ہوم << کیا قرآن اللہ کا کلام نہیں؟ مجیب الحق حقی

کیا قرآن اللہ کا کلام نہیں؟ مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے بارے میں اکثر سوشل میڈیا پر شرانگیز قسم کی لایعنی باتیں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ نوجوان ذہنوں کو شک میں مبتلا کیا جائے۔ اعتراض وہی صحیح ہوتا ہے جو مضبوط دلیل پر ہو۔ یہاں پر تنگ نظری اور نفرت پر مبنی حماقتوں کا جواب مثبت دلیل سے دیا جائے گا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ انسان کی لکھی کتابوں میں اور آسمانی کتابوں میں کیا فرق ہے؟
کسی بھی انسان کی لکھی کتاب سینکڑوں سال تک انسانوں کی کثیر تعداد میں کبھی بھی مقبول نہیں رہی۔
قدیم فلاسفہ کی کتابیں اور تاریخ کی کتابیں خواص میں ہی مستعمل ملیں گی۔
تاریخ انسانی میں عمومی قبولیت صرف آسمانی کتب کو ہی ملی۔ آخر کیوں؟
سوال یہ ہے کہ اگر خدا نہیں ہے تو ان کتب کے مصنّف کون ہیں؟
صرف یہ کہہ دینا کہ انسانوں نے لکھی ایک غیر عقلی اور غیر منطقی مؤقف ہے جس کا اظہار جدیدیت کے پیرو کاروں کی طرف سے نہ صرف غیر سائنسی بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس دور میں یہ کتابیں ظاہر ہوئیں، اس دور کے تمام انسان بالکل ہی بیوقوف اور احمق تھے کہ ایک شخص یا ایک گروپ ان کے درمیان رہ کر ان کو بیوقوف بناتا رہا کہ یہ خدا کا کلام ہے اور کسی کو پتہ نہیں چلا! یہ بھی واضح ہو کہ جھوٹ زیادہ عرصے چھپا نہیں رہتا، پھر بھی اُن ادوار میں کوئی اسے جان نہیں پایا تاوقتیکہ موجودہ دور کے کچھ حضرات پر اس کا انکشاف ہوا۔
چلیے یہ تو جملہ معترضہ تھا، اب کچھ ٹھوس بات بھی ہوجائے۔
کسی کتاب کا مواد اس کے مصنّف کے افکار اور دعووں کا مظہر ہوتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ کوئی مصنّف کیا دعویٰ کر رہا ہے اور اس کی وقعت کیا ہے۔
آئیے قرآن پر یہ اعتراض کہ اسے محمّد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے تحریر کیا کا جائزہ لیتے ہیں۔
واضح رہے کہ الزام یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ لیکن دوسری طرف تو قرآن کی ابتدا ہی اس جملے سے ہو رہی ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ والی بات نہیں! دیکھیے انسانی تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ جھوٹ صرف وقتی نفع کے لیے ہی بولا جاتا ہے جو جلد کھل جاتا ہے کیونکہ کچھ لوگوں کو تھوڑی دیر کے لیے ہی بیوقوف بنایا جاسکتا ہے، پورے معاشرے کو نہیں۔ اول تو اللہ نے رسالت کے لیے چنا ہی ایسے شخص کو جس کے بارے میں معاشرے میں مشہور تھا کہ یہ صادق اور امین ہے، مزید یہ کہ سب کو معلوم تھا کہ انہوں نے تعلیم حاصل نہیں کی اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی نفسیات کا بھی خالق ہے لہذٰا اللہ نے اس الزام کو پہلے ہی بےجان کردیا کہ رسول پر اترنے والی وحی اللہ کا کلام نہیں بلکہ انسان کی تحریر ہے کیونکہ ایک اُمّی تو لکھ پڑھ نہیں سکتا۔
اب ایک قدم اور آگے چلتے ہیں:
قرآن میں چند عجیب باتیں ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ اس میں بین السطورایسی پیش گوئیاں بھی ہیں جو سو فیصد انسانوں کو اختیار دیتی ہیں کہ وہ قرآن کو باطل ثابت کردیں لیکن پھر بھی ایسا کبھی ہو نہ سکا!
یہ کیسی عجیب و غریب بات ہے؟
اس کی دو بڑی واضح مثالیں آپ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
پہلی مثال دیکھتے ہیں جس میں ایک پیغمبر کو اطراف کے انسانوں ہی نہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ قرآن میں خالق کائنات کہتا ہے کہ:
[pullquote]ورفَعنا لکَ ذِکرَک[/pullquote] ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا۔
ایک انسان ایسا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے؟
دنیا کا کون ماہر نفسیات اس کی وضاحت کرے گا کہ ایک جھوٹا ( نعوذ باللہ) انسان اتنا بڑا اعلان کیونکر کر سکتا ہے؟
