جعلی صحافی حاضر ہوں! - خرم علی عمران

بلاشبہ تعلیم، طب، عدالت اور سیاست (اگر اپنی درست حالت میں ہو تو) کی طرح ہم اصولی صحافت کا شمار بھی عزت دار پیشوں ( نوبل پروفیشنز) میں کر سکتے ہیں، پر آج کل صحافت کے (پرنٹ ہو یا الیکٹرانک) تو گویا انداز ہی بدل گئے ہیں۔ آج کل ایک آسان طریقہ برائے مضمون نگاری و کالم نگاری کچھ یوں بھی زیر استعمال ہے کہ اکثر کبھی کبھی جب ایسا ہوتا ہے کہ ذہن بالکل خالی ہو جاتا ہے۔ قلم ہاتھ میں لیے بیٹھے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کیا لکھا جائے؟ کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا ہوتا، مگر آج کا کالم یا مضمون تو دینا ہی ہے۔ ایڈیٹر صاحب تقاضا کر رہے ہیں، اب کیا کریں؟ سیاسیات، سماجیات، ملکی و بین الاقوامی معاملات، کھیل، شو بز، سائنس، مذہب، ادب اور کتنے ہی شعبے ہیں، بس قلم اٹھاؤ اور کہیں سے، بلکہ کہیں اور سے کیوں، اب تو انٹر نیٹ سے متعلقہ شعبے کے بارے میں معلومات اور اپ ڈیٹس لو، اگر ترجمہ کرنے کی صلاحیت ہے تو کہیں سے کچھ اٹھا کر ترجمہ وغیرہ کرلو اور قرطاس کا پیٹ بھرلو۔ لو بھئی! اپنا شاندار و جاندار کالم تیار۔ یہ صحافی درجہ دوم کہلاتے ہیں۔ عام طور پر شام کے اخبارات اور چھوٹے شہروں کے اخبارات اور بڑے اخبارات کے ویب سیکشنز میں پائے جاتے ہیں۔

اب آتے ہیں صف اول کے ہمارے نامور، دانشور، اینکر، کالم نگار، صحافی حضرات کی جانب، اگر کالم و مضمون نگاری اور اینکر شپ کے لحاظ سے صف اول میں کسی نہ کسی طرح جگہ بنا ہی لی ہے اور شہرت کی دیوی مہربان ہے تو بس پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ دو چار جرنلزم پڑھنے والے نو آموز لڑکوں یا لڑکیوں کو تربیت اور ایک طرح کی غیر رسمی انٹرن شپ کے نام پر بلا معاوضہ خوب رگڑو (ویسے اس میں شک نہیں کہ اس طرح کی بیگار کی بھٹی سے گزرنے والے کندن بنتے ہیں)۔ عملی صحافت کی تعلیم دینے کے بہانے خوب خوب کام لو۔ وہ آپ کے لیے، دنیا بھر کے اہم اخبارات کی اہم خبریں نشان زد کریں، آپ کے لیے دنیا بھر کے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے کالمز میں سے انتخاب کریں، آپ کو آپ کے لکھے جانے والے مواد کے لیے اہم پوائنٹس اور شام کو ٹی وی پر ہونےوالے پروگرام کے اعتبار سے ممکنہ سوالات اور نکات تیار کرکے دیں اور بدلے میں صحافی بننےکی اعلیٰ درجے کی ٹریننگ بالکل مفت لینے کا احسان بھی ان نامور صحافی و اینکر صاحب کا تسلیم کریں اور اگر خوش قسمتی سے آپ اپنی اسی طرح کی محنتوں اور مرحلوں سے گزر کر کہیں کبھی کامیاب صحافی بن گئے، کسی بھی مقام پر پہنچ گئے تو ساری عمر وہ صاحب فخریہ آپ کو بڑے سرپرستانہ انداز میں اپنا بچہ ہے، اپنا شاگرد ہے وغیرہ بلائیں گے اور آپ یہ سب برداشت کرنے پر مجبور ہوں گے بلکہ کئی دفعہ حق استادی کے نام پر آپ کو ان کے کچھ کام بھی کرنے پڑ جائیں تو کچھ بعید نہیں۔ مگر صد شکر کہ ہماری مقامی پاکستانی صحافت میں ابھی یہ رواج اور ایسے لوگ نسبتاً کم ہیں مگر ہیں ضرور۔ ایک مشہور اینکر نما مذہبی اسکالر نما کالم نگار نما سیاستدان کے بارے میں تو یہ شہادتیں حد تواتر تک پہنچ گئی ہیں کہ وہ اپنے اسٹاف کو تنخواہ کم اورگالیاں زیادہ دیتے ہیں، خصوصاً جب ریٹنگ کم آ رہی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمہ کا عالمی دن - قادر خان یوسف زئی

مسئلوں کی نشاندہی کرنا، انہیں مناسب الفاظ کے ساتھ مضمون کی شکل میں یا اپنے پروگرام میں بیان کر دینا یقیناً بہت اہم ہے مگر اس سے زیادہ اہم ہے مسائل کا ٹھوس حل پیش کرنا اور اس سے بھی زیادہ اہم ہے اس حل کو عملی شکل میں منطبق کرنے کی اہلیت رکھنے والوں کو متوجہ کرنا۔ یہی اصل صحافت اور صحافی کا بنیادی کام ہونا چاہیے، یہ میری ناقص رائے ہے جس سے اختلاف کرنے کا ہر ایک کو پورا حق حاصل ہے۔

شاہ جی یعنی مرحوم عباس اطہر صاحب (وہاں تم یہاں ہم فیم) کا شمار صحافت کی دنیا کے استاد الاساتذہ میں ہوا کرتا تھا۔ راقم کی ان سے براہ راست تو کبھی ملاقات نہیں رہی مگر بذریعہ نیٹ رابطہ ضرور رہا۔ وہ شفقت فرما کر کبھی کبھار میری متعدد ای میلز کے جواب میں ایک آدھ جوابی جملہ عنایت فرما دیتے تھے۔ 2010 کی شاید بات ہے کہ ایک دفعہ ایک ایسی ہی ای میل میں میں نے بزعم خود میں بہت خوبصورتی سے متعدد مسائل کی نشاندہی کی اور ان سے گویا داد طلب کرنے کی غرض سے انہیں بھیج دی کہ شاہ جی دیکھیں ملک میں یہ ہو رہا ہے وہ ہورہا ہے، فلاں مسئلہ، فلاں مشکل وغیرہ وغیرہ۔ ان کا چند سطری جواب موصول ہوا جس میں آپ ان کا انداز شفقت ملاحظہ فرمائیں کہ میں ایک ناقابل شناخت ایک معمولی آدمی جو ابھی تک لکھنا سیکھ ہی رہا ہے تو اس وقت تو اور بھی نا پختہ تھا۔ فرمایا کہ آپ صحافی لوگ مسائل کی نشاندہی تو خوب کرتے ہیں مگر حل نہیں بتاتے۔ دیکھا آپ نے؟ یہ طرز تربیت و شفقت تھا ہمارے اکابرین کا۔ میں صحافی تو کیا صحافی کی دم بھی نہیں تھا اور نہ اب تک ہوں، پر انہوں نے کیسے میرا دل بڑھایا اور کتنی خوبصورتی سے ایک نئی راہ سجھائی کہ بیٹا! صرف مسائل بیان کرنا ہی اصل نہیں بلکہ کوشش کرو کہ اصلاح کی بھی کوئی راہ نکلے۔

ایک بہت بڑے مصور نے اپنے جانشین اور شاگرد سے ایک تصویر بنوائی، تصویر دیکھ کر بہت تعریف کی کہ بھئی تم نے تو کمال کردیا، تم اب میرے جانشین بننے کے لائق ہو گئے ہو وغیرہ وغیرہ، شاگرد بہت خوش ہوا۔ اب استاد نے آخری کسر پوری کرنے کے لیے فرمایا کہ بھئی اب اس تصویر کو شہر کے چوک میں لے جا کررکھ دو اور ایک چٹ لگادو کہ اگر کوئی خامی ہو تو سرخ لکیر لگا کر مختصر بیان کردیں۔ شاگرد نے ایسا ہی کیا۔ دوسرے دن جب اپنی تصویر واپس لینے گیا تو اس کا یہ دیکھ کر دل ہی بیٹھ گیا کہ اس کی شاہکار تصویر سرخ نشانات اور مختصر تبصروں سے اٹی ہوئی تھی۔ رنگوں کا استعمال درست نہیں، یہاں یہ چیز ٹھیک نہیں، وہ چیز ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔ وہ تصویر اٹھا کر ناراضی سے استاد کے پاس آکر گویا ہوا کہ آپ تو کہہ رہے تھے یہ شاہکار ہے، ماسٹر پیس ہے، لوگوں نے تو اس میں خامیوں کا انبار لگا دیا ہے۔ استاد مسکرائے اور فرمایا تصویر پر لگے نشانات کو مٹاؤ دوبارہ وہیں لے جاکر رکھ دو اور اب چٹ لگاکر لکھو کہ اگر کوئی خامی محسوس ہو تو برائے مہربانی اصلاح کر دیں۔ شاگرد نے طوہاً و کرہاً ایسا ہی کیا۔ جب دوسرے روز ڈرتے ڈرتے تصویر لینے گیا تو حیران رہ گیا کہ آج وہی تصویر بالکل صاف ستھری تھی، کوئی نشان نہیں، کوئی اصلاح نہیں، وہ حیران و پریشان استاد کے پاس حاضر ہوا اور سارا احوال بیان کیا۔ استاد نے اطمینان سے فرمایا مجھے معلوم تھا ایسا ہی ہوگا کیونکہ تنقید کرنا اور خامی نکالنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے اور اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمہ کا عالمی دن - قادر خان یوسف زئی

صرف کیڑے نکالنا، تنقید کرنا، اپنے ذاتی عناد، ذاتی چپقلشوں اور جھگڑوں کو کسی اور آڑ میں نکالنا، یہ صحافت نہیں بلیک میلنگ ہے یا کچھ اور ہے۔ اگر نام شہرت دولت کمانی ہےاور اہمیت درکار ہے تو بھائی بہت سے اور بھی شعبے ہیں، وہاں قسمت آزماؤ، صحافت تو چاہے پرنٹ ہو یا الیکٹرانک اہم مقدس مشن کا نام ہے اسے گندا مت کرو، پرفیشنل ڈگری کسی اور شعبے مثلاً طب میں لی ہوئی ہے اور اہمیت اور اقتدار کے چکر میں اینکر اور صحافی بنے پھر رہے ہیں۔ قلم فروشوں کی ایک پوری فہرست ہے مرے سامنے، مگر یہ نام اس بلاگ میں چھپ نہیں پائیں گے، اس لیے تھوڑے کہے کو بہت جانیں، اخبارات اور چینلز میں ایسے متعدد افراد ملیں گے جن کی تعلیمی اسناد کا دور دور تک میڈیا یا صحافت سے کوئی تعلق نہیں مگر چونکہ متعلقہ شعبے میں ملازمت نہیں ملی اس لیے یہاں اس شعبے میں آ گئے۔ تو جناب، بات یہ ہے کہ ایک سچا صحافی کسی نہ کسی درجے میں مصلح بھی ہونا چاہیے۔ پھر وہ کسی مجبوری سے اس شعبے میں کام نہیں کر رہا ہو بلکہ اسے اپنے شعبے سے محبت اور یہ شعبہ اس کا پہلا انتخاب ہونا چاہیے۔

تو صاحبو! بات یہ ہے کہ اطلاعات کا دور ہے، مسائل سے تو تقریبا سب ہی واقف ہیں اور صحافی حضرات تو دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگہی کے حامل ہوتے ہیں، مزہ تو جب ہے کہ حل اور وہ بھی تصوراتی یا ناقابل عمل نہیں بلکہ قابل عمل حل تجویز کرکے آخری درجے میں کم از کم، وما علینا الاالبلاغ (ہمارے ذمے تو بات کا پہنچا دینا ہے بس) کا حق تو ادا کر ہی دیا جائے، کیا خیال ہے؟