پاکستانی زیر انتظام کشمیر اگر واقعی اپنے آپ کو کشمیریوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے دروازے تنگ کرنے کے بجائے کشادہ کرنے ہوں...
مصنف۔افتخار گیلانی
افتخار گیلانی برصغیر کے معروف صحافی ہیں۔ سیاست اور خارجہ پالیسی جیسے موضوعات کی رپورٹنگ کرنے کا تین دہائیوں کا تجربہ ہے۔ ہندوستان کے بہت سے صحافتی اداروں میں ادارتی ذمہ داریوں کے علاوہ ترکی کی نیوزایجنسی انادولو اور جرمن ادارے ڈوئچے ویلے کےلیے کام کر چکے ہیں۔ ان کے کالم پاکستان اور ہندوستان کے کئی اخبارات میں چھپتے ہیں اور بڑے پیمانے پر سراہے جاتے ہیں۔ کئی میڈیا ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ تہاڑ کے شب و روز نامی کتاب کے مصنف ہیں۔
ازی انتیپ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے مؤثر غذائی سفارت کاری کبھی بھی عدم تحفظ کے احساس سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ یہ بانٹنے اور یکجا ہونے کی...
ناول کی کامیابی یہ ہے کہ یہ پنڈتوں کو یکطرفہ طور پر ولن یا وہیرو بنا کر پیش نہیں کرتا۔ یہ انہیں زخمی انسانوں کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ قاری کو 1990...
یہ نمائش محض ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ ترکیہ کے اندر ابھرنے والے ایک نئے جیو پولیٹیکل تخیل کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جو نیٹو کے حاشیے پر...
ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری...
کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہوسکتے ۔کیا یہ خونی لکیرمٹ نہیں سکتی۔ جب برطانیہ اور آئر لینڈسات سو سالہ دشمنی...
لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد...
یہ جنگ شاید اپنے جسمانی وجود میں ختم ہو رہی ہو، لیکن اس کے سیاسی اور تزویراتی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ گو کہ اسلام آباد کے سفارتی...
آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ...
ہندوستان کے اقتصادی مرکز بمبئی میں مئی 1948کی ایک حبس زدہ دوپہر ہفتہ وار انگریزی اخبار بلٹز کے دفتر میں اس کے ایڈیٹر رستم خورشیدجی کرانجیا اسٹوریز کی...
