"گیم چینجر" کا جنون ہی کیوں ۔ شبیر بونیری

وہ کرکٹ کے میدانوں میں آسمان پر برستی بارشوں کے موسم میں چھائے بادل کی طرح رہا ۔ دلوں پر راج کیا اور وہ بھی ایسا کہ وہ میدان جس کی وجہ سے اُس پر ہر وقت لوگوں کی طرف سے محبت کے پھول برسائے گئے چھوڑنے کے بعد بھی دلوں میں ایسا قید ہے جیسے روح کے قبضے میں مقیّد جان ۔ وہ حرکت میں جب بھی آیا دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوتی رہی ۔

جب کرکٹر تھا تو پاکستان کے لئے دل و جان سے کھیلا اور جب کرکٹ چھوڑدی تو فلاحی کاموں میں متحّرک نظر آیا ۔اس کے والد صاحب نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ " میرا بیٹا پیدائشی ہیرو ہے یہ جہاں بھی جائیگا نام اور عزت کمائیگا " اور پھر تاریخ نے بالکل اُسی طرح جس طرح یہ ہمیشہ دیکھتا آیا ہے دیکھا کہ نام اور عزت دونوں کما گیا ۔ اس پیدائشی ہیرو جس کو دنیا شاہد خان آفریدی کے نام سے جانتی ہے پاکستان کا جارح مزاج کرکٹر رہا ۔ طبیعت کی اسی جارح مزاجی نے اس کو کتاب لکھنے پر قائل کیا جس کو پڑھنے کی زحمت کوئی گوارا نہیں کر رہا لیکن تبصرے ہزار ہیں ۔ سیاست کی دنیا ظالم ہوتی ہے یہ انسان کو وقت کے ایک دھارے میں اگر فرش سے عرش تک پہنچا دیتی ہے تو دوسرے دھارے میں عرش سے فرش پر پٹخ دیتی ہے اور یہی شائد اس ہیرو کی سب سے بڑی غلطی ہے جو اس نے اپنے کتاب کے اندر سیاسی صفحات شامل کرکے کر ڈالی ۔ اس ہیرو کو یہ انداذہ شائد نہیں ہوا کہ اُنیس سال کی محبت پر یُوں اچانک طوفان آجائیگا اور وہ ہیرو سے زیرو بن جائینگے ۔

اینتھونی رابنز نے "اَن لیمیٹڈ پاور " لکھ کر تاریخ رقم کی اس نے سوچا ہوگا کہ اس کتاب کو پڑھ کر شائد رواں صدی کے انسانوں کا کسی اور طاقت کی طرف رجحان ہی نہ جائے لیکن خوش فہمیوں پر کس نے کب پابندی لگائی ہے ۔ شائد بے خبر تھا وہ کہ ایک دور آئیگا جب ایک نئی طاقت کا ظہور ہوگا جس کو "سوشل میڈیا کی طاقت " کا نام دیا جائیگا ۔ اس طاقت کا اندازہ اگر اس کو ہوا ہو تو " ان لیمیٹڈ پاور " سے شائد کئی دفعہ اس نے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا ہوگا۔
سوشل میڈیا کی یہ طاقت انسان کو یوں اچانک کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے ہم روز دیکھتے ہیں ۔ شاہد آفریدی کی کتاب " گیم چینجر" پر جتنے تبصرے اسی مذکورہ طاقت کے ذریعے ہورہے ہیں یہ اگر ملک کے مسائل اور ان کے حل پر ہوتے تو آج ہم یوں تذبذب میں نہ رہتے ۔ کتاب کوئی بھی ہو باعث عزت اور پڑھنے کے لئے ہوتی ہے لیکن سوشل میڈیا پر جس طرح اس مذکورہ کتاب کو پڑھنے کے لئے جنون ابھر رہا ہے وہ غور طلب ہے ۔ ہم تو ویسے بھی علم و تحقیق سے عاری قوم ہیں اور اوپر سے ٹہرے سیاست کو دین سے افضل سمجھنے والے ۔ کیا تباہی اور حادثے یوں اچانک ہوتے ہیں ؟ ٹھیک کہا ہے کتاب پڑھنے اور کتاب سے محبت کرنے والے "قابل اجمیری" نے کہ ... وقت کرتا ہے پرورش برسوں - حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ۔

جنون جو ہم دکھا رہے ہیں شاہد آفریدی کی کتاب پڑھنے کے لئے کھبی قرآن پاک پڑھنے میں دکھاتے تو شائد حادثوں کے آگے بندھ باندھ دیئے جاتے ۔
تڑپ جو ہم دکھا رہے ہیں اس کتاب کو پڑھنے کے لئے اگر اپنی تاریخ پڑھنے میں دکھاتے تو شائد آج یُوں پریشان اور غیروں کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے والے نہ ہوتے ۔
ہم مطالعے اور تحقیق سے نا بلد لوگ ہیں اور مثال جس کی یوں ہے کہ ہم آج تک اپنی معیشت کو ٹھیک کرنے کے اہل نہیں بنے ۔ ہم اپنی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی لوگ ادھار پر لیتے ہیں ۔ ہم نے آج تک جی ڈی پی ،پر کیپیٹا اور معاشی نمو کو بڑھانے کے گُرنہیں سیکھے اور خمیازہ جس کا ہم قرضوں اور غلامی کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں ایک بھی ایسا ماہر نہیں مل رہا جو بھوک بھوک کی دہائیاں نہ دیں ۔ ہم کتاب اگر پڑھتے تو آج صرف گفتار کے غازی نہ ہوتے ۔ کتاب کردار سے منسلک کرادیتی ہے انسان کو اور گفتار کی ایک حد مقّرر کردیتی ہے لیکن ہم جو ٹہرے گفتار اور گالیوں والے کیسے یہ مان سکتے ہیں کہ صفحات کو مسلسل الٹنے سے زندگی بدل جاتی ہے ۔ ہم بھیک مانگنے پر اکتفا کئی عشروں سے کر رہے ہیں لیکن کتاب سے ہماری دشمنی دائمی ہے ۔ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں ماہر قوم کو شاہد آفریدی کی کتاب پڑھنے کی کتنی جلدی ہے دیکھ کربا شعور انسان حیران رہ جاتے ہیں ۔

کتاب اگر ہم پڑھتے تو آج یوں فرقوں میں اور مفادات کی سیاست میں پڑے رہتے ؟ ایسا بالکل نہیں ہم کتاب نہیں پڑھتے تھبی تو ساتھ عشروں کا بحران ہے جو جان لینے پر اُتر آیا ہے ۔ ہم نے آج تک کوئی ایک بھی اتنی مستند کتاب نہیں پڑھی جو ہمیں اچھے بُرے کی تمیز تو درکنار معاشرتی زندگی میں جینے کے اخلاقیات سکھائے ۔ ہم چڑھتے سورج کے پُجاری ہیں یقین کی ضرورت نہیں تاریخ ثابت کرتی ہے اگر پڑھنے کی زحمت گوارا کی جائے ۔
کتاب پڑھنے کا یہ جنونی ریلا اگر کچھ عشرے پہلے آتا تو اوقات ہمارے یُوں نہ رہتے ۔ تین طرح کی قومی زندگیاں ہوتی ہیں سیاسی ،سماجی اور معاشی جو انسانوں میں افضل تھا اور جس کو ہم آقائے دو جہانﷺ سے یاد کرتے ہیں نے تینوں طرح کی زندگیوں میں انقلاب کتاب کو سہارا بنا کے ہی برپا کیا ۔ ہم ظالم بھی اتنے بن گئے ہیں کہ اپنے آقاء کی تعلیمات کو پڑھنے کے لئے "قیمتی لمحات " کا ضیاع بھی نہیں کرتے ۔آپﷺ نے خود کو سیاسی ، معاشی اور سماجی امُور کا ماہر ثابت کیا مائیکل ہارٹ تو مان گیا لیکن ہم ہیں کہ آج تک گومگوں کا شکار ہیں اور غیر ارادی طور پر انکاری ہیں ۔ انکاری اگر نہ ہوتے تو ہم بھی آج اپنے آقاﷺ کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے اور یوں فرقوں میں بٹتے نہیں اور مسائل میں گرتے نہیں ۔ شاہد آفریدی کی کتاب پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن جنون کی اتنی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ہم وہ مسلمان ہیں جن کو زندگی میں ایک بار بھی موقع نہیں ملتا کہ قرآن پاک اور احادیث پاک کے مطالعہ کے لئے وقت نکال لیں۔

ہم اگر مذکورہ تینوں طرح کی زندگیوں پر دو دو کتاب بھی پڑھ ڈالیں تو ہم بدل سکتے ہیں اور جو معاشرہ کتاب کی وجہ سے بدل جاتا ہے وہ پھر صدیوں تک اللہ کا ہر دلعزیز معاشرہ بن جاتا ہے ۔ ہمیں خود کو کتاب کے ذریعے حقیقت میں بدلنا ہوگا ورنہ ہمارا یہ المیہ بھی دائمی بن جائیگا جس میں ہم خود کو بغیر تحقیق کے سیاست دان ،حاکم اور محکوم تینوں بنادیتے ہیں ۔ جنہوں نے زندگی بھر نصابی کتب کو ہاتھ تک نہیں لگایا انہوں نے بھی دل و جان سے خواہش کی کہ شاہد آفریدی کی کتاب اگر ملیں تو پڑھنے کا مزہ آجائیگا۔ کتابیں بے شمار ہیں لیکن الماریوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔ گرد اگر ان کتابوں سے ہٹا دیا جائے تو قدرت کے اس عظیم نعمت کو بھی اپنی اہمیت کا وہ پرانا احساس ضرور ہوجائیگا جب اس کا تعلق حقیقی انسانوں کے ساتھ تھا ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ کتاب کے بغیر دلیل ظلم کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے اور جب دلیل ظلم کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے تو اجتماعی مظلومیت مقدر بن جاتی ہے ۔ سوشل میڈیا کے فتین اگر حقیقت میں ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو لازمی ہے کہ کتاب سے عشق کی حد تک لگاؤ کا رشتہ بنائے ۔ ایسا ہوگا تو ڈوبتی ناؤ جو گرداب کے قریب ہوتی جارہی ہے کنارے لگ سکتی ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو نام کے فتین یوں ہی دن بہ دن تباہی کی طرف گامزن رہیں گے ۔