ہوم << یادگار ہوائی مشاعرہ - سعداللہ شاہ

یادگار ہوائی مشاعرہ - سعداللہ شاہ

کیسے خیال خام کے رد وقبول سے نکلا ہوں میں روایت و جدت کی وھول سے کشت خیال یار میں اک پیڑ کا گماں جس پر کسی یقین کے آئے ہیں پھول سے زندگی میں اپنا راہ تراشنے کے لیے کچھ جستجو تو کرنا پڑتی ہے۔ کچھ صبر کھینچنا پڑتا ہے اور کچھ خون جلانا پڑتا ہے۔

خون جلایا ہے رات بھر میں نے لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے۔ یہ ایک احساس کی دنیا ہے اور فکر کا جہاں ہے۔ فن برائے فن تو ایک فنکاری ہے۔ مقصد کچھ اس سے ورا چیز ہے۔ تو تو ہمارے شعر کے ظاہرپہ مر گیا۔ ’سوز و گداز کیا تجھے خزن و ملال کیا‘۔ دانست میں تری ہوں کوئی سنگ وحشت میں۔ وجیہہ ملالی قلب میں چہرے ملول سے۔ اور پھر۔ ہم ہیں پرستش بت زر میں جھکے ہوئے۔ اے ذوالجلال اٹھا ہمیں شکموں کی بھول سے۔ بس کیا کریں اپنے پیارے قارئین سے مخاطب ہونے کے لیے سخن تراشنا پڑتا ہے۔ کچھ یوں بھی ہے کہ موجودہ صورت حال میں کہ جہاں آویزش ہے اور کچھ نہیں کھلتا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ طرح دے دی جائے کہ دونوں کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ ملک بچانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ دونوں کے پاس دلائل بھی ہیں مگر عمل کی کچھ کمی اور کجی بھی نظر آتی ہے۔

میں بحث میں بہکنے سے پہلے ہی اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کہ 22 مئی کی چلچلاتی دھوپ جلا رہی تھی اور ہم نے مرغزار کالونی میں ایک مشاعرہ پڑھنا تھا جو اس کالونی کے ہر دلعزیز صدر چودھری شہزاد چیمہ نے اپنے ڈیرہ کے سبزہ زار میں رکھا ہوا تھا۔ اس کھلے عام مشاعرہ میں کہ جو رات 9 بجے کے بعد شروع ہوا۔ اچانک تیز ہوا چلنے لگی اور خوشخبری دینے لگی کہ کہیں نہ کہیں بارش ہے اور امکان کو ہوا کھینچ لائی ہے۔ چلتے چلتے ایک دلچسپ بات کا تذکرہ آپ کو لطف دے جائے گا کہ ایک مرتبہ شہر سمندری کے کالج میں انور مسعود اور میں مشاعرہ پڑھنے گئے۔ بے تحاشہ رش تھا۔ انور مسعود گویا ہوئے اہل سمندری‘ ہم نے زندگی میں بڑے بڑے خشکی کے مشاعرے پڑھے ہیں مگر پہلی دفعہ سمندری مشاعرہ پڑھنے جا رہے ہیں۔ اس رعایت لفظی کا لطف سخن فہم لوگوں نے اٹھایا۔ کچھ ایسی ہی صورت حال مرغزار کے اوپن مشاعرے کی ہو گئی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آندھی سی آ جائے گی۔ اس میں کچھ قطرہ قطرہ آمدہ بارش کا بھی احساس تھا۔

