نصف صدی کی کہانی، ہارون الرشید کی زبانی! -اہم انٹرویو

 

معروف صحافی اور صاحبِ طرز کالم نگار جناب ہارون الرشید کے ساتھ خصوصی گفتگو


انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان


ہارون الرشید ہماری صحافت کا بہت اہم اور ممتاز نام ہیں۔ پچھلے تیس چالیس سال کے دوران چند ایک ہی صاحب اسلوب کالم نگاروں نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے، ہارون الرشید ان میں منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔ قارئین کا وسیع حلقہ ان کے فسوں ساز قلم کا اسیر ہے۔ ہارون صاحب کی نثر میں دلکش کلاسیکی انداز کے ساتھ تاریخ ، ادب اور قرآن وسنت کےایقان افروز جھلکیاں ملتی ہیں۔ جنگجوؤں کے رجز اورصوفیوں کا گداز ان کی تحریر میں رچا بسا ہے، سیاسی حرکیات پر گہری نظر ہے اور وہ ان باخبر صحافیوں میں ہیں، جنہوں نے اہم حلقوں میں براہ راست سورسز پیدا کیے۔

ہارون الرشید کی ایک بڑی خوبی ان کا واضح اور مضبوط موقف ہے۔ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اسی واضح موقف نے انہیں الیکٹرانک میڈیا کی دنیا میں بھی غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی دلوائی۔ جن باتوں کو وہ درست سمجھتے ہیں، ان پر ڈٹ کر اسٹینڈ لیتے ہیں۔

تحریک انصاف کو درست سمجھنے کی وجہ سے اس کا مقدمہ اس وقت بھی لڑتے رہے، جب عمران خان کے پاس ایک سیٹ بھی نہیں تھی،اختلاف ہوا تواس کا برملا اظہار کیا اور ڈیڑھ عشرے کا تعلق بگڑنے کی پروا نہیں کی۔ ایم کیوایم کے فسطائیت کو اس کے دور عروج میں للکارا، جب کسی میں لب کشائی کی جرآت نہیں تھی۔ رینجرز اہلکاروں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ زیادتی کی تو اس پر سخت تنقیدی کالم لکھے، ٹی وی پروگرام کیے۔ جنرل مشرف کی مخالف کی، چودھریوں کو شدت سے ہدف تنقید بنایا، عدلیہ کی بحالی کی تحریک کی نہ صرف بھرپور حمایت کی، بلکہ عملی طور پر کئی مظاہروں میں شریک ہوئے۔ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو وہ کئی حوالوں سے پسند کرتے اور ان کا دفاع کرتے ہیں۔ جنرل کیانی سے تعلق کی پاداش میں ہارون الرشید صاحب کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا، مگر ہارون صاحب جسے درست سمجھتے ہیں، چٹان کی طرح اس پر قائم رہتے ہیں۔ ان کا اپنا موقف ، اپنے دلائل ہیں۔ معروف صوفی اسکالر پروفیسر احمد رفیق اختر سے ان کا تعلق ہے، وہ پروفیسر صاحب کی فکر سے متاثر ہیں۔

حضور اکرم ﷺکی سیرت مبارکہ پر جیسے پرتاثیراور دلگداز کالم انہوں نے لکھے، ان کی مثال کم ہی ملے گی۔ کالموں میں قرآن وحدیث کے حوالے دینے پر لبرل، سیکولرز ان سے خفا رہتے ہیں۔ اقبال اور قائداعظم ان کا عشق ہیں، تقسیم پاکستان کے مخالف دینی حلقے اس پر چین بہ چیں رہتے ہیں، بھٹو صاحب اور پیپلزپارٹی کے دیرینہ نقاد ہیں، شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیوں پر بھی وہ ڈٹ کر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی کہہ مکرنیوں پران کی ’’مشق سخن‘‘ جاری رہتی ہے۔ فطری طور پر پیپلزپارٹی کے جیالے، ن لیگی ، جے یوآئی ف کے کارکن وغیرہ ہارون صاحب کے نقاد ہیں مگر اپنے ان شدید مخالفین کو بھی اپنا کالم پڑھنے پر مجبور کر دینا ہارون صاحب کی کامیابی سے کم نہیں۔
دلیل کے لیے ہارون الرشید صاحب نے کئی گھنٹوں کا وقت دیا، مختلف ایشوز پر بہت کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا۔ اہل دلیل ان کے ممنون ہیں۔
(تعارف : عامر خاکوانی)


 

سوال: صحافت کے کارزار میں طویل عرصہ گزارا، کیریئر کا آغاز کیسے کیا اور کن مشکلات اور مسائل کا سامنا رہا؟

ہارون الرشید: 49 برس بیت چکے۔ جولائی 1968ء میں آغاز کیا۔ مشکلات جس طرح ہر ایک کو درپیش ہوتی ہیں، مجھے بھی ہوئیں۔ رحیم یار خان میں روزنامہ ’’وفاق‘‘ کے دفتر میں ایک سال کی تربیت حاصل کی۔ اب وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں وہاں کام کروں، چنانچہ مجھے لاہور بلالیا گیا۔ مگر یہ کہا کہ آپ یہاں آکر انٹرویو دے دیں۔ آپ کو کرایہ دیں گے نہ کوئی ٹی اے ڈی اے۔ میں لاہور آگیا۔ میرے پاس ایک طرف کا ہی کرایہ تھا۔ رحیم یار خان میں خبروں کی ایڈیٹنگ ہی کرتا تھا۔ انہوں نے میرے سامنے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ رکھ دیا۔ ڈرتے ڈرتے ترجمہ کیا۔

اگلے ہی دن کام شروع کردیا، تنخواہ 2 سو روپے ماہوار۔ لاہور میں کوئی جاننے والا بھی نہیں تھا۔ کسی کے ساتھ کمرہ شیئر کرنا پڑا۔ 25 روپے ماہوار۔ اس تنخواہ میں گزارہ ہوسکتا تھا، لیکن عادات خراب تھیں۔ مثلاً: مصطفی صادق صاحب کہنے لگے کہ آپ ’’نیو ہوٹل‘‘ سے چائے کیوں منگواتے ہیں؟ میں نے کہا اس لیے کہ میں مکس چائے نہیں پیتا۔ کہنے لگے: ’’پھر تو ساری تنخواہ اسی میں چلی جائے گی۔‘‘ میں نے کہا: ’’چلی جائے۔‘‘

اکثر پیدل چلنا پڑتا۔ صبح 11 سے رات گیارہ بجے تک کام کرنا ہوتا۔ وہ بھی اس طرح کہ آپ نیوز روم میں بیٹھے ہیں، حکم ہوا کہ فلاں جلسے میں چلے جائیں، واپس آئے تو بتایا جاتا کہ اب پریس کانفرنس میں چلے جائیں۔ ٹینڈر نوٹس کا ترجمہ کردیں یا ریڈیو مانیٹرنگ کریں۔ اس وقت تو میں سمجھتا تھا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ میرے پاس مگر کوئی متبادل بھی نہیں تھا۔ پھر یہ خواہش بھی تھی کہ طعنہ بھی سننا نہ پڑے۔ یہ احساس بہت شدید تھا۔ 8 ماہ کے بعد مجھے روزنامہ ’’کوہستان‘‘ میں ملازمت مل گئی۔ انٹرویو دیا تو بتایا گیا: کام تو آپ اچھا کرلیتے ہیں، لیکن دیر سے آئے۔ پہلے آتے تو آپ کو رپورٹنگ میں رکھ لیتے اور تنخواہ بھی اچھی مل جاتی۔ اس وقت ہمارے پاس نیوز روم میں جگہ ہے، تنخواہ کم ملے گی۔ چیف رپورٹر نے ٹیسٹ لیا۔ کہنے لگے: یہ تو بڑی کمال کی ایڈیٹنگ کرتا ہے۔ رپورٹنگ بھی کرتا ہے۔ مجبوراً اسی تنخواہ پر کام شروع کردیا، البتہ وہاں مجھے مواقع بہت ملے۔ کچھ دن کے بعد عالی رضوی صاحب نے کہا کہ اس کی اردو اچھی ہے۔ ہمیں ادارتی صفحے پر اس کی ضرورت ہے۔

رضوی صاحب کے ساتھ کام شروع کیا، تو اس کا بہت فائدہ ہوا۔ اچانک ایک دن کہا: ادارتی نوٹ لکھو۔ شروع میں گھبراہٹ ہوئی، ایک شخص جس کی عمر 20 سال ہے، اسے ادارتی نوٹ لکھنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ خیر! میں نے لکھا، انہوں نے کچھ ایڈیٹنگ کی اور کہا ٹھیک ہے۔ اب کہا کہ کالم لکھو۔ کالم بڑا عجیب سا ہوتا تھا ’’آج کی باتیں‘‘۔ جیسے نوائے وقت کا ’’سرراہے‘‘۔ کالم لکھا، عالی صاحب نے کچھ اصلاح کی، چند دن بعد اصلاح کرنا چھوڑدی اور کہا کہ تم ٹھیک لکھ رہے ہو۔ رفتہ رفتہ میں نے پورا ادارتی صفحہ سنبھال لیا۔ بڑی محنت کی، پروف کی کوئی غلطی نہ رہے، کسی لفظ پر اعتراض نہ ہو۔ عالی صاحب نے ایک شفیق استاذ کی طرح ہاتھ تھاما۔ گھر سے کھانا منگوایا کرتے، دوپہر میں ہمیں بھی شریک کرتے۔ مجھے اور خلیل ملک مرحوم کو۔ وہ بے چارہ بہت تاخیر سے آیا تھا۔ لائق آدمی تھا مگر پروف ریڈر کی نوکری ہی مل سکی؛ اگرچہ کام سب ایڈیٹر کا۔

ایک چھوٹا سا کمرہ مجھے دے دیا گیا۔ مسائل پیدا ہوتے تو راہنمائی بھی کرتے، مثلاً: ایک دن سعید اظہر صاحب نے کالم لکھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ اس میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔ میں پریشان ہوا۔ میں نے کہا بغیر ایڈیٹنگ کے تو نہیں چھپے گا۔ میں سعید اظہر صاحب سے عمر میں کئی سال چھوٹا، تجربے میں کہیں کم تھا۔ عالی رضوی صاحب تک بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ تم حق پر ہو، مگر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی کہا کہ زیادہ سخت ایڈیٹنگ نہ کرو، کوئی مسئلہ ہو تو مجھ سے پوچھ لیا کرو۔ رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہوگیا۔ پھر ایک بار پھر ضرورت پڑی تو مجھے نیوزروم میں سعید اظہر صاحب کے پاس بھیج دیا گیا۔ وہ پریشان کہ یہ تو میری بات نہیں سنے گا۔ لیکن رفتہ رفتہ سارا کام میرے سپرد کردیا۔ شام ڈھلتی تو گھومنے پھرنے چلے جاتے۔ تاخیر سے لوٹ کر آتے۔ آج بھی ایسے ہی مردِ آزاد ہیں۔ کچھ عرصے بعد ’’کوہستان‘‘ کے حالات خراب ہوئے اور اخبار بند ہوگیا۔

