ہوم << جنگل راج - رضی الاسلام ندوی

جنگل راج - رضی الاسلام ندوی

رضی الاسلام ندوی میں روزانہ اخبار پر ایک نظر ڈال لیتا ہوں. ایک خاص واقعہ سے متعلق کچھ عرصے تک مسلسل اس طرح کی خبریں پڑھنے کو ملیں :
_ غازی آباد (صوبہ اترپردیش) کے ایک قریبی گاؤں میں ایک مشتعل بھیڑ نے ایک گھر میں گھس کر اخلاق نامی آدمی کو پکڑا، گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے اور پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا. اس کے لڑکے کو بھی مار مار کر ادھ مرا کر دیا. الزام یہ لگایا کہ انھوں نے گائے کا گوشت کھایا ہے.
_ رپورٹ کے بعد بہت سے افراد کو گرفتار کیا گیا.
_ مقتول کا بڑا بھائی فوج میں تھا. فوج نے پورے خاندان کو محفوظ رہائش فراہم کرنے کا اعلان کیا.
_ صوبائی حکومت نے بھاری معاوضہ کا اعلان کیا اور مرحوم کے اہل خاندان کو طیارہ بھیج کر وزیر اعلی کی رہائش پر بلایا اور چیک حوالے کیا.
_ مرحوم کے گھر کے فریج سے گوشت کے ٹکڑے لے کر لیباریٹری بھیجے گئے، وہاں سے رپورٹ موصول ہوئی کہ گوشت بکرے کا تھا.
_ گرفتاریوں کے خلاف شدت پسند تنظیموں نے مسلسل احتجاج کیا اور دھرنا دیا.
_ مرکزی حکومت کے ذمے دار مسلسل خاموش رہے.
_ گوشت کے ٹکڑے دوسری لیباریٹری بھیجے گئے، وہاں سے رپورٹ آئی کہ گوشت گائے کا تھا.
_ دوسری رپورٹ کے مطابق اخلاق کا خاندان مجرم ٹھہرا اور ان کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی.
خبروں کے تسلسل سے صاف ظاہر ہے کہ کس طرح مظلوم کو مجرم بنا دیا گیا. اگر واقعی کوئی شخص کسی جرم کا ارتکاب کرے تو بھی کیا کسی متمدن سماج میں کسی بھیڑ کو اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ ما ورائے قانون و عدلیہ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ سنادے اور اسے نافذ بھی کردے. یہ صورت حال میرے لیے انتہائی پریشان کن ہے، اس لیے کہ مجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالٰی کفر و شرک کو گوارا کر لیتا ہے، لیکن ظلم کو کبھی برداشت نہیں کرتا. وہ ظالموں کو کچھ مدت تک ڈھیل دینے کے بعد ان کی بہت سخت پکڑ کرتا ہے، پھر وہ کسی صورت میں اس کی گرفت سے بچ نہیں پاتے.

Comments

Click here to post a comment