کرتے شلوار میں شیکسپیئر - سعود عثمانی

چھوٹا سا پتلا اور لمبوترا کمرہ تھا جسے مزید پتلا کرنے کے لیے دائیں طرف ایک پائپ ڈال کر اس پر ایک پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ ہم سادہ سی لکڑی کی بنچوں پر بیٹھے تھے جنہیں تین چار قطاروں میں آگے پیچھے جوڑ دیا گیا تھا۔ پردے کے دوسری طرف کچھ لڑکیاں تھیں اور اِدھر کچھ لڑکے۔کُل ملا کر تعداد شاید دس بارہ۔ دونوں کے سامنے کم و بیش ستر سال کے ایک بزرگ کرسی پر بیٹھے تھے۔ لمبی سفید داڑھی، خاکستری کرتا شلوار، قدرے لانبا قد، کلاس کے لیے موزوں بلند اور واضح آواز۔ وہ آواز جو ولیم شیکسپئر (William Shakespeare) کا ”کنگ لئیر“ (King Lear) ہم ایم اے انگریزی کے طالب علموں کے سامنے ایک خاص لحن اور ڈرامائی انداز میں پڑھ کر سنا رہی تھی۔ انگریزی ادب کے نامور اور باکمال استاد پروفیسر نیاز احمد کے سامنے طالب علم مبہوت بیٹھے تھے جیسے ”کنگ لئیر“ کو بیٹیوں اور قسمت کے ہاتھوں دربدر ٹھوکریں کھاتے دیکھ رہے ہوں۔ مکالمے پروفیسر نیاز احمد نہیں کنگ لئیر اپنی زبان سے ادا کرتا تھا. اپنے بڑھاپے، خاکستری کرتے شلوار اور ہلتی ہوئی سفید داڑھی کے ساتھ۔

Thou shouldst not have been old till thou hadst been wise.
(تمہیں عقل مند ہو جانے تک بوڑھا نہیں ہونا چاہیے تھا)
Nothing will come of nothing: speak again.
(کچھ بھی نہیں میں سے کچھ بھی نہیں برآمد ہوگا۔دوبارہ بولو)
How sharper than a serpent's tooth it is To have a thankless child!
(ناسپاس اولاد سانپ کے دانت سے بھی کہیں زیادہ نکیلی ہوتی ہے)
O, let me kiss that hand!
KING LEAR: Let me wipe it first; it smells of mortality.
(مجھے اپنا ہاتھ چومنے دو"
کنگ لئیر."پہلے میں اسے صاف کرلوں.اس میں سے فنا اوربدنصیبی کی بُو آتی ہے۔)
"Have more than thou showest, speak less than thou knowest, lend less than thou owest."
(جتنا موجود ہو اس سے کم دکھاؤ،جتنا جانتے ہو اس سے کم بولو،جتنا درکار ہے اس سے کم مانگو)

بی ایس سی کرنے کے بعد مجھے بے کار مباش کچھ کیا کر، کے مصداق فارغ وقت میں انگریزی ادب میں ایم اے کا شوق چرایا۔ مقصد ایم اے کی سند سے زیادہ انگریزی ادب پڑھنا تھا۔ کسی مہربان نے بتایا کہ اگر تم واقعی انگریزی ادب مزے کے لیے پڑھنا چاہتے ہو تو پورے شہر میں پروفیسر نیاز احمد سے بہتر کوئی استاد نہیں ہے۔گورنمنٹ کالج لاہور سے ریٹائرمنٹ کے بعد شام کے وقت طلبہ کو پڑھاتے ہیں ۔ایک شام میں نے لکشمی چوک لاہور کی ایک پرانی عمارت کی سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں تو چڑھتے چڑھتے بے دم ہوگیا۔ آخر عمارت کی آخری منزل پر وہ پتلا لمبوترا کمرہ آیا جسے برآمدہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ پروفسر نیاز احمد سے ایک کلاس پڑھنے کی دیر تھی کہ دل ان کا اسیر ہوگیا۔ میں زندگی میں سب سے زیادہ جن اساتذہ سے متاثر ہوا، وہ ان میں سے تھے۔ انگریزی ادب اور زبان و بیان پر ایسی ماہرانہ دسترس اور پڑھانے کا ایسا طریقہ کہ دل اش اش کر اُٹھے. ان سے پڑھے ہوئے دوستوں کی ایک بڑی کھیپ اب بھی کالجوں اور یونی ورسٹی میں مصروفِ عمل ہے اور پروفیسر نیاز احمد ان کے دل سے کبھی نکل نہیں سکے۔