سوال: آپ نے ’’مساوات‘‘ میں بھی کچھ عرصہ کام کیا، حالانکہ یہ پیپلز پارٹی کا اخبار تھا۔

ہارون الرشید: روزنامہ ’’کوہستان‘‘ چھوڑنے کے بعد میں نے ایک دو جگہوں پر کام کیا۔ اول ’’وفاق‘‘ اور پھر روزنامہ ’’جمہور‘‘۔ ’’مساوات‘‘ سے اچھی آفر ملی۔ یہ خدشات تو تھے کہ پیپلز پارٹی کا اخبار ہے، لیکن ہمیں نیوزروم میں کام کرنا تھا، عباس اطہر صاحب نے کہا آپ کام کریں، کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ان کے ساتھ نیازمندی کا تعلق تھا۔ اسی دن کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ کہیں کچھ لڑائی جھگڑا تھا، شاہ صاحب نے کہا کہ ذرا وہاں جاؤ اور پتا کرو کہ معاملہ کیا ہے۔ میں نے بڑا سخت فقرہ کہا کہ میں یہاں نوکری کے لیے آیا ہوں، مخبری کرنے نہیں۔ وہاں ایک سناٹا طاری ہوگیا۔اس کے باوجود عباس اطہر نے مجھے گوارا کیا۔

وہاں کچھ مسائل بھی رہے۔ ایک بار پیپلز پارٹی کے خلاف کچھ چھپنے پر معطل بھی ہوا، لیکن بحیثیت مجموعی ماحول خوشگوار تھا۔ میں پیپلز پارٹی کے خلاف بات بھی کرتا تھا۔ ایک آدھ شخص دبی اور کوئی اونچی آواز میں اعتراض بھی کردیتا۔ لیکن عباس اطہر صاحب کہتے، یہ دوسروں سے زیادہ کام کرتا ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے مجھے ’’ہفت روزہ نصرت‘‘ کا ڈپٹی ایڈیٹر بنادیا۔ ہم نے میگزین کو بدل ڈالا۔ سیاسی تو ہم کرنہیں سکتے تھے، نہ ہی وہ چاہتے تھے۔ جس حد تک گنجائش تھی، ہم نے اس میں تبدیلیاں کیں۔ 1977ء میں جب تحریک چلی تو میں نے سوچا کہ میں پیپلز پارٹی کے خلاف ہوں، اب یہاں نہیں رہنا۔ میں نے احتجاج کیا اور استعفیٰ دے دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ سارے واجبات ادا کردئیے گئے۔ یہاں تک کہ نوٹس پیریڈ کے پیسے بھی نہیں کاٹے۔

استعفے کے چند جملے یاد آرہے ہیں: ’’بے شمار قبریں زمین پر اُبھر آئی ہیں۔ اس سفاکی کا کوئی جواز نہیں۔ اس ادارے کے ساتھ وابستگی پر میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔‘‘

اس دوران کچھ کام کا چرچا ہوا اور کچھ اس استعفے سے ہوگیا۔ استعفیٰ عبدالقادر حسن کے ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘ میں چھپ گیا۔ مجیب الرحمن شامی صاحب کی طرف سے پیشکش ہوئی۔ مشکل یہ تھی کہ وہ بہت زیادہ توقعات رکھنے والے آدمی ہیں۔ اس دوران میں مجھے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب نے بلالیا۔ میں نے تین ماہ ڈٹ کر ان کے ساتھ کام کیا۔ جب انہوں نے منیر احمد منیر کو فارغ کیا۔ اس وقت کیا جب وہ اپنی والدہ کے جنازے میں سیالکوٹ میں تھے، تب میں نے کہا کہ میں یہ ملازمت جاری نہیں رکھ سکتا۔ استعفیٰ دیا اور وہاں سے اُٹھ کر چلا آیا۔ پھر شامی صاحب نے رابطہ کیا، انہیں احساس ہوا کہ یہ شخص کسی تجربے کے بغیر ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں کام کے تقاضے پورے کرسکتا ہے۔ کم وبیش وہی تنخواہ مجھے آفر کی جو اعجاز حسن قریشی صاحب دے رہے تھے۔

اب صورتِ حال قدرے بہتر ہوگئی۔ استعفیٰ، تو وہ میں دیتا رہتا تھا۔ کچھ عرصہ اسی طرح کام چلتا رہا۔ 1980ء کے آخر میں مختار حسن مرحوم نے ’’ایجنسی افغان پریس‘‘ نام کا ادارہ بنایا، چند ماہ وہاں بھی کام کیا، لیکن دل نہیں لگا۔ مجھے کوفت ہوتی تھی کہ کوئی سسٹم نہیں ہے۔ میں پیشہ ورانہ تقاضوں کی پابندی کرنے کا آرزومند تھا۔ مہ وسال یونہی گزرتے رہے۔ کبھی ایک کبھی دوسرا ادارہ۔ یہ 1988ء تھا جب ’’جنگ‘‘ میں کام شروع کیا۔ نذیر ناجی صاحب نے ایک دن بہت مذاق اُڑایا کہ اچھا بھلا لکھ لیتے ہو اور نیوز روم میں نوکری کرتے ہو۔

مارشل لا کا دور تھا، جیسے ہی ضیاء الحق کا مارشل ختم ہونے میں آیا، حالات ٹھیک ہونے لگے، پابندیاں نرم ہونے لگیں، میں نے وہیں جنگ میں رہتے ہوئے جرائد کے لیے لکھنا شروع کیا۔ اسی دوران میں ڈاکٹر اسرار احمد کے بھائی اقتدار احمد مرحوم کے ہفت روزہ ’’ندا‘‘ میں ڈپٹی ایڈیٹر کی آفر ہوئی۔ کچھ عرصہ کام کیا اور وہاں سے پھر ’’زندگی‘‘ میں چلا آیا، جس کے مدیر اب مجیب الرحمن شامی تھے۔

لاہور میں 20 سال پورے ہوئے تو یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ اب میں اخبار میں نوکری نہیں کروں گا۔ شامی صاحب میرے گھر تشریف لائے، منانے کی کوشش کی، لیکن میں نے انکار کردیا۔ کہا کہ میں مضمون لکھ دیا کروں گا، ملازمت اب نہیں کرنی۔ مجھے ہمیشہ یہ اعتراض رہا کہ اخبارات میں ورکنگ کنڈیشنز اچھی نہیں۔ شدید گرمی ہے یا سردی، کسی کو اس کی کوئی پروا نہ ہوتی تھی۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ جنرل اختر عبدالرحمن قادیانی ہیں اور سپر سیڈ ہوئے ہیں۔

سوال: آپ نے انہی دنوں میں جنرل اختر عبدالرحمن پر کتاب ’’فاتح‘‘ لکھی، اس کی کیا تفصیل ہے، کچھ بتائیں گے؟
ہارون الرشید: میں نے ہفت روزہ زندگی میں جو آخری مضامین لکھے، ان میں سے ایک جنرل اختر عبدالرحمن پر تھا۔ ایک دن شامی صاحب نے مجھے کہا ہمایوں اختر صاحب آئے ہیں، آپ جنرل صاحب پر ایک مضمون لکھ دیں۔ اس موضوع پر معلومات جمع کیں اور غوروفکر کیا تو حیران ہوا کہ کتنی دلچسپ کہانی ہے۔ میں نے کہا کہ دو چار دن ٹھہرجائیں۔ مضمون لکھا تو اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ عام طور پر میں اسی وقت لکھ دیتا ہوں چاہے کوئی بھی موضوع ہو، خواہ رات کو جاگنا پڑے، لیکن میں نے کہا: نہیں، یہ تو ایک یتیم بچے کی بہت ہی مختلف کہانی ہے۔ جس کا پس منظر عجیب وغریب تھا۔ جس کے راستے میں رکاوٹیں بہت آئیں۔ جس کی اپنی شخصی خصوصیات بے حد منفرد تھیں۔ وہ تو بعد میں اندازہ ہوا کہ ہر کامیاب آدمی کی کہانی کم وبیش ایسی ہی ہوتی ہے، ہمیشہ بہت دلچسپ۔

سوال: گویا کتاب کا آئیڈیا اس مضمون کے بعد ذہن میں آیا؟

ہارون الرشید: مضمون چھپ کر آیا تو میں نے سوچا کہ اس موضوع پر کتاب لکھنی چاہیے۔ میں فارغ تھا، ہفت روزہ زندگی سے استعفیٰ دے چکا تھا۔ جنرل اختر عبدالرحمن کے خاندان سے بات کی، لیکن میں نے دیکھا کہ کچھ تاخیر ہورہی ہے۔ ایسا کیوں تھا؟ بعد میں مجھے پتا چلا جنرل صاحب کی فیملی سے کہا گیا تھا کہ اس شخص کا کوئی بھروسہ نہیں، ممکن ہے بہت اچھی کتاب لکھ دے، ممکن ہے بیچ ہی میں چھوڑکر چلا جائے۔ خیر! بات ہوئی تو جو شرائط انہوں نے بتائیں، وہ بہت اچھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کتاب لکھ دیں، رائلٹی ہمارے ساتھ شیئر کرلیں آدھی آدھی، کیونکہ اس پر ہمارے کچھ اخراجات ہوں گے۔ یہ الگ بات کہ اشاعت کے بعد رائلٹی میں سے اپنا حصہ وصول کرنے سے انہوں نے انکار کردیا۔ کہا: آپ نے ایسی کتاب لکھ دی ہے کہ ہم آپ کے ممنون ہیں۔

کام شروع کیا، رکاوٹیں آتی رہیں۔ مثلاً: قاضی حسین احمد نے کہا کہ جنرل اختر عبدالرحمن قادیانی تھے اور سپرسیڈ بھی ہوئے۔ تقریباً دو ماہ تک مخمصے کا شکار رہا۔ اس سلسلے میں معلومات حاصل کرتا رہا۔ پتا چلا یہ بات درست نہیں۔ ان کی بیگم صدقے کے بکرے جامعہ اشرفیہ بھجواتی تھیں۔ لیاقت بلوچ صاحب نے کہا کہ قاضی صاحب کبھی یوں ہی ایسی بات کردیتے ہیں۔ قاضی صاحب اس قدر ناراض تھے کہ لیاقت بلوچ کو کتاب کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے بھی روک دیا۔

