خوابِ پریشاں - جویریہ ذاکر

دوپہر کی تپتی دھوپ میں سنسان گلی کےنسبتاً تاریک گوشے میں ایک گھنے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے میں اپنےاطراف کا جائزہ لے رہی تھی۔میرے سامنے سے گزرتی سڑک کے دونوں جانب پر تعیش بنگلوں کی لمبی قطارتھی، مگر خا موشی ایسی کہ جیسے یہاں کی زمیں عرصےسے کسی آدم زاد کے قدموں سے ناآشنا رہی ہو۔میں اس ہولناک سنّاٹے...

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!