ہوم << کون جیتا کون ہارا؟ فیصلہ آپ کریں - راجہ بشارت صدیقی

کون جیتا کون ہارا؟ فیصلہ آپ کریں - راجہ بشارت صدیقی

بشارت صدیقی کپتان نے دھرنا موخر کرنے کا اعلان کیا کیا کہ سیاسی مخالفین نے انہیں تنقید کے نشانے پر لیا، انہیں یوٹرن، بزدل ، ہارا ہوا جرنیل جیسے القابات سے نوازا۔ یکم نومبر کی شام ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر کپتان کے دو نومبر کے یوم تشکر کے اعلان کو ان کے مخالفین دیوانے کی بڑ قراردے رہے تھے۔ 2نومبر کو تحریک انصاف نے اسلام آباد کے قلب میں کامیاب شو کر کے ناقدین کے منہ بند کر دیئے وہ بھی اس حالت میں جب یکم نومبر کو تحریک انصاف کے کارکن سڑکوں پر مار کھا رہے تھے۔ جو لوگ کپتان کو طرح طرح کے القابات سے نواز رہے تھے ان کی درستگی کیلئے بیان کر دوں، تنقید وہ لوگ کرتے ہیں جو اکثر اخبار نہیں پڑھتی جن کا مطالعہ واجبی سا ہے، کپتان نے رائے ونڈ میں اعلان کیا تھا کہ بادشاہ سلامت تلاشی دیں یا مستعفی ہوں نہیں تو اسلام آباد لاک ڈائون کروں گا۔
قارئین! جب پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا تو ملک میں ایک بحران نے جنم لیا کہ باشادہ سلامت اور ان کا خاندان خفیہ جائیدادوں کا مالک ہے جو ان کی آمدن سے زیادہ ہے۔ حکومت نے چالاکی یہ دکھائی کہ جن سینکڑوں لوگوں کا نام پانامہ شریف میں تھا سب کا معاملہ عدالت سے نمٹانے کی درخواست کر دی۔ عدالت نے مئی میں شکریے کے ساتھ یہ جواب دیا کہ بے اختیار کمیشن ہم نہیں بنا سکتے اس طرح ہم معاملے کو نمٹا نہیں سکیں گے اور یوں عدالت کی رسوائی ہو گی، عام آدمی کا عدالت سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر ٹی او آرز بنا کر دے تو ہم معاملے کو دیکھیں گے مگر حکومت راہ فرار اختیار کر رہی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ 1947ء سے احتساب کا عمل شروع کیا جائے تا کہ سالوں لگ جائیں اور بادشاہ سلامت بچ جائیں جبکہ تحریک انصاف کا موقف تھا کہ احتساب بادشاہ سلامت سے شروع کیا جائے بے شک عمران خان اور ان کا خاندان بھی احتساب کی زد میں آئے۔ تحریک انصاف نے ہر آئینی حربہ اختیار کیا مگر نواز لیگ ان کو ہر موقع پر جل دیتی رہی۔
تحریک انصاف نے رائے ونڈ جلسہ کیا تو سیاسی گرم حالات کی آنچ حکومت تک پہنچی۔ اس کے بعد دون نومبر کا اعلان ہوا۔ ملک ہیجان کی کیفیت میں چلا گیا۔ ایک صوبے کو پورے ملک سے کاٹ کر رکھ دیا گیا۔ پنجاب پولیس منظم گروہ کی طرح نہتے مظاہرین پر شیلنگ کرتی رہی، لاٹھیاں برساتی رہی مگر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اپنے ہم وطن شہری نہیں بلکہ دشمن ملک کے لوگ ہیں۔ نہتے لوگوں پر ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال ہوا۔عورتوں کے بال تک نوچے گئے ۔کپتان کی اس کال کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ان کے کارکنوں نے ''نوازی فسطائیت'' کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے اوپر برگر بچوں کا لگا ہوا داغ دھو ڈالا۔ا ن حالات میں سپریم کورٹ ان ایکشن ہوئی۔ وہ جو کل تک مان نہیں رہے تھے۔ سو پیاز سو جوتے کھا کر مان گئے۔ کپتان نے ایک زبردست سیاسی چال چلی اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ طاقتور کا احتساب ہو رہا ہے۔