آخر ایک دن میں لکشمی چوک کی اس عمارت کی سیڑھیاں آخری بار اتر آیا. وقت کبھی تیزی اور کبھی آہستہ روی سے گزرا اور دونوں طرح بالوں میں راکھ ڈال کر گزرتا رہا. خدوخال اور گرد و پیش تبدیل ہوتے گئے. میں ادھر ادھر پھرتا پھراتا رہا اور آخر اکتوبر کے ایک سنہرے دن سٹریٹفورڈ اپون ایون((stratford upon avon) میں شیکسپئیر کے گھر کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ میرے میزبان اور مشرقی لندن میں مقیم عمدہ شاعر برادرم ارشد لطیف کی مہربانی کہ وہ الکلی (Ilkely) سے لندن جاتے ہوئے مجھے شیکسپئیر کا آبائی قصبہ اور گھر دکھانے از خود یہاں لے آئے تھے۔ یہ گھر اب ایک میوزیم ہے۔ ہم نے ٹکٹ خریدے اور کشادہ صحن اور باغیچے میں داخل ہوئے۔گھر اسی طرح پرانی لکڑی سے بنا ہوا۔ کمروں میں پرانا فرنیچر اور پرانی خوشبو۔ آتش دان، کارنس، برتن،گل دان، میزیں، کرسیاں، سب چار سو سال کی نیند میں گم سم۔ خواب گاہ میں چھپر کھٹ اور میز۔ لکھنے کی میز پر ولیم شیکسپئر ُبت بنا بیٹھا تھا۔ کسی آنے والے کی طرف توجہ کیے بغیر قلم ہاتھ میں لیے اپنے دھیان میں مگن۔ لیکن دھیان ایسا اور قلم ایسا کہ لاریب۔

The course of true love never did run smooth.
(حقیقی محبت کا راستہ کبھی ہموار نہیں ہوتا )
Doubt thou the stars are fire, Doubt that the sun doth move. Doubt truth to be a liar, But never doubt I love.
(ستاروں کے آگ ہونے میں شک کرلینا،سورج کی حرکت میں شک کرلینا،سچ کو جھوٹ سمجھنے کا شک کرلینا لیکن کبھی میری محبت پر شک نہ کرنا )
Better a witty fool than a foolish wit
( ذہین بیوقوف ہونا بے وقوفانہ ذہانت سے بہتر ہے ۔ )
Love all, trust a few, do wrong to none.
(سب سے محبت کرو، چند پر بھروسہ کرو، برا کسی کے ساتھ بھی نہ کرو)

اس چھوٹے سے غیر اہم قصبے کے اس اہم ترین شخص نے انگریزی ہی نہیں عالمی ادب پر وہ اثرات ڈالے کہ مشرق و مغرب میں اس کے ڈرامے، اس کے کردار اور اس کے جملے گونجتے ہیں۔ میوزیم کے ایک حصے میں شیکسپئر کے لیے اقبال کے تحسینی اشعار اقبال اکادمی نے سیاہ تانبے کی خوب صورت تختی پر لکھ کر دیوار گیر کرادیے ہیں۔ یہ کام اس لیے بھی قابل ِتحسین ہے کہ باہر باغیچے میں ٹیگور کا خراج تحسین موجود ہے اور یہاں اقبال کی کمی محسوس ہوتی تھی۔ اقبال جس نے شیکسپیئر کے لیے کہا
حفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا
راز داں پھر نہ کرے گا کوئی پیدا ایسا

