ہوم << غریب شہید اور میڈیا کے دعوے - خالد ولید سیفی

غریب شہید اور میڈیا کے دعوے - خالد ولید سیفی

کسی بھی سانحے کے بعد رپورٹر اور اینکرز صاحبان مرنے والوں کے والدین اور گھر والوں کا خود ساختہ فخریہ چہرہ بیان کرنا شروع کردیتے ہیں، اور چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ بیٹوں کی شہادت پر والدین کا سر فخر سے بلند ہے. سانحہ کوئٹہ کے بعد بھی الیکڑانک میڈیا میں فخر سے لبریز روش دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ یہ بھی بتا رہے کہ یہ نوجوان ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر پولیس میں بھرتی ہوئے اس لیے ان کی شہادت پر ان کے خاندان کا سر فخر سے بلند ہے، ممکن ہے کہ میڈیا میں مجموعی صورتحال نہ ہو لیکن یہ افسوسناک پہلو کافی حد تک دکھایا جارہا ہے، اپنے میڈیا کی خدمت میں عرض ہے کہ
پولیس میں بھرتی ہونے والوں میں کسی کے دل میں وہ جذبہ نہیں تھا، یہ سب غریب گھرانوں کے چشم و چراغ تھے جن کو نوکری ملنے کی خوشی میں ان کے گھروں میں جشن منایا گیا ہوگا، یہ نوجوان دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے نجانے کتنے جتن کرکے بھرتی ہوئے تھے. نہ ہی ان کی شہادت سے ان کے والدین کے سر فخر سے بلند ہیں، ان کے والدین دن میں کئی بار بےہوش ہوتے ہیں، اپنے بیٹے کی تصویر سے لپٹ کر روتے ہیں، ان کے کپڑوں کو چومتے ہیں، ان کے جوتوں کو گلے لگا کر سسکیاں لیتے ہیں، ان کے گھروں میں کسی قسم کا جشن نہیں ہے
ماتم ہے، نوحہ ہے
چیخیں ہیں جو آسمان کو چیرتی ہیں
واویلا ہے، آنسوؤں کا سیلاب ہے
درد کے کوہ گراں ہیں
ماضی کی یادیں ہیں
بچپن کی پرکیف شرارتوں کی یادیں
کھیل کھود کی یادیں
ناشتہ نہ کرنے پر ڈانٹ ڈپٹ کی یادیں
اسکول نہ جانے کی ضد کی یادیں
ماں کی گود میں سر رکھ کر سونے کی یادیں
بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی دہلیز، کوئی بڑا عرصہ نہیں ہے، پلک جھپکتے گزر جاتا ہے
ان میں سے کتنے تھے
جن کی شادی کے جوڑے ماں کے سرہانے رکھے تھے
کتنے تھے جن کی شادی کی بہاریں مسکرا رہی تھیں
کتنے ارمان، کتنےخواب
کتنی خواھشیں تھیں جو حسرت و یاس بن گئیں
سر فخر سے بلند کے چرچے میڈیا کے اسکرین پر اچھے لگتے ہوں گے، کسی ماں کے سینے میں یہ سانپ بن کر رینگتے ہیں، یہ رومانوی فلسفے میڈیا کو مبارک ہوں، ماں کو ایسا فخر نہیں چاہیے.
اسے اپنے گھبرو بیٹے سے محبت ہے،
اس کی مچلتی جوانی کی شوخیوں سے لگاؤ ہے،
ماں کو ان مسکراھٹوں کی ضرورت ہے جو اس کے بیٹے کے لبوں سے بکھر کر ماں کی روح میں اترتی تھیں،
ماں کو اس چہرے کی ضرورت ہے جسے دیکھ کر وہ سکون محسوس کرتی تھیں،
اب کون ہے جو ماں سرہانے کھڑے ھوکر پوچھ لے،
امی شام کی دوائیاں کھالی ہیں،
امی دوپہر کا کھانا ٹھیک سے کھا لیا ہے،
امی کھانسی کی شکایت بہتر ہے،
امی میری شادی اپنی پسند سے کرنا، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے،
امی بس اب مجھے نوکری مل گئی ہے، تیرے برے دن ختم ہوگئے ہیں،
امی اب تجھے دوسروں کے گھر میں برتن مانجھنے کی ضرورت نہیں ہے،
امی میری تنخواہ ہماری کفالت کے لیے کافی ہے،
بشارتیں دینے والوں سے عرض ہے کہ ماں نے انہیں اس بے دردی سے مرنے کے لیے نہیں بھیجا تھا،
سچ یہ ہے کہ موت کا جشن نہیں منایا جاتا ہے،
موت پر شادیانے نہیں بجتے ہیں،
موت کا درد کیا ہے، اسے ایک ماں سے زیادہ کوئی نہیں جانتا،
یہ سارے غریب طبقے سے تھے، دو روٹی اور نان شبینہ ان کا فخر تھا،
کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچنا ان کے لیے جشن تھا،
اس دن ان ماؤں کا سر فخر سے بلند ہوا جب ان کے بیٹوں نے پہلی تنخواہ ان کے ہاتھوں پر رکھی،
اس دن ان کا سر فخر سے بلند ہوا جب بیٹے کی تنخواہ سے انہوں نے اپنا قرضہ ادا کیا ہوگا
آپ کے فخر کے اپنے زاویے ہوں گے
لیکن غریبوں کے فخر کا اپنا نکتہ نظر ہے
ان غمزدہ ماؤں کا دل مزید نہ دکھائیے
اگر ان کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک بھی نہ چھڑکیے.

Comments

Click here to post a comment