ہوم << سیاسی اسلام کی ناکامی؟ رضی الاسلام ندوی

سیاسی اسلام کی ناکامی؟ رضی الاسلام ندوی

12301476_948835835187651_5870435481364179603_nتین سال ہوگئے، لیکن ابھی کل کی بات معلوم ہوتی ہےبارہ مولہ (کشمیر) سے واپسی کے لئے نماز فجر کے بعد میں اپنا سامان سمیٹ رہا تھا، کہ وہ نوجوان، جن کے ساتھ میں نے ایک ہفتہ گزارا تھا، مجھے رخصت کرنے کے لیے آگیےان کے چہرے اترے ہوئے تھے، ان پر حزن و ملال کے آثار نمایاں تھے اور وہ سخت کرب میں مبتلا دکھائی دے رہے تھے_
بارہ مولہ کا سفر ادارہ فلاح دارین کی دعوت پر ہوا تھامیں عمومی پروگراموں سے بھاگتا ہوں، لیکن برادر سہیل بشیر کار کا اصرار غالب آیاوہاں میرے متعدد پروگرام ہوئے:کیی مسجدوں میں درس قرآن، سوال جواب کی نشستیں، لیکچر، خواتین اور طالبات کے درمیان مطالعہ قرآن، نظم زکوۃ کے موضوع پر ایک سمینار اور خواتین کے ایک بڑے عمومی پروگرام میں شرکت وغیرہایک دن گلمرگ کی خوب صورت وادی میں اور ایک دن سری نگر میں سیر و تفریح کا پروگرام رہامیں نے ان نوجوانوں کو بہت صالح، پرجوش، اسلام پر چلنے والا اور اسلام کے لیے مر مٹنے والا پایا_
نوجوانوں کے حزن و ملال اور کرب و اضطراب کا سبب یہ تھا کہ گزشتہ رات میں مصر میں فوجی انقلاب کے نتیجے میں جنرل سیسی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور صدر مرسی کو برطرف کرکے پس دیوار زنداں کر دیا تھا_
ایک نوجوان نے سوال کیا: مولانا! یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ سیاسی اسلام ناکام ہو گیا ہےآپ کیا کہتے ہیں؟
میں نے کہا :موجودہ صورت حال سیاسی اسلام کی کام یابی کی دلیل ہے
صدر مرسی نے ایک سال کام یابی کے ساتھ حکومت چلائی ہے، عوام کی فلاح و بہبود کے بہت سے کام کیے ہیں، بین الاقوامی سطح پر اسلام کی سربلندی کے متعدد اقدامات کیے ہیں اسلام دشمنوں نے سیاسی اسلام کو کام یاب ہوتا دیکھ کر اس کے خلاف سازش کی ہےسیاسی اسلام کو اس وقت ناکام کہا جا سکتا تھا جب صدر مرسی یا ان کے کسی وزیر پر کرپشن کا الزام ہوتا، انھوں نے ملک کی دولت لوٹ کر تجوریاں بھری ہوتیں، عوام پر ظلم ڈھائے ہوتےیہ تو مغربی جمہوریت کی ناکامی کی دلیل ہےاس کے علم برداروں نے الجزائر میں اعلان کیا کہ ووٹ کی طاقت سے جو کام یاب ہوگا اسے اقتدار سونپ دیں گے، مگر جب اسلام پسندوں کو پہلے ہی مرحلے میں اکثریت مل گئی تو اقتدار پر فوج نے قبضہ کرلیا اور اسلام پسندوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئیاسی طرح اس کے علم برداروں نے مصر میں اعلان کیا کہ بیلٹ پیپر سے جو پارٹی اکثریت حاصل کرے گی اسے اقتدار سونپ دیں گے، مگر اسلام پسندوں کو اکثریت ملی تو ان سے ہضم نہ ہو سکا، انھیں پریشان کرتے رہے، یہاں تک کہ بے دخل کرکے دم لیا
ایک نوجوان نے دریافت کیا :اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پر امن جدوجہد سے اسلامی انقلاب نہیں آ سکتا؟
میں نے جواب دیا:میں طاقت کے استعمال کو حرام نہیں سمجھتا ، لیکن میرا خیال ہے کہ موجودہ دور میں پرامن جد و جہد ہی محفوظ ترین طریقہ ہے_ مولانا مودودی نے فرمایا ہے کہ جس نظام کو طاقت کے ذریعے قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی اسے طاقت کے ذریعے ہی آسانی سے ہٹایا بھی جاسکتا ہے_
میں ان نوجوانوں سے رخصت ہوا تو میرے ذہن میں بار بار وہ واقعہ گردش کر رہا تھا کہ مکی دور میں مشرکین مکہ کی جانب سے اذیتیں بہت بڑھ گئیں تو حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم! اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہےآپ ہمارے لیے دعا نہیں فرمائیں گے؟ " اس وقت آپ کعبہ کی دیوار کے سائے میں ٹیک لگائے ہوئے تھے یہ سنتے ہی اٹھ کر بیٹھ گئےآپ کا چہرہ مبارک تمتما اٹھاآپ نے فرمایا :"تم سے پہلے جو اہل ایمان گزرے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں کی گئی ہیںان میں سے کسی کو گڈھا کھود کر بٹھایا جاتا اور اس کے سر پر آرہ چلاکر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے اور کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے تھے، تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے، پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے تھےیقین جانو کہ اللہ اس کام پورا کرکے رہے گا، یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا جب ایک شخص صنعاء سے حضر موت تک بے کھٹک سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف نہ ہو گا، مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو"(بخاری، ابوداؤد، نسائی، احمد)
آج صدر مرسی کی معزولی کی تیسری برسی کے موقع پر میری نظروں میں بارہ مولہ کے اُن نوجوانوں کی صورتیں گھوم گئیں
میں نے ان نوجوانوں کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی ہے کہ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسے نوجوان دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی پیدا ہو جائیں تو اسلام کے روشن مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے_

Comments

Click here to post a comment