خدا جانے شرارت تھی یا لالچ۔ دفتر میں کچھ عناصر نے نیازی صاحب کے شربت پر میلی آنکھ لی۔ گلاس بھر پیا، اور مقدار کی کمی سادہ پانی سے پوری کر دی۔ ماہ رمضان کا شاید...
بلاگز
شاہ سائیں نے ایک نظر اپنی جنتِ گم گشتہ پر ڈالی، کانپتے دل اور لرزتے ہاتھوں سے لکھا، میں دست بردار ہوتا ہوں! ابھی اتنا ہی لکھ پائے تھے کہ سوچنے لگے، کیا بُرا...
سال آخر میں طلبہ مضمون کے چنائو میں اپنے رجحانات یا نظریات سے زیادہ استاد سے اپنے تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں اور پورا سچ یہ کہ استاتذہ کی نمبرز کے معاملے زیادہ...
”جامعہ مسجد دمشق میں جڑے ہیرے جواہرات اتار کر بیت المال میں جمع کروا دیے جائیں.“ درویش منش پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کا حکم سن کر بیوروکریسی...
کہاں جا رہے ہو؟ یہ الفاظ اماں جی کے تھے، جب میں ایک گرم دوپہر میں انھیں اپنی چارپائی پر سوتا ہوا سمجھ کر اور ان سے چھپ کر اپنے جگری یار کے ساتھ کھیلنے جا رہا...
