کچی شراب سے پکی شراب تک - ابوبکر قدوسی

گداگر کی بات نہ کیجیے کہ ہر چوک میں ہاتھ پھیلا کے اپنی عزت نفس کو کب کے کچل چکے، لیکن بہت سے ایسے لوگ تھے کہ جو تنگی حالات کے ہاتھوں مارے گئے. کسی کا کاروبار تباہ ہوا، کسی کی ملازمت ختم ہوئی. تعلیم، ہنر، فن اور کاریگری سب مقدر کی نذر ہوئے. عزت نفس لیکن ہر ہر قدم پر ہاتھ پھیلانے سے روکتی رہی لیکن تا بکے ؟ اک روز بچوں کا بلکنا نہ دیکھا گیا.. بہت مجبور ہو کر، جی ہاں! بہت ہی مجبور کہ مسجد کو جا نکلا .. کبھی مسجد میں نماز کے لیے شاذ ہی آنا ہوتا تھا، اگر کبھی قسمت کے ”مارے“ آ بھی گئے تو نکلتے دم تک مولویوں کو برا بھلا ہی کہتے باہر نکلے، لیکن اسی مولوی نے بہت محبت سے ان کی تنگی حالات کا اعلان کیا .. بہت نہ بھی ہوا تو اتنا تو ہو ہی گیا کہ ہفتہ بھر کا راشن گھر میں آ گیا..

جی یہ ایک مسجد کا قصہ نہیں، ہر مسجد میں ہر نماز کے بعد کا منظر ہوتا ہے، کوئی حق دار ہے یا نہیں، ضرورت مند ہے یا پیشہ ور، کسی کو اس بات سے غرض نہیں، پھیلے ہاتھ اور جھولی بھر دی جاتی ہے. اور آپ لبرل جلاپے کا شکار اس طرح کی پوسٹیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں کہ ”غریب بھوکا مرگیا، پیسہ مسجد میں لگ گیا.“

میرا سوال ہے کہ انسانی حقوق کے محافظ کون ہیں؟ مولوی، مسجد کے نمازی، یہ داڑھیوں والے، ٹوپی والے. چلیے چھوڑیے. ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ شہر بھر کی سڑکوں پر آپ کی کتنی ایمبولینسیں چلتی ہیں اور ان مولویوں کی کتنی؟ میں نے ایک روز جناح ہسپتال جانا تھا، پہنچا تو دیکھا دروازے پر ایک طرف بڑا سا کیبن سجا ہے فلاح انسانیت والوں کا اور آدھی درجن ایمبولینسیں کھڑی ہیں جو مفت چلائی جاتی ہیں. میں آپ کی ”موم بتی“ کے نشان والی کوئی ایک ایمبولینس ڈھونڈتا ہی رہ گیا .. ابھی کل ہی مجھے الخدمت والوں کی ایمبولینس والوں نے بھی بہت”تنگ“ کیا، وہ بھی راستہ بھر میری گاڑی کے آگے آگے چلتا رہا .. یہ بھی تو مولوی ہی ہیں، ہر طرف اڑتے پھرتے ہیں..

پانچ برس پرانی بات ہے کہ مجھے اپنی ایک بہن کا سعودیہ سے فون آیا کہ امی کے نام کا کنواں کھدوانا ہے کہ جہاں پیاسے پانی کو ترستے ہیں، کوشش کی کہ میں بھی کوئی ”غیر مولوی“ ڈھونڈھوں لیکن مجبور ہو کر خالد سیف کو فون کیا کہ تمھاری جماعت سنا ہے بہت کنویں کھودتی ہے ”قوم“ کے لیے .. ایک میرا بھی بنوا دو، سو بن گیا..

کبھی چوبرجی چوک میں آئیں، ایک بڑا سا ثریا عظیم ہسپتال نظر آئے گا.. چار پانچ منزلہ کتنے کنالوں پر پھیلا یہ ہسپتال جماعت اسلامی چلا رہی ہے .. ایک بڑا ہسپتال علامہ احسان ہسپتال بھی ہے..
کشمیر زلزلے میں تمام کے تمام لبرل اور انسانیت کے نام کی روٹیاں کھانے والے مل جائیں تو مولویوں کے کام کا سواں حصہ بھی نہ کر سکے..

اچھا چلیں ایک آپ کے دل جلانے والی بات کہوں .. میں آپ کا یہ موم بتی جیسا جلتا دل مزید جلانا تو نہیں چاہتا لیکن بات ہی ایسی ہے..
اصل معاملہ معلوم ہے کہ کیا ہے ؟
لوگ آپ سے، ہاں! آپ کے لبرل ازم سے آپ کے وجود سمیت نفرت کرتے ہیں .. آپ پر اعتماد ہی نہیں کرتے .. سو خیرات، رفاہی کام کے لیے، آپ کو ایک روپیہ دینا بھی نہیں پسند کرتے .. لاکھ مولویوں پر تنقید کریں، ان کا مذاق بنائیں لیکن جب کبھی ابا میاں کے نام پر کنواں کھدوانے کو جی چاہے تو مولوی کو ڈھونڈ کے پیسے دیں گے، ان کو معلوم ہے کہ ایمانداری سے کسی رفاہی کام میں لگا دے گا .. من کا کمزور بھی ہوا، نفس کا پجاری بھی ہوا تو کچھ کھا لے گا کچھ لگا دے گا، اور کھا بھی لے گا تو زیادہ سے زیادہ یہ کہ موٹر سائکل لے لے گا ، موبائل لے لے گا، باقی پیسے لگا ہی دے گا، بھلے کنویں کی دیوار کچی رہ جائے..

اور دوسری طرف آپ ہیں .. معلوم ہے لوگ آپ کو پیسہ کیوں نہیں دیتے؟
ان کو معلوم ہے کہ لبرل ہے .. آخرت پر یقین نہ مذہب سے کوئی علاقہ .. معصوم شکل بنا کے پسہ بٹورے گا، انسانیت کی دہائی دے گا، مگر سارے کا سارا خود کھا لے گا .. اگر کوئی معمولی سی ”رمق“ انسانیت کی ہوئی بھی تو دس بیس فیصد ہی لگائے گا ...باقی کی رقم، لوکل سطح کا لبرل ہوگا تو کچی شراب لے آئے گا، اور ذرا لبرٹی چوک والا ہوگا تو ”پکی“ لے آئے گا اور ساتھ میں رات کی رات پلانے والی ... اور ابا میاں کے نام کا کنواں جنت کے بجائے ”علاقہ غیر“ میں کھد جائے گا .. سو لوگ بھلے جیسے بھی مولوی بیزار ہوں .. لیکن جب چیرٹی کی باری آتی ہے تو آپ کی موم بتی بجھا دیتے ہیں ... پھونک مار کے