’’ویر‘‘ – احسان کوہاٹی

سیلانی سیل فون پر ملائیشیا سے ایک دوست سے گپ شپ لگا رہا تھا جو اسے کوالالمپور کی ایشیا پیسیفک یونی ورسٹی میں ہونیوالی تقریب کا حال بتا رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس تقریب میں شریک ہر پاکستانی خود کو وی آئی پی سمجھ رہا تھا۔ ہر پاکستانی کو میزبانوں کی جانب سے ایسی ہی عزت اور تکریم دی جارہی تھی۔ مزے کی بات یہ کہ دیار غیر میں ہونے والی یہ تقریب ملائیشیا کی سکھ کمیونٹی کی جانب سے تھی،مہمان خصوصی پاکستانی ہائی کمشنر محمد زکریا تھے۔ یہ تقریب دراصل سکھ تہذیب پر لکھی گئی ایک کتاب کی تقریب رونمائی تھی جس میں سکھوں نے اس ملک کے ہائی کمشنر کو نہیں بلایا، جہاں دنیابھر میں سکھوں کی سب سے زیادہ تعداد بستی ہے بلکہ انہوں نے بھارت کے پڑوسی پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کر وہ عزت و تکریم دی کہ ملائیشیا میں بھارتی سفیر کا منہ بن گیا۔ سیلانی کا دوست بتانے لگا کہ سکھ کمیونٹی نے ہمارا بڑا شکریہ ادا کیا کہ پاکستان ان کے گوردواروں کی اتنی اچھی دیکھ بھال کر رہا ہے، وہاں آنے والے سکھ زائرین کا بھی اچھاخیال رکھا جاتا ہے، پوری دنیا کی سکھ برادری پاکستان کی مشکور ہے، پاکستان جانے والاہر سکھ وہاں سے خوشگوار یادیں لے کر لوٹتا ہے۔ سیلانی کے دوست نے کہا کہ میرے لیے یہ تقریب بڑی خوشگوار حیرت لیے رہی کیوں کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا نام سنتے ہی اگلا دوسری بات کیے بنا آگے چل پڑتا ہے یا پھرکوئی نہ کوئی منفی بات پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ سیلانی نے اپنے دوست کی تائید کی اور کہا کہ اس میں بڑا ہاتھ ہمارے سفارتخانوں میں بیٹھے ان سفارشی نالائقوں کا بھی ہے جو ہونٹ سی پاکستان کی نمائندگی کے لیے پہنچتے ہیں۔

سیلانی دیار غیر سے آنے والی اس ٹیلی فون کال کے بعد لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔ ارادہ کچھ لکھنے کا تھا لکھنے سے پہلے سیلانی نے فیس بک کھولی تو اپنی دیوار پر ایک وجیہہ نوجوان کی تصویر دکھائی دی۔ شہد اور دودھ ملی رنگت والے اس نوجوان کو قدرت نے بلاشبہ فرصت سے بنایا تھا۔ کھڑی ستواں ناک کے دائیں بائیں زندگی سے بھرپور کسی غزال کی سی آنکھیں اور انہیں پراثر بناتے ہوئے گھنے ابرو،بیضوی چہرہ پر تراشیدہ داڑھی اور کاندھوں تک جھولتے ریشمی بال اسے کسی رومانوی فلم کاہیروظاہر کر رہے تھے۔ وہ وجیہہ نوجوان کسی پہاڑی ٹیلے پر نیلے رنگ کی قمیض شلوار پہنے ہوئے سائیڈ پوز دیے بیٹھا تھا۔ اس کی پشت پر رکھے پتھر پر پشتونوں کی روایتی ٹوپی پاکول رکھی تھی پس منظر میں خوبصورت سرسبز لینڈ اسکیپ تھا اور بائیں طرف کیمپ فائر کے سے انداز میں جلائی گئی آگ پر چائے کی کیتلی رکھی ہوئی تھی جس کے نیچے شعلے رقص کر رہے تھے۔ اس نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیڑھ دو برس کا خوبصورت سا گول مٹول بچہ بھی تھاجس نے منہ میں سن گلاسز کی کمانی لے رکھی تھی،اس نے یہ سن گلاسز یقیناً اس نوجوان کی آنکھوں سے اتار کر منہ میں لیے ہوں گے اورچمکتی آنکھوں سے فوٹو گرافر کی طرف دیکھا ہوگاجس نے یہ منظر جھٹ سے کیمرے کے میموری کارڈ میں محفوظ کر لیا ہوگا۔