کوئی ذی ہوش، جو معترضین کے بقول کتاب میں جھوٹ لکھ رہا ہے، ایسی حماقت آمیز بات تحریر کر کے کیا اپنے آپ کو رسوا نہیں کرائے گا کیونکہ موجود انسانوں اور آئندہ آنے والی نسلوں پر تو اس کا زور نہیں ہوگا تو وہ کس بِرتے پر ایسا کہے گا۔ کیا عقل مان سکتی ہے کہ ایک شخص جو لوگوں کو ان کے آبائی دین سے برگشتہ کرنے کی جسارت کر رہا ہو اور اس بارے میں کتاب لکھ رہا ہو بھلا اس میں ایسی بات کیسے لکھ سکتا ہے جو اس کے اپنے بس میں نہیں ہو، ہاں مگر خالق کائنات یہ کہہ سکتا ہے اور اس نے ہی ایسا فرمایا کہ میرے نبی ﷺ کا ذکر بلند رہے گا۔ کیونکہ وقت اور انسان کے خیالات کی طنابیں اس کے قبضے میں ہیں۔
؎
اب آپ صدیوں پر پھیلی تاریخ کی کسوٹی پر اس اعلان کی پرکھ کر لیجیے۔ خالق کائنات کہتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کا ذکر بلند کیا تو تاریخ گواہ ہے کہ نہ صرف ہوا بلکہ بلند تر ہوتا گیا۔
اب اس ذکر کی گہرائی اور اس کا مسلسل ہونے کا بھی تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ مسلمان ہر نماز میں درود ابراہیمی میں کم از کم دو سے چار دفعہ لازمی آنحضرت ﷺ کا نام لیتا ہے۔ یہ صرف فرض کی بات ہے سنّت اور نوافل الگ ہیں۔ دوسری بات یہ کہ زمین کی گولائی اور گردش سے ہر وقت کہیں نہ کہیں ہر نماز پڑھی جا رہی ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے اس میں اللہ کے رسول ﷺ کا تذکرہ بھی لازم ہے۔ اس طرح کوئی لمحہ نہیں جاتا کہ اللہ کے رسول کا کثیر تعداد میں انسان ذکر نہ کر رہے ہوں۔ سمندر میں چلتے اور ہوا میں اُڑتے جہاز میں بھی، ان کا تذکرہ مبارک جاری رہتا ہے۔ نماز اور دوسری عبادتوں میں ہر لمحے کروڑوں مسلمان اپنے نبیﷺ کا ذکر کرتے ہیں اور دوسری طرف اسلام کے دشمن بھی ان کی باتوں میں کوئی غلطی تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس طرح قرآن کا اعلان آج پہلے سے بھی زیادہ روشن ہے اور اپنے آپ کو منوا رہا ہے۔ کیا تاریخ میں اور اس دور میں ایک بھی ایسا شخص گزرا جس کا ذکر اس باقاعدگی اور تسلسل سے ہو رہا ہو۔ یہی قرآن کی حقّانیت کی دلیل ہے۔
اگر یہ کتاب سچّی نہ ہوتی تو آج یہ آیت منکرین کے ہاتھ ایک ہتھیار ہوتی کہ اسلام ایک باطل دین تھا جو ختم ہوا کیونکہ اس میں یہ جھوٹ لکھا تھا۔
یہ ہے اس خالق کی قدرت جس کا ہر ہر اعلان ایک سچ ہے۔
دوسری مثال:
یہ تو سب کو معلوم ہے کہ ابولہب آنحضرت ﷺ کا کتنا مخالف اور دشمن تھا اور وہ بہت زیرک بھی تھا۔ قرآن میں اس کی زندگی میں اس کے مستقبل کے متعلّق پیش گوئی کردی گئی اور بتا دیا گیا کہ وہ جہنّمی ہے. اب جہنّم سے بچنے کا راستہ بھی بتلایا ہوا ہے کہ بس ایمان لے آئو. یہی وہ نکتہ ہے جو سمجھنے کا ہے۔
انسان کے خیالات بقول جدید دریافتوں کہ کیمیکل ایکشن اور ری ایکشن سے پیدا ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ انسان اچھے برے خیالات میں ہی سے اپنے عمل کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر انسان میں یہ آپشن کھلا ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے عمل کرے، لیکن ابوجہل کے معاملے میں ایک خصوصی اہتمام کیا گیا کہ ایمان کی طرف بلانے والے خیالات پر گویا کوئی غیر مرئی تالا ڈال دیا گیا۔ ایسا اس لیے ہوا ہوگا کہ کیونکہ دعوت کے حسّاس عمل کے دوران وہ ایک خاص مقامِ انکار اور ہٹ دھرمی پر پہنچ کر اللہ کے غضب کا مستحق ٹھہرا اور اس کے قلب اور دماغ کو ایمان کے لیے غیر آہنگ incompatible کردیا گیا۔ لہٰذا وہ ایمان نہیں لا پایا۔ جدید ذہن اس کو یوں سمجھے کہ کمیکل ری ایکشن کے اندرونی پراسس کو اس قادر مطلق نے ری ڈیفائنڈ کردیا کہ وہ ذہین اور فتین ہونے کے باوجود ان خیالات سے محروم رہا اور چالبازی کے لیے بھی ایمان نہیں لا پایا۔ اس طرح قرآن نے اپنی پیش گوئی کی حفاظت کی۔

Comments

Click here to post a comment