قسامت اور دیت کے تصورات پر وضاحت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سانحۂ قصور پر بحث کے ضمن میں قسامت اور دیت کے متعلق میں نے جو تجویز پیش کی اس پر بعض دوستوں کی جانب سے کچھ اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔ یہاں ان پر مختصر وضاحت پیش کی جاتی ہے۔


ایک سوال یہ پیش کیا گیا کہ قسامت کے اصول پر تو اس وقت عمل کیا جاتا ہے جب مجرم نامعلوم ہوں جبکہ یہاں تو انھیں چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے یا انھیں گرفتار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جارہی۔

اس پر عرض کیا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مجرم کو پکڑنے "کے بجائے" قسامت کا اصول نافذ کریں۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر مجرموں کے خلاف واقعی ثبوت نہ ہو تو قسامت کا اصول نافذ کرنا لازم ہے۔


دوسرا سوال یہ پیش کیا گیا کہ قسامت اور دیت کے اصول قبائلی سماج میں نافذ ہوسکتے تھے جبکہ جدید شہری معاشرے میں ان تصورات پر عمل مشکل ہے کیونکہ شہروں میں تو پڑوسی ہی ایک دوسرے کےلیے اجنبی ہوتے ہیں۔

اس پر عرض کیا کہ یہی بات اس قانون کے نفاذ کی ضرورت ثابت کرتی ہے! اسلامی قانون صرف معاشرے کی اتباع کےلیے نہیں ہوتا بلکہ معاشرے سے اپنی اتباع کرواتا ہے۔ معاشرتی سیٹ اپ ایسا نہیں تو اس قانون پر عمل کیسے ہو، کے بجائے وہ چاہتا یہ ہے کہ ایسا سیٹ اپ لازماً بنے تاکہ لوگ یہ اجتماعی ذمہ داری اٹھائیں۔ جدید ریاست اگر زبردستی لوگوں سے انشورنس کرواسکتی ہے تو اسلامی قانون کا یہ حق ماننے میں کیا قباحت ہے کہ وہ لوگوں پر عاقلہ کی تشکیل لازم کرے؟ واضح رہے کہ انشورنس سرمایہ دارانہ استحصال اور خودغرض اخلاقیات کا حل ہے اور عاقلہ اجتماعی ذمہ داری اور باہمی انسانی ہمدردی کا۔

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات


تیسرا سوال یہ سامنے آیا کہ قسامت کے اصول پر فقہاے کرام کے ہاں بڑے اختلافات پائے جاتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے ابتدائی مسودے میں اس تصور کے موجود ہونے کے باوجود آخری شکل میں نفاذ کے وقت یہ تصور نکال لیا گیا۔

اس پر عرض کیا کہ یقیناً قصاص ودیت کے قانون کے مسودے میں قسامت کا تصور بھی تھا اور عاقلہ کا بھی۔ تاہم جو عذر ان کے ترک کے لیے پیش کیا گیا وہ عذر لنگ ہے۔

کون سا قانونی اصول ہے جس کی تفصیلات پر بہت زیادہ اختلاف نہیں پایا جاتا؟ اس کے باوجود ان اصولوں کو قبول کرکے نافذ کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ پاکستانی مسلمانوں کی انتہائی غالب اکثریت حنفی فقہ کی پیروکار ہے اور اس وجہ سے فوجداری قانون ہو یا عائلی قانون یا دیگر قوانین، عموماً قانون سازی میں حنفی فقہ کو ہی مد نظر رکھا گیا ہے۔ یہی امر یہاں بھی ممکن تھا۔

پھر ذرا ایک لمحے کے لیے ان تصورات پر ایک نظر ڈالیے جو غیروں کے قوانین سے مستعار لے کر ہمارے ہاں نافذ کی گئی ہیں اور ان میں نہ "اختلاف" کو کوئی اہمیت دی گئی ہے نہ ہی "معاشرے اور سماج" کی ضرورت یا معروضی حالت کو۔ دور کیوں جائیں؟ انشورنس کے اصول کو ہی لے لیجیے جو خالص سرمایہ دارانہ استحصال اور خود غرضی پر مبنی تصور ہے لیکن اسے ہمارے ہاں بھی نافذ کیا گیا ہے اور کئی امور میں تو لازمی انشورنس کا اصول اپنایا گیا ہے۔

یہ بات بھی مکمل طور پر صحیح تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ قانون سماج کے بگاڑ یا اصلاح میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا۔ دور کیوں جائیے؟ انگریزوں نے زبردستی، ریاستی جبر کے ذریعے، سونے اور چاندی کے سکے ختم کیے اور اس کےلیے ایک قانون میٹل ٹوکنز ایکٹ جاری کیا۔ اسی طرح زبردستی چیک، پرونوٹ اور کرنسی نوٹ نافذ کیے جس کےلیے پہلے نگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کو نافذ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سونے چاندی کے سکے معاشرے نے ترک کردیے اور کرنسی نوٹ قبول کرلیے۔

پھر یہ بھی دیکھیے کہ کیا طالبان سے نمٹنے کےلیے "عوامی لشکر" خود ریاست نے ہی تشکیل نہیں دے؟ آپ کہیں گے کہ وہ بھی قبائلی علاقوں میں کیے۔ تو کیا شہروں میں پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کو سیکیورٹی کی ذمہ داری اور اختیارات سونپ نہیں دیے؟ اگر اس طرح کے آئیڈیاز باہر سے لاکر یہاں ٹرانسپلانٹ کیے جاسکتے ہیں تو خود ہمارے قانون کے تصورات کیوں نافذ نہیں کے جاسکتے؟

معاملہ صرف اتنا تھا کہ حدود قوانین کے مسودے کے ساتھ ہی قصاص و دیت کے قانون کا مسودہ نافذ نہ کرنا جنرل ضیاء الحق کی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ضروری تھا۔ پھر جب ایک دفعہ یہ مسودہ مؤخر ہوا تو پھر مسلسل مؤخر کیا جاتا رہا اور اس دوران میں حدود قوانین پر شدید ترین تنقید بھی سامنے آئی تو یہ مسودہ کھڈے لائن لگادیا گیا تا آنکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں گیارہ سال بعد مجبوراً اسے آرڈی نینس کی صورت میں نافذ کرنا پڑا اور مزید سات سال بعد ہی یہ باقاعدہ ایکٹ کی صورت میں منظور ہو کر مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کا حصہ بنا۔ اسی وجہ سے یہ مسودہ ادھورا اور ناقص رہا اور اندرونی تناقضات کا شاہ کار بھی بنا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.