مکمل طور پر یکسو ہوگیا تو پھر سے کام شروع کیا۔ میں نے بعض چیزوں پر اتنی تحقیق کی کہ جنرل صاحب کے فرزند اس پر حیران ہوتے تھے۔ ظاہر ہے بعض باتیں بیٹوں کو بھی اپنے باپ کے بارے میں معلوم نہیں تھیں۔ مثلاً: راولپنڈی میں رہنے والے ان کے ایک سینئر نے جو کچھ بتایا۔ مثلاً: امرتسر میں ان کے ایک کلاس فیلو نے کچھ معلومات مہیا کیں۔ اس میجر سے بھی ملا، کہوٹہ میں اختر عبدالرحمن جن کے ماتحت رہے تھے۔ اگرچہ ان دنوں میں میری صحت خراب تھی۔ میری عادت مگر یہ نہیں کہ میں کسی کام کو رواروی میں انجام دوں۔ جب تک ٹھیک معیار کے مطابق نہ ہوجائے، اسے شروع کرتا ہوں نہ ہی ختم کرتا ہوں۔ مثلاً: اس میں ایک باب ایسا پیچیدہ تھا جو لکھا نہیں جارہا تھا۔ 1948ء، 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں سپاہی کے کردار کو ایک ہی باب میں پرونا تھا۔ مجھے یاد ہے میں راولپنڈی گیا، ہفتہ بھر ایک ہوٹل میں ٹھہرا رہا۔ لیکن ایک سطر لکھے بغیر واپس آگیا۔ پھر جس دن یکسوئی نصیب ہوئی، ایک ہی رات میں یہ طویل باب لکھ ڈالا۔

ممکن ہوتا تو مزید دوچار ماہ اس کتاب پر عرق ریزی کرتا، لیکن غازی خاں کا اصرار تھا کہ جلدی کرو دوسری برسی آپہنچی ہے۔ آخری دن مجھے یاد ہے کہ میں سویا ہی نہیں۔ صبح لکھنا شروع کیا، رات ہوگئی، ساری رات گزرگئی۔ اگلا دن دوپہر کا وقت ہوگیا تو اس کا آخری پیراگراف لکھ رہا تھا۔ اگلے دن عید تھی، میں اتنا تھک چکا تھا کہ فیصل آباد میں مغرب کے وقت اپنی والدہ کے ساتھ بات کرتے کرتے سوگیا۔ سوکر اٹھا تو سورج نکلنے میں بمشکل اتنا وقت تھا کہ فجر پڑھی جاسکے۔ نماز کے بارے میں بی بی جی مرحومہ بہت سختی سے بازپرس کیا کرتیں۔

’’فاتح‘‘ جنگ پبلشر نے شائع کی اور اس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے۔ 20، 25 ہزار تو چند ماہ ہی میں نکل گئی۔ رائلٹی کے چار پانچ لاکھ روپے چند ماہ میں مل گئے۔ میری آخری تنخواہ سات ہزار ماہانہ تھی۔ میرا مکان کا کرایہ 14 سو روپے ماہوار۔ یہ بریک تھرو تھا۔ اچھی ملازمتوں کی پیشکشیں ہونے لگیں۔ روزنامہ جنگ میں مجھے میگزین ایڈیٹر کی آفر ہوئی مگر میں نے انکا رکردیا۔ کچھ عرصہ بعد روزنامہ پاکستان والے زبردستی لے گئے، وہی اپنے شاہ جی، عباس اطہر صاحب، میں کہتا رہا کہ اب مجھے نوکری نہیں کرنی مگر وہ نہیں مانے۔

مجیب الرحمن شامی بہت نفیس قسم کے exploiter ہیں۔

سوال: اسی اثناء میں جنرل اختر عبدالرحمن پر عرفان صدیقی نے بھی کتاب لکھی، اس کا کیا قصہ ہے؟

ہارون الرشید: عرفان صدیقی نے ان دنوں مدرّسی چھوڑدی تھی۔ ہفت روزہ زندگی اور تکبیر کے لیے لکھا کرتے۔ شامی صاحب نے عرفان صدیقی سے کہا۔ وہ زود نویس ہیں، انہوں نے پوری کتاب چند ہفتوں میں لکھ دی۔ میں نے اس وقت بہت صبر کا مظاہرہ کیا۔ کسی سے ایک لفظ تک نہ کہا۔ دراصل شامی صاحب نے میرے بارے میں اختر خاندان سے کہا تھا کہ اس کا کیا بھروسہ، لکھے تو بہت اچھی لکھ دے، نہ لکھے تو کون اسے روک سکتا ہے۔

غلطی میری بھی تھی۔ میں نے شامی صاحب سے کہا تھا: بڑا ہی دلچسپ موضوع ہے، اس پر ایک فیچر آپ قومی ڈائجسٹ میں چھاپ دیں۔ وہی عرفان صاحب نے لکھا اور اسی کو کتاب میں ڈھال دیا۔ ناجائز فائدہ بھی لوگ اُٹھاتے ہیں۔ شامی صاحب نے یہی کیا۔ سب جانتے ہیں کہ وہ بہت نفیس قسم کے exploiter ہیں۔ واحد آدمی نہیں، پیشہ صحافت میں ایسے بہت سے لوگ ہیں، ہر کہیں، ہر میدان میں۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ باتیں صحافی اور صحافت کی! - ظفر محمود شیخ

سوال: کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ آپ کو یہ کتاب نہیں لکھنی چاہیے تھی۔ کچھ کا خیال ہے کہ آپ نے مجبوری کے تحت لکھی، کیا آپ کو بعد میں کبھی احساس ہوا کہ نہ لکھتے تو بہتر تھا؟

ہارون الرشید: بالکل نہیں، کسی کے کہنے پر نہیں، اپنی مرضی سے لکھی۔ کوئی خبر یا کسی سماجی مسئلے پر فیچر کی بات دوسری ہے، عمر بھر کسی کے ایما پر کبھی کوئی اہم تحریر نہیں لکھی۔ بنیادی بات یہ تھی کہ ایک تجربہ کرنا چاہ رہا تھا۔ میں سمجھتا ہوں اس میں کچھ چیزیں دوسرے پیرائے میں لکھنی چاہیے تھیں۔ لیکن آج بھی اسے پوری طرح own کرتا ہوں۔ ان دنوں rewrite کررہا ہوں۔ اس کے بنیادی تصور کا میں آج بھی قائل ہوں۔ میں آج بھی افغان جہاد کی ڈٹ کر حمایت کرتا ہوں۔ میں آج بھی اختر عبدالرحمن کو پاکستان کے عظیم ترین جنرلوں میں شمار کرتا ہوں۔ میں انہیں ایک عظیم محب وطن سمجھتا ہوں۔ میں نے ان کے لیے ’’حکمت کار‘‘ کی اصطلاح وضع کی جو بعد میں اردو صحافت میں رائج ہوگئی۔ میں اختر عبدالرحمن کو ایک نہایت دیانت دار آدمی سمجھتا ہوں۔ ان کا صرف ایک مکان تھا، کوئی پلاٹ نہیں تھا۔ ان کے پاس کپڑوں کے چند جوڑے تھے۔ انہوں نے ایک سادہ اور شریفانہ زندگی بسر کی۔ میں نے کبھی اس پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ افغان جہاد میں اسٹریٹجی کی کون کونسی غلطیاں ہوئیں، اس کے ثمرات ہم کیوں نہ سمیٹ سکے، یہ الگ موضوع ہے، لیکن جنرل اختر عبدالرحمن بڑے اعلیٰ آدمی تھے۔ آج تک اس کے خلاف کوئی ادنیٰ ثبوت بھی پیش نہیں کرسکا۔

سوال: آپ نے فرمایا کہ آپ کی اُردو اچھی تھی، کیسے اچھی تھی؟ کیا گھر کا ماحول سازگار تھا یا اسکول میں اساتذہ نے محنت کی یا پھر اسے خداداد صلاحیت کہہ سکتے ہیں؟

ہارون الرشید: یہ اتفاق ہے، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا بندے سے اللہ جو کام لینا چاہے۔ میرے پرائمری کے ایک استاذ بہت اچھے تھے۔ ماسٹر رمضان نام تھا، سبھی اساتذہ کے لیے دُعا کرتا ہوں، مگر میں ان کے لیے زیادہ۔ انہوں نے ہمیں اتنی اچھی املا لکھنا اور نثر پڑھنا سکھائی کہ مجھے آج تک اس پر تعجب ہے۔ میں تیسری میں تھا کہ ہر قسم کی نثر پڑھ لیتا تھا۔ سمجھ تو نہیں آتی تھی، لیکن عبارت پڑھنے میں کبھی دِقّت نہ ہوتی۔ وہ کوئی کتاب دیتے اور کہتے پڑھ کر سناؤ۔ پھر تعمیر ملت ہائی اسکول رحیم یار خان ایسا شاندار بے مثال ادارہ۔ عمارت اور انگریزی کے سوا ایچی سن سے بھی بہتر۔ وہاں ہمیں بولنا اور لکھنا سکھایا گیا۔ بہت اچھے اساتذہ تھے، ہمارے ایک استاذ انیس اعظمی صاحب تھے۔ ان کے بارے میں ڈاکٹر خورشید رضوی نے بہت بعد میں مجھ سے کہا کہ جس نے انیس صاحب سے اُردو پڑھ لی، اسے کسی اور سے پڑھنے کی ضرورت نہ رہی۔ اعظمی صاحب ہمیں دسویں میں غالبؔ پڑھاتے تھے، میرؔ اور اقبالؔ پڑھاتے تھے۔ ہزاروں اشعار بلامبالغہ مجھے یاد ہوگئے تھے۔ سرور صدیقی صاحب کا بھی بہت اچھا ذوق تھا۔ ان کے احسانات کا بوجھ اتارا نہیں جاسکتا۔ اللہ کی بارگاہ میں ان کے لیے دُعا کرتا رہتا ہوں۔ تعمیر ملت ہائی اسکول کے پڑھے ہوئے جنرل عاصم باجوہ کے عم زاد ڈاکٹر سعید باجوہ دنیا کے سب سے بڑے سرجن بنے۔ یہاں سے بے شمار ڈاکٹر، انجینئر اور سی ایس پی افسر نکلے۔ خیر! ہر آدمی کی ایک افتادِ طبع ہوتی ہے۔ مجھے لفظ سے دلچسپی تھی، لٹریچر تھوڑا بہت پڑھتا تھا۔ شاعری سے شغف تھا، فکشن سے دلچسپی تھی۔ رفتہ رفتہ انہماک بڑھتا گیا۔

