ہم اللہ کو بھُولے کیوں رہتے ہیں؟ اور یاد کیسے رکھیں؟ مجیب الحق حقی

ایمان کے حوالے سے عام خیال یہی ہے کہ یا تو انسان خدا کو مانتا ہے یا پھر اس کا انکار کرتا ہے۔ لیکن ایک تیسری شکل بھی ہے جس میں انسان خدا کو مانتا تو ہے لیکن اُسے نظرانداز کرتا یا بھول جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر ایمان کی اسی تیسری کیفیت میں ہیں۔

دیکھیں جناب!
جب ہم اپنے کام کی جگہ یا کالج و یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارے لاشعور میں وہاں کے مروّجہ قواعد و ضوابط فعّال ہوجاتے ہیں اور ہم ان پر عمل کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے نفع اور نقصان کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور فکر بھی۔ مقامی مقتدر سے یہی فعّال تعلّق ہی ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کسی ماحول میں اپنی ذمّہ داریوں سے آگاہ رہتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک بڑے پیرائے میں ہماری زندگی میں خدا اس طرح پیوست نہیں ہوتا کہ جیسا کہ اس کا حق ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے خدا کے بارے میں ہم ایسا تعلّق کیوں حاصل نہیں کرپاتے؟ اس کے اسباب پر غور کرنے سے ہی ہمیں اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوگا کہ ہم کہاں پر غلطی کر رہے ہوتے ہیں کہ خدا اور اس کے احکامات ہمارے خیال و شعور سے اوجھل ہوجا تے ہیں۔

جدیدیت اور دہریت نے جب مغرب پر یلغار کی تو وہاں کے کچھ مذہبی سوچ والوں نے اپنے ایمان کی بقا کے لیے ایک نیا نظریہ وضع کیا کہ خدا نے کائنات تو بنائی لیکن اس کے بعد وہ اس سے لاتعلّق ہوگیا۔ ان کا خیال یہ بھی رہا کہ خدا کو دلیل اور فطرت کے مطالعے سے سمجھا جانا چاہیے نہ کہ وحی سے۔ اسے ڈی ازم کا نام دیا گیا۔ گویا وحدانیت theism اور دہریت atheism کے بیچ ڈی ازم deism ایک درمیانی سوچ کی شکل میں ترقّی پذیر مغرب میں ابھرا جس میں بدلتے حالات میں عقیدے کے تئیں ذہنی مخمصوں سے جان چھڑائی گئی۔ مغرب کے جدید افکار ان دو شعوری قفل کے اندر مقیّد ہیں، ایک یہ کہ خدا نہیں ہے اور دوسرا کہ خدا ہے مگر کائنات کے معاملات سے لاتعلّق! جبکہ اسلام خدا کی فعّالیت کا علمبردار ہے کہ کائنات کا ہر نظم اللہ کی تخلیق اور اس کے زیرِ قدرت ہے۔

سوچ و فکرکے یہی وہ تین دائرے ہیں جن میں سے کسی میں انسان خود کو مقیّد کرتا ہے۔ انھی دائروں یا مدار میں ہمارے خیال اور تصوّرات تہہ در تہہ یا منزل بہ منزل اپنے دائرہ کار اور قوّتِ پرواز رکھتے ہیں۔
ہماری فکر وسوچ کے پیرائے کیسے متعیّن ہوتے ہیں؟
اس کی ایک مثال روزمرّہ زندگی سے لیتے ہیں۔
اکثر مصروف تجارتی عمارتوں میں لفٹ تو کئی ہوتی ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف لفٹ مختلف منازل کے لیے مخصوص کردی جاتی ہیں۔ جیسے بیس منزلہ عمارت میں کچھ لفٹ چھ منزل تک جاتی ہیں، کچھ دس اور پندرہ یا بیس تک جاتی ہیں۔ حالانکہ ہر لفٹ میں بیس منزل تک جانے کی صلاحیت ہوسکتی ہے لیکن ان کو ایک پروگرام کے تحت پابند کر دیا جاتا ہے اور افراد اپنی منزل کے تئیں کسی لفٹ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسی طرح انسان کے خیالات کی پرواز اس کے عقیدے اور نظریہ کی طابع ہوجاتی ہے۔ گویا ہم خود اطراف میں مستعمل نظریات اور خیالات سے متاثر یا مرعوب ہوکر اپنے ذہن کو پروگرام کر دیتے ہیں کہ ہمارے اعتقاد کے بموجب ہمارا دائرہ کار کیا ہے۔ یہ وہ مائنڈلاک mind-lock یا شعوری قفل ہوتے ہیں جو سوچ کو محدود یا کشادہ کرتے ہیں۔

انسان کے ردّعمل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک بذریعہ حواس خمسہ جو فوری ہوتا ہے اور دوسرا بذریعہ تفکّر جو اسباب و علل کے تئیں وقت لیتا ہے۔ کیونکہ انسان کے زندہ رہنے کی تمنّا اور زندگی جاری رکھنے کے لوازمات کا فوری حصول بھرپور قوّت کے ساتھ انسان کے خیالات پر قابض ہوتے ہیں تو انسان مجبوراً اپنی معاشی و جسمانی ضروریات پورا کرنے کے لیے تمام حواسی صلاحیت انھی کی تگ و دو پر مرتکز کرتا ہے۔ اس کشاکش میں خالق، وجود اور تخلیق کے حوالے سے سوالات کو اس لیے بھلا بیٹھتا ہے کہ ان کا اس کی بقا سے براہ راست کوئی تعلّق نہیں ہوتا۔ ڈی ازم اور دہریت ایسے ہی فکری حصار ہیں جہاں انسانی خیالات تفکّر کے محض مادی مدار یا physical-phenomenon میں گردش کرتے ہیں یعنی فکر اپنی دلیل صرف حواس سے لیتی ہے۔ اس وجہ سے انسان خدا اور اپنے وجود کے حوالے سے ناحل پذیر سوالات کو ایک کنارے کرکے "جہاں ہے اور جیسے ہے" کی بنیاد پر کائناتی حقائق کو قبول کرکے اپنی خوشحالی کی فکر میں مصروفِ زندگی ہوجاتا ہے۔ ایسے افراد دنیاوی طور پریکٹیکل ہوتے ہیں۔

ا پنی بقا کی اس کاوش کے بھنور میں چکراتا ایک پڑھا لکھا فرد مختلف سائنسی و معاشرتی نظریات سے متاثر ہو کر (ان کے الجھاؤ اور غیر شفّافیت کے باوجود) کسی نظریے کو قبول کر کے ایک رائے یا عقیدہ قائم کر لیتا ہے جس کے زیر اثر ہو کر وہ خود کو تفکّر کے مخصوص فلور کا باسی بنا لیتا ہے جس میں نظریاتی اور علمی مخمصوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے کمزورمنطق، دلیل یا نیم عقلی وضاحتوں کا سہارا لے کر ذہن کو مطمئن کر لیا جاتا ہے۔ ہمارے بہت سے دوست جو جدید نظریات کی ترویج کرتے ہیں، ان میں اکثر ایسے ہی مسلمان ہیں جو وحدانیت اور دہریت کے بیچ میں ڈول رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ایک عام انسان معاشرے کے عمومی رویوں کی پیروی کرتا ہے کیونکہ اس ذہنی رجحان میں انسان کا فوری مطمح نظر دنیاوی فلاح ہوتی ہے یعنی اس کے شعور میں محض دنیا کے فہم کا غلبہ ہوتا ہے اور اسی کے زیراثر اس کے انجام پذیر ہوتے اعمال بھی۔ "اپنے وجود کی بقا" اور "نفسانی خواہشات کی تکمیل کی طلب" وہ فطری مینٹل لاک یا قفل ِذہنی ہیں جوانسان کے مختلف طبقوں کو اپنے حال میں ہی مصروف ومنہمک رکھتے ہیں۔

یہاں ڈی ازم کا تذکرہ اس مقصد کے لیے کیا گیا کہ یہ سوچ ہمارے یہاں بھی شعوری اور لاشعوری طو رپر کسی نہ کسی پیرائے سرایت کر رہی ہے جس میں جدیدیت کو قبول کرتے ہوئے مذہبی عقائد کی گنجائش ذاتی حیثیت میں رکھی جا رہی ہے۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں اور وحدانیت پر یقین بھی رکھتے ہیں لیکن اکثر لوگوں کا عمومی طرزعمل ایسا ہی ہوتا ہے کہ اللہ کائنات کے معاملات سے لاتعلّق ہے اور آخرت کہیں دور پار کی بات ہے۔ وجہ اس کی مادّی ماحول کی اثرانگیزی ہے جس میں آسائشات اور تعیّشات کا حصول مقصد اولیٰ ہوتا ہے اور مزیدپے در پے وارد نو بہ نو معاملات کا جبر ہے کہ اکثر افراد رائج الوقت نظریات کے زیراثر آجاتے ہیں اور ایک رواج پذیر پیرایوں میں ہی سوچتے اور فیصلے کرتے ہیں۔

اس طبقے میں موجود بےعمل مسلمانوں کا ایمان ساکت و غیر متحرّک ہوتا ہے کیونکہ انھیں دین کا علم نہیں ہوتا۔ علم کی اس کمی کی وجہ سے وہ اس بات سے قاصر ہوتے ہیں کہ خالق کے احکامات کی اہمیت سمجھیں اور خالق کی اطاعت کے شعوری فیصلے کرنے کے مناسب مائنڈ لاک یعنی شعوری قفل لگا کر اپنے معاملات کو خالق کی ہدایات کے طابع کر سکیں۔ مثلاً "نماز پڑھنی ہے" کا شعوری قفل ندارد ہوتا ہے۔ اسی طرح حقوق اللہ اور حقوق العباد کے پیرایوں کا نامکمل علم ان کی ادائیگی کے طاقتور شعوری قفل نہیں لگا پاتا اور بندہ ایک بےعمل مسلمان بنا رہتا ہے۔ لیکن ایک عام مسلمان سے ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی محبّت میں غلطاں مؤمن دراصل ایمان کی منزلیں ہیں جن کو شعوری طور پر اپنانے کے لیے جستجو اور عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

اللہ کے عرفان کے خوگر افراد عبدیت کی بلند ترین منازل میں ہیں جہاں کائنات کے اسرار اور خالق کی ذات کا عرفان انسان کو ولی اللہ بنا دیتا ہے۔ ان منازل پر جانے کے لیے کوئی شرط و سفارش کی نہیں، صرف ارادے اور عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک مرحوم بزرگ اور اللہ کے ولی کی یہ بات بہت حیرت انگیز لگی جن کا معمول یہ تھا کہ بقول ان کے ہر کام کے بعد دل میں اللہ کو مخاطب کرکے کہتے تھے کہ،
اے اللہ! اب کیا کروں؟
پھر معاملات کی ادائیگی میں جس کام کی طرف بڑھتے تو سنّت نبی ﷺ سامنے ہوتی۔
اس طرح انھوں نے اپنے ہر معاملے کو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اللہ کی عبادت بنا لیا۔
غالباً یہی تعلّق مع اللہ ہے جو بندگی کی معراج ہو۔ یہ اللہ کی عطا ہے جو کسی بھی فرد کی اللہ کی قربت کی طلب سے منسلک ہے۔ گویا ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو اتنا فعّال کریں کہ ہر چھوٹے بڑے کام سے پہلے یہ خیال آئے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی منشا کیا ہے۔

