ایک وقت تھا جب کتاب علم کی واحد دستاویز تھی۔ علم کے متلاشی طویل مسافتیں طے کرکے کتب خانوں تک پہنچتے، صفحات کو پلٹتے، علم کی روشنی سمیٹتے اور اپنے قلوب و اذہان...
بلاگز
کبھی سوچا ہے کہ ایک شخص کو کس کرب سے گزرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ذبح کرنے پر مجبور ہو جائے؟ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں پیش آنے والا یہ دلخراش...
ممکن ہے کہ تحریر کے عنوان کو پڑھ کر آپ میں سے کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات آئی ہو کہ یہ کیسی بات ہے کہ دوست بھی استاد بھی ہو ؟ ہاں ! ، دوست استاد ہوسکتا ہے۔۔۔...
جب میں مر جاؤں گا تو مجھے دنیاوی طور پر کوئی فکر نہیں ہوگی فکر تو مجھے میرے آئندہ پیش آنے والے سفر کی ہوگی … جبکہ اپنے بے جان جسم کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی…...
اج دیوان غالب کی ورق گردانی کرتے ہوئے اچانک مرزا غالب کی مشہور زمانہ غزل سامنے آئی کہ : [poetry]ہزاروں خواہش ہے ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان...