سوال: صحافت میں کس کس کو اپنا استاذ مانتے ہیں؟

ہارون الرشید: عالی رضوی صاحب، نیوز روم میں جمیل اطہر صاحب۔ جمیل صاحب کسی بڑے اخبار میں ہوتے تو بہت بڑے نیوز ایڈیٹر ہوتے۔ صحافتی اخلاقیات کا بہت خیال رکھتے تھے۔ مجیب الرحمن شامی صاحب سے ہفت روزہ صحافت کی کئی نزاکتیں سیکھیں۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب سے سیکھا۔ اعجاز قریشی صاحب زبان کے باب میں بہت حساس تھے۔ ایک دن انہوں نے کہا یہ آپ نے کیا لکھ دیا: ’’ہنستے بستے شہر؟‘‘ میں نے کہا: ’’ٹھیک ہی تو لکھا ہے۔‘‘ کہا: ’’رستے بستے شہر۔‘‘ الطاف حسن قریشی صاحب سے ایک بڑی اہم چیز سیکھی، جو آج تک مددگار ہے، ’’کوما‘‘ اور ’’فل اسٹاپ‘‘ کہاں لگانا ہے۔ شامی صاحب بھی اس کا خیال رکھتے تھے، لیکن الطاف صاحب اس معاملے میں زیادہ محتاط تھے۔ شامی صاحب بھی ایڈیٹر اچھے تھے، باخبر بہت، سرخی بہت اچھی جماتے تھے۔ اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں، جس طرح کہ روزانہ ’’صحافت‘‘ میں عباس اطہر مرحوم۔ مجید نظامی صاحب بہت باریک بینی سے ایڈیٹنگ کرتے۔ یاد ہے کہ ایک بار میں نے لکھا: ’’میرے دوست گلبدین حکمت یار!‘‘ جلدی میں لکھ دیا، لیکن ذہن میں اٹکا رہا کہ دوستی اپنی جگہ، مگر وہ ایک بڑے لیڈر ہیں۔ کالم چھپ کر آیا تو لکھا تھا: ’’میرے محترم دوست!‘‘ اپنے دل میں نے اس پر انہیں بہت داد دی۔

میاں طفیل محمد عجیب آدمی تھے۔ کروڑوں مسلمانوں کو طواف کرتے دیکھا۔ اس عالم میں پروانے کی سی کیفیت کم دیکھی۔

سوال: مستقل کالم نگاری کا آغاز کیسے کیا اور کس اخبار سے اپنے سفر کو شروع کیا؟

ہارون الرشید: 1970ء میں روزنامہ وفاق میں میں نے پہلا کالم لکھا، بسنت اس کا موضوع تھا۔ کئی کمسن بچے جان ہار گئے تھے۔ ان کے ماؤں کے ملال کو الفاظ میں پرونے کی کوشش کی۔ دوسرا کالم بھی وفاق میں لکھا، جس روز میاں طفیل محمد نے امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ ٹوٹ کر وہ روپڑے۔ مرحوم ایک عجیب آدمی تھے۔ سر تاپا سادگی، سرتاپا اخلاص۔ دس گیارہ بار حجاز جانے کا موقع ملا۔ کروڑوں مسلمانوں کو طواف کرتے دیکھا۔ اس عالم میں پروانے کی سی کیفیت کم دیکھی۔ ان میں سے ایک وہ تھے اور ایک امریکی مصور جس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا۔

کچھ کالم روزنامہ کوہستان میں بھی لکھے لیکن شاذ۔ اس لیے کہ ذمہ داریاں دوسری تھیں۔ اسی طرح ہفت روزہ زندگی میں کبھی کبھار کالم لکھنے کا موقع ملتا۔ روزنامہ پاکستان میں اگرچہ میری ذمہ داری میگزین ایڈیٹر کی تھی، لیکن 1991ء سے 1993ء تک کالم لکھتا رہا۔ 1993ء میں ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی سے مشورہ کرنے کے بعد اخبار کو خیرباد کہا۔ ان کے مشورے کا خلاصہ یہ تھا کہ تمہیں لکھنا چاہیے، نیوزروم میں اپنا وقت برباد نہ کرو۔

صوفیوں کی قبولیت کا اصل زمانہ ان کے بعد آتا ہے۔ خواجہ مہر علی شاہ اور علامہ اقبال کے بعد کوئی آدمی ہے آج کے عہد میں تو وہ پروفیسر احمد رفیق اختر ہیں۔

غالباً یہ 1993ء کا موسم خزاں تھا، میرے بہت محترم دوست مختار حسن مرحوم کا انتقال ہوگیا۔ روزنامہ ’’جسارت‘‘ کے لیے ہفتے میں تین کالم لکھنے کی پیشکش ہوئی۔ تجربہ کامیاب رہا، فقط یہ کہ اخبار کی اشاعت کچھ زیادہ نہیں تھی۔ سارا دن کتابیں پڑھتا رہتا، خواب دیکھتا رہتا کبھی کوئی زمانہ آئے گا۔ کبھی کوئی ہماری بات سنے گا۔ کالم سے اتنے پیسے ملنے لگے کہ گزر بسر ہوجاتی۔ میں نے اگرچہ اپنے خاندان والوں کو مدتوں پتا ہی نہیں چلنے دیا کہ میرے حالات کیسے ہیں، لیکن میرے بھائی ایسے تھے جو کہتے تھے جتنی رقم چاہیے، ہم سے لے لیا کرو۔ وہاں میرے خالہ زاد بھائی میاں محمد خالد حسین نے اپنی مرسڈیز بھجوائی۔ انہوں نے کہا جتنے پیسے درکار ہوں لے لو، کوئی کاروبار کرلو یا پرچہ نکالو۔ انکار تو نہ کیا، لیکن ٹال دیا۔ خانہ خدا پر پہلی نظر پڑی تو مغفرت کی دعا کے بعد، ایک اور دعا مانگی: بارِالٰہ! عزت اور وقار کی زندگی عطا کر۔ اس کے فوراً بعد ایک نئے عہد کا آغاز ہوا۔

غامدی صاحب کو تو اللہ نے مسکرانے کی بھی توفیق نہیں دی، اپنا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کہاں سے آئے گی؟

اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر خوشنود علی خان ملے۔ انہوں نے میرا سامان اُٹھایا، حالانکہ وہ مجھ سے سخت ناراض تھے۔ اگلے دن فون کیا اور کہا مہربانی کریں کالم لکھ دیا کریں۔ میں نے کہا سوچنے کی مہلت دیجیے۔ پھر ضیاء شاہد صاحب نے فون کیا۔ ستمبر کا آخر یا اکتوبر کا آغاز تھا۔ روزنامہ خبریں کے لیے میں نے پہلا کالم لکھا۔ کچھ بھی لکھوں بار بار اسے پڑھتا ہوں۔ دفتر کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ کالم پھاڑکر پھینک دیا۔ خوشنود علی خاں سے کہا کہ کاغذ لاؤ۔ وہ میرا شاگرد رہا تھا، میری کیفیت سمجھ رہا تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ جو تمہید باندھی ہے، یہ نہ ہونی چاہیے۔ ان دنوں بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے پوتی کی شادی کے لیے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں کچھ کمرے حاصل کیے تھے۔ شادی پر نون لیگ نے ہنگامہ اُٹھارکھا تھا کہ سرکاری وسائل استعمال ہورہے ہیں۔ ایسا نہ تھا۔ نوابزادہ صاحب نے کرایہ ادا کیا تھا۔ اس موضوع پر لکھا۔ کالم کا عنوان کیا مجھے کالم بھی یاد نہیں رہتا۔ لیکن اس کا عنوان مجھے بھی ذہن میں تازہ ہے: ’’یہ ہماری جنگ نہیں ہے‘‘۔ اگلے دن نون لیگ والے روئے پیٹے، یہ کس بلا کو ہمارے پیچھے لگادیا۔ ضیاء شاہد اور خوشنود علی خان یہی تو چاہتے تھے۔ سہ پہر میں مجھے خوشنود علی خان نے بتایا کہ سارا دن فون کی گھنٹی بجتی رہی۔ بیچ میں چند ماہ روزنامہ اساس اور جسارت کے لیے لکھا۔ 1997ء میں جنگ کی طرف سے آفر ہوئی۔ اس کے بعد کالم نگاری ہی زندگی کا محورومرکز ہوگئی۔

غامدی صاحب کو تو حدیث کی اہمیت کا ادراک بھی نہیں۔ کمال ہے، غامدی صاحب کہتے ہیں کہ حدیث تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ باقی بچے گا کیا؟ سیرت کیا ہے؟ حدیث ہے نا؟ قرآن تو سیرت کے بغیر ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔

سوال: آپ پروفیسر احمد رفیق اختر کا ذکر اکثر کرتے رہتے ہیں، ان کس حد تک اور کیوں متاثر ہیں؟ پھر کچھ لوگ تصوف سے متعلق منفی رائے رکھتے ہیں۔

ہارون الرشید: صوفیوں کی قبولیت کا اصل زمانہ ان کے بعد آتا ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کو بہت سے لوگ مان لیں گے۔ دو اخبار نویس بھی، جو اس ناچیز کے حسد میں عطائیوں کو مفکر بناکر پیش کررہے ہیں۔ اگر کوئی دانائے راز ہے، خواجہ مہر علی شاہ اور علامہ اقبال کے بعد کوئی آدمی ہے آج کے عہد میں تو وہ پروفیسر احمد رفیق اختر ہیں۔ بڑی خوبی ان کی یہ ہے کہ جب آپ ان سے اختلاف کرتے ہیں تو پورے اطمینان سے وہ آپ کی بات سنتے ہیں۔ میں ان کے بعض سیاسی تجزیوں سے اختلاف کرتا ہوں۔ مگر عہدِ جدید میں فرقہ واریت سے بچ کر جو تشریحات انہوں نے کی ہیں، جس للہیت اور اخلاص کے ساتھ کام کیا ہے، اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ بے چارے جاوید غامدی تو کیا، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی ایسے عظیم علماءِ کرام کے بس کی بات بھی نہ تھی۔ غامدی صاحب کو تو حدیث کی اہمیت کا ادراک بھی نہیں۔ پروفیسر صاحب نے اتنی ریاضت کی اور اب بھی کرتے ہیں کہ ناقابلِ یقین۔ اب بھی شب ساڑھے گیارہ بارہ بجے وہ سوتے، اور صبح تین ساڑھے تین بجے اُٹھ بیٹھتے ہیں، نو، ساڑھے نو تک کمرے سے باہر نہیں نکلتے۔ قرآن پڑھتے ہیں، حدیث پڑھتے ہیں، اسمائے ربانی اور مسنون دعاؤں کا ورد کرتے ہیں، جیسے کہ اصحاب کیا کرتے، اولیا کیا کرتے۔ امین احسن اصلاحی صاحب کا احترام اپنی جگہ، عظیم نثرنگار تھے، عالم دین بھی بڑے تھے، لیکن وہ ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تصوف ایک الگ مذہب ہے۔ ارے صاحب! کشف المحجوب میں، تصوف پر سب سے مستند دستاویز ہے، لکھا ہے: ’’جو تصوف پابندِ شریعت نہیں ہے، وہ زندیق تو پیدا کرسکتا ہے، صدیق نہیں۔‘‘ جس تصوف نے شریعت سے انحراف کیا، ہرگز وہ تصوف نہیں۔ صوفی کہتا ہے بغض وعناد ترک کردو، حسد سے باز آؤ، دولت کی محبت سے چھٹکارا پاؤ، ورنہ تم اس راہ پر چند قدم بھی نہیں چل سکتے۔ تصوف کی بنیاد شریعت ہی تو ہے۔ شریعت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ رہ گیا طریق کار، اس میں اختلاف رائے ہوسکتا ہے۔ فرمایا: میری اُمت کا اختلاف باعثِ رحمت ہے۔

سوال: ہمارے ہاں تصوف کے نام پر بہت سی خرافات نے جنم لیا، شاید یہی وجہ ہے کہ جدید طبقے کو متاثر کرنے والے کچھ علماء نے اس کی مخالفت کی، یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ کچھ خرابیوں کے ردِعمل میں وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوئے؟

ہارون الرشید: وہ کیسا اسکالر ہے جو ردِعمل میں فیصلہ صادر فرمائے۔ میں اس کو اچھا تجزیہ کار نہیں سمجھتا جو نواز شریف سے چڑکر عمران خان کی بات مان لے کہ نواز شریف دفن ہوچکا اور اس کی قبر پر گھاس اُگ آئی ہے۔ میں نے تو آج لکھا کہ نہ وہ دفن ہوا، نہ اس کی قبر پر گھاس اُگی ہے۔ میرے بڑے بھائی میاں محمد یٰسین کا مولانا مودودی کے ساتھ کافی ملنا جلنا تھا۔ مولانا مودودی سے انہوں نے کہا کہ ہم تصوف کی کیوں مخالفت کریں؟ سید صاحب نے فرمایا: ’’اس راستے میں ایسا ایسا اژدھا پڑا ہے کہ آپ کا ایمان ہی ہڑپ کرجائے‘‘ تو اس اژدھا سے بچیں نا، حالانکہ اس حد تک مولانا تصوف کے قائل تو ضرور تھے کہ کشف المحجوب کا ترجمہ کرایا اور اپنے عزیز ترین شاگرد میاں طفیل محمد سے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ تصوف کا جو طریق رائج رہا ہے، وہ آج نہیں چل سکتا۔ پروفیسر احمد رفیق اختر نے بھی یہی کہا کہ یہ انداز آج نہیں چل سکتا، بیعت نہیں ہوسکتی، بحث ہوگی۔ یہ سرمنڈوانے کی رسم وغیرہ سب اُس زمانے کے لیے موزوں تھا، اب نہیں۔

غامدی مکتب کے ایک معروف ’’مدعی‘‘ نے، جو خود کو امام زمانہ سمجھتا ہے، نے سب کے سامنے مجھ ناچیز سے کہا: ’’اپنے کالموں میں حدیث نہ لکھا کرو۔‘‘ یہ لوگ حدیث کو مانتے نہیں اور دعویٰ ہے کہ مانتے ہیں۔ غلام احمد پرویز کی طرح جرات دکھائیں کہ ہم نہیں مانتے۔

اسلام کے ابتدائی دو سو سال تک ہمیں بیعت کا ایسا کوئی سلسلہ نہیں ملتا، پہلا آدمی جس نے تربیت کی بیعت لی، وہ جنیدِ بغداد ہیں، سید الطائفہ۔ اس لیے نہیں کہ میری اطاعت کرو۔ کس نے کہہ دیا کہ صوفی یہ کہتا ہے میری اطاعت کرو، آپ میرے ساتھ پروفیسر احمد رفیق اختر کے پاس چلیں اور دیکھیں کس خندہ پیشانی سے اختلافِ رائے کو قبول کیا جاتا ہے۔ بعض باتیں جن پر ہم دلائل دے سکے، انہوں نے مان لیں۔ شاگردوں کی بھی مان لیتے ہیں۔ کسی کی بھی مان لیتے ہیں۔ شرط یہ ہے وہ دلیل دے سکے۔ جتنا ہمارا دائرہ کار تھا، ہمارا جو مبلغ علم تھا، اس پر ہم نے ان سے بحث کی۔ میں نے پروفیسر صاحب سے کہا کہ آپ مولانا مودودی کے بارے میں کہتے ہیں، انہوں نے جہادِ کشمیر کو حرام قرار دیا تھا۔ جی نہیں، انہوں نے محض ایک اصول بیان کیا تھا کہ ریاست کو اعلان کرنا چاہیے۔ اس پر بڑی بحث ہوئی، میں نے تلخی سے بات کی بلکہ کسی قدر بدتمیزی سے، جس پر آج تک شرمندہ ہوں۔ انہوں نے کہا: ’’ازسرنو میں اس کا جائزہ لوں گا۔ انسانی ذہن کبھی تعصبات سے آزاد نہیں ہوتا، ممکن ہے میری رائے غلط ہو۔‘‘ ایک زمانہ گزرا، پھر کبھی انہوں نے یہ بات نہ کہی۔

رہ گئے جاہل صوفی، تو شمس تبریز نے کہا تھا کہ ’’دنیا میں اتنے جعلی صوفی ہوتے ہیں، جتنے کہ آسمان پر ستارے۔‘‘ لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ تصوف بذاتِ خود غلط ہے۔ ہر روز ہزار جاہل مولوی ہم دیکھتے ہیں، ٹی وی پر چنگھاڑتے ہوئے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم علماء کے وجود سے انکار کردیں۔ تصوف کی تعریف کیا ہے؟ کسی نے کہا: ’’التصوف الحرّیۃ‘‘ تصوف حریت اور آزادی ہے، یعنی مکروہاتِ دنیا سے آزادی، فکر کی آزادی، گناہ سے آزادی، غم وفکر سے رہائی: ’’اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون‘‘ پروفیسر احمد رفیق کی تشریح یہ ہے: ’’تصوف شریعت کی نیت ہے۔‘‘

مولانا مودودی ایک عظیم نثرنگار ہیں۔ اصلاحی صاحب کی نثر ان سے بھی بہتر ہے۔ ان میں بڑی کاٹ ہے۔ مولانا مودودی کی نثر میں شائستگی بہت ہے۔

عامر ہاشم خاکوانی اور جمال عبداللہ عثمان

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب overconfident ہوجاتے تھے۔ وہ بڑے عالم تھے، انہوں نے ایسی نثر لکھی ہے کہ آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ اصلاحی صاحب کہتے ہیں کہ ’’اہل تصوف طریقت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں‘‘ جناب! یہ اسی معنی میں ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ شریعت کی روح کو ملحوظ رکھا جائے۔ لفظ نہیں، اصطلاح کے معروف اور مطلوب معانی دیکھے جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی والے اسلام کو تحریک اسلامی کہتے ہیں، تو کیا اس سے کوئی الگ مذہب مراد لیا جائے؟ نظام مصطفی کا مطلب کیا فقط سیرتِ رسولِ اکرمؐ ہے؟ جنیدِ بغداد سے لے کر، شیخِ ہجویر اور خواجہ نظام الدین اولیاء سے لے کر خواجہ مہر علی شاہ تک۔۔۔ ہماری کتنے ہی عظیم المرتبت ہیں جو تصوف کی دنیا سے اٹھے۔ جن کے ہاتھ پر لاکھوں کروڑوں مسلمان ہوئے۔ اگر ان سب کو اُٹھا پھینکیں تو باقی کیا بچے گا؟ جو کچھ بچے گا اس میں بے شک عظیم الشان علماء کرام بھی ہیں، مگر بہت سے جاوید غامدی بھی ہوں گے۔

امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں کشف المحجوب میں لکھا ہے کہ ’’ہم اہل ذکر کے بھی وہ امام ہیں۔‘‘ یہ ہے معیار۔ پروفیسر احمد رفیق اختر نے کب کسی سے بیعت لی؟ انہوں نے اپنے تجربے سے سیکھا کہ اسمائے ربانی، مسنون دُعائیں پڑھنی چاہییں۔ قرآن اور حدیث کو خود پڑھنا چاہیے، بہت توجہ اور گہرائی سے۔ اپنے عہد کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے۔ فرقہ واریت نہ ہونی چاہیے۔ اپنے شاگردوں کو وہ کیا سکھاتے ہیں۔ جو شخص ہر وقت اللہ کو یاد نہ رکھے گا، بخل سے نجات نہ پائے گا، وہ دین کی روح کو سمجھ نہیں سکے گا۔ بہت سلیقے سے، بہت انس اور الفت کے ساتھ۔ کمال ہے، غامدی صاحب کہتے ہیں کہ حدیث تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ باقی بچے گا کیا؟ سیرت کیا ہے؟ حدیث ہے نا؟ قرآن تو سیرت کے بغیر ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ غامدی مکتب کے ایک معروف ’’مدعی‘‘ نے، جو خود کو امام زمانہ سمجھتا ہے، نے سب کے سامنے مجھ ناچیز سے کہا: ’’اپنے کالموں میں حدیث نہ لکھا کرو۔‘‘ یہ لوگ حدیث کو مانتے نہیں اور دعویٰ ہے کہ مانتے ہیں۔ غلام احمد پرویز کی طرح جرات دکھائیں کہ ہم نہیں مانتے۔

اگر عشق اور عقل کے فلسفے میں ہم علامہ اقبال کے موقف کو تسلیم نہ کریں تو اس کے باوجود وہ علمی مجدد کے مقام پر ہی فائز رہیں گے، کوئی دوسرا ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔

سوال: غامدی صاحب حدیث کا انکار تو نہیں کرتے، ان کا کہنا یہ ہے کہ جو احادیث قرآن سے متصادم ہیں، انہیں چھوڑدینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت میں سیکولرازم کی حمایت کیوں کی جاتی ہے؟ محمد عامر خاکوانی

ہارون الرشید: اس کا فیصلہ غامدی صاحب تو نہیں کرسکتے۔ شامی صاحب کی موجودگی میں ان سے پوچھا تھا کہ یہ جو امریکا نے حدود پر بحث چھیڑی ہے، آپ اس کا ایندھن کیوں بن رہے ہیں؟ بولے: جماعت اسلامی والے بھی تو جاتے ہیں۔ عرض کیا: کب سے آپ ان کی دانائی کے قائل ہوگئے؟ اس پر وقاص شاہ بولے: ارے بھائی! ہمیں تو معاف کردو۔ بھائی! آپ کی بصیرت پر اعتماد کیسے کیا جاسکتا ہے؟ آپ کہاں کے امام ابوحنیفہ ہیں، ان کا تو دعویٰ ہی نہیں تھا، یہ تو دعویٰ بھی رکھتے ہیں۔ جب آدمی کو اپنے آپ سے محبت ہوجاتی ہے، وہ اپنا تجزیہ نہیں کرسکتا، دوسروں کو کیا، زمانہ کو کیا، علوم کو کیا، وہ خود کو بھی سمجھ نہیں سکتا۔ غامدی صاحب کو تو اللہ نے مسکرانے کی بھی توفیق نہیں دی، اپنا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کہاں سے آئے گی؟ اختلاف رائے ہمیشہ ہوتا ہے۔ احمد جاوید صاحب بڑے آدمی ہیں، لیکن ہم ان سے بھی اختلاف کی جسارت کرتے ہیں۔ علامہ اقبال سے عشق اور عقل کے فلسفے پر مجھ معمولی طالب علم کو اختلاف ہے۔ بڑے سے بڑا صاحبِ علم کسی چھوٹے بڑے مغالطے کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ اختلاف اور قسم کے ہیں۔ اس سے اقبالؔ کی عظمت میں کمی نہیں آتی۔ غزالیؒ کو حدیث میں کمزور سمجھا گیا، اس کے باوجود وہ امام غزالیؒ ہیں۔ اگر عشق اور عقل کے فلسفے میں ہم علامہ اقبال کے موقف کو تسلیم نہ کریں تو اس کے باوجود وہ علمی مجدد کے مقام پر ہی فائز رہیں گے، کوئی دوسرا ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔

اب اس مخلوق کو کیا کہیے۔ کہتے ہیں کہ مولانا حسین احمد مدنی کا نام بغیر وضو کے نہیں لینا چاہیے۔ انھیں شیخ العرب والعجم کہتے ہیں، ایسا کیا کارنامہ انہوں نے انجام دیا ہے؟ کوئی ایک جملہ ہی سنا دیجیے۔

سوال: مولانا مودودی، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا احسن اصلاحی میں کس کی نثر سے آپ متاثر ہیں؟

ہارون الرشید: مولانا مودودی ایک عظیم نثرنگار ہیں۔ اصلاحی صاحب کی نثر ان سے بھی بہتر ہے۔ ان میں بڑی کاٹ ہے۔ مولانا مودودی کی نثر میں شائستگی بہت ہے۔ اصلاحی صاحب نے جماعت اسلامی سے علیحدگی کے ہنگام جو خط مولانا مودودی کو لکھا تھا، آدمی عش عش کر اُٹھتا ہے۔ یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش! ہمیں بھی ایسی نثر لکھنے کی توفیق ہو۔ عربی زبان پر ان کی دسترس بہت زیادہ تھی۔ ان کا potential بہت زیادہ تھا، پوری طرح بروئے کار نہ آسکا۔ شاید راجپوتی شان کی وجہ سے۔ پیدائشی پردہ، ایک فصیح آدمی تھے۔ میرا خیال ہے کہ عربوں کے بعد راجپوت سب سے زیادہ فصیح ہوتے ہیں۔۔۔ بے باک!

میں ابوالکلام آزاد کا قائل نہیں۔ ان کے اندر خلوص نظر نہیں آتا، خودپسندی البتہ۔ انہیں بس اپنے علم کی ہیبت جتانا ہے۔ خودستائی کے امام تھے۔ ان کا بس نہ چلتا تھا کہ خود اپنی ہی تقدیر کو سجدہ کریں۔

جہاں تک مولانا ابوالکلام آزاد کا تعلق ہے تو یہ بیدل اور سعدی کا موازنہ کرنے کے مترادف ہے۔ ابوالکلام آزاد مشکل پسند ہیں۔ غیرضروری طور پر عربی اور فارسی۔ انہیں کوئی پروا نہیں کہ ان کا قاری بات سمجھتا ہے یا نہیں، انہیں بس اپنے علم کی ہیبت جتانا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ واقعہ تراش بھی لیتے۔ مثلاً: اپنی تفسیر کے انتساب میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک آدمی مجھ سے ایک آیت سمجھنے کے لیے قندھار سے پیدل چل کر آیا۔ اگر مجھے اس کا نام یاد ہوتا تو میں یہ انتساب اس کے نام کرتا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایسا کوئی آدمی سرے سے آیا ہی نہیں۔ یا پھر وہ کہتے ہیں کہ میں تاج محل کی چھت پر بیٹھ کر ستار بجایا کرتا۔ کبھی کسی نے انہیں آگرہ میں دیکھا ہی نہیں۔ ان کے ساتھ کبھی کوئی گیا ہی نہیں، انہوں نے کبھی اس کا ذکر ہی کسی سے نہیں کیا کہ ستار بجانے کے لیے تاج محل کی چھت پر جایا کرتے۔ پھر ایسی بھی کیا آفت پڑی تھی کہ تاج محل کی چھت پر ستار بجائیں۔ تاج محل نیچے ہے، آپ اسے دیکھ ہی نہیں رہے اور چھت پر ہلکان ہورہے ہیں۔ بھائی! میں تو ان کا قائل نہیں۔ مجھے آزاد کے اندر خلوص بھی نظر نہیں آتا، خودپسندی البتہ۔ یہ کیا کہ آدمی ہر وقت اپنی تعریف ہی کرتا رہے اور وہ بھی اس پائے کا آدمی۔ ہاں! ابوالکلام کا وصف یہ ہے کہ عطاء اللہ شاہ بخاری اور محمد علی جوہر کی طرح برصغیر کے خس وخاشاک میں انہوں نے آگ بھڑکائی۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ میں اقبالؔ کو تلاش کررہا ہوں، مجھے ملتا ہی نہیں۔ ’’اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں۔‘‘ ’’اقبال بڑا اُپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے/ گفتار کا غازی تو یہ بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا۔‘‘ آدمی آخر یہ کیوں نہ کہے کہ مجھ میں یہ خامی ہے۔ ابوالکلام خودستائی کے امام تھے۔ ان کا بس نہ چلتا تھا کہ خود اپنی ہی تقدیر کو سجدہ کریں۔ اقبالؔ اسی لیے ان سے دور رہے۔ قائداعظم محمد علی جناح بھی۔

جماعت اسلامی کا کوئی مستقبل نہیں۔ کارکن خدمت خلق میں بہت جی لگاتا ہے۔ مگر یہ تجربے نے ثابت کردیا کہ سیاست میں یہ لوگ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ مولانا حسین احمد مدنی کا نام بغیر وضو کے نہیں لینا چاہیے۔ اب اس مخلوق کو کیا کہیے۔کیا کہیں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کا نام وضو کے بغیر نہیں لیا جاسکتا۔ ہم درود پڑھتے ہیں تو اس کے لیے وضو کرتے ہیں؟ قرآن اہلِ ذکر کے بارے میں کہتا ہے کہ ’’اُٹھتے بیٹھے وہ اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔‘‘ حسین احمد مدنی کو شیخ العرب والعجم کہتے ہیں، عرب وعجم کے شیخ تو بس آخری رسول ہی تھے یا سیدنا ابراہیم علیہ السلام، جن کے بارے میں اللہ نے کہا: میں آپ کو تمام انسانوں کا امام بنادوں گا۔‘‘ ضرور مولانا حسین احمد مدنی متقی آدمی ہوں گے، قابل صد احترام، مگر ایسا کیا کارنامہ انہوں نے انجام دیا ہے؟ کوئی ایک جملہ ہی سنادیجیے۔

سوال: جماعت اسلامی انتخابی میدان میں تنزلی کا شکار نظر آتی ہے۔ جماعت اسلامی کا مستقبل آپ کیا دیکھتے ہیں؟

ہارون الرشید: آخری تجزیے میں جماعت اسلامی کا کوئی مستقبل نہیں۔ آئن اسٹائن نے کہا تھا ایک چیز تجربے سے ثابت ہوجائے تو دُہرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پارٹی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی مخلص تھے۔ بے حد منظم اور شائستہ۔ اپنی جیب سے اللہ کی مخلوق پر خرچ کرتے تھے۔ پارٹی کے لیے قربانی دیتے رہے۔ ایسی بے انتہا محنت کی کہ رات کی نیند بارہا قربان کردی۔ رات بھر کام کرتے، فجر کے بعد کچھ دیر کو سوئے اور پھر کام شروع کیا۔ ان کے ساتھی مخلص تھے، کارکن مخلص تھے۔ جب وہ کچھ نہ کرسکے تو اب کون کرے گا؟ سراج الحق؟ جنہیں یہ معلوم نہیں کہ کیسا ایک لیڈر کا لباس ہونا چاہیے؟ جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کوئی قبائلی نہیں، قومی راہنما ہے۔ جسے یہ معلوم نہیں کہ ٹوپی سیدھی پہنی جائے یا ٹیڑھی؟ ہاں! سید منور حسن سے کچھ زیادہ سمجھدار ہیں۔ کچھ زیادہ جذباتی توازن رکھتے ہیں۔

 

کیا طالبان نے افغانستان میں اسلامی نظام نافذ کیا؟ ڈاڑھیاں ماپتے تھے۔ بھیک مانگتی برقع پوش عورتوں پر لاٹھیاں برساتے۔ اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی کسی قاضی نے کسی ڈاڑھی نہ رکھنے والے کو سزا دی نہ تھی۔

جماعت اسلامی کا کارکن خدمت خلق میں بہت جی لگاتا ہے۔ زلزلہ یا سیلاب آئے تو فوراً پہنچ جاتا ہے۔ نظم وضبط کا بہت پابند۔ مگر یہ تجربے نے ثابت کردیا کہ سیاست میں یہ لوگ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی، وہ بھی فضل الرحمن کے انگوٹھے تلے؟ قائداعظم ان کے معیار پر پورے نہیں اُترے، فضل الرحمن سے اتحاد کرلیا۔ فضل الرحمن کے ساتھ اتحاد ہوسکتا ہے، نواز شریف کے ساتھ کیوں نہیں؟ نواز شریف یا زرداری فضل الرحمن سے بدتر تو نہیں! میں سمجھتا ہوں پاکستان میں مذہبی سیاست کی ضرورت ہی نہیں۔ خود کو یہ تباہ کررہے ہیں، معاشرے کو بانٹ رہے ہیں۔ خلق خدا کی خدمت کریں۔ اللہ توفیق دے تو لوگوں کو تعلیم دیں۔ ان کی تربیت کریں۔ مگر اس کے لیے تو حسنِ کردار کی ضرورت ہوگی، علم کی ضرورت ہوگی۔ مولانا فضل الرحمن تو نہیں کرسکتے۔ اسلامی آئین کے لیے مولانا مودودی کا پریشر رہا۔ دوسرے علمائے کرام کا بھی۔ قادیانیوں کو علماء نے اقلیت قرار دلوایا، سوشلزم کی اس وقت مزاحمت کی جب وہ طوفان کی طرح امڈا چلا آتا۔

ایران میں کسی کو اللہ اور اس کے رسول کا نام لیتے نہ سنا۔ حضرت علیؓ اور سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کا بھی نہیں۔ کسی کی زبان سے امام حسنؓ اور امام حسینؓ کا نام نہ سنا۔ خمینی اور انقلاب، بس خمینی اور انقلاب!