بلاشبہ یہ ایک خوبصورت تصویر تھی جو کسی ماڈل اداکار وغیرہ کی ہو سکتی تھی لیکن کسی نے اسے یہ تصویر کیوں بھیجی؟ سیلانی نے تصویر کا کیپشن پڑھے بنا اسے ہٹادی لیکن اس تصویر کے نیچے ہی اسی خوبرو نوجوان کی ایک اور تصویر موجود تھی۔ اس تصویر میں وہی گول مٹول بچہ بھی تھا اور ایک پیاری سی بچی بھی، اس نوجوان نے کیمرے کی جانب رخ کر کے اپنا انگوٹھا سامنے کیے ہوئے تھا جس پر انگریزی حرف ’’وی‘‘ لکھا ہوا تھا اس کے ساتھ اس بچی اور اس بچے کے اٹھے ہوئے انگوٹھے پرانگریزی حرف ’’ای‘‘ اور ’’آر‘‘ لکھا ہو اتھا،سیلانی سوچنے لگا VEER؟ یہ ویر کیا ہوتا؟ سیلانی نے veerکے معنے کھوجنے شروع کیے اور دل ہلا دینے والی دلخراش کہانی تک پہنچ گیا

یہ کہانی وزیرستان کے ان وطن پرستوں سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے وطن کی خاطر اپنے بھرے پرے گھر چھوڑ ے، آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا، دہشت گرد اور فوج آمنے سامنے آئے،ایک دوسرے کی جانب بارود اچھالا گیا، راکٹ لانچر چلے، مارٹر اپنے اپنے ہدف کی طرف بڑھے، آسمان سے طیاے بھی اس جنگ میں فوج کی مدد کو آئے، ریاست میں ریاست قائم کرکے بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کے قدم اکھڑ گئے، فوج نے ان کا صفایا کرنا شروع کر دیاپاک فوج کوکامیابیاں ملیں لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ تھی، جانے کتنے جوانوں کی وردی لہو میں سرخ ہوئی اور کتنے بچے یتیم، سہاگنیں بیوہ ہوئیں۔ اس تلخ سچ کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کے صفائے کے سا تھ ساتھ میں اور بھی بہت کچھ صاف ہو ا، وزیر ستان کے محسودوں اور وزیروں کے گھر ملیا میٹ ہو گئے وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر پشاور، کوہاٹ،بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی آگئے۔ سیلانی نے تو لکھنے کو ایک جملے میں وزیر ستانیوں کو ہجرت کرادی لیکن ان پر جو بیتی اگر کوئی سننے بیٹھے تو کتابوں کی کتابیں لکھ ڈالی جائیں مگرلکھے کون؟ اور کوئی لکھ بھی لے تو چھاپے کون؟اس ان کہے دکھ نے ہی نقیب اللہ کو ’’ویر‘‘بنا دیاتھا۔

