ہوم << شاخِ نازک پہ آشیاں - رضوان اسد خان

شاخِ نازک پہ آشیاں - رضوان اسد خان

اسلام آباد، جہاں غالباً سوائے اسلام کے سب کچھ آباد ہے، کے لبرل والدین کو اپنی بچیوں کی چائے والے کے ساتھ سیلفیاں دیکھنے، سراہنے اور ان پر اترانے سے فرصت ملے تو کچھ اپنی اولاد کے سکولوں، کالجوں کی بھی خبر لیں جہاں سے انہیں بدکاری کا ایندھن مہیا کیا جا رہا ہے.
جی ہاں، ہمارے ہاں "جہاز" اب صرف چائنہ کے تعاون سے فیکٹریوں میں ہی نہیں بلکہ بھارتی را اور امریکی بلیک واٹر کے تعاون سے دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں بھی تیار کئیے جا رہے ہیں.
نہیں سمجھے؟
جناب، جن سکولوں میں آپ مولویوں کو گالیاں دینے کی تربیت دیکر، مذہب کو افیون بتلاتے تھے، ذرا قدرت کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ انہی سکولوں کے 53 فیصد بچے خود افیمچی بن گئے ہیں.
کیا فرمایا؟ ایسا کچھ نہیں کہا جاتا وہاں؟ ابھی چند ماہ قبل ہی تو اسی اسلام آباد کے سکول کے ایک استاد کا کلپ وائرل ہوا ہے جس میں وہ جنت، خدا اور مولوی کا مذاق اڑاتا نظر آ رہا ہے.
”جہالت“ کی نرسریاں مدرسے نہیں محترم، بلکہ "جاہلیت" کی نرسریاں یہ سیکولر سکولز ہیں جہاں:
میوزک کلاسز نصاب کا لازمی جزو ہیں،
مغربی گویوں، بھانڈ میراثیوں کو بطور ہیرو پیش کیا جاتا ہے(آنکھوں دیکھا حال)،
پاڑٹیز میں شرفاء کی بیٹیاں مجرے کرتی ہیں،
بچے باپ کے پستول سے دوسرے بچوں کا قتل کرتے ہیں،
استادوں، ساتھیوں اور حتی کہ کینٹین تک سے منشیات لیکر سوٹے لگاتے ہیں،
گروپ سیکس سے کم پر بات نہیں ہوتی،
ہم جنس پرستی کو ”نارمل بی ہیوئیر“ سمجھا جاتا ہے،
اور پھر مغربی فلسفے اور تہذیب سے متاثر آخر میں پوری ایک کھیپ ”ابو جہلوں“ کی معاشرے میں برامد کر دی جاتی ہے.
اور اب یہ جاہلیت کے سرخیل،
پارلیمنٹ، عدالتوں، بیوروکریسی، میڈیا، صحافت، شعبہ تدریس وغیرہ میں اعلی عہدوں پر پہنچ کر مغربی آقاؤں سے وفاداری کا عہد نبھاتے ہیں،
عوام کی قسمت کے فیصلے دشمن کی پالیسیز، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے مطابق کرتے ہیں،
اپنی نجی محفلوں میں شراب و کباب، حسن و جمال اور رقص و سرود کا بندوبست کرنا فخر سمجھتے ہیں،
بیگمات کو بطور رشوت پیش کرنے کو عار اور بے غیرتی نہیں، ”ٹیکٹ“ سمجھتے ہیں،
سود کے حق میں غامدیت کے فتوے جمع کرتے ہیں،
شراب پر پابندی کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں،
بچوں کی شادیوں کو بزنس اور زنا کو قابلیت سمجھتے ہیں
اور پھر کہتے ہیں یہ لبرل، سیکولر معاشرے کا حسن ہے کہ انسان Pursuit of Happiness میں آزاد ہو....!!!

Comments

Click here to post a comment