اللہ کو یاد رکھنے کے لیے ایسی ذہنی کیفیت state-of-mind کے حصول اور ایمان کی جمودی کیفیت سے نکلنے کے لیے اپنے حواس کو مزید فعّال اور کشادہ کرنا ہوگا یعنی آنکھیں مطالعے کے لیے استعمال ہوں، کان اچھے لوگوں کی باتیں سنیں۔ نیک یا برے لوگوں کی صحبت تو ایسی میگنیٹک فیلڈ ہے جو خیالات کو مثبت یا منفی بنانے میں بہت زود اثر ہے۔
یاد رکھیں کہ:
ہر عمل ایک ردّعمل رکھتا ہے، مطالعہ بھی اور صحبت ِدوست بھی۔
غلط نظریات کا مطالعہ بھٹکا سکتا ہے۔
ہر کتاب یا تحریر پڑھنے کی نہیں ہوتی نہ ہر شخص کی صحبت استفادے کی ہوتی ہے۔
کچھ بھی پڑھنے سے پہلے مصنّف کے نظریات کا عمومی علم ضروری ہے اور قربت سے پہلے دوست کے نظریات کا فہم بھی۔
جب تک پورا علم نہ ہو نظریاتی یا مذہبی بحث سے دور رہنا بہتر ہے۔

ابتدا یہ کہ نیک لوگوں میں بیٹھیں کہ ارشاد ہے،
" کوُنُوا مع الصّادقین"
اے ایمان والو! صادقین کے ساتھ بیٹھو!
اپنے حواس خمسہ کے پیچھے چلنے والے نظام کو تو ہر کوئی نہیں جان سکتا لیکن آنکھ کا دیکھنا، کان کا سننا، زبان کا چکھنا، دانت کا چبانا، سانس کا چلنا اور اندرونی نظام کی پیچیدگیوں کو دیکھ کر دن میں کم از کم ایک دفعہ اپنی صحت کی نعمت کا اعتراف یوں تو کرسکتے ہیں کہ:
"میرا رب مجھ پر بہت مہربان ہے"

انسان کے ذہن سے باتیں محو ہوتی رہتی ہیں اسی لیے اشتہارات بار بار دکھائے جاتے ہیں۔
نیک باتوں کی تلقین کی تکرار ہمارے ذہن کو ہوشیار رکھتی ہیں۔
اس کی دلیل خود پانچ وقت کی نمازیں اور ہر رکعت میں الحمد کی تکرار ہے۔
سورۃ عصر کی آمد کے بعد صحابہ ملتے اور جدا ہوتے وقت اس کو دہراتے تھے۔
ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے کہ ایک دوسرے کو یاد دلاتے رہیں کہ ،
انسان بڑے خسارے میں ہے سوائے ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے،
ایک دوسرے کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی تلقین ہمارا اللہ سے تعلّق بحال رکھے گی اور ہم اللہ کو نہیں بھولیں گے۔ اپنے وحدانی ایمان کی پڑتال خود کرتے رہیں کہ روز مرّہ کے معاملات میں ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کو کہاں رکھا ہے۔
نماز کی طرف رغبت نہیں ہو رہی ہو اور اذان کا جواب دینے میں سستی ہو تو اس پکار پر صرف کلمہ پڑھ کر درود تو پڑھا جاسکتا ہے، یہ کم از کم یہی کرلیا جائے۔

اور۔
کیا ہم بھی اللہ سے کلام نہیں کر سکتے؟
کیا یہ مشکل ہوگا کہ صبح اُٹھ کر یا جب یاد آجائے تو ایک دفعہ ہی کہہ اُٹھیں کہ:
"اے اللہ آج کیا کیا کروں؟"
بس پھر دن بھر جو اچھے یا برے کام کی نوبتیں سامنے آتی جائیں تو جانیں کہ اللہ کی طرف سے اچھا اور شیطان کی طرف سے برا۔
پھر فیصلہ تو ہمیں کرنا ہے کہ اسی میں عبادت یا بغاوت ہے۔

باقی جہاں تک اللہ کے عرفان کی بات ہے تو اللہ اپنی قربت کا وسیلہ خود عطا کرتا ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ کچھ اس طرح ہے کہ،
اگربندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑکر جاتا ہوں۔
بس بات یقین کی ہے کہ ہم یہ یاد رکھیں کہ اللہ اپنے وعدے اور الفاظ کے خلاف نہیں کرتا۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