ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

فیس بک پروفائل ٹوئٹر پروفائل
سبسکرائب کریں
X

سبسکرائب کریں

E-mail :*

بغاوت سے توبہ کے بعد قانون کا اطلاق – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

باغیوں اور رہزنوں میں یہ بات مشترک ہوتی ہے کہ انھوں نے باقاعدہ ایک قوت اور طاقت رکھنے والے گروہ کی شکل اختیار کی ہوتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ باغیوں کی طرح ڈاکوؤں نے بھی کسی مخصوص خطے پر اپنا تسلط قائم کرلیا ہو۔ تاہم ڈاکوؤں کا کام مالی و مادی مفاد کے مزید پڑھیں

کیا سپریم کورٹ قانون توہین رسالت تبدیل یا ختم کر سکتی ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
شراب کی حرمت و سزا، بیرسٹر ظفر اللہ کا اصل مؤقف – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
گستاخ رسول کو قتل کرنے والے شخص کا شرعی حکم – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
شراب اور بیرسٹر ظفر اللہ، اصل مسئلہ کیا ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
قومی ریاست بطور ناجائز بچہ، چند سوالات – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
حکمرانوں، عدالتی نظام کی شرعی حیثیت – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
خود کش حملوں کی شرعی حیثیت – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
جنگ کے متعلق بین الاقوامی قانون – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
”اسلامی“ بینکاری پر اہم کتب – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
جبری گمشدگی؛ قانون و اخلاقیات، چند اہم سوالات – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
2016ء میں پڑھی گئی کتابیں – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
سفیر کا تحفظ، اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
میں برات کا اعلان کرتا ہوں! – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
عوام کے لیے سیکیورٹی پلان – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
ڈاکٹر عبد السلام صاحب کا مسئلہ کیوں مختلف ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد