ہوم << دلیل صبح روشن - محمد حسان

دلیل صبح روشن - محمد حسان

hassan
سوشل میڈیا کے آسمان پر ظلمت کے سائے منڈلا رہے تھے۔۔۔ الحاد، لادینیت، دین بیزاری کی لہریں تھیں۔ سطحیت، طعن و تشنیع، دشنام طرازی، بہتان، جھوٹ، مکر، فریب، دجل عام تھا۔ ایسے میں دور کہیں کوئی متانت، سنجیدگی اور شائستگی کا ستارہ نمودار ہوتا تو تھوڑا ٹمٹماتا اور پھر کسی زور آور لہر کی نذر ہوجاتا۔۔۔ فیس بکی دانشور دور دور سے ایسی کوڑیاں لاتے، زمین آسمان کے قلابے ملاتے، جنوں کو خرد اور خرد کو جنوں پکارتے کہ سچائی کہیں گم ہوجاتی، ایک دوسرے پر فتوں کی بارش ایسی ہوتی کہ حق گمنام ہوجاتا، الزمات ایسے لگتے کہ تہذیب منہ چھپا لیتی ۔۔۔
ایسے میں سوشل میڈیا کے افق پر ”دلیل“" نمودار ہوئی۔۔۔ سورج، چاند، ستارہ بن کر۔۔۔ جس کی کرنیں پڑھنے والوں کو تہذیب، امن اور شائستگی کا خوگر بنا نے لگیں۔۔۔ جس کی شعاعیں لبرل ازم اور سیکولر ازم کے فلسفے کو مسخر کرنے لگیں۔۔۔ اس لیے کہ اس نے خاک مدینہ ونجف کا سرمہ لگایا اور اسے دانش فرنگ کا جلوہ خیرہ نہ کرسکا۔ یہ مغربی مرعوبیت سے آزاد اور اسلامی نظام کو جدید دنیا میں نافذ العمل بنانے کی دلیل ہے۔
اس کی فکری آبیاری ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، اقبال، سید مودودی اور سید قطب نے کی ہے۔ اس کے دامن میں عامر خاکوانی کی خود سپردگی، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی بصیرت اور کئی گمنام مجاہدوں کی محنت شاقہ سموئی ہے۔ جناب رعایت فاروقی کے ”نظریاتی سفر“ نے جس کو اساس فراہم کی۔۔۔ زبیر منصوری، فیض اللہ خان، رضوان رضی جہاں چاندنی بکھیرتے ہوں، کاشف نصیر، مجذوب مسافر، غلام اصغر ساجد، یوسف سراج اور ان جیسے ان گنت ستاروں کی کہکشاں ہے جن کی تنک تابی ایک نیا جہاں آباد کیے ہوئے ہیں۔۔۔ علم، حلم اور معرفت کا جہان۔۔۔ امید، عزم اور تشکر کے جذبات جہاں نمو پاتے ہیں۔ اقبال پکار اٹھتے ہیں ؎
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتا ب ابھرا، گیا دورِ گراں خوابی

Comments

Click here to post a comment