ہوم << راجہ لوگو! تمہاری یہ جمہوریت - سنگین زادران

راجہ لوگو! تمہاری یہ جمہوریت - سنگین زادران

راجہ لوگو تمہاری جمہوریت پر سو جان سے قربان ہو جاؤں گا، اگر مجھے صرف اتنا بتا دو کہ پچھلے 45 سال سے بھٹو خاندان لاڑکانہ کو پینے کا صاف پانی، معیاری تعلیم، اچھے ہسپتال دے سکا یا نہیں؟ میں تمہاری طرح جمہوریت کے قصیدے گایا کروں گا لیکن صرف اور صرف اتنا بتا دو کہ شریف خاندان پچھلے 40 سال میں صرف لاہور ضلع کے تمام افراد کا معیارِ زندگی بدلنے میں کامیاب ہوا کہ ناکام رہا؟ گویا اضطراب ہے اور بلا کا ہے کہ میں سوچتا ہوں تو دماغ میں ابھرنے والے شرارے میری نسوں تک میں سرایت کر جاتے ہیں۔ ایک طرف بھٹو خاندان کے 45 سال اور ایک ضلع لاڑکانہ نہ سیدھا ہو سکا۔ دوسری طرف شریف خاندان کے 40 سال ہیں اور ایک ضلع لاہور بھی سیدھا نہ ہوا۔ جن کی نظریں شہر لاہور کی چکا چوند پر جمی ہیں وہ ذرا ضلع لاہور کی باقی تحصیلوں کا حال احوال پتہ کریں۔ باہر جانے کی ضرورت نہیں، لاہور ضلع کےسرکاری ہستپالوں کا ہی حال دیکھ لیں۔
ایک غیر معمولی بات جو اس ملک میں بہت خاموشی سے رائج کر دی گئی ہے، وہ جمہوریت کو مذہب کا درجہ دینا ہے۔ شاید آپ کو عجیب لگے لیکن فی الوقت دنیا بھر میں جمہوریت کو مذہب کا ہی درجہ حاصل ہے۔ صدرِامریکہ نے کبھی اپنی تقریروں میں یہ نہیں کہا کہ We believe in God. ہاں امریکہ سمیت کئی دیگر عالمی راہنماؤں کے منہ سے یہ جملہ آپ نے ضرور سنا ہو گا We believe in Democracy، پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ یہاں جمہوریت کے خلاف بات کرنا جرم ہے اور جمہوریت کی توہین کرنا اس سے بھی بڑا جرم۔ جیسے جمہوریت ہی وہ مقدس سیاسی نظام ہے جس کی تکمیل کےلیے ہم پاکستانیوں کو اس ملک میں پیدا کیا گیا۔ جمہوریت ہے کیا دراصل؟ سیاست کی چاٹی میں عیاری کی مدھانی ڈال کر ذاتی مفاد کا مکھن نکالنا ہی جمہوریت ہے۔
اور آپ کو پتہ ہے کیا کہ جمہوریت کے خلاف بات کرنے سے ان کے پیٹ پہ لات کیوں پڑتی ہے؟ ایک کام کیجیے، اپنے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں اور اپنے حلقے کے ایم این اے اور ایم پی ایز کے موجودہ اثاثوں کی تفصیل پتہ کریں۔ موجودہ اثاثوں کا موازنہ ان کے آباؤ اجداد کے اثاثوں سے کریں، آپ کو جواب مل جائے گا کہ جمہوریت کے خلاف بات کرنے سے ان لوگوں کے پیٹ پر لات کیوں پڑتی ہے۔ سمجھ نہیں آئی تو پھر سمجھاتا ہوں۔ حاکم علی زرداری سندھ کا معمولی وڈیرہ تھا، جائیدادیں لمبی چوڑی نہیں تھی، بیٹے کی بیوی سیاست دان تھی اور پھر بیٹا آصف علی زرداری بھی سیاست میں آ گیا۔ جائیدادیں، جاگیریں اور اثاثے پہلے سندھ سے بڑھ کر ملک بھر میں پھیلے، پھر پاکستان سے نکل کر سوئس بینکوں تک چلے گئے۔ یہی کچھ حال شریف خاندان کا ہے۔ میاں شریف چنگے بھلے رئیس انسان بھی تھے تو بھی ان کا اتنا سبب نہیں تھا کہ جائیدادیں پانامہ تک پہنچ جاتیں۔ تو میرے جیسا یا کوئی بھی انسان جو جمہوریت کو کسی سامراجی سامری کا بچھڑا بنا کر پوجنے پہ تیار نہیں ہے، جب معاشرے کے خوبصورت چہرے سے جمہوریت کا میک اپ اتار کے دیکھتا ہے تو اسے بدبودار، بھیانک اور مکروہ قسم کے کیڑے اس چہرے میں رینگتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیوں کہ جمہوریت کے علمبرداروں سے 45 سالوں میں لاڑکانہ اور 40 سالوں میں لاہور نہ بدلا گیا۔ غریب کے منہ سے البتہ نوالہ چھنتا رہا، اس کی ہڈیوں سے پہلے ماس اتارا گیا پھر گوشت نوچا گیا پھر ہڈیوں میں موجود گودا تک چوس لیا گیا۔ یہ جمہوریت اور اس کا جھانسہ مزید نہیں۔ کسی کے پیٹ پہ لات پڑتی ہے پڑ جائے لیکن جمہوریت کے نام پر عام فرد کے منہ سے روٹی چھینے کا عمل مزید نہیں۔

Comments

Click here to post a comment