ہوم << قربانی کی کھالیں صحافیوں کو دیں !!!! -سید بدر سعید

قربانی کی کھالیں صحافیوں کو دیں !!!! -سید بدر سعید

badr-saeedحافظ مظفر محسن ویسے تو اچھے بھلے بیوروکریٹ ہیں، لیکن کبھی کبھی اپنی حرکتوں سے دوستوں کو پریشان کردیتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ موصوف ایک نامی گرامی مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ”مولانا! ایک سرکاری ملازم اگر مرغا ذبح کرلے تو کیا اس کی قربانی ہوجاتی ہے؟
مولانا نے مسکراتے ہوئے ان کے پیٹ کی جانب دیکھا اور کہا: اگر قربانی کے بعد گوشت مسجد کے ساتھ والے حجرہ شریف میں بھیج دیں تو ہوجاتی ہے ورنہ نہیں ہوتی۔
اس کے بعد دو گھنٹے اس اہم ـ’’شرعی مسئلہ‘‘ پر بحث ہوتی رہی۔ ان کا اصرار تھا کہ مولانا حسب معمول ــ’’کھال‘‘ پر مان جائیں لیکن مولانا اس سمجھوتے پر راضی نہ تھے، لہٰذا حافظ صاحب نے دفتر میں آکر اپنے سیکرٹری سے ’’فتویٰـ‘‘ کمپوز کروا لیا اور اس کے نیچے بڑا سا ـ’’منجانب حافظ‘‘ بھی لکھوالیا ۔
سفید پوش طبقے کے لیے عید کے موقع پر قربانی کا جانور خریدنا کتنا مشکل ہوچکا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صحت مند پیٹ کے حامل سرکاری آفیسر بھی ’’مرغے‘‘ کی قربانی کے فتویٰ لینے لگے ہیں حالانکہ اکثر سرکاری ملازم پورا سال ’’مرغے‘‘ ہی قربان کرتے آئے ہیں۔ جس طرح عام لوگ کہتے ہیں کہ اللہ توفیق د ے گا تو قربانی کریں گے، اس طرح یہ کہتے ہیں اللہ توفیق بھیجے گا تو ہم بھی قربانی کرلیں گے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ توفیق ہتھے چڑھے اور قربان ہوئے بنا اس کی فائل آگے چلی جائے۔
اس مہنگائی کے دور میں قربانی کا جانور خریدنا یقیناً مشکل کام ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل کام اس کی ’’کھال‘‘ ٹھکانے لگانا ہے۔ عید سے10 دن قبل ہی ’’کھالوں‘‘ کے دعوے دار چلے آتے ہیں۔ اکثر مولانا صاحبان تو باقاعدہ فتوے لگانے پر بھی اتر آتے ہیں کہ اگر ہمیں کھال نہ دی تو قربانی جائز ہی نہیں ہوگی۔ قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے والے ایک ہفتہ قبل ہی ایڈوانس پرچی کاٹ جاتے ہیں۔
ستم ظریفی یہ کہ آپ ان کے خلاف پرچہ بھی نہیں کاٹ سکتے۔ دو تین سال سے ایک نیا سلسلہ بھی چل نکلا ہے وہ یہ کہ قربانی کی کھالوں کے دعوے دار متوقع جانور کی تعداد کے حساب سے فی جانور ایک ایک تھیلا دے جاتے ہیں۔ شاید اس خیال سے کہ اگر قربانی سے پہلے جانور اپنی کھال اتار کر ایک طرف رکھ دی تو آپ اس تھیلے میں ڈال کر متعلقہ تنظیم کو جمع کروا دیں۔ ویسے سمجھدار لوگ ایک ہفتہ اپنے جانوروں کا چارہ اسی تھیلے میں ڈال کر لاتے ہیں۔ جبکہ قربانی کے بعد سگھڑ بیبیاں انہی تھیلوں میں گوشت بھرکر ڈیپ فریز کے کسی کونے میں چھپا دیتی ہیں۔ میرے خیال میں ان تھیلوں کا اصل مقصد بھی یہی ہوتا ہے کیونکہ جو لوگ آپ کو عید سے ایک ہفتہ قبل یہ تھیلے دے کرجاتے ہیں وہ عید والے دن ایک نئے تھیلے کے ساتھ پھر چلے آتے ہیں۔ اتنی لڑائی گوشت پر نہیں ہوتی جتنی کھالوں پر ہوتی ہے۔ ہسپتال، مسجد، مدرسہ، مولانا اور این جی اوز کے ساتھ ساتھ اب بھائی لوگ بھی کھالیں نہ دینے پر کھال اتارلینے کی دھمکی دینے لگے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بار زخمی بھائی نے اپنی کھال بچانے کے لیے کھالیں جمع کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ہم اتنی محنت سے کھالیں جمع کرتے ہیں لیکن ایک ادارہ چھین کر لے جاتا ہے۔
گذشتہ برس تک ان پر ہی الزام لگتا تھا کہ یہ ایدھی مرحوم کی کھال بھی نہیں چھوڑتے۔ بعض اوقات حالات اس قدر خراب بھی ہوجاتے ہیں کہ شریف انسان سوچنے لگتا ہے کہ کاش جانور موسم کا خیال کرتے ہوئے ایک آدھ اضافی کھال بھی ساتھ لے آیا ہوتا تو اس پریشانی سے نجات مل جاتی۔
