ہوم << تو آج پھر یاد آ رہا ہے - سا لار سلیمان

تو آج پھر یاد آ رہا ہے - سا لار سلیمان

10403479_779746375424988_2927876186026520581_n زندہ قومیں اپنے قومی ہیروز کی قدر کرتی ہیں، اُن کے ناموں کو زندہ رکھتی ہیں اور انہیں اپنی سر آنکھوں پر بٹھاتی ہیں لیکن ہم عجیب قوم ہیں کہ اپنے ہیروز کو جیتے جی مار دیتے ہیں اور اُن کے مرنے کے بعد فاتحہ بھی شاید نہیں پڑھتے اور بھولنے میں چند سیکنڈز کا وقفہ لیتے ہیں۔ جنرل حمیدگل کی برسی خاموشی سے گزر گئی، ان کے بیٹے نے ان کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا مگر جس طریقے سے انھیں یاد کیا جانا چاہیے تھا، اس کا حق ادا نہیں ہو سکا. وہی حمید گل کہ جس کی ریٹائرمنٹ پر دہلی، واشنگٹن، تل ابیب اور ماسکو میں خوشیاں منائی گئی تھیں اور جس کی طبعی موت نے مغرب کے تھنک ٹینکس میں خوشیاں بکھیر دیں۔
جنرل حمید گل آخری وقت تک فوجی ہی تھے اور انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی محاذ نہیں چھوڑا تھا۔ ہمیشہ دفاع پاکستان کی بات کی اور آخری وقت تک پاکستان کا ہر لحاظ سے دفاع بھی کیا، چاہے عسکری میدانوں میں ہو یا پھر فکری میدانوں میں، اس معاملے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ میں نے ٹیلی ویژن پر متعدد مرتبہ اُن کو سنا تھا۔ بالمشافہ ملاقات کا موقع زیادہ ملا نہیں لیکن جب بھی لاہور میں کسی پروگرام میں ملاقات ہوئی تو ان کو انتہائی شفیق پایا۔ اُن کے فرزند عبداللہ گل اب تحریک نوجوانان پاکستان کے پلیٹ فارم سے مرحوم کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
جس دور میں جنرل حمید گل نے آئی ایس آئی کی قیادت سنبھالی تھی وہ پاکستان کی عسکری تاریخ کے لحاظ سے ایک مشکل دور تھا۔ پاکستان کے پڑوس میں جنگ جاری تھی اور جنگ بھی ایسی تھی کہ سرخ ایشیا کا خواب پورا ہونا تھا یا اُس نے ٹوٹ جانا تھا۔ روس نے افغانستان کی فضا کو بارود میں نہلا دیا تھا اور یہ صاف ظاہر تھا کہ اس کا اگلا ٹارگٹ پاکستان ہوگا۔ 1987ء سے 1989ء کا دور پاکستان کے لیے افغانستان کے حوالے سے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ روس ٹوٹنے کے بعد واپس جا رہا تھا لیکن اس کی کوشش تھی کہ وہ اپنی باقیات کو اسی خطے میں چھوڑ جائے تاکہ کل کو وہ اس کے کام آ سکیں۔ یہ بات کسی بھی محب وطن پاکستانی کو قبول نہیں تھی اور جنرل حمید گل نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ چونکہ روس ہزیمت اٹھا چکا ہے تو وہ اس خطے سے اپنی باقیات سمیت ہی جائے گا۔ یوں ’سرخ ایشیا‘ کا خواب جنرل حمیدگل نے چکنا چور کر دیا۔ دوسری جانب بھارت کا خواب تھا کہ پاکستان جب اپنے مغرب سے کمزور ہوجائے تو اس کو مشرق سے چھیڑا جائے تاکہ وہ اور کمزور ہو کر مزید ٹکڑوں میں بٹ جائے۔ 1989ء میں بھارت نے بڑے پیمانے پر سرحد کے ساتھ جنگی مشقیں شروع کی تھیں اور جواب میں جب پاکستان کی جانب سے ضرب مومن کے نام سے جنگی مشقیں شروع ہوئیں تو بھارت کی توپیں خاموشی کے ساتھ جس راستے سے آئی تھیں، اُسی راستے سے واپس چلی گئیں۔ اس سازش کا سدباب بھی جنرل حمید گل ہی نے کیا تھا۔ بھارت نے اسی دور میں کشمیر میں مظالم کی نئی داستان رقم کی تھی اور جنرل حمید گل نے ہر لحاظ سے کشمیریوں کی بھرپور مدد کی تھی۔ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہ کر سکنے کی صلاحیت کی وجہ سے جنرل حمید گل نے 1991ء میں آرمی سے باعزت ریٹائرمنٹ لے لی۔ وہ آرمی سے ریٹائر ہونے کے باوجود مرتے دم تک ایک فوجی ہی تھے۔
