ہوم << سیاسی ٹیسٹ میچ کو ٹی ٹوئنٹی نہ بنائیں - محمد عامر خاکوانی

سیاسی ٹیسٹ میچ کو ٹی ٹوئنٹی نہ بنائیں - محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانیعمران خان ایسے سیاستدان ہیں، جن کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ وہ کسی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ان کا مقدمہ میں نے چند دن پہلے دو کالموں میں پیش کیا تھا۔ محاورے کے مطابق ابھی وہ اخبار ردی میں تبدیل بھی نہیں ہوئے کہ اچانک ہی خان نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس سے اتفاق کرنا ممکن نہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنا ان کا ایک غلط فیصلہ تھا کیونکہ یہ اجلاس سرحدوں پر درپیش بھارتی جارحیت اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے بلایا گیا۔ عمران خان نے اپنا مؤقف میڈیا پر بیان کیا ہے، اس پر مزید کیا بات کی جائے۔ ان کے ڈائی ہارڈ فین اور حامیوں کو ممکن ہے اس میں کشش محسوس ہوئی ہے، میرے جیسے لوگوں کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی۔ عمران خان نے عجلت میں یہ قدم اٹھایا۔ یوں لگ رہا ہے کہ وہ ٹیسٹ میچ کو ٹی ٹوئنٹی بنانے کے چکر میں ہیں۔ سیاست ٹی ٹوئنٹی مگر ہے نہیں۔ کرکٹ کی اصطلاح میں بات کریں تو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لیے جس ٹمپرامنٹ، ذہنی مضبوطی اور صبرکی ضرورت ہے، سیاست میں بڑی کامیابی پانے کے لیے وہی ہنر چاہییں۔ عمران خان یہ باتیں جانتے بوجھتے عجلت میں لگتے ہیں۔
بنیادی طور پر ان کا سیاسی مقدمہ درست ہے۔ تبدیلی کے ایجنڈے کو انہوں نے ہنرمندی کے ساتھ اپنایا اور ایک بڑے حلقے کی سپورٹ حاصل کی۔ خیبر پختون خوا میں اے این پی، پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن کے طرز سیاست سے شاکی ووٹروں کو تحریک انصاف نے اپنی طرف کھینچ لیا، سیاسی خلا کو پر کیا اور اب صوبائی حکومت چلا رہی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ اگلے انتخابات میں کے پی کے میں صوبائی حکومت وہ باآسانی بنا لیں گے۔ پنجاب میں تحریک انصاف نے بنیادی طور پر اینٹی نواز شریف ووٹ بینک کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ پیپلزپارٹی کی بدترین کارکردگی کے باعث اس کے ووٹر اور کارکن شکستہ دل تھے۔ پیپلزپارٹی کے پاس پنجاب میں کوئی قیادت ہی نہیں، اس لیے ان کا ووٹ بینک عمران خان کی طرف چلا گیا۔ عمران خان آج بھی اینٹی نواز شریف ووٹر کی پہلی چوائس اور مجبوری ہے۔ اب انہیں دو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلی الیکشن ریفارمز کو یقینی بنانے کے لیے دبائو ڈالیں، بائیومیٹرک ووٹنگ، اوورسیز ووٹرز کی رجسٹریشن، غیر جانبدار الیکشن کمیشن اورفوج کی زیرنگرانی انتخابات. ان سب کے لیے عمران کو پریشر ڈالنا اور جدوجہد کرنی چاہیے۔ دوسرا انتخابات سے پہلے انہیں ایک اچھا انتخابی اتحاد بنانا چاہیے۔ میاں نواز شریف کو ہرانے کے لیے وہی حکمت عملی اپنانی ہوگی جو نوے کی دہائی میں نواز شریف نے بھٹو ووٹ بینک کا مقابلہ کرنے کے لیے اینٹی بھٹو اتحادکی شکل میں بنائی۔ عمران خان کو نسبتاً چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملانا ہوگا۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف فطری اتحادی بن سکتے ہیں۔ ان کا ایجنڈا بڑی حد تک ملتا جلتا ہے۔ جماعت اسلامی کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ ٹف بارگیننگ کرتی ہے اور اپنے سائز سے زیادہ نشستوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں، اگر عمران خان خود جماعت اسلامی کی قیادت سے مذاکرات کریں اور انہیں ٹھوس یقین دہانی کرائیں۔ جماعت کے ساتھ اتحاد کی صورت میں تحریک انصاف کو تجربہ کار سیاسی کارکنوں کی مدد حاصل ہوگی، جو الیکشن ڈے میں اسے فائدہ پہنچائے گی۔ جماعت اسلامی میں اس وقت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی سوچ غالب ہے، ا س کا تحریک انصاف کو فائدہ نہیں پہنچے گا، اسے ملک گیر اتحاد کی آپشن کو یقینی بنانا چاہیے۔ اسی طرح الیکشن کے موقع پر عوامی تحریک سے پنجاب کے بعض نشستوں پر اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ ضرور کرنی چاہیے۔ پانچ سات ہزار ووٹ بھی اگر ضائع ہونے کے بجائے تحریک انصاف کو مل جائیں تو وہ تمام مقابلے جیتے جا سکتے ہیں، جہاں دو چار ہزار ووٹو ں سے شکست ہو رہی ہے۔ بظاہر تو یہ آسان نہیں لگتا، مگر تحریک انصاف کو پنجاب میں بعض نشستوں پر پیپلزپارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اصول وہی سادہ ہے کہ نواز شریف کو ہرانا ہے تو اینٹی نواز شریف ووٹ بینک متحد کرنا ہوگا، ورنہ 2018 ء تو کیا 2023ء میں بھی شریف خاندان ہی میدان مارے گا۔ عمران خان ان بنیادی سیاسی حقیقتوں کو سمجھنے کے بجائے پانامہ لیکس والے ایشو کو آگے بڑھانے، اس پر سیاسی ٹمپریچر بہت زیادہ بڑھانے اور الیکشن سے پہلے نواز شریف حکومت کو چلتا کرنے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
