ہوم << کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ غلط ہے؟ محمد زاہد صدیق مغل

کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ غلط ہے؟ محمد زاہد صدیق مغل

زاہد مغل محترم برادر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب نے ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے چند قانونی سقم کی نشاندہی فرمائی ہے۔ اس میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ”عام طور پر دادرسی تب دی جاتی ہے جب کسی کے قانونی حق کی خلاف ورزی ہو۔ خلاف ورزی سے قبل محض اس اندیشے پر، کہ خلاف ورزی ہوجائے گی، پیش بندی پر مشتمل دادرسی (Anticipatory Relief) نہیں دی جاتی۔“
ممکن ہے اس فیصلے میں کچھ قانونی سقم ہوں، میں چونکہ قانون کا طالب علم نہیں اس لیے ان قانونی پیچیدگیوں کے بارے میں نہیں جانتا۔ مگر جنہوں نے فیصلہ دیا ہے وہ بھی قانون دان ہیں۔ عمران خان 2014ء میں ایک لکھے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریڈ زون میں زبردستی داخل ہوئے، سرکاری عمارتوں پر حملہ آور ہوئے، وہاں مسلسل لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے اور شر انگیزی پھیلانے والی تقاریر کرتے رہے، عوام کو کھلے عام قانون شکنی پر اکساتے رہے۔ جس لیڈر کا محض دو سال قبل یہ کردار رہا ہو، اور جس پر اس نے کبھی ندامت کا اظہار بھی نہ کیا ہو، اس کے اس پس منظر میں یہ فرض کرنا کتنا مشکل کام ہے کہ اس بار وہ ایسی شر انگیزی کر کے رہے گا جس کا اعلان وہ بار بار اپنی تقاریر میں کر رہا ہے کہ میں شہر بند کردوں گا وغیرہ وغیرہ؟ آخر وہ کون سے قرآئن ہیں جن کی بنا پر عمران خان کو بینیفٹ آف ڈاؤٹ دیا جائے؟ کسی غالب متوقع نقصان کی صورت میں حفظ ماتقدم کے طور پر بسا اوقات لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جانا تو ایک معمول کی بات ہے۔
اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ فیصلہ قانون کی سپرٹ کے خلاف ہے تب بھی اسے چیلنج کرنے کا فورم یہی عدالت یا سپریم کورٹ ہے نہ یہ کہ فیصلے کو نہ مانتے ہوئے سڑکوں پر بیٹھ کر لوگوں کی زندگی کو عذاب بنایا جائے۔ اس سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کل رات اسی فیصلے کی دھائی دے رہی تھی کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اڑا دیں وغیرہ۔ اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اس فیصلے کے اپنے فائدے والے حصے کو مؤثر مان لیا جائے مگر اپنے خلاف جانے والی شق کو نہ مانا جائے۔