اس ہوائی قسم کے مشاعرے میں اچانک بجلی بھی چلی گئی کہ جو ہر صورت میں جانا ہوتی ہے کہ لیسکو کے پاس بہانہ ہوتا ہے۔ یک دم ہوائیں تیز ہو گئیں تو اردگرد ایستادہ درخت تالیاں بجاتے بجاتے آپے سے باہر ہو گئے۔ ڈر لگنے لگا کہ درختوں سے کوئی ٹہنا وغیرہ ہی ہم پہ نہ آن پڑے۔ ساری باتوں کے باوجود اس موسم میں ایک لطف بھی تھا۔ مجھے معاً منیر نیازی کی ایک نظم یاد آ گئی جس کی دو لائنیں اس طرح ہیں: شاں شاں کر دے رْکھ پِپل دے انھیاں کر دیاں واواں اوس رات تے بوہتے لوکی بْھل گئے گھر دیاں راہواں بعض اوقات شاعری میں جب جامد تصویروں کی بجائے متحرک تصاویر بنتی ہیں تو وہ شاعری کو کتنا پیارا بنا جاتی ہیں۔ پھر یہ ہوتا ہے آدمی اس منظر کا حصہ بن جاتا ہے اور اس خوبی کو ہم نیگٹو کیپی پبلٹی کہتے ہیں۔ یعنی اپنی ذات کی نفی اور منظر کے ساتھ منظر ہو جانا: اڑتا رہا میں دیر تلک پنچھیوں کے ساتھ اے سعدؔ مجھ سے جال بچھایا نہیں گیا آپ یہ نہ سمجھیں کہ مشاعرہ بند ہو گیا۔ نہیں جناب ہمارے شعرا بہت سخت جان ہیں۔ انہوں نے فطرت کے اس بیک گرائونڈ میوزک کے ساتھ ساتھ مشاعرہ جاری رکھا۔

مشکل ضرور ہوئی کہ اندھیرے کے ساتھ تیز ہوائیں اور پھر مائیک بھی تو بجلی پر تھا۔ یو پی ایس بھی نہیں تھا۔ کچھ موبائل کی بتیاں جل رہی تھیں۔شمعیں ہوتیں تو بجھ جاتیں۔ تلاوت کلام پاک اور نعت کے بعد مشاعرہ آغاز ہوگیا۔ محمد فضل ساجد کی نظامت بہت اعلیٰ تھی۔ ایسے نامساعد حالات میں یہ سب کچھ آسان نہیں ہوتا۔ کمال یہ کہ لوگ بھی بیٹھے رہے۔ خضر یاسین جیسے قابل قدر لوگ بھی موجود تھے۔ صدارت میرے حصے میں آئی تھی۔ چودھری شہزاد چیمہ سٹیج پر براجمان تھے۔ دوسرے مہمانان گرامی میں جاوید قاسم‘ عرفان صادق اور عباس مرزا تھے۔ شعرا میں ڈاکٹر شاہد مسعود ہاشمی‘ پروفیسر فرخ محمود‘ محمد علی صابری‘ وسیم عباس اور محمد افضل ساجد تھے: اسی کے شہر کو جاتی ہیں سب گزر گاہیں بدل کے دیکھ لیے لاکھ راستے اپنے بنی ہے پیڑ کے سر پر تو چپکے چپکے سے اٹھا لیے ہیں پرندوں نے گھونسلے اپنے (محمد علی صابری) ہزار ظلم کرے وہ ستم بھی ڈھاتا ہے.

مگر ہمیشہ میرے شعر گنگناتا ہے (وسیم عباس) خود پہ بھی اختیار رہتا نہیں اس کو مجھ پر ہے اختیار عجب (فرخ محمود) میں کیوں اپنے ہنجو دائے لا چھڈاں اوہ تے میرے ہاسے نوں وی من لیندا اے (عباس مرزا) سانسیں خرید لائے ہیں تلوار بیچ دی ہاں سچ ہے ہم نے جرأت انکار بیچ دی (عرفان صادق) اتنا ہمیں جو عشق ہے اردو غزل کے ساتھ ملتے ہیں ان کے غارض و گیسو غزل کے ساتھ (جاوید قاسم) مزے کی بات تو یہ ہوئی کہ جونہی مشاعرہ ختم ہوا اور خضر یاسین نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو بجلی آ گئی۔ خیال آیا کہ دعا آغاز میں ہو جاتی۔ رات کافی ہو گئی‘ وقت اگلے روز میں داخل ہورہا تھا۔ بہرحال یہ ہوائی مشاعرہ یا آندھی مشاعرہ مدتوں یاد رہے گا۔

Comments

Click here to post a comment