ہوم << رضیہ سلطانہ نہیں، رضیہ سلطان - فہد کیہر

رضیہ سلطانہ نہیں، رضیہ سلطان - فہد کیہر

عالمی تاریخ کا مطالعہ کریں تو مسلم تاریخ ایک لحاظ سے سب سے الگ اور منفرد نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ اس میں غلاموں کا وہ استحصال نہیں کیا گیا جو مغربی تہذیب میں عام تھا۔ اسلامی دنیا میں تو باصلاحیت غلام بادشاہت کے منصب تک جا پہنچے۔ مسلم تاریخ کی دو بہت بڑی اور اہم سلطنتیں دراصل غلاموں کی حکومتیں تھیں: ایک مصر کی مملوک سلطنت اور دوسری ہندوستان میں خاندانِ غلاماں کی دلّی سلطنت۔

عورت بمقابلہ عورت، دلّی میں جانشینی کی جنگ

یہ حکومتیں اپنی طرز میں ملوکیت کے نظام سے ذرا مختلف تھیں، کم از کم خاندانِ غلاماں میں تو ایسا ہی دیکھا گیا۔ دلّی میں بھی باپ کے بعد اولاد بادشاہت کے منصب پر فائز ہوتی تھی، لیکن اس کے لیے ایک 40 رکنی کمیٹی کی تائید ضروری تھی جسے 'تُرکانِ چہل گانی' کہتے تھے۔ یہی چالیس معتبر شخصیات تھیں جو التتمش کے بعد رضیہ کی حکمرانی پر متفق نہیں ہوئیں، بلکہ صرف یہ کمیٹی ہی نہیں بلکہ خود التتمش کی ملکہ تُرکان شاہ بھی رضیہ کے خلاف تھی اور اپنے بیٹے رکن الدین فیروز کو ولی عہد دیکھنا چاہتی تھی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ 1236ء میں رکن الدین ہی سلطان بنا، لیکن چند ہی مہینوں میں ثابت ہو گیا کہ حکومت چلانا اُس کے بس کی بات نہیں اور اصل اقتدار دراصل ترکان شاہ کا ہے۔ یعنی جس بنیاد پر رضیہ کی مخالفت کی گئی کہ 'عورت حکمران نہیں بن سکتی،' اب سب اسی 'عورت راج' میں جی رہے تھے، وہ بھی ترکان شاہ جیسی عورت کے، جو اپنے بیٹے کے اقتدار کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو ختم کرنے پر تلی ہوئی تھی۔

ماں بیٹا کے مظالم سے بالآخر تُرکانِ چہل گانی بھی تنگ آ گئے، رکن الدین فیروز کو اتار پھینکا اور نئے سلطان کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ایک گروہ جو ابتدا سے التتمش کی وصیت پوری کرنے کے حق میں تھا، دلیل پیش کرنے لگا کہ بڑی مشکل سے رکن الدین فیروز سے جان چھوٹی ہے، اب بھی وصیت پر عمل نہ کیا تو نئی مصیبت میں پھنس جائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ حق حقدار کو دیا جائے یعنی تخت دلّی رضیہ ہی کے حوالے کیا جائے۔

رضیہ تختِ دلّی پر

یوں 1236ء میں رضیہ سلطانہ، بلکہ رضیہ سلطان تخت پر بیٹھ گئی۔ جی ہاں! رضیہ نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔ لیکن حکومت کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ سلطنت کے معاملات سنبھالنے اور چلانے والی کئی اہم شخصیات دل سے رضیہ کو تسلیم ہی نہیں کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم نظام الملک جنیدی بھی، سوتیلے بھائی اور اُن کے وفادار تو پھر الگ تھے۔ اس لیے رضیہ نے مردوں کی دنیا میں مردوں کی طرح جینا شروع کر دیا، پردہ ترک کیا، زنانہ کے بجائے مردانہ لباس میں تخت پر بیٹھ کر سرکاری معاملات چلاتی۔ حالات ایسے تھے کہ حکومت ہاتھ میں انگارا لینے کے مترادف تھی، لیکن رضیہ نے ہر اٹھتی ہوئی بغاوت کو کامیابی سے ختم کیا اور یوں اس انگارے کو کافی حد تک ٹھنڈا کر لیا۔

ایک غلط فیصلہ اور ۔۔۔۔

جمال الدین یاقوت اور رضیہ سلطان، 1983ء کی فلم 'رضیہ سلطانہ' کا ایک منظر

اپنے مخالف عناصر کا زور توڑنے کے لیے رضیہ نے غیر ترکوں کو آگے لانا شروع کیا۔ اسی سلسلے میں ایک قدم ایسا اٹھا لیا، جس نے رضیہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ یہ حبشی غلام جمال الدین یاقوت کی تقرری تھی، جسے امیر بنایا گیا تھا۔

ترک حلقے جو ویسے ہی 'عورت راج' پر جلے بھنے بیٹھے تھے، اب ایک سیاہ فام غلام کو بڑے عہدے پر دیکھ کر سخت ناراض ہونے لگے۔ اس فیصلے نے انہیں رضیہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا نیا مواد بھی فراہم کر دیا۔ انہوں نے افواہ پھیلا دی کہ رضیہ اصل میں یاقوت کو پسند کرتی ہے۔ یہ دعویٰ اتنی شد و مد کے ساتھ کیا گیا کہ کئی تاریخی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ حقیقت کتنی تھی اور کتنا فسانہ؟ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اُس زمانے کے مؤرخین میں اس حوالے سے بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔

اور بغاوت کامیاب ہو گئی!

دلّی سلطنت کے اہم علاقے بھٹنڈہ کا حاکم ملک اختیار الدین التونیہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں اس نے رضیہ کے لیے شادی کا پیغام بھی بھیجا تھا لیکن اُس نے انکار کر دیا۔ جب رضیہ اور یاقوت کے جھوٹے سچے قصوں کا پتہ چلا تو بھنّا گیا اور علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مہم میں کامیاب بھی ہو گیا۔

یہ سن 1239ء تھا۔ بغاوت کے خاتمے کے لیے رضیہ نے دلّی سے نکل کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اندازہ نہیں تھا کہ اس نازک مرحلے پر ہی فوج کے چند عناصر اپنا کام دکھا جائیں گے۔ رضیہ کی آنکھوں کے سامنے یاقوت کو قتل کر دیا گیا اور خود اسے گرفتار کر کے ملک التونیہ کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں رضیہ کے ساڑھے تین سالہ دور کا خاتمہ ہوا، وہ التونیہ کی قید میں اور دلّی میں حکومت اس کے سوتیلے بھائی بہرام شاہ کے پاس۔

آخری کوشش اور المناک موت

بہرام شاہ کے دور میں حقیقی اقتدار ترکانِ چہل گانی کے پاس تھا، جنہوں نے پاور شیئرنگ میں ملک التونیہ کو کچھ نہیں دیا۔ تب اسے اندازہ ہوا کہ رضیہ کو تخت سے ہٹانے کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ الٹا وہ رضیہ کی نظروں میں بھی گر گیا۔ تب التونیہ نے رضیہ کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا اور خود رضیہ کو بھی اپنا تخت واپس ملنے کا ایک راستہ نظر آیا۔ دونوں نے شادی کر لی اور مل کر جدوجہد کا فیصلہ کیا۔

اکتوبر 1240ء میں ملک التونیہ کی تیار کردہ فوج اور بہرام شاہ کے لشکر کا ٹکراؤ ہوا اور ایک مرتبہ پھر رضیہ سلطان کو شکست ہو گئی۔ رضیہ اور التونیہ بمشکل اپنی جان بچا کر میدان سے بھاگے۔ زخموں سے چور بھاگتے بھاگتے کیتھل پہنچے جہاں چند مقامی افراد نے کھانے پینے کا سامان دیا۔ لیکن اگلے روز اسی جگہ سے ان کی لاشیں ملیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ قیمتی لباس اور زیورات کے لیے دونوں کو قتل کر دیا گیا ہوگا۔ اس حوالے سے بھی متضاد باتیں ہیں کہ آخر رضیہ سلطان کی قبر کہاں ہے؟ کیتھل میں؟ یا دلّی میں؟ یا پھر کہیں اور؟

اندرونِ دلّی میں یہ 'رجی سجی' کی قبریں کہلاتی ہیں، یعنی رضیہ اور شازیہ کی قبریں

رضیہ کا دِلوں پر راج، آج بھی

یہ داستان پڑھنے کے بعد تو فوراً ذہن میں آتا ہے کہ یہ تو فلمی کہانی لگتی ہے۔ جی ہاں! رضیہ کی یہ داستان قدیم و جدید ادب کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئی۔ بہت سے جھوٹے سچے واقعات گڑھے گئے، یہاں تک کہ دورِ جدید میں کئی ڈرامے اور فلمیں بھی رضیہ پر بنیں۔ وہ الگ بات کہ سب نے اپنی من مرضی کی کہانیاں تراشیں۔ کچھ نے رضیہ اور یاقوت کی داستان کو آگے بڑھایا، کچھ نے التونیہ کے ساتھ محبت کی کہانی کو طول دیا، جدید زمانہ آیا تو کچھ نے رضیہ کے 'فیمنزم' کو بڑھا چڑھا پیش کیا تو چند اس کی نسل پرستی سے عاری کھلی سوچ کو سراہنے لگے۔

حقیقت یہ ہے کہ رضیہ کی زندگی کی داستان جتنا حوصلہ بڑھاتی ہے، اس کی موت اتنی ہی المناک انداز میں ہوئی۔ لیکن شاید یہ موت ہی تھی جس نے اسے امر کر دیا، رضیہ آج بھی کتابوں، کہانیوں، فلموں، ڈراموں کے ذریعے دلوں پر راج کرتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کبھی دلّی کے عوام پر کرتی تھی۔

کمال امروہی کی فلم رضیہ سلطان، جو 1983ء میں ریلیز ہوئی

Comments

Avatar photo

فہد کیہر

فہد کیہر تاریخ کے ایک طالب علم ہیں۔ اردو ویکی پیڈیا پر منتظم کی حیثیت سے تاریخ کے موضوع پر سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں۔ ترک تاریخ میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر: @fkehar

Click here to post a comment