ہوم << فقراء اور مساکین کی عید - محمد یعقوب غازی

فقراء اور مساکین کی عید - محمد یعقوب غازی

%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%db%8c%d8%b9%d9%82%d9%88%d8%a8-%d8%ba%d8%a7%d8%b2%db%8c میں عید پڑھاکے احباب سے ملنےگھر سے باہر نکلا،
موٹر سائیکل اسٹارٹ کی دوستوں کی طرف روانہ ہوا،
جن سے مِلا ان میں سے کچھ تو دوست تھے کچھ عزیز و اقارب،
کچھ وہ جن سے میں عقیدت رکھتا ہوں،
جاتے ہوئے مجھے لگا آج تو عید ِسعید ہے۔
فقراء اور مساکین کی موجیں لگیں گی جو قربانی نہیں کر سکتے۔
آج تو وہ بھی گوشت کا لطف اٹھائیں گے، جو پورا سال گوشت کےلیے ترستے ہیں۔
جہاں قربانی ہو رہی ہوگی وہاں فقراء کی لائنیں لگی ہوں گی۔ ایک طرف کسی یتیم کی آواز آ رہی ہوگی بھیا، ذرا جلدی مجھے میرے حصے کا گوشت دے دو! میں دور سے آیا ہوں، پہنچتے پہنچتے کہیں دیر نہ ہو جائے، تو دوسری طرف قربانی کرنے والے کی آواز ہوگی، بیٹا تھوڑا سا صبر کرو، میں ذرا حصے برابر کرلوں۔ دوسری طرف سے کسی مسکین کی آواز آرہی ہوگی، چاچو ذرا جلدی! مجھے تھوڑ ا گوشت دے دو، میرے گھر صبح سے کچھ نہیں پکا۔ اور تقسیم کرنے والا اس کی منتیں کرتے ہوئے بیٹا مجھے پتہ ہے لیکن تھوڑا سا مجھے یہ ہڈیاں کاٹنے دو تاکