جیف بیزوس سے بھی زیادہ امیر کون؟

فوربز کی بلین ائر لسٹ یعنی ارب پتیوں کی فہرست کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے موجد جیف بیزوس دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں۔ فوربز کے اندازے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت 131 ارب ڈالر سے زائد ہوگئی ہے۔ لیکن جیف بیزوس تاریخ کے سب سے امیر ترین انسان نہیں۔ یہ اعزاز چودھویں صدی کے مغربی افریقہ کے حکمران منسا موسیٰ کے سر جاتا ہے۔ منسا جتنے امیر تھے اتنے ہی سخی اور دریا دل بھی تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ ان کی سلطنت کی معیشت تباہ ہوگئی۔

امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر روڈولف بچ وئیر بتاتے ہیں کہ موسیٰ کی دولت کے بارے میں جو معلومات اور اندازے ہیں وہ اتنے دیوہیکل ہیں کہ صحیع طرح سے یہ اندازہ لگانے میں مشکل ہے کہ افریقی حکمران کتنے امیر اور طاقتور تھے۔ معاشی جریدے منی ڈاٹ کام میں تحریر کیے گئے ایک آرٹیکل میں صحافی جیکب ڈیوڈ سن لکھتے ہیں کہ منسا موسیٰ اتنے امیر تھے کہ اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ سنہ 2012 میں امریکی ویب سائٹ 'سیلیبریٹی نیٹ ورتھ' نے ان کی دولت اور ان کے اثاثوں کی مالیت 400 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی۔ لیکن معاشی تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ موسیٰ کی دولت کا درست اندازہ لگانا ناممکن ہے۔

منسا موسیٰ کی پیدائش سنہ 1280ء میں حکمرانوں کے گھرانے میں ہوئی۔ ان کے بھائی منسا ابوبکر سنہ 1312ء تک سلطنت کے شہنشاہ رہے جس کے بعد انھوں نے تخت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ بحر اوقیانوس کی دوسری جانب کی سیر کر سکیں۔ چودھویں صدی کے شامی تاریخ دان شباب العمری کے مطابق منسا ابوبکر کو جنون کی حد تک یہ شوق تھا کہ وہ بحر اوقیانوس کے اس پار بسنے والے لوگوں اور چیزوں کی معلومات حاصل کریں۔ یہی وجہ تھی کہ ابوبکر نے دو ہزار سمندری جہازوں اور ہزاروں مرد، خواتین اور غلاموں کے ہمراہ ایک سمندری قافلہ لے کر بحر اوقیانوس کی سیر پر نکلے۔ یہ قافلہ واپس نہیں آ سکا۔ امریکی تاریخ دان ایوان وان سرٹیما کا موقف ہے کہ یہ قافلہ شمالی امریکہ پہنچ گیا تھا۔ لیکن ان کی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں۔

ابوبکر کے جانے کے بعد منسا موسیٰ کو سلطنت وراثت میں ملی۔ ان کے دور میں 24 شہروں پر قبضہ کیا گیا، اس میں ٹمبکٹو بھی شامل تھا۔ ان کی سلطنت دو ہزار میل کے رقبے پر محیط تھی۔ اس میں نائیجر اور سینیگال، ماریٹینیا، مالی، برکینا فاسو، گیمبیا، گنی بساؤ، گنی اور آئوری کوسٹ کے متعدد علاقے شامل تھے۔ معروف ڈیجنگوریبر مسجد 1312 میں مانسا موسی کے دور میں تعمیر ہوئی۔ اتنے زیادہ رقبے پر حکومت کے دوران موسیٰ کی سلطنت کو نمک اور سونے جیسے قدرتی وسائل ملے۔ انھوں نے عوام کی فلاح و بہبود پر بھی کھل کر خرچ کیا اور بہت سی مسجدیں، سکول اور ہسپتال تعمیر کیے۔ اس عرصے میں سلطنتِ مالی دنیا کے آدھے سونے کی مالک تھی اور ان سب کے مالک، بادشاہ منسا موسیٰ تھے۔

تاریخ کے سب سے امیر ترین لوگ:

منسا موسیٰ : سنہ 1280-1337 : سلطنتِ مالی کے بادشاہ۔ اثاثوں کی مالیت: ناقابلِ فہم

آگسٹس سیزر : قبلِ مسیح 63-14 سنہ عیسوی۔ سلطنتِ روم کے شہنشاہ۔ اثاثوں کی مالیت: 4.6 کھرب

شینگ زونگ : 1048-1085۔ چینی سونگ شاہی گھرانے کے شہنشاہ۔ اثاثوں کی مالیت: ناقابلِ فہم

ابو الفتح جلال الدين محمد اكبر : 1542-1605، مغل سلطنت کے شہنشاہ۔ اثاثوں کی مالیت: ناقابلِ فہم

اینڈریو کارنئیگی: 1835-1919۔ سکاٹش امریکی صنعتکار۔ اثاثوں کی مالیت: 372 ارب ڈالر

جان ڈی راکیفیلر : 1839-1937۔ امریکی تاجر۔ اثاثوں کی مالیت: 341 ارب ڈالر

نیکولائی ایلیکزینڈروِچ رومانوؤ : 1868-1918۔ شہنشاہِ روس۔ اثاثوں کی مالیت: 300 ارب ڈالر

میر عثمان علی خان : 1886-1967۔ حیدر آباد کے آخری نظام۔ اثاثوں کی مالیت: 230 ارب ڈالر

ولیم دی کانکرر : 1028-1087۔ انگلستان کے بادشاہ۔ اثاثوں کی مالیت: 229 ارب ڈالر

معمر قذافی : 1942-2011۔ لیبیا کے سابق رہنما۔ اثاثوں کی مالیت: 200 ارب ڈالر