ایک راستہ باقی رہتا ہے۔‘‘
ماہ نور نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ ہر زخم فوراً نہیں بھرتا، ہر مقدمہ جلد انجام تک نہیں پہنچتا اور ہر خواب اپنی پہلی صورت میں پورا نہیں ہوتا۔ لیکن اسے یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ مایوسی آخری حقیقت نہیں، اور کسی انسان کو تنہا چھوڑ دینا اس کے دکھ کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔
اس روز تقریب ختم ہوئی تو لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ مگر ہال کے باہر آویزاں بینر ہوا میں لہراتا رہا:
’’کسی کی بیٹی کو الزام دینے سے پہلے اس کی بات سنیے۔ کسی کے خواب ٹوٹیں تو اسے سہارا دیجیے۔ کسی پر ظلم ہو تو انصاف کے لیے کھڑے ہوئیے۔ اور کسی کی موت پُراسرار ہو تو افواہوں کے بجائے حقیقت کی تلاش کیجیے۔‘‘یہ چند جملے نہیں تھے، ایک معاشرے کے ضمیر کے نام پیغام تھے۔

ایک ایسے معاشرے کے نام، جہاں کبھی بیٹی کی کامیابی پر باپ فخر سے سر اٹھاتا ہے، مگر کبھی اسی بیٹی کے خوابوں کو دھوکے بازوں کی ہوسِ زر نگل جاتی ہے؛ جہاں کوئی کمزور انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہتا ہے اور کوئی طاقتور اپنی دولت کے بل پر قانون کو دھندلانے کی کوشش کرتا ہے؛ جہاں کسی مظلوم کی آہ خاموشی میں دب جاتی ہے اور کسی بے گناہ کی عزت افواہوں کے بازار میں نیلام ہونے لگتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ تماشائی بنے رہیں گے؟
کیا ہم ہر حادثے کے بعد چند دن افسوس کریں گے، پھر اگلی خبر کا انتظار کرنے لگیں گے؟
کیا ہم اپنی بیٹیوں کو صرف احتیاط کا سبق دیتے رہیں گے، مگر ان درندہ صفت لوگوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے جو دھوکے، بلیک میلنگ، ہراسانی اور جنسی استحصال کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں؟

کیا ہم ایک ایسی دنیا قبول کرلیں گے جہاں مظلوم اپنی صفائی پیش کرتا رہے اور ظالم اپنی دولت، تعلقات اور اثر و رسوخ کے حصار میں محفوظ بیٹھا رہے؟
نہیں! اگر ہم واقعی انسان ہیں تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر، عدالتوں اور حکومتی ایوانوں میں ایک ایسی فضا قائم کرنا ہوگی جہاں کسی کی غربت اس کی کمزوری نہ بنے، کسی عورت کی مجبوری اس کے استحصال کا ذریعہ نہ بنے اور کسی نوجوان کی ناکامی اس کی زندگی کے خاتمے کا سبب نہ بنے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا انسان کو نصیحت سے پہلے ہمدردی، تنقید سے پہلے توجہ اور تنہائی سے پہلے رفاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی کے دل میں مایوسی کے اندھیرے اتر رہے ہوں تو اسے یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ تنہا نہیں، اس کی زندگی قیمتی ہے اور مدد کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
ماہ نور کی کہانی اسی امید کا نام ہے۔

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کے خوابوں کو دھوکے نے زخمی کیا، مگر اس نے اپنے زخموں کو نفرت کا ہتھیار بنانے کے بجائے شعور کی روشنی میں بدلنے کی کوشش کی۔اور حرا کی کہانی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب افواہوں سے نہیں، غیر جانب دار تفتیش اور انصاف سے ملنا چاہیے۔کیونکہ کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند عمارتیں، کشادہ سڑکیں یا دولت کے انبار نہیں ہوتے۔ اس کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں ایک غریب کی بیٹی کتنی محفوظ ہے، ایک مظلوم کی آواز کتنی سنی جاتی ہے اور ایک بے بس خاندان کو انصاف حاصل کرنے کے لیے کتنے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔

یاد رکھیے!
جب معاشرے میں درندے آزاد اور انسان خوف زدہ ہوجائیں تو صرف قانون کی کتابیں کافی نہیں ہوتیں؛ قانون کی بے لاگ عمل داری، زندہ ضمیر، اجتماعی شعور اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔ورنہ جنگل کا قانون کسی جنگل میں نہیں، ہمارے اپنے شہروں میں نافذ ہوجاتا ہے، اور پھر ہر گھر اپنے چراغ کی حفاظت میں مصروف رہتا ہے، جب کہ اندھیرا ایک ایک کرکے تمام چراغوں کو نگلنے لگتا ہے۔یہ افسانہ ان تمام بیٹیوں کے نام ہے جو دھوکے، بلیک میلنگ، ہراسانی، استحصال یا ذہنی اذیت کا سامنا کرتی ہیں؛ اور ان تمام والدین کے نام بھی، جن کے لیے اولاد کی مسکراہٹ دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment