ہوم << اور ترکوں کا دور شروع ہو گیا - فہد کیہر

اور ترکوں کا دور شروع ہو گیا - فہد کیہر

جو علاقے اب پاکستان کا حصہ ہیں، وہاں سب سے پہلے اسلام 711ء میں محمد بن قاسم کی فتوحات کے ذریعے آیا، لیکن اس کے اثرات بہت دیرپا ثابت نہیں ہوئے۔ سندھ کا تقریباً آدھا حصہ گو کہ عرصے تک دنیائے اسلام کا حصہ رہا، لیکن اِس کی حیثیت ایک دُور دراز سرحدی علاقے سے زیادہ نہیں تھی۔ سارے انقلابات اور ہنگامے سندھ سے کہیں دُور رونما ہوتے رہے اور یہاں اسلام اُس طرح نہیں پھیل پایا جیسا پھیلنا چاہیے تھا۔

اسلام نے موجودہ پاکستان میں تب قدم جمائے جب دینِ حق کی آمد وسطِ ایشیا کے راستے سے ہوئی اور ایسا کئی صدیوں کے بعد ہوا۔ علم کے زور پر، عمل کے زور پر، قلم اور تلوار کے زور پر، اس خطے میں اسلام آیا اور چھا گیا اور اسے لانے والے تھے ترک۔

ترک، کنگ میکر سے آزاد حکمران

ترک دسویں صدی میں ہی دار الخلافت بغداد میں 'کنگ میکر' بن چکے تھے۔ یہاں تک کہ یہ تک کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ان کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی تھا۔ عالم یہ تھا کہ خلیفہ عرب تھا، شہر کی ثقافت پر فارس اور وسطِ ایشیا کا غلبہ تھا، لیکن طاقت تُرکوں کے ہاتھ میں تھی، یعنی فوجی طاقت۔

باقی مسلم دنیا کے بڑے حصے میں بھی تقریباً یہی حال تھا۔ فاطمی سلطنت بھی اپنے فوجی غلاموں کے رحم و کرم پر تھی، جو زیادہ تر ترک ہی تھے۔ پھر سمرقند و بخارا کی عظیم حکومتوں اور وسط ایشیا میں آنے والے آئندہ حکمرانوں کا انحصار بھی ترک غلاموں پر ہی تھا۔

وسط ایشیا کی سامانی حکومت میں ترک غلام نچلے درجے پر بھرتی ہونا شروع ہوئے اور اپنی فوجی قابلیت کی بدولت آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ملک کی اہم ترین طاقت بن گئے۔ سن 1000ء میں سامانی سلطنت کے خاتمے پر وسطِ ایشیا میں ترکوں سے بڑی کوئی طاقت نہ تھی۔ پھر اس خطے میں اُن کی پہلی بڑی ریاست بنی، جسے تاریخ میں قراخانی خانیت یا خانانِ قراخان کی حکومت کہا جاتا ہے۔ ویسے انہیں ایلک خانی بھی کہا جاتا ہے اور آلِ افراسیاب بھی۔

قراخان کون تھے؟

قراخان اور دیگر ترک قبائل سینکڑوں سال پہلے منگولیا اور چین کے سرحدی علاقے سے ہجرت کر کے مغرب کی طرف منتقل ہوئے تھے۔ وہ اُس علاقے میں آئے تھے، جو اب چین کے صوبے سنکیانگ کا حصہ ہے۔

ہجرت کرنے والے ان قبائل کی سب سے اہم شاخ اویغور تھی، جو یہاں مقیم ہو گئی اور ایسی جمی کہ آج بھی، اتنی صدیاں گزرنے کے بعد بھی، سنکیانگ میں اویغور اکثریت میں ہیں۔

لیکن قراخان قبیلہ مغرب کی سمت آگے بڑھتا رہا اور نویں صدی کے اوائل میں سامانی ریاست کی مشرقی سرحدوں پر پہنچ گیا۔ وہی سرحد جو 751ء کی جنگِ تالاس کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی یعنی اسلام اور بدھ مت کی سرحد۔ اب اِس سرحد کے ایک طرف سامانی مسلمان تھے اور دوسری جانب قراخانی بدھ۔

دسویں صدی کے وسط میں جب کاشغر کے نئے حکمرانوں نے اسلام قبول کیا تو آہستہ آہستہ یہ پورا علاقہ اسلام کی روشنی سے منوّر ہو گیا۔

یہ سامانیوں کی زبردست تبلیغِ اسلام کا نتیجہ تھا، جس کی وجہ سے وہ ترک جو صدیوں سے ان علاقوں میں رہتے تھے اور کبھی اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا، اسلام کی حقانیت کو تسلیم کر گئے۔ یہ سیاسی لحاظ سے بھی ایک بہت اہم مرحلہ ثابت ہوا کیونکہ وہ پہلے مسلم علاقوں میں دخل اندازی کرنے والے کافر کہلاتے تھے، لیکن اب مسلمان بھائی تھے، بلکہ سرزمینِ اسلام کے محافظ بھی۔

سامانیوں کے جانشیں

پہلے قراخانی حکمران بغرا خان کا مقبرہ جو آج چین کے صوبہ سنکیانگ میں ہے

جب وسطِ ایشیا میں سامانیوں کی طاقت کمزور پڑنے لگی تو قراخانی اس خطے میں سب سے نمایاں تھے۔ 990ء میں وہ بخارا کے دروازوں تک آ پہنچے۔ ان کا رہنما حسن بن سلیمان عرف بغرا خان تھا جسے ارسلان خاقان بھی کہتے ہیں۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ سامانیوں کا دوست ہے، ہم مذہب بھی اور محافظ بھی۔ بالآخر 999ء میں قراخانی فوج بغیر کسی مزاحمت کے بخارا میں داخل ہو گئی اور سامانی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ قراخانیوں نے وہ خلا پُر کیا جو سامانی ریاست کے زوال سے پیدا ہوا تھا۔

یوں نئے ہزاریے کے آغاز پر سامانی سلطنت کے مشرقی حصے ترکوں کے ہاتھوں میں آ گئے۔ قراخانیوں نے خانہ بدوشوں کی زندگی ترک کر کے شہری زندگی اپنا لی اور کئی شہری ریاستیں قائم کیں، جن کی کنفیڈریشن قراخانی سلطنت کی صورت میں موجود تھی۔ اس ریاست کے چار مراکز تھے: کاشغر، سمرقند، اوزکند اور بلاساغون۔ آخری دونوں شہر آج قرغزستان میں واقع ہیں جبکہ کاشغر چین کے صوبہ سنکیانگ کا اور سمرقند ازبکستان کا نمایاں ترین شہر ہے۔ ان کا پہلا دارالحکومت گرگانج میں تھا، جو بعد ازاں پہاڑوں کے پار کاشغر منتقل کیا گیا۔

اپنے جیسی تمام ریاستوں کی طرح اس خاندان کے مختلف دھڑوں میں بھی بالآخر اختلاف پیدا ہوا۔ جو نہ صرف اس پہلی ترک مسلم ریاست کی بنیادی کمزوری تھی بلکہ بعد میں آنے والے کئی ترک خاندانوں کی بھی۔ درحقیقت یہ ریاست نہیں بلکہ کئی خاندان تھے، جو خونی رشتوں میں بندھے ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ جب اختلاف حد سے زیادہ بڑھ جاتا تو کنفیڈریشن ٹوٹ جاتی اور ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لیتا۔

ثقافتی نہیں تعمیری انقلاب

رباط الملک کی عظیم کاروان سرائے، جو اپنے عروج پر کچھ ایسی ہوتی تھی۔ آج اس کے آثار ہی باقی ہیں

قراخانی دور میں کوئی ثقافتی انقلاب یا تحریک تو نظر نہیں آتی۔ قراخانی سرزمین پر کوئی عظیم ماہر فلکیات، ریاضی دان، کیمیا دان یا معالج بھی نہیں ملتا اور نہ ہی حکمرانوں کی جانب سے ایسے کسی ماہر کی مدد کے شواہد ملتے ہیں، لیکن تاریخ میں قراخانیوں کی وجہ شہرت ان کی عمارتوں کی وجہ سے ہے۔

سیاسی معاملات کے برعکس معاشی طور پر قراخانی بہت مستحکم اور مؤثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی مسلم ریاستوں کے ساتھ معاشی تعلقات تھے، جن کا انہیں سیاسی طور پر بھی فائدہ ہوا۔

سامانی مزار، جس کا پچھلی قسط میں ذکر آ چکا ہے، کی طرح قراخانیوں کا طرزِ تعمیر بھی بہت دلچسپ اور انوکھا تھا۔ قراخانیوں کے مضبوط معاشی تعلقات کی وجہ سے علاقے کے تجارتی راستوں پر کئی کاروان سرائے بنیں۔ جن میں سب سے اہم تھی رباط الملک۔ یہ بخارا اور سمرقند کے درمیان واقع تھی۔ اسے 1078ء میں قراخانی شاہ شمس الملک نصر نے بنوایا تھا۔ یہ اتنی شاندار عمارت تھی کہ پہلی نظر میں کاروان سرائے کے بجائے کسی بادشاہ کا محل لگتی تھی۔ پھر تاش رباط تھی، جس کے آثار آج بھی اوزکند اور کاشغر کو ملانے والی سڑک کے قریب نظر آتے ہیں۔

موت کا مینار

مشہور زمانہ، اور بدنام زمانہ، کلان مینار، بخارا

اُس زمانے کی تاریخ میں میناروں کی تعمیر کا ذکر بھی بہت ملتا ہے۔ اسلام کی آمد کے کچھ عرصے بعد مساجد کے ساتھ مینار تعمیر کرنے کے رجحان نے جنم لیا، جہاں سے اذان دی جاتی تھی۔

لیکن مسجد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے یعنی یادگار کے طور پر مینار بنانے کی روایت ترکوں نے ڈالی تھی۔ سب سے پہلے یہ کام قراخانیوں نے کیا اور پھر غزنی اور سلجوق ریاستوں نے بھی اسے جاری و ساری رکھا۔

قراخانی دور کا ایک مشہور مینار، جو بدنامِ زمانہ بھی ہے، 'کلان مینار' ہے۔ یہ 1127ء میں بخارا شہر میں بنایا گیا تھا۔ اسے 'موت کا مینار' بھی کہتے تھے۔ کیونکہ جلّاد مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے اس مینار کی چوٹی سے پھینک دیا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ 1870ء سے پہلے اور پھر گزشتہ صدی کی دوسری دہائی میں بھی اسے سزائے موت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

بہرحال، تقریباً 150 فٹ بلند یہ مینار محمد ارسلان خان قراخانی کے دور میں اذان کے لیے بنایا گیا تھا۔ جنگ کی صورت میں اسے واچ ٹاور یعنی دیدبان کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا، تاکہ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔

جب چنگیز خان نے بخارا پر قبضہ کیا تو یہ مینار اسے اتنا پسند آیا کہ حکم دیا اِس مینار کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ حالانکہ اس کے گرد واقع تمام عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔

آج یہ بخارا کی پائے کلان مسجد کا مینار ہے۔ ویسے قراخانیوں نے بہت سے اور مینار بھی بنائے تھے جو ووبقند، اوزبند اور بلاساغون میں ملتے ہیں۔

قراخانی دور کے اہم شہر

ماہرینِ آثار قدیمہ نے قراخانی دور کے جن مقامات کا پتہ لگایا ہے، ان میں ایک اہم مرکز موجودہ قرغزستان میں ملتا ہے، جسے بُرانا کہتے ہیں۔ یہ ملک کے موجودہ دارالحکومت بشکک سے تقریباً 50 میل مشرق میں دریائے چو کی وادی میں واقع ہے۔ پھر آق بیشم ہے، جو تقریباً 4 میل دُور ہے۔ یہ 1961ء میں دریافت ہوا تھا جسے سویاب کا قدیم شہر قرار دیا گیا۔

سویاب چھٹی سے نویں صدی تک ایک شاندار صنعتی و تجارتی مرکز تھا اور قراخانی دور میں اسے زوال آ گیا۔ کیونکہ قراخانی شہزادوں نے دریائے چو کے کنارے پر زیادہ بہتر مقام پر اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔

یہ بھی ایک کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی شہر تھا۔ سویاب میں دو مسیحی گرجوں، دو بدھ مندر اور ایک مجوسی عبادت گاہ کا ذکر ملتا ہے۔

بلاساغون تو ایک عظیم شہر بلکہ شہرستان تھا۔ جو اونچی دیواروں کے اندر 50 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا۔ پھر اس شہر پناہ سے ڈیڑھ میل دُور ایک دوسری دیوار بھی تھی جو کاروباری علاقے یعنی رباط کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی۔ ماہرین ایک تیسری دیوار کا امکان بھی ظاہر کرتے ہیں، جس کے اندر کم از کم پانچ مضافاتی علاقے قائم تھے۔

بلاساغون شہر ایسا ہوتا تھا، ایک جدید رینڈرنگ۔ یہ شہر اب ختم ہو چکا ہے اور مینار کے بھی محض آثار باقی ہیں

شہر میں پانی کی فراہمی و نکاسی بلکہ گھروں کو گرم رکھنے کا نظام بھی موجود تھا۔ یہاں کی کثیر منزلہ عمارتیں اور حمام ایسے تھے جو آج بھی ہوں تو جدید معیار کے کہلائیں۔

اس شہرستان کے مرکز میں ایک جامع مسجد تھی، جس کے آثار تو ملے ہیں، لیکن صرف بنیادوں کی صورت میں۔ غالباً منگولوں نے اسے بھی تباہ کر دیا ہوگا۔

مساجد، مزارات اور یادگاروں کے علاوہ قراخانیوں نے وقف ادارے بھی تعمیر کیے۔ ایک حکمران نے تو سمرقند میں ایک بڑا نیا شفا خانہ بھی بنایا۔ جس کے تمام معالجین اور عملے کی تنخواہ بلکہ باورچی خانے اور روشنی و گرمی کے نظام کے اخراجات بھی حکومت ادا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ مستقل مدارس بھی قائم کیے گئے جہاں روایتی مذہبی علوم پڑھائے جاتے تھے۔

قراخانی تاج محل

عائشہ بی بی کا مقبرہ، محبت کی علامت

قراخانیوں کی تعمیر کردہ خوبصورت عمارات میں سے ایک عائشہ بی بی کا مقبرہ ہے۔ یہ غالباً گیارہويں یا بارہويں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا اور موجودہ قزاقستان کے قصبے تاراز کے قریب شاہراہ ریشم پر واقع ہے۔

یہ مقبرہ محبت کی ایک داستان کا نتیجہ ہے جس کے مطابق عائشہ بی بی ایک صوبی حاکم عطا کی بیٹی تھی، جس کی شادی امیر تاراز سے ہونے والی تھی۔ جب وہ اپنی منزل پر پہنچنے والی تھی تو اسے ایک سانپ نے کاٹ لیا، جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ بعد ازاں، امیر نے اس کا مقبرہ بنانے کا حکم دیا۔ اس پورے خطے میں اس مقبرے کو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے ہاں تاج محل ہے۔

قراخانی ریاست کا خاتمہ

قراخانی ریاست گیارہویں صدی کے اوائل میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ اس میں مشرقی حصے کا دارالحکومت پہلے بلاساغون تھا جو بعد میں کاشغر منتقل کیا گیا جبکہ مغربی ریاست کا مرکز بخارا تھا۔

قراخانی ریاست کا خاتمہ جن کے ہاتھوں ہوا، وہ قراخطائی کہلاتے ہیں۔ یہ بدھ اور شامانی مذہب کے ماننے والے تھے اور 1125ء کے بعد چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کی وجہ سے اِن علاقوں کی طرف آئے۔ ابتدا میں تو کاشغر کی قراخانی فوج نے انہیں شکست دے دی لیکن ایک ہی دہائی میں پھر واپس آ گئے۔ ان کے ہزاروں کے لشکر آہستہ آہستہ چھاتے گئے اور بالآخر انہوں نے کاشغر اور بلاساغون پر قبضہ کر کے قراخانی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

دوسری جانب مغربی قراخانی ریاست کے خلاف ایک دوسرا طوفان بھی پیدا ہو رہا تھا، ہندوکش کے پار جہاں ایک نئی ریاست جنم لے چکی تھی۔ غزنوی سلطنت جس کے ایک حکمران محمود غزنوی کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔

قراخانی اور غزنوی ریاستیں اور محمود غزنوی کی مہمات کا ایک نقشہ

Comments

فہد کیہر

فہد کیہر تاریخ کے ایک طالب علم ہیں۔ اردو ویکی پیڈیا پر منتظم کی حیثیت سے تاریخ کے موضوع پر سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں۔ ترک تاریخ میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر: @fkehar

Click here to post a comment