جب افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو جنرل حمید گل نے اسی وقت کہا تھا کہ نائن الیون بہانہ ہے، افغانستان ٹھکانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے۔ اس وقت شاید کئی لوگوں کو یہ بات مذاق لگی ہو تاہم بعد کے واقعات نے جنرل حمید گل کی بصیرت کو سچ ثابت کر دیا۔ ٹی وی پر جنرل حمید گل کبھی بھی پرسنل پروفائلنگ کے لیے نہیں آئے، جب بھی آئے، جس بھی پروگرام اور انٹرویو میں آئے انہوں نے پاکستان کے دفاع اور ملکی صورتحال پر ہی بات کی۔ وہ اکثر ایک بات کہتے تھے کہ جب موت آنی ہے تو وہ چار انچ کی ایک گولی سے بھی آ جانی ہے اور سات پردے بھی کسی کام کے نہیں ہوں گے تو میں پھر موت سے کیوں ڈروں؟
جنرل صاحب پاکستان میں کیوں متنازعہ تھے؟ اُن کو پاکستان میں کیوں اور کس کے کہنے پر متنازعہ کیا گیا؟ اس سوال کا جواب پھر کبھی سہی، تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے ہر دور میں کلمہ حق بلند کیا تھا اور جب جہاد کو عالمی سطح پر متنازعہ کیا جا رہا تھا تو جنرل حمید گل نے جہاد اور دہشت گردی میں فرق کو بالکل واضح کیا تھا۔ امت کا درد دل رکھنے والا انسان آخری وقت تک امت کو یہی باور کرواتا رہا کہ ایٹمی پاکستان ہمارے دشمنوں کو قبول نہیں ہے، خدارا اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو۔ ہم بجائے جنرل حمید گل کی ذات کو ڈسکس کرنے کے، اُن کے وہ کام کیوں نہ یاد کریں جو انہوں نے قوم کے لیے سرانجام دیے. کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ انہوں نے وطن دشمنوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا؟ کیااس بات میں کوئی شک ہے کہ وہ آخری وقت تک محض ایک پاکستانی تھے؟ کیااس بات میں کوئی شک ہے کہ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کی وحدت کی بات کی اور ہمیشہ دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر منہ توڑ جواب دیا؟
میں آج جب قوم کی جانب دیکھتا ہوں تو جنرل حمید گل یاد آتے ہیں، اُن کا خلا ابھی تک پر نہیں ہو سکا ہے۔ اللہ اُن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ ابھی 15اگست کو اُن کی برسی گزری ہے اور ایک عالم میں خاموشی طاری ہے۔ کسی نے اُن کی خدما ت کا ذکر نہیں کیا۔ کسی نے اُ ن کی زندگی کے روشن پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی زحمت نہیں کی۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہیروز کی قدر کر سکیں۔ جنرل حمید گل میرے لیے ہیرو ہی تھے اور مجھے یقین ہے کہ اُن کے چاہنے والے آج بھی اُن کی قومی خدمات کا اعتراف کرتے ہوں گے۔ میرا یقین ہے کہ جنرل حمید گل لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ اللہ اُن کی مغفرت کریں اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام دیں۔ آمین

Comments

Click here to post a comment