ہوم << سیرل المیڈا، عامر خاکوانی اور ناقدین - معظم معین

سیرل المیڈا، عامر خاکوانی اور ناقدین - معظم معین

معظم معین ا ڈان کے صحافی سیریل المیڈا کی خفیہ خبر کا آج کل ”طوطی“ بول رہا ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے اس کا ترجمہ و تشریح کر رہا ہے۔ ہم خدانخواستہ کوئی صحافی نہیں مگر آزادی رائے کے اس دور میں جب ہر کوئی چیخ چیخ کر بولے چلے جا رہا ہے اور سننے والا کوئی نہیں تو ہم نے کہا ہم بھی ہجوم میں چلانا شروع کر دیتے ہیں کون سا کوئی سن رہا ہے۔
المیڈا نے ڈان میں خبر لگائی کہ کسی سرکاری میٹنگ میں حکومتی اور فوجی عہدیداران کے مابین کچھ کھٹ پٹ ہوئی ہے۔ حکومتی لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں کو کہا کہ آپ کی وجہ سے ہم دنیا میں تنہا ہو رہے ہیں ورنہ تو اگلا اولمپکس پاکستان میں ہی ہو جانا تھا۔ اس پر صحافی برادری کے سینئر لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں تنقید کی۔ یہاں ہمارے مدنظر عامر ہاشم خاکوانی صاحب کا کالم ہے جس میں انہوں نے دو تین پہلوؤں سے اس بات پر توجہ دلائی کہ ایسی اہم خبر کو یوں شائع کرنا آزادی صحافت نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ صحافت کی علامت ہے۔
اس پر بعض ناقدین نے خاکوانی صاحب کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کرتے ہوئے ہم جیسے طالب علموں کو بڑے بڑے نام لے کر ڈرانے کی کوشش کی کہ یہ یہ لوگ اور وہ وہ عالمی ادارے آزادی صحافت کے علمبردار ہیں، چپ ہو جاؤ ورنہ وہ پکڑ لیں گے۔ امریکہ کا صدر، یو این او کا قانون، ایکٹ نمبر فلاں، جز نمبر فلاں کا شق نمبر فلاں، اور پھر فلاں، اور اس کے بعد پھر فلاں۔ اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ صحافی کو اپنا سورس چھپانے کا حق حاصل ہے۔ وہ جو چاہے چھاپے، جس مرضی کے بارے میں چھاپے، اسے حق حاصل ہے کسی مولانا کی پگڑی اچھالے، چند دن سب مزا لیں، اس کے بعد کسی اداکارہ کو پکڑ لیں، پھر کسی حکومتی اہلکار کی باری آ جائے، پھر کسی اور کی پھر کسی اور کی، اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے۔ ہاں کسی کو اعتراض ہے تو وہ صحافی سے خبر کا سورس معلوم کر سکتا ہے، اگر معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہو یا بہت بڑا جرم ہو رہا ہو، کسی کی جان خطرے میں ہو، آسمان گرنے والا ہو، یا قیامت آنے والی ہو مگر اس کے لیے یو این او کا اجلاس بلانا ہوگا، سارے ملک مل کر بیٹھیں گے، پھر فیصلہ ہوگا کہ صحافی اپنا سورس بتائے یا نہیں۔ اتنی لمبی تفصیلات کے بعد اب بتاؤ بچو سورس معلوم کرنا چاہتے ہو۔۔۔؟
سیدھی سی بات کو پٹوار خانے کے چکر میں ڈال دیا ہے۔ نہ نو من تیل ہو گا نہ بات آگے بڑھے گی۔ گو کہ خاکوانی صاحب نے وہیں کمنٹ میں بات صاف کر دی تھی مگر بحیثیت طالب علم ہمارے ذہن رسا میں بھی سوالات کلبلانے لگے تھے۔
بات سیدھی سی تھی کہ کیا موجودہ حالات میں ایسی خبر لگانا بنتی تھی۔ جس وقت کشمیر کی جدوجہد تاریخ کے ایک اہم دور سے گزر رہی ہے، بھارت کے حکمران پاکستانی قوم کو دھمکیاں لگا رہے ہیں، اور نہ صرف دھمکیاں اور باتیں، بلکہ عملی طور پر سرحدی جھڑپوں میں پاک فوج کے دو قیمتی جوانوں کی جانیں بھی لے چکے ہیں، سرجیکل سٹرائیک کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں قوم کو جس یکجہتی اور اتفاق کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے تمام قوم کو مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ایسی خبریں پھیلانا جس سے یہ صورت سامنے آئے کہ یہ قوم متحد نہیں کس کا مقدمہ مضبوط کرتی ہے؟ خبر صحیح بھی ہو مگر قوم کی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صحافتی آزادی کی آڑ میں چھاپ دینا کیا یہ حب الوطنی ہے؟ کیا کوئی محب وطن سوچ سکتا ہے کہ ایسی خبر ایسے حالات میں موزوں ہے؟ کیا یہ قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کا سبب نہیں بن سکتی؟ کیا یہ اپنی قوم کے بجائے دشمن کا مورال بلند کرنے کا سبب نہیں بنے گی؟
ہم سیکولرز کو ملک دشمن نہیں سمجھتے مگر یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ ہر نازک لمحے میں ان کی سی کیوں نکل جاتی ہے۔ قوم سے ان کا مؤقف جدا کیوں ہوتا ہے؟ یہ بھی کوئی حسن اتفاق ہے کہ ان کا وزن دوسرے پلڑے میں جا پڑتا ہے اور قوم دیکھتی رہ جاتی ہے کہ یہ بھی تو ہم میں سے تھے، انھوں نے بھی سائیڈ بدل لی اور مخالف سمت میں جا کھڑے ہوئے، جب جب قوم متحد ہو رہی ہو تب ہی ایسے شوشے کیوں چھوڑے جاتے ہیں۔ قیام کے وقت کیوں سجدے کرنے لگتے ہیں؟ کیا کوئی سمجھا سکتا ہے؟؟؟

Comments

Click here to post a comment