پہلے لوگ منت ترلوں سے کھالیں مانگتے تھے۔ اب صاف بتا دیتے ہیں کہ کھال نہ دی تو تمہاری کھال اتار لیں گے۔ اسی گہما گہمی میں اب یوں بھی ہونے لگا ہے کہ بعض سمجھدار لوگ اپنی ناک رکھنے کے لیے اچھے خاصے تگڑے بیل کرایہ پر منگوالیتے ہیں۔ بعد میں بیل فارم ہائو س بھیج کر پہلے سے منگوائی ہوئی کھالیں امید واروں میں بانٹ کر اپنا ووٹ پکا کرلیتے ہیں۔ پھر یہی لوگ وزیر بن کر عوام کی کھال اتارتے رہتے ہیں۔ بعض سیاست دانوں کے نزدیک ان کھالوں سے جوتا بنانا ایک’’ فن‘‘ ہے اور وہ قوم کو اپنے اس ’’فن‘‘ کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ویسے کچھ دوست فن کی جگہ اس کے ہم وزن ایک اور لفظ کا نام بھی لیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اب سیاست دان ’’گن‘‘ پکڑے بغیر گھر سے باہر ہی نہیں نکلتے۔
یوں تو وطن عزیز کی آبادی 19 کروڑ کے لگ بھگ ہے، لیکن عید کے دن کھالیں مانگنے والوں کی تعداد 20 کروڑ ہوجاتی ہے، اس لیے مجھ پورا شک ہے کہ اس مافیا میں سرحد پار سے آنے والے بھی ملوث ہیں۔ شرعی طور پر قربانی کی کھال اپنے ذاتی استعمال میں تو لائی جاسکتی ہے لیکن اسے بیچا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کی بنائی ہوئی چیز کی قیمت وصول کی جا سکتی لہٰذا یہ بات تو طے ہے کہ کسی نہ کسی کو یہ کھال دینی ہی ہوتی ہے۔ سمجھدار لوگ اپنے افسر کو کھال کے جھگڑ ے میں پھنسادیکھ کر اپنی بھی اسے ہی دے دیتے ہیں جس پر افسر ان کی ترقی کا راستہ کھول دیتا ہے۔ اگر آپ کا افسر اس مزاج کا نہ ہو تو پھر آپ کو سوچنا پڑے گا کہ آپ کس کو دیں۔ ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی کھال کا غلط استعمال نہ ہو چاہے اس نے بکرا چوری کرکے ہی قربانی کیوں نہ کی ہو۔ ویسے بھی اپنی کھال بچانا ہر شخص کا فرض ہے۔
میرے خیال میں اس سال آپ کی کھالوں کے اصل حق دار صرف صحافی ہی ہیں۔ سلیم صافی جب لاہور آئے تو کہنے لگے اصل صحافی تو آج بھی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کو نہ تو تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی کوئی الائونس دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کئی صحافی تو کیمرہ بھی اپنے پیسوں کا خرید تے ہیں۔ چونکہ میں خود بھی صحافت کے شعبہ سے منسلک ہوں اس لیے ان تمام باتوں کا چشم دید گواہ بھی ہوں کہ چند اینکروں اور مخصوص صحافیوں کے علاوہ باقی صحافی غربت کی لکیر کے نیچے سوتے ہیں۔ لاکھوں کمانے والے اور لفافہ لینے والے صحافی صرف اتنے ہی ہیں کہ آپ انہیں اپنی درمیان والی انگلی پر بھی گن سکتے ہیں۔ اور اگر آپ خود بھی صحافی بن رہے ہیں تو اسی انگلی پر آپ کے لیے بھی کافی جگہ بچ جائے گی۔ ان کے علاوہ باقی صحافیوں میں سے آدھوں کی بیگمات ان کی بے راہ روی اور کم آمدنی کی وجہ سے گھر چھوڑکر جاچکی ہیں جبکہ آدھے خود ہی گھر چھوڑکر جاچکے ہیں۔
اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ اس بار قربانی کی کھالیں کسی صحافی کو دیں تاکہ وہ ملک و قوم یعنی اپنی بیوی بچوں کی خدمت کرسکے اور کسی ڈمی اخبار میں آپ کی قربانی کی خبربھی لگاسکے۔ مجھے یقین ہے کہ نہ صرف آخرت میں بلکہ اس دنیا میں بھی یہ خبر آپ کے حق میں گواہی د ے گی۔ ویسے میڈیا جتنا آزاد ہوچکا ہے، اب آپ کو اپنی کھال کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ حالات یہ بتارہے ہیں کہ جلد ہی دوسرے درجے کے اخبارات اپنے رپورٹرز کو عید کے دن کھالیں اکٹھی کرنے پر لگادیں گے اور رپورٹر کے لیے لازم ہوگا کہ اپنی محنت کی کمائی کے ساتھ ساتھ ان کھالوں میں سے بھی اپنے مالکان کو حصہ دیا کرے۔ اس وقت سے ڈریں جب چند صحافیوں کے ساتھ ساتھ باقی صحافی بھی آپ کی کھال اتارنا شروع کردیں۔ بہر حال اس سال آپ قربانی کی کھال اپنے قریبی صحافی کو دیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگلے روز نیٹ پر دستیاب کسی عظیم الشان بیل کے ساتھ آپ کی تصویر روزنامہ ’’چھوت چھات‘‘ کے پہلے صفحے پر لگی ہوگی۔

Comments

Click here to post a comment