ہوم << فاٹا کا صوبہ بننا کیوں ضروری ہے؟ بادشاہ خان

فاٹا کا صوبہ بننا کیوں ضروری ہے؟ بادشاہ خان

بادشاہ خان وفاق کے زیرانتظام فاٹا اس وقت کسی صوبے میں شامل نہیں اور ترقی کے سفر میں باقی ملک سے ساٹھ سال پیچھے ہے. وفاق نے فاٹا کے قبائلی علاقوں میں دوہرا نظام قانون نافذ رکھا اور انھیں آزاد حیثیت کے ساتھ ساتھ انگریز کے کالے قانون ایف سی آر کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کی. قبائل میں موجود وفاقی اداروں کے افسران مال بٹورنے میں مصروف رہے جس کی وجہ سے ترقی اور تعلیم کا سفر آگے نہ بڑھ سکا. صحت کے نام پر مختص اربوں روپوں کے بجٹ کو کاغذوں میں خرچ کیا گیا. فاٹا سیکرٹریٹ حکام بالا کو سب اچھا ہے کی رپورٹ پہنچاتے ہیں ،گورنر اور فاٹا سیکرٹری سال میں ایک آدھ بار ہی کسی قبائلی علاقے کے دورے پر جاتے ہیں، پشاور میں بیٹھ کر نظام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے. آپریشن ضرب عضب کامیابی سے آخری مرحلے میں ہے تو ایک بار پھر یہ سوالات سامنے آرہے ہیں کہ اب کون حکومتی نظام کو سبنھالے گا؟ ادارے توموجود ہیں مگر عوام کی شمولیت کس طرح ہوگی؟ قبائل کے مسائل کے حل اور ترقی کا کیا بنے گا؟ وہ جو اپنے ہی ملک میں آئی ڈی پیز کہلائے، جنھوں نے پاکستان کے پرامن مستقبل کے لیے اپنا گھربار چھوڑا، فوج کے ساتھ تعاون کیا، لاکھوں کی تعداد میں بےگھر ہوئے، وہ سوال کر رہے ہیں کہ ماضی تو جیسا تھا گزر گیا، حال سب کے سامنے ہے، مگر کیا مستقبل بھی اسی طرح خراب ہوگا؟ اپنے ہی ملک میں بنیادی سہولیات سے محروم رہیں گے؟ اسلام آباد میں بیٹھنے والے کیا اتنے بے حس ہیں کہ ان کو اندازہ نہیں کہ ایف سی آر غلامی کی نشانی ہے؟ کیا ان کو معلوم نہیں کہ پشاور کے پاس فاٹا کے مسائل کا کوئی حل نہیں؟ جو لوگ خیبر پختونخوا کے ساتھ فاٹا کے الحاق کا ڈھول پیٹ رہے ہیں، ان سے کوئی پوچھے کہ پشاور کے حکمرانوں نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک کتنا بجٹ فاٹا کے عوام کے لیے مختص کیا ہے؟
فاٹا میں قائم وفاقی انفراسٹرکچر پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ صحت سے لے کر تعلیم تک، ہر ڈیپارٹمنٹ موجود ہے مگر فعال نہیں ہے. فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، فاٹا ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی، فاریسٹ، ایری گیشن، فشریز، لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری دیویلپمنٹ، ایگری کلچر، سوشل ویلفیئر، روڈز، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ، مائنرل اینڈ ٹیکنکل ایجوکیشن، فنانس ڈیپارٹمنٹ، لا اینڈ آرڈرسے لے کر ایڈمنسٹریشن اینڈ انفراسٹرکچر تک تمام ادارے اور ان کے ملازمین موجود ہیں جبکہ فوج الگ سے خدمات سرانجام دے رہی ہے، پولیس کی جگہ خاصہ دار اور لیوی کے نام سے فورس ہر قبائلی ایجنسی میں موجود ہے، ایم این اے اور سینٹیرز بھی وفاق میں موجود ہیں، اگر کمی ہے تو صرف صوبائی اسمبلی اور لوکل گورنمنٹ کی جس کا قیام کوئی مشکل نہیں. اس کے باوجود چند لوگ اس پورے نظام کو لپیٹ کر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے لابنگ کررہے ہیں، جبکہ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کے لیے آئین میں سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے تو پھر قبائل کی آواز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ قبائل آج بھی خود مختاری اور الگ نظام اور الگ پہچان کے ساتھ الگ صوبے کی شکل میں زیادہ اطمینان محسوس کریں گے. گلگت بلتستان صوبہ بن سکتا ہے تو فاٹا کیوں نہیں؟ قبائلی عمائدین نے جرگے کیے، فاٹا کے 6 قبائلی علاقوں اور 7 ایجنسیوں کے عمائدین کے جرگے میں متفقہ طور پر فاٹا اصلاحات بل کو مسترد کرتے ہوئے فاٹا کو گلگت بلتستان کی طرح علیحدہ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ جرگے میں کہا گیا کہ چند پارلیمینٹیرین قبائلی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی متاثرہ صوبہ ہے، اگر فاٹا کو بھی اس میں ضم کردیا گیا تو مسائل میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

Comments

Click here to post a comment