تحریک انصاف کا مطالبہ ہی تلاشی لینے یا استعفے کا تھا جو سپریم کورٹ نے شروع کر دی ہے۔ عدالت روزانہ کی بنیادوں پر کیس کی سماعت کرے گی۔ پوری قوم کی نظریں عدالت عالیہ پر لگی ہوئی ہیں۔ شریف خاندان کا ماضی اتنا تابناک نہیں ۔ جسٹس سجاد علی شاہ کیس میں وہ سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑے تھے۔ سابق صدر پاکستان جسٹس (ر)رفیق تارڑ کو ججوں کو خریدنے کیلئے بریف کیس کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔یہ اپنا اقتدار بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
عدالت عالیہ کیلئے تاریخی موقع ہے کہ بے رحم احتساب کرے۔ احتساب کی چھلنی سے ہر اس پھنے خان کو گزارے جس نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ سپریم کورٹ تحقیقاتی اداروں کو جھنجوڑ سکتی ہے جو خواب خرگوش میں ہیں۔ تحقیقاتی ادارے بھی عدالت عالیہ کے ساتھ پورا تعاون کریں اور وہ بے خوف ہو کر کام کریں۔ انہیں گیلانیوں، شاہوں ، قریشیوں، ٹوانوں، لغاریوں ، ترینوں، خانوں اور شریفوں کا لحاظ نہیں کرنا چاہیے کرپشن کے جو ثبوت ہیں وہ جوڈیشل کمیشن کے حوالے کریں، یہ کام ان کے لئے نیک نامی کا باعث بنے گا۔
بادشاہ سلامت اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس ملک کی تقدیر بدلی جائے اور آپ کا نام تاریخ میں امر ہو جائے تو بقدر کفاف وسائل اپنے پاس رکھ لیں اور باقی بحق سرکار منتقل کر دیں۔ آپ حوصلہ کریں اور حضرت علی کی طرح عدالت میں پیش ہوں کہ نہ کوئی چوبدار آپ کے ساتھ ہو اور نہ آپ کیلئے خصوصی دروازہ کھلے۔ عدالت عالیہ فیصلہ آپ کے خلاف کر دے تو آپ کے ماتھے پر شکن اور دل میں ملال نہ آئے۔
جناب والا آپ ہمت کریں اور عمربن عبدالعزیز کی طرح اپنی اہل و عیال سے کہیں کہ بس اب بہت ہو چکا سارا مال سرکاری خزانے میں جمع کروا دیا جائے۔ جناب والا آپ حضرت عمر کی طرح یہ وصیت بھی کر دیں کہ میرے بعد ساری دنیا امیرالمومنین بن سکتی ہے مگر میرے خاندان کا کوئی فرد نہیں بن سکتا۔
یقین کریں آپ یہ کام کر جائیں تو آپ کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ رہی بات کہ کپتان ہارا یا جیتا تو عرض کر دوں کہ وہ عدالت عالیہ میں اپنے ٹی او آرز دینے پر بضد تھے اپوزیشن کے ٹی او آرز کو مان نہیں رہے تھے اب سب کچھ اچھے بچوں کی طرح کرنے پر تیار ہیں تو قارئین فیصلہ آپ کریں کہ کون ہارا اور کون جیتا؟
پاکستان پیپلزپارٹی کی کپتان پر تنقید سمجھ میں آ رہی ہے وہ چاہتے تھے کہ کہ حالات کشیدہ ہو جائیں تو وہ حکمران جماعت سے ڈاکٹر عاصم اور ڈالر گرل ایان علی کی رہائی کا سودا کرتے مگر کپتان نے ان کے پلان پر پانی پھیر دیا۔

Comments

Click here to post a comment