قبائل کی ٹھوس پشتو میں’’ ویر‘‘ سوگوار فضا اور ماتم کو کہتے ہیں۔ نقیب اللہ محسود کوپنا گھر بار، گاؤں ا ور وہ گلیاں چھوڑنی پڑی تھیں جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں کبھی وہ اپنے باپ،دادا کی انگلی پکڑ کر گڑ کی ڈلی ہاتھ میں لیے چلتا تھا،جہاں کی گلیوں میں وہ دوستوں کے ساتھ ملائیشیا کا یونی فارم پہن کر کاندھے سے بستہ لٹکائے اسکول آتا جاتا تھا۔ وہ اپنی یادیں چھوڑ کر سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں بے عزتی کے داغ لیے ہجرت کر گیا شائدگھر بار گاؤں چھوڑنے اور آنکھوں دیکھی قیامت کے دکھ نے اس کے چہرے پر اداسی ثبت کر دی تھی اور اسی دکھ نے اسے نسیم سے نقیب اور نقیب سے ویر بنا دیاتھا۔

نقیب اللہ محسود روایات کا باغی تھا۔ اس نے قبیلے والوں کی طرح کی داڑھی نہیں بڑھائی تھی وہ فیشن کرتا تھا،سر پر ٹوپی بھی کم پہنتا تھا،داڑھی ترشواتا تھا،نوکیلی مونچھیں رکھتا تھا،خوب تراش خراش کے لباس پہنتا تھا۔ آئینے کی سرگوشیوں نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ کچھ خاص ہے۔ اس کے چہرے کے نقوش، متوازن متناسب قامت دوسروں کے لیے بڑی کشش رکھتی ہے۔ اس کا فوٹو جینیک چہرہ کیمرے کی آنکھ سے اور بھی دلکش لگتا تھا۔ نقیب کو پتہ تو تھا کہ وہ عام نہیں ہے کہ لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کس طرح کسی ماڈل،ہیرو کی طرح مشہور ہو کر عام ہو جائے،اس کے پاس سوشل میڈیا کو چھوڑ کر دوسرا کوئی راستہ نہ تھا۔ اس نے فیس بک پر ہی اپنی تصاویر،وڈیوز اپ لوڈ کرناا شروع کر دیں۔ وہ جب کہیں کسی دوست کے ساتھ کار روک کر اس کے میوزک ڈیک پر کوئی پشتو لوک گیت لگا کر’’ اتڑں‘‘کرتا تو دیکھنے والے کو خبر نہ ہوتی کہ کب وڈیو ختم ہوئی۔ اس کے مخصوص انداز میں تھرکتے قدم، فضا میں اٹھتے ہاتھ اورکاندھوں پر لہراتے ریشمی بال دیکھنے والے کو کہیں اور دیکھنے ہی نہ دیتے تھے۔ وہ وزیرستان کے قبائلی نوجوانوں میں مشہور ہوتا چلا گیا۔ فیس بک پر اس کے دوستوں کی تعداد کب کی پانچ ہزار ہوکر پوری ہوچکی تھی لیکن اس کی طرف بڑھنے والے رکنے کا نام ہی نہ لیتے تھے اس نے followکاآپشن کھول دیا۔ پشتون نوجوان دھڑا دھڑ اسے فالو کرنے لگے۔ یہاں تک کہ فیس بک پر اس کے فالووزر کی تعداد اٹھارہ ہزار تک جا پہنچی تھی۔

سوشل میڈیا میں خاصا پاپولر ہونے کے باوجود وہ شوبز کو اپنی جانب متوجہ نہ کراسکا۔ وہ اسی کوشش میں تھا اور منتظر تھا کہ قسمت کب اس پر مہربان ہوتی ہے وہ کب شہرت کا زینہ چڑھ کر اس کی بلندیوں پر پہنچتا ہے؟ کب اخبارات اس کی رنگین تصاویر شائع کرتے ہیں؟ کب اس کے ٹی وی کمرشلز پرائم ٹائم میں آتے ہیں؟ اور کب اس کا ذکر فلمی ستاروں کی طرح خبرناموں کی شہ سرخیوں میں ہوتا ہے؟ … اورپھرافسوس کہ ایسا ہوابھی، وہ نیوز چینلز کے خبرناموں کی ہیڈلائن بن گیا، بڑے بڑے اینکر وں نے اس پر پروگرام کیے، اخبارات کی شہ سرخیوں میں اس کا نام لکھا گیا لیکن افسوس کہ وہ اس سب سے بے نیاز ہو کر اپنے گاؤں کی مٹی میں مل گیا۔ اسے کراچی پولیس کے بدنام پولیس افسر راؤ انوار نے زندگی سے اٹھا کر موت کی تاریکیوں میں پھینک دیا۔