رہ گیا مفتی محمود کا قبیلہ تو یہ 1970ء میں سوشلسٹوں کی حمایت فرمارہا تھا۔ اسی طرح شورش کاشمیری نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ کانگریس سے مولانا مظہر علی اظہر نے روپیہ وصول کیا۔ وہی صاحب جو قائداعظم کو کافر اعظم کہا کرتے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو علم ہوا تو روتے روتے ان کی ڈاڑھی آنسوؤں سے بھیگ گئی۔ مولانا احمد علی لاہوری کے زہد پر مولانا مودودی کو کامل یقین تھا۔ برسبیل تذکرہ، میرے والد ان کے مرید تھے، ذاتی زندگی میں اچھے ہوں گے۔ میں نے ان کی تفسیر پڑھنے کی کوشش کی تو کانوں کو ہاتھ لگایا۔ اس میں آپ نے فرمایا: میں نے یہ تفسیر فرقہ مودودیہ کی پھیلائی ہوئی گمراہیوں کو دور کرنے کے لیے لکھی ہے۔ مولانا مودودی کی تفسیر سے کون سی گمراہی پھیلی ہے؟قاضی حسین احمد امیر بنے تو جماعت اسلامی دیوبند کے قریب آگئی۔ اب قریب تر ہے۔ خیر! قاضی صاحب دوسرے مکاتب فکر کے باب میں بھی نرمی اور کشادہ دلی کے قائل تھے۔

سوال یہ ہے کہ یہ مذہبی جماعتیں اقتدار میں آکر کریں گی کیا؟ سیاست کا ایجنڈا بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا میں اسکولوں کے اندر ترجمہ قرآن شروع کروادیا۔ مذہبی جماعتیں اس سے زیادہ کیا کرلیں گی؟ مولانا احمد علی لاہوری نے فرمایا تھا ’’اگر ظہر کے وقت اقتدار ملا تو عصر تک اسلامی نظام نافذ کردوں گا۔ یہ لوگ اسلامی قوانین کو نظامِ اسلامی سمجھتے ہیں۔ اسلامی قوانین اسلامی نظام نہیں۔ معاشرے کا اسلام کے سانچے میں ڈھلنا ضروری ہے، جیسا کہ جناب احمد جاوید نے دلیل ڈاٹ پی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں نہایت خوبی کے ساتھ وضاحت کی۔ آپ سوڈان جائیں تو آپ کو علمی تحریکوں کا اثر دکھائی دے گا، ملائشیا میں، ترکی میں۔

سعودی عرب کی حالت دیکھیے، معاشرے کے اندر کتنی غلاظت ہے، آپ پریشان ہوجائیں گے۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری حکومت آئی تو ہم یہ کرڈالیں گے، وہ کرڈالیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی میں انہوں نے کیا کیا؟ کیا طالبان نے افغانستان میں اسلامی نظام نافذ کیا؟ ڈاڑھیاں ماپتے تھے۔ بھیک مانگتی برقع پوش عورتوں پر لاٹھیاں برساتے۔ اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی کسی قاضی نے کسی ڈاڑھی نہ رکھنے والے کو سزا دی نہ تھی۔ ایرانی مُلا نے کیا کیا؟ متعصب ملا نے بیوی کو شوہر اور شوہر کو بیوی کا جاسوس بنادیا۔ میں ایران گیا تو میں نے سوچا تف ہے ایسے نظام پر۔ اسمبلی میں بریفنگ دے رہے تھے تو میں نوٹس لینے کے بہانے اپنا کالم لکھتا رہا۔ جب جھوٹ ہی سے شروع کیا کہ ہماری اسمبلی بالکل آزاد ہے تو میں کیوں سنوں؟ ایران میں کسی کو اللہ اور اس کے رسول کا نام لیتے نہ سنا۔ حضرت علیؓ اور سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کا بھی نہیں۔ کسی کی زبان سے امام حسنؓ اور امام حسینؓ کا نام نہ سنا۔ خمینی اور انقلاب، بس خمینی اور انقلاب! غزالیؒ کی قبر کا پتا نہیں، ایرانی قوم پرستی کے علمبردار طوسی کا عظیم الشان مزار۔ میں نے سوچا ان لوگوں کا کیا بنے گا؟ فارسی شاعری سے واسطہ رہا نہ اپنی قدیم تہذیب سے۔ قاہرہ سے راہ ورسم رکھنے کے روادار، حجاز نہ ترکوں سے۔ پاکستانیوں سے نہ ہی انڈونیشیا سے۔ ان لوگوں نے اپنی الگ ہی کائنات بناڈالی۔ ایک ایرانی لڑکی مبتلائے مصیبت تھی، ایک دوست نے کہا کسی بزرگ سے کہیے اس کے لیے دُعا تجویز کریں۔ دُعا بھجوائی اس کے جاننے والوں کے توسط سے، اس نے کہا: ہمارا اچھا بھلا مذہب تھا، جبراً ہمیں مسلمان بنادیا گیا۔ میں نے اسے پیغام بھیجا: کیا اللہ نے تم سے درخواست کی کہ تم مسلمان رہو یا کسی اور نے؟ تم آزاد ہو۔ ایران سے دور ایک دوسرے ملک میں رہتی ہو، پھر سے زرتشت کا مذہب اختیار کرلو۔ کس نے روکا ہے تمہیں؟

ترک بہتر ہیں، لیکن اس کے حکمران بھی کرپٹ ہوگئے۔ ہاں وہ آزاد لوگ ہیں، سوچتا ہوں کہ کب تک سلطان طیب اردوان کو گوارا کریں گے؟

سعودی عرب کی حالت دیکھیے، معاشرے کے اندر کتنی غلاظت ہے آپ پریشان ہوجائیں گے۔ جب آپ جدہ یا ریاض سے امریکا جانے والے طیارے میں سوار ہوتے ہیں تو کچھ عرب اپنا لباس فوراً ہی تبدیل کرلیتے ہیں۔ عورتیں اپنی چادر اُتار پھینکتی ہیں۔ طالبان دور میں افغانستان سے ایک جہاز اغوا ہوکر لندن گیا تو مردوں نے ڈاڑھیاں منڈوادیں، عورتوں نے برقعے اُتار پھینکے۔ یہ ہے ان کا اسلام؟ ترک بہتر ہیں، لیکن اس کے حکمران بھی کرپٹ ہوگئے۔ ہاں وہ آزاد لوگ ہیں، سوچتا ہوں کہ کب تک سلطان طیب اردوان کو گوارا کریں گے؟

تبلیغی جماعت میں لوگ بیس تیس سال گزاردیتے ہیں، مگر کورے، مذہب کو نہیں سمجھ پاتے۔

اسلام اگر آپ کی روح میں نہیں تو کچھ بھی حاصل نہیں۔ اسلام تھا محمد علی جناح میں۔ عبادات کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ محمد علی جناح مگر خیانت نہ کرتے تھے؟ کیا کبھی جھوٹ بولا، کبھی وعدہ شکنی کی؟ کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ ڈھونڈکر بتادیجیے۔ اسی لیے مولانا شبیر احمد عثمانی نے کہا تھا کہ وہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے مسلمان تھے۔

ہمارے ہاں تین چارسو برس کی فرقہ پرستی اور اکابر پرستی کی جو روایات ہیں، ان سے لوگ جب تک باہر نہ نکلیں گے، مسئلہ حل نہ ہوگا۔ کوئی اقبالؔ کی طرح اپنے زمانے کو سمجھے۔ تبلیغی جماعت میں لوگ بیس تیس سال گزاردیتے ہیں، مگر کورے، مذہب کو نہیں سمجھ پاتے۔ جو کتاب انہیں دی جاتی ہے، وہ قصے کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ عام لوگوں کو براہِ راست قرآن پڑھنے سے منع کرتے ہیں۔ حالانکہ خود کتاب مقدس میں لکھا ہے ’’ولقد یسرنا القرآن‘‘ ’’اور بے شک قرآن کو ہم نے آسان بنایاہے۔‘‘

اب چاہے لاکھوں کا اجتماع کرلیں، نتیجہ کیا نکلے گا؟ راہنما تو صرف قرآن ہے۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو پھر آپ کا کوئی فرقہ نہیں رہتا۔ سیرت کا مطالعہ بھی لوگ کم ہی کرتے ہیں۔ امام زین العابدینؒ فرمایا کرتے: ’’اس طرح ہم سیرت پڑھا کرتے جیسے قرآن۔‘‘ پچھلی صدیوں کے ملبے سے ہمیں نکلنا چاہیے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان کی نفی کرتے رہیں، ان سے لڑتے جھگڑتے رہیں، مگر سمجھانا تو چاہیے۔ کھل کر بات تو کرنی چاہیے۔

پچھلی صدیوں میں برصغیر کے اکثر امام ایسے ہیں کہ ان کی گٹھڑی سر سے اُتارکر دریائے سندھ میں پھینک دینی چاہیے۔ قرآن پڑھیے، حدیث پڑھیے، سب علماء کو پڑھا جائے، کوئی حرج نہیں، لیکن سر پر سوار نہ کریں۔ معیارِ حق وہی ایک ہے، اللہ کے آخری رسول ﷺ۔ وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طہٰ۔

جنرل کیانی نے پروفیسر احمد رفیق اختر سے وزیرستان آپریشن کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوات سے بھی آسان ہوگا۔ تین چیزیں وزیرستان میں کریں: درے بند کردیں، بلندیوں پر قبضہ کرلیں، لباس اور خوراک کا خیال رکھیں۔ جنرل کیانی حیران ہوئے۔

سوال: جنرل کیانی کے ساتھ آپ کے تعلق کا کافی چرچا رہتا ہے، ان سے تعلق کیسے بنا اور انہیں کیسا پایا؟
وہ ’’ناتمام‘‘ کے قاری تھے۔ کئی اور کالم بھی پابندی سے پڑھا کرتے۔ جنرل کیانی بہت مطالعہ کرنے والے آدمی ہیں۔ ایک بڑی شاندار لائبریری رکھتے ہیں۔ بے شمار لائبریریاں میں نے دیکھی ہیں، مگر ان کی ایک خصوصیت ہے، چالیس سال پہلے لکھی ہوئی کتاب اٹھائیے، نئی معلوم ہوگی۔ اس کا راز انہوں نے مجھے بتایا، تفصیل پھر کبھی۔ ہاں! فیصلے میں کبھی تاخیر کردیتے۔ لوگ جنرل کیانی کو سمجھے نہیں۔

