ہوم << اے میرے پیارے اچھے چاند ! حمیرا خاتون

اے میرے پیارے اچھے چاند ! حمیرا خاتون

رات کے دوسرے پہر اچانک آنکھ کھلی، چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ، میرے چہرے پر چاندنی بکھیرتا، میری کھڑکی میں کھڑا مسکرا رہا تھا،
جب میں بھی مسکرائی تو وہ ہنس دیا،
میں نے کہا،
کیوں عاشقوں کے دل کو آزماتے ہو،
کیوں تڑپاتے ہو،
اور پھر پلٹ کر چل دیتے ہو،
کسی کے ہوتے ہی نہیں،
کیا ہرجائی پن ہے،
انشاء جی یاد آ گئے،
چاند کسی کا ہو نہیں سکتا،
چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے،
چاند مسکرایا،
پلٹ کر ماں کے مقدس چہرے پر نظر ڈالی،
تخلیق کی منزل کو چھوتے ہی،
جنت قدموں تلے آتے ہی،
چاند محبوب اور عاشق کا روپ چھوڑ کر،
بھائی کا لاڈلا روپ دھار لیتا ہے،
اور لوریوں میں چندا ماموں بن کر،
ننھے فرشتے کو،
بہلانے چلا آتا ہے۔
اے میرے پیارے اچھے چاند۔
( رات کے اس پہر چاند کو دیکھ کر لکھا گیا۔)