نقیب اللہ کی جوان موت کو سوشل میڈیا پر لا کر حکومت کو راؤ انوار کی خوں آشام بدمستیوں کا نوٹس لینے پر مجبور کرنے والوں میں عارف خٹک بھی ہے۔ کراچی پریس کلب پر نقیب اللہ کے لیے انصاف کا مطالبہ لے کر پہنچنے والے فری لانس صحافی عارف خٹک نے سیلانی کو اس نوجوان کے بارے میں بتا کر اور اداس کردیا،۔ عارف نے بتایا کہ نقیب اللہ کوئی لینڈ لارڈ یا کسی بڑے باپ کا بیٹا نہیں تھا، لوئر مڈل کلاس کا نوجوان تھا جسے کاروبار کرانے کے لیے قوم قبیلے کے مشران نے رقم جمع کرکے دی کہ یہ ’’ڈوم پنا‘‘چھوڑکرکوئی ڈھنگ کا کاروبار کرے۔ قبائل میں اب بھی یہ رواج موجود ہے کہ وہ مالی لحاظ سے کمزور فرد کو کام دھندے کے لیے مشترکہ طور پر دی گئی رقم سے کاروبار کرادیتے ہیں جو وہ آہستہ آہستہ لوٹا بھی دیتا ہے۔ نقیب اللہ نے سہراب گوٹھ میں کپڑے کی دکان کھولی لی۔ کام زیادہ تر کیش کا تھا،جس رات اسے کالی وردی والے سرکاری بدمعاشوں نے اٹھایا، اس کے پاس اچھی خاصی رقم تھی۔ اسے تین جنوری 2018ء کو مخبروں کی پکی مخبری پر اٹھایا گیا۔ اسے الاآصف اسکوائر کے قریب ایک ہوٹل سے رات دس بجے اٹھایا گیا تھا، جس کے بعد اس کے گھر والے اسے ویسے ہی تلاش کرتے رہے جس طرح سہراب گوٹھ اور اس سے متصل آبادیوں سے ’’لاپتہ ‘‘ہو جانے والوں کو ان کے پیارے تلاش کرتے ہیں۔

عارف خٹک کا کہنا تھا کہ اس کے گھروالوں کو علم ہو گیا تھا کہ اسے راؤ انوار کی ٹیم نے اٹھا رکھا ہے مگر اس کی رہائی کے لیے رقم زیادہ مانگی جارہی تھی۔ وہ ابھی اسی بھاگ دوڑ میں تھے کہ راؤ انوار نے وقت بچانے کے لیے نقیب اللہ کومقابلے میں مروادیا۔ مقابلے کے بعد اس کی لاش سردخانے پہنچادی گئی، روتے پیٹتے گھر والے لاش لینے پہنچے تو سہراب گوٹھ پولیس نے مفت میں ’’ٹی ٹی پی کمانڈر‘‘ کی لاش دینے سے انکار کر دیا۔ نقیب کی تصویر کے ساتھ یہ بات قبائلی نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر ڈال دی، مجھ سے بھی رابطہ ہوا بات بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی، سول سوسائٹی متحرک ہوئی اور حکومت مجبور ہوگئی کہ نوٹس لے۔