سوات میں صورتِ حال خطرناک تھی۔ 20 اخبار نویسوں کو انہوں نے بلایا۔ مجھ سے پوچھا، سگریٹ پیجیے گا۔ میں نے عرض کیا: اپنی ڈبیا میں گھر بھول آیا ہوں، آپ کے ساتھ والی کرسی پر اسی لیے بیٹھا ہوں۔ کیانی صاحب بہت سگریٹ پیتے ہیں۔ میں ہر روز 4 سے 5 سگریٹ پیتا ہوں۔ ایک بار ان سے پوچھا ہر روز کتنے سگریٹ آپ پی لیتے ہیں؟ کہا میں گنتا نہیں۔ میں نے کہا: جنرل صاحب! اس ہفتے پندرہ پیکٹ آپ نے پیے۔ وہ حیرت زدہ۔ اصل میں جو صاحب جہلم کی فیکٹری سے تازہ سگریٹ ان کے لیے لایا کرتے، کبھی میں بھی اسی سے حاصل کرتا۔ پروفیسر احمد رفیق اختر بھی ڈیڑھ پیکٹ روزانہ پی جاتے ہیں۔ دونوں کی ایک اور قدر مشترک یہ ہے کہ تین چار گھنٹے سے زیادہ نہیں سوتے۔ پروفیسر صاحب دوسرے پہر سوتے اور تیسرے میں جاگ اٹھتے ہیں۔ ساری رات لائبریری میں بتاکر، جنرل صاحب ساڑھے تین پونے چار بجے بستر پر لیٹتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ساڑھے سات بجے جاگ اٹھتے ہیں۔ پورے آٹھ بجے وہ دفتر میں پائے جاتے۔ شام میں ایک آدھ گھنٹہ البتہ آرام کرتے اور ورزش بھی۔ پروفیسر صاحب صبح جاگ اُٹھنے کے بعد کبھی آرام نہیں کرتے۔

پہلی ہی ملاقات میں انہیں مشورہ دیا کہ فلاں صاحب سے ملیں۔ جنرل کیانی نے پروفیسر احمد رفیق اختر سے وزیرستان آپریشن کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوات سے بھی آسان ہوگا۔ جنرل صاحب سوات میں بھی گریزاں تھے، میں نے ان سے کہا کہ آپ پروفیسر صاحب سے ملیں۔ اگر تاریخ کے بہترین آپریشنز کا ذکر کریں تو 90 دن کا یہ آپریشن ان میں شامل ہوگا۔ تین ماہ میں لوگ واپس اپنے گھروں میں جابسے۔ پروفیسر صاحب نے انہیں کہا کہ تین چیزیں وزیرستان میں کریں: درے بند کردیں، بلندیوں پر قبضہ کرلیں، لباس اور خوراک کا خیال رکھیں۔ جنرل کیانی حیران ہوئے۔ کہا کم وبیش یہی کچھ ہم سوچ رہے تھے۔ آپ فوجی نہیں، آپ کو کیسے اندازہ ہوا؟ پروفیسر صاحب نے کہا: ظہیر الدین بابر نے تزکِ بابری میں یہی لکھا ہے بلندیوں پر قبضہ اور درے بند۔ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بعد دہشت گردی میں 80 فیصد کمی آئی۔ اس سے پہلے ہر ہفتے تین سے پانچ بڑے دھماکے ہوا کرتے۔

اس دلچسپ اور تہلکہ خیز انٹرویو کا دوسرا اور آخری حصہ پڑھیں۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • قاضی صاحب کا یہ انداز نہیں تھا کہ محض شک کی بنیاد پر کسی کوقطعی طور پر قادیانی قرار دیں۔ البتہ کسی شخص کے بارےمیں کسی نے بتایا ھو تو اس کا اظہار کردیتے تھےکہ فلاں شخص کے بارے میں سنا ھے۔ واللہ اعلم۔

  • شاندار انٹرویو پر دلیل ڈاٹ کام، جناب عامر ہاشم خاکوانی اور برادر عزیز جمال عبدللہ مبارکباد کے مستحق ہیں ، بہت مربوط اور رواں انٹرویو ،جس میں ظاہر ہے ہارون صاحب کے حسن بیاں کا بھی برا دخل ہے ..صحافتی کرئیر والا حصّہ ہم ایسے طالب علموں کے لیے بہت دلچسپی کا سامان رکھتا ہے ، بلاشبہ ہارون صاحب منفرد اور صاحب طرز کالم نگار ہیں جو قارئین اور اب ناظرین کا بہت وسیع حلقہ رکھتے ہیں ، کچھ تضادات مگر ھمارے ممدوح کی گفتگو سے عیاں ہیں ، وہ خود پسندی کو رد کرتے ہیں مگر خود نرگسیت کا شکار ہیں ، جو گفتگو سے آشکار ہے ..اپنی پسند ناپسند کے معاملے میں اعتدال کا دامن چھوڑ دیتے ہیں ..بعض شخصیات کے حوالے سے ان کے تبصرے اس انتہا پسندانہ عنصر کو نمایاں کرتے ہیں ..مولاناآزاد سے منسوب قندھار والا واقعہ خاصا دلچسپ ہے ، اس سے ملتا جلتا کچھ عرصہ پہلے کا ایک واقعہ یاد آ گیا...ہارون صاحب نے ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ کشمیر سے سید علی گیلانی نے اپنا خاص پیامبر ان کے پاس خصوصی پیغام دے کر بھیجا تھا ، اگلے دن اسی چینل پر آ کر بزرگ سید نے نہ صرف تردید کی بلکہ سخت ناراض بھی ہوئے ...یہ واقعہ محض مماثلت کے باعث بیان کیا گیا ...انٹرویو بہت معلومات افزا اور دلچسپ ہے ، دوسرے حصے کا انتظار رہے گا

  • شاندار انٹرویو! بالخصوص ہارون الرشید صاحب کی دینی فراست و حمیت، اور جرأت و صداقت کا آئینہ دار ہے۔ جاوید غامدی صاحب جیسے منکرین حدیث کو بالکل ایکسپوز کر دیا ہے۔ جاوید غامدی صاحب نے صوفیائے کرام پر تنقید کرتے ہوئے انہیں دین سے ہی خارج کر دیا ہے، اور اس طرح مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو، جو صوفیائے کرام کو صحیح العقیدہ مانتی ہے، دین سے خارج کر دیا۔ ایسا تو فقط مرزا غلام احمد قادیانی اور داعش نے، اور ماضی میں خوارج ہی نے کیا تھا۔ ہارون الرشید صاحب کی جرأت اظہار پر وہ اپنے رب کے ہاں ان شاءاللہ عظیم اجر کے حق دار ہوں گے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے، اور منکرین حدیث اور تکفیری انتہا پسندوں سے محفوظ رکھے۔

  • پہلے پورا انٹرویو پڑھا اور پھر تبصروں پر نظرڈالی
    جناب ہارون الرشید صاحب نے جس طرح سے اپنی زندگی کے روزوشب کی داستان بیان کی ہے پڑھ کر نہ صرف لطف آیا بلکہ ان کا زندگی ، اسلام، تصوف، اور کچھ شخصیات کے بارے میں نقطہ نظر بھی پتہ چلا . قارئین کو اس بات کو مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہر شخص کے سوچنے ، دیکھنے اور پرکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اس لئے ہمیں کسی کبھی مصنف کی تحریر میں وہ مضمون تلاش نہ کرنا چاہئے جو صرف اور صرف ہماری راۓ سے مطابقت رکھتا ہو . اختلاف دراصل خوبصورتی ہے . ورنہ اللہ سبحان و تعالی کے لئےہرگز مشکل نہ تھا کہ تمام انسانوں کو ایک ہی سوچ ، فکر اور شخصی خصوصیات عطا فر ما دیتے .
    اگر میرے ان جملوں سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو پیشگی معذرت کا طلبگار ہوں

    • دلیل ٹیم کی اچھی کاوش ہے
      لیکن ہارون الرشید صاحب نے کچھ بے وزن باتیں کر کے اپنا حال بیان کیا
      مولانا مودودی کامیاب نہیں ہوئے تو یہ۔۔۔ کیا ہوں گے
      احمد رفیق اختر صاحب سے بڑا کوئی عالم نہیں
      اس جیسی دیگر باتیں

  • مجموعی طور پہ شاندار انٹرویو ہے ، صحافتی تاریخ کے کئی گوشے سامنے آئے ، کچھ باتوں سے اختلاف ہے وہ تو فطری بات ہے البتہ پروفیسر رفیق اختر کی اتنی اہمیت سمجھ سے بالا ہے ، آذاد صاحب کی بابت ہارون رشید صاحب تعصب کا شکار نظر آتے ہیں ان سے اختلاف البتہ رکھا جاسکتا ہے ۔۔۔
    خاکوانی صاحب جمال بھائی اور دلیل ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے

    • فیض اللہ بھائی، اس میں زیادہ محنت جمال میاں کی ہے ، خاکسار تو صرف انٹرویو کرنے گیا اور وہ بھی زیادہ فوکس مچھلی، دیسی مرغی ، پلائو وشامی کبابوں پر رکھا۔ 🙂

      • جی ہاں وہ تو ماشااللّه آپکی صحت دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کے توجہ کس طرف مرکوز ہے آپکی ۔۔۔۔۔برا نہ مانئے گا ۔ اللہ برکت دے😉

      • عامر خاکوانی صاحب کی انکساری بہت ہی لائق ستا ئش ہے- یہی ان کا بڑا پن ہے-یہ ٹیم اور یہ جذبہ سدا آباد رہے-خاکوانی صاحب سے ایسے مزید "گہرولعل" کھریدنے کی استدعا ہے-

  • کسی جزئی مورد کو دیکھ کر کلی حکم لگانا قرین انصاف نہیں۔ ہارون رشید صاحب ایک مختصر دورے پر ایران تشریف لے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے اسی دورے کو معیار حق وباطل بنایا ہے۔اپنے کسی کالم میں بھی لگ بھگ یہی باتیں وہ لکھ چکے ہیں۔ یقینا ایران میں اسلامی انقلاب کے باوجود بہت سارے معاشرتی مسائل ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ماننی چاہیے کہ شہنشاہیت کا تختہ الٹا کر اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کوشش کی گئی ہے کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہ ہو۔ یہ کہنا کہ ایران میں کہیں محمد، علی ، فاطمہ ، حسن یا حسین کے نام نہیں سنائی دئیے یقینا نا انصافی ہے۔ ہر چیز کا اپنا محل اور مورد ہوتا ہے۔ آپ محرم اور صفر میں ایران چلےجائین حسین، حسین ہی سنائے دے گا۔ اگر انقلاب کی سالگرہ کے دنوں میں چلے جائیں گے تو خمینی کا نام سنائی دے گا۔ جیسے پاکستان میں 14 اگست کے ایام میں قائد اعظم کا نام ہر طرف سنائی دیتا ہے۔
    اس سے بڑھ کی اور آزادی کی ہوگی کہ ایران کے اندر اہل سنت برادران نہایت آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر کو منتخب کرنے اور ان پر ناظر کمیٹی میں اہل سنت کی بھی نمائندگی ہے۔
    باقی انٹرویو میں سیکھنے والی اور مفید بہت ساری باتیں ہیں۔ دلیل کا شکریہ۔