ایک گمنام ادیب کی مغموم مسکراہٹ ۔شبیر بونیری

ہم دونوں پیربابا کے مزار کے عین سامنے کھلی صحن میں ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ۔ انتہائی حبس میں صرف ہمارے اوپر اڑتے پرندے ہی تروتازہ لگ رہے تھے ۔ وہ میرے سامنے کسی گہری سوچ میں غرق تھا ۔ سامنے کتابوں کا ڈھیر تھا ' اس کے چہرے پر تاحیات ثبت ہونے والی مغموم جادوئی مسکراہٹ تھی جس سے یہ اندازہ...