حکومت کے نوٹس کے بعدسپریم کورٹ نے بھی نقیب اللہ کے قتل کا نوٹس لیا آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کی انکوائری ٹیم نے تحقیقات کرکے راؤ انوار کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی۔ آئی جی سندھ نے سب سے پہلے تو راؤ انوار سے اس کی طاقت ’’ملیر‘‘چھینی، اسے سینٹرل پولیس آفس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ اب راؤ انوار کے خلاف مقدمے کی تیاری ہو رہی ہے، آئی جی خیبرپختونخواہ نے آئی جی سندھ سے رابطہ کرکے بتایا ہے کہ نقیب اللہ کے گھروالے مقدمے کے اندراج کے لیے کراچی آرہے ہیں، آئی جی سندھ نے لواحقین کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن کیا یہ سب کافی ہے؟

راؤ انوار اس طاقت کا نام ہے جو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرکے گھر بنا وارنٹ گھسنے پر وزیر اعلیٰ کے حکم پر معطل ہوتاہے اور پھر کچھ ہی ہفتوں بعد حیرت انگیز طور پر بحال ہو کر ملیرکے دورے پر آئے ہوئے اسی وزیر اعلیٰ کا استقبال کر رہا ہوتا ہے۔ یہ وہی بدمست افسر ہے جو 2008سے تب سے کراچی میں سونے کے انڈے دینے والی مرغی ’’ملیر‘‘کو اپنے قابو میں کیے ہوئے ہے جب سے پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے کراچی کا نوّے فیصد تعمیراتی کا م ملیرندی کی ریتی بجری سے چلتا ہے اور ریت کا ایک ذرّہ بھی اپنی قیمت ادا کیے بنا ملیر کی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ریتی بجری کے ساتھ ساتھ بے نظیر بھٹو کا منہ بولا بھائی بننے والے اس افسر کا نام ہزاروں ایکڑ زمینوں پر قبضہ کرنے پر بھی لیاجاتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں پیشیاں بھی ہوئی مگر مدعی نہ پہنچ سکے۔ عدالت نے ریکارڈ مانگا تو سرکاری دفتر میں آگ لگ گئی سارا ریکارڈ راکھ خاک ہوگیا،یہ سب اپنی جگہ مگر راؤ انوار کی اصل شہرت وہ پولیس مقابلے ہیں جن میں آج تک اسے خراش بھی نہیں آئی اوراس نے تین سو سے زائد’’ دہشت گردوں ‘‘کوخاک و خون میں نہلا دیا۔ اپنا کام تسلی بخش کرنے پر ہی یہ ’’ٹرانسفارمر‘‘کچھ قوتوں کی ضرورت بن گیا،یہ ان کا کام کرتا تھا اور اس کام کے ساتھ ساتھ اپناکام بھی نکالتا رہتا تھا۔ سہراب گوٹھ میں رہائش پذیربدقسمت پشتون نوجوان اس کی ٹیم کے لیے اے ٹی ایم کی طرح تھے۔ نوجوان گھروں، دکانوں، مسجدوں سے اٹھتے رہے اور بھاری رقم دے کر آتے رہے جن کے گھر والے کنگلے تھے۔ وہ ایدھی کے سردخانوں سے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہے، اس ظلم پر اس شہر نے چپ سادھے رکھی، عدالتیں بھی خاموش رہیں اوراداروں نے بھی نوٹس نہ لیا یہ سفاکانہ چپ کلائیوں میں ہتھکڑی لگی وہ لاشیں بھی نہ توڑ سکیں جن کے بارے میں راؤ انوار نے ڈھٹائی سے دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ مقابلے میں مارے گئے۔

نقیب اللہ بھی اسی طرح مارا گیا لیکن اس بار معاملہ راؤ انوار کے گلے پڑ گیا۔ خلق خدا بول پڑی، قدت کا نظام متحرک ہوگیااور کیا عجب کہ اس بار مقتول کے ساتھ ساتھ ’’قاتل‘‘ کے گھر میں بھی ’’ویر‘‘ہو…؟ سیلانی یہ سوچتاہوا فیس بک پرایک خوبصورت نوجوان کوپشتو لوک گیت پر رقص کرتے ہوئے حسرت سے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.