عمران خان کے لیے دو بڑے مسائل ہیں۔ سب سے بنیادی یہ کہ ایسا کھیل مگر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کامیاب ہو نہیں سکتا۔ دوسرا ماضی میں جب بھی حکومت اس طرح کی ایجی ٹیشن کے نتیجے میں رخصت ہوئی، اس وقت ملک گیر اپوزیشن اتحاد موجود تھا، جس نے ایسی تبدیلی کی حمایت کی ۔آج یہ دونوں فیکٹرز سپورٹنگ نہیں ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی شاید اس وقت کھلی مداخلت کے موڈ میں نہیں ہے۔ فوج کئی محاذوں پر الجھی ہوئی ہے، اپنے لیے مسائل وہ کیوں بڑھائے گی؟ دھرنے کے وقت کچھ اور حالات تھے، اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ دھرنا ٹائپ اقدام دوبارہ شاید ممکن نہ ہو، جو نتائج اس وقت ملے، ممکن ہے اس بار زیادہ برے اثرات مرتب ہوں۔ اس قسم کی تبدیلی کے حق میں جو دوسرا فیکٹر کارفرما رہا، آج وہ بھی موجود نہیں۔ اپوزیشن کا ملک گیر اتحاد تو دور کی بات ہے، عمران خان کے دھرنے کے ساتھی بھی اس وقت ان کے ساتھ چلنے کو رضامند نہیں۔ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے لگتا ہے کسی کو جلدی نہیں۔ پیپلزپارٹی اگلے سال کو الیکشن کا سال بنا کر سندھ میں کچھ کام کرنا چاہتی ہے۔ تین سال اس نے ووٹروں کو شدید مایوس کیا، اب وہ اس کی تلافی چاہتی ہے۔ یہی دیکھ لیں کہ دو ہزار آٹھ سے پیپلزپارٹی سندھ میں مسلسل حکمران چلی آ رہی ہے، اسے آٹھ برسو ں میں ہوش نہیں آیا اور اب وہ نوے کے عشرے میں نواز شریف حکومت کی طرف سے برطرف کیے سرکاری ملازمین کو واجبات کے ساتھ بحال کرنا چاہتی ہے۔ جو لوگ ستانوے میں نکالے گئے تھے، دو ہزارآٹھ سے سولہ تک کسی کو انہیں رکھنے کا خیال نہیں آیا، اب الیکشن کو سامنے رکھ کر ان ہزاروں لوگوں کو بحال کیا جائے گا۔ اسی طرح کے کچھ مزید کام پیپلزپارٹی کرنا چاہتی ہے۔ وہ کیوں چاہے گی کہ سسٹم لپیٹا جائے اور الیکشن میں ڈیڑھ دو سال پہلے جانا پڑا۔ بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں بھی ایسا کیوں چاہیں گی؟جے یوآئی کو جلد الیکشن پر تو کوئی اعتراض نہیں۔ کے پی کے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا ہر دن حضرت مولانا کی طبیعت نازک پر گراں گزرتا ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ وفاق میں وہ مسلم لیگ ن کے اتحادی ہیں اور ن لیگ کے مفادات کا تحفظ ان کی کسی حد تک ذمہ داری بنتی ہے۔ وزارتیں ایسے تو نہیں ملتیں ناں۔ اے این پی کے بھی ملتے جلتے مسائل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ تمام جماعتیں عمران خان کے کسی بھی ایڈونچر کے حق میں نہیں اور نہ ہی وہ سیاسی کشیدگی بڑھانا چاہتی ہیں۔ مشرقی سرحد پر بھارتی دبائو بھی حکومت کے حق میں جائے گا۔
ایسی نازک صورتحال میں کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو۔ عمران خان مگر اپنے فیصلے کا اعلان کر چکے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا انہوں نے بائیکاٹ کر دیا۔ وہ محرم کے بعد اسلام آباد کی جانب چڑھائی کا اعلان کر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہر گزرتا دن تحریک انصاف کے جوش میں اضافہ کر رہا ہے۔ عمران خان کو اپنے فیصلے لینے کا حق حاصل ہے۔ ہم تو صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ وہ غیر ضروری عجلت سے کام لے رہے ہیں۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات جلد شروع کرنے کے لیے سیاسی دبائو ضرور بڑھائیں، مگر معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانا مناسب نہیں۔ سیاست ٹیسٹ کرکٹ ہے، پانچواں روز بھی جلد آجائے گا، مگر اسے ٹی ٹوئنٹی بنانے کے چکر میں وہ اپنی جیت کو ہار میں بدل بیٹھیں گے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Click here to post a comment