سٹریٹ فورڈ دریائے ایون پر بسا ہوا قصبہ ہے۔ ازمنہ وسطٰی میں ایک قصباتی منڈی۔ انگلینڈ کے مغربی وسطی علاقے واروک شائر (warwickshire) کا ایک قصبہ۔ شیکسپئیر کا تھیٹر بھی یہاں موجود ہے اور رائل شیکسپئیر کمپنی ابھی تک اس میں رومیو اینڈ جولیٹ اور ہملٹ جیسے کھیل پیش کرتی ہے۔ قصبے کی سڑکوں اور پارکوں میں شیکسپئر اور اس کے مشہور کرداروں مثلا ہملٹ، لیڈی میکبتھ اور فالسٹاف وغیرہ کے دھاتی مجسمے موجود ہیں۔ ظاہر ہے یہ قصبہ شیکسپئر کے وقت میں اتنا خوبصورت نہیں ہوگا۔ سیاحوں کی مسلسل آمد نے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ تاہم انگلینڈ کے قصبات کی عمومی خوب صورتی اور دل آویزی میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔ کھلے کھیت اور کھلیان اور ڈھلوانوں پر چرتی ہوئی بھیڑیں اور مویشی۔ ہریالی کے رنگ برنگے بے شمار رنگ۔ سٹریٹفورڈ اپون ایون ان میں منفرد خوبصورتی کا حامل ہے۔ اس دوپہر قصبے کی گلیوں اور سڑکوں پر ایک عجب سکون تھا۔ اترتی خزاں نے درختوں پر سرخ، زرد اور نارنجی رنگ بھی کھلائے ہوئے تھے اوردرختوں کے نیچے دو رنگہ پتوں کے فرش بھی بچھا رکھے تھے۔ دریائے ایون پر بنے لکڑی کے ایک چھوٹے سے حسین پُل پردرختوں کی جھکی ہوئی شاخوں کے نیچے رک کر گزارا ہوا وقت شاید ہمیشہ یاد رہے گا۔ تا حدّ ِ نظر سبزہ زار، پرسکون بہتا ہوا دریا، دریا کی چوڑائی ہمارے یہاں کی بڑی نہر کی طرح یا اس سے قدرے زیادہ۔ دریا میں سبک خرام آبی پرندے اور تیرتی بطخیں۔ دریائے ایون کے کنارے کھڑے ہوں تو ایک پرسکون ٹھنڈک آپ کے دل میں گھر کرلیتی ہے۔ بہتے پانی اور بہتی ہوا کے علاوہ کم ہی آوازیں سماعت میں مخل ہوتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہاں آ کر ہی اقبال کے اسی نظم ”شیکسپئر“ کے یہ شعر ٹھیک سے سمجھ آئے۔
شفقِ صبح کو دریا کا خرام آئینہ
نغمہئ شام کو خاموشی شام آئینہ
برگِ گل آئینہ عارضِ زیبائے بہار
شاہدِ مے کے لیے حجلہ جام آئینہ
حسن آئینہ حق اور دل آئینہ حسن
دِل انساں کو ترا حسنِ کلام آئینہ

وہ چرچ جہاں روایت کے مطابق بپتسمہ اور شادی سے لے کر تدفین تک شیکسپیئر کی زندگی کے تمام ادوار گزرے، دریا کے پہلو میں ہے۔ بے شمار قبروں کے درمیان ایک قبر شیکسپیئر کی بھی ہے میں چرچ کے پہلو میں دریا کے کنارے کھڑا تھا اور شیکسپئر کی آوازخاکستری کرتے شلوار میں ملبوس پروفیسر نیاز احمد کی آواز اور ان کے مخصوص لحن میں گونج رہی تھی۔
Be not afraid of greatness.Some are born great,some acheive greatness, and some have greatness thrust upon them.
(بڑائی سے خوف زدہ مت ہو۔ کچھ لوگ پیدائشی بڑے ہوتے ہیں ۔ کچھ لوگ بڑائی محنت سے کماتے ہیں اور کچھ لوگوں پر بڑائی اس طرح ہوتی ہے جیسے تھوپ دی گئی ہو)

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں