ہوم << نابالغ قاری - محمد نعمان بخاری

نابالغ قاری - محمد نعمان بخاری

نعمان بخاری ماشاءاللہ دینِ اسلام سے محبت کا جذبہ تو ہماری قوم میں کوٹ پھاٹ کے ٹھنسا ہوا ہے جس کے اثرات سے کتاب چہرہ بھی خالی نہیں ہے. یہی وجہ ہے کہ لطافت و ظرافت سے لبریز نقد و مزاح لکھنے والوں کو ڈَر ڈَر کر اور سوچ سوچ کر پوسٹس لکھنی پڑتی ہیں اور بسا اوقات وہ اصل نکتہ بھی ظاہر کرنا پڑتا ہے جس کے اخفاء میں ہی تحریر کا حقیقی لطف پوشیدہ ہوتا ہے. اس خوف کا بنیادی محرک دنیائے فیس بک کے جذباتی مفتیانِ عظام اور خودساختہ دانشورانِ ملت ہیں. اب جان کی امان پانے کو یہ وضاحت بھی لازم ٹھہری کہ میں اُن مفتیانِ کرام کی بےحرمتی و بےادبی ہرگز ہرگز ہرگز نہیں کر رہا جن کو آپ مفتی سمجھتے ہیں، بلکہ اُن نابغہِ بیروزگار ہستیوں کی بات کر رہا ہوں جو خود کو مفتی سمجھتے ہیں. منصبِ افتاء کا احترام یہ ہے کہ جب تک آپ سے کوئی بندہ مسئلہ پوچھے نا، تب تک آپ پر اس کو راہ دکھلانے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی. جبکہ فیس بک پر مفت کے فتوؤں کا اتوار بازار لگا رہتا ہے. میں کسی کی تضحیک نہیں کرنا چاہتا، اور نہ چاہنے کے باوجود مجبورا کہنا پڑتا ہے کہ ذہنی طور پر ایسے نابالغ قاری حضرات جن کو دھڑا دھڑ بدگمانی، فٹافٹ لیکچرز اور خواہ مخواہ تبلیغ کا ناجائز چسکہ اور لاعلاج لت پڑ چکی ہے، وہ پوسٹ پہ نہ سہی، ان باکس میں تفتیشی پرچے سمیت یہ کہتے ہوئے تشریف لے آیا کریں کہ اوئے علامے! تمہاری فلانی پوسٹ کی ڈھمکانی سطر کا اصل مدعا کیا ہے؟ ان شاءاللہ الف اونٹ ب بکری اور ت تِکے کی طرح سمجھا دیا جائیگا. ایک مثال عرض کرتا چلوں کہ پچھلے دنوں برادرم عظیم الرحمٰن عثمانی نے فیس بک پر ایک تصویر شئیر کی، اس پر فتاویٰ جات، تلقینات اور تنبیہات کی ایسی تابڑ توڑ برسات ہوئی کہ بالآخر انہوں نے تشریح کی چھتری تلے ایک پریس کانفرنس بٹھائی کہ بھائی لوگو! اس بات کا اصل مطلب وہ نہیں، یہ ہے. اسی طرح دیگر کئی قلمکاروں کو پے در پے وضاحتی بیانات نشر کرنے پڑتے ہیں جس سے ان کے نامہ اعمال میں ایک اور بےفضول تحریر کا اضافہ ہو جاتا ہے..!
یہاں اگر مجھے آپ ممتاز مفتی کی ”تلاش“ سے ایک واقعہ نقل کرنے کی اجازت مرحمت فرماویں تو امیدِ واثق ہے کہ میرا مبینہ موقف آپ تک پہنچ سکے گا.
لکھتے ہیں: ”برصغیر کی تقسیم سے پہلے کی بات ہے جب ہم پرگورے راج کرتے تھے. رات کا وقت اور گرمی کا موسم تھا. گورا صاحب بیک یارڈ میں مچھردانی لگائے سو رہا تھا. ایک پٹھان چوکیدار راؤنڈ پر آیا تو دیکھا کہ صاحب قبلے کی طرف پاؤں پِسارے نیند میں گم ہے. چوکیدار نے صاحب کو جھنجھوڑا اور بولا: صاحب جی، ادھر ٹانگیں مت کرو ادھر ہمارا قبلہ ہے. صاحب کو بات سمجھ نہ آئی، اس نے چوکیدار کی بات کو اہمیت نہ دی اور سرہانے پر سر رکھ کر پھر سو گیا. چوکیدار دوبارہ راؤنڈ پر آیا تو دیکھا کہ صاحب قبلے کی طرف ٹانگیں کیے سو رہا ہے. اس نے صاحب کو جگا کر پھر تنبیہ کی. اب کی بار صاحب چِڑ گیا. اس نے چوکیدار کو ڈانٹ سُنائی اور پھر لیٹ کرسو گیا. چوکیدار اس بےحرمتی کو برداشت نہ کر سکا. اندر سے کلہاڑا اُٹھایا اور صاحب بہادر کی گردن مار دی. چوکیدار پر مقدمہ چلا تو کچہری میں اس نے اقبالِ جرم کرلیا. پھانسی ہوگئی اور جنازے پر سارا شہر امڈ آیا. لوگوں نے انگریز عدالت کے خلاف نعرے لگائے اور اعلان کیا کہ یہ شہادت کی موت ہے. پس چوکیدار کی قبر پر مزار تعمیر کیا اور اس پر شہید کا کتبہ گاڑ دیا گیا. پھر وہاں باقاعدہ قوالی ہونے لگی اور عرس منایا جانے لگا.“
میرا خیال ہے آج اتنی تقریر کافی ہے..!! ?

Comments

Click here to post a comment