لسانیت پرستی پر سیاست کرنے والے - مدیحہ ریاض

1947ء میں معرض وجود میں آنے والی ریاست پاکستان کی اساس ہی ہجرت پر مبنی ہے۔ ہجرت کے معنی ہیں ایک سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور اسلامی نقطہ نظر میں اس کا مطلب ہے راہ حق میں اور رب کائنات کی خوشنودی کی غرض سے دورسے مقام پر جانا۔

دنیا کے نقشے پر پاکستان کے ابھرتے ہی برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اس خطے کی طرف ہجرت کی۔ یہ لسانی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلام کے نام پر کی گئی تھی کیونکہ ملک کی تشکیل کا سبب اسلام ہی تھا۔ برصغیر دو حصوں میں بٹ گیا تھا اور یہ بٹوارہ مذہب کی بنیاد پر ہی تھا۔ اگر برصغیر کی تقسیم لسانی بنیاد پر ہوتی تو یقین کیجیے یہ چھوٹے چھوٹے سینکڑوں ٹکڑوں میں بٹ کر اپنی شناخت گنوا بیٹھتا۔

برصغیر میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ ان کے قائدین، عمائدین اور مذہبی رہنماؤں کے نقطہ نظر میں مسلمانوں کے پاس اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنا پڑے گا۔ لیکن آج اس ملک میں تمام تر سیاست لسانیت کی بنیاد پر ہی کی جاتی ہے۔

پاکستان میں لسانیت سیاست دانوں کے لیے کسی گیند سے کم نہیں، جب دل چاہتا ہے وہ اس سے کھیلتے ہیں، بالخصوص مہاجر۔ ایک لفظ جسے ایک مخصوص زبان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ کوئی ان کے عقل کے اندھون کو بتائے کہ مہاجر تو بنگالی بھی ہے، پنجابی بھی، سندھی بھی، ہندکو بھی، گجراتی بھی، پشتون بھی مہاجر ہے جو قیام پاکستان کے بعد کہیں سے بھی یہاں تشریف لائے۔ لیکن کیا صرف ایک مخصوص زبان بولنے والوں کو مہاجر قرار دینا عقلمندی ہے؟

پاکستان کے قیام کے وقت نعرہ لگایا گیا تھا، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ!، ایک ایسے دین کا نعرہ جس میں لسانیت پرستی کی سختی سے ممانعت ہے۔ پاکستان میں آج پنجابی، اردو، سندھی، سرائیکی، بلوچی، براہوی اور بے شمار زبانیں بولنے والے ہیں لیکن وہ سب ایک قوم ہیں، یعنی پاکستانی۔

یہ بھی پڑھیں:   آمریت اور جمہوری بکرے - راجہ کاشف علی خان

ملک میں لسانیت پرستی کو ہوا دینے والو! اللہ تمہیں عقل دے کہ تم مہاجر لفظ کے حقیقی معنی پہچان سکو۔ اس ملک کے سیاست دانوں نے کبھی پاکستان اور پاکستانیوں کو نہیں جگایا بلکہ پنجاب میں پنجابی کو، سندھ میں سندھی کو، بلوچستان میں بلوچی کو، خیبر پختونخوا میں پشتون کو، سرائیکی بیلٹ میں سرائیکیوں کو اور کراچی میں اردو بولنے والوں کو پکارا ہے۔ یہ جگانا بھول گئے تو بس پاکستانیوں کو جگانا بھول گئے۔