میں! آسمانوں میں قائم خداوندہ کریم کی بارگاہ میں روح کی شکل دے کر وجود میں لائی گئی ہوں اور مجھے اُس قطار میں کھڑا کیا گیا ہے، جو عنقریب اولاد بن کر دنیا میں...
روحانیات
مالک! میں ناشکرا حد سے زیادہ، میں لا پرواہ حدوں کو چھو کر، میں بے فیضا، بے پناہ. دینے والے! مجھے شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما دے، سوہنے! میری لاپرواہی ختم کر...
اے اللہ جو کچھ بھی تو نے مجھے دین اور دنیا میں عطا فرمایا ہے، اس پر میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تیری حمد بیان کرتا ہوں۔ اے اللہ تیرے احسانات مجھ بندہ حقیر پر...
دنيا ميں کون ايسا انسان ہے جسے تکليف نہ آتی ہو..؟ جسے رنج وغم لاحق نہ ہوتا ہو..؟ جو پریشانیوں اور مصائب میں گھرا ہوا نا ہو..؟ يہ تو دنيا کی ريت ہے، يہاں رہنا...
میں نے اس سے مانگا تھا…مجھے امید تھی کہ مجھے ملے گا…پر مجھے نہیں ملا.. میں بہت روئی…بہت شکایتیں کی…پر خالی ہاتھ رہی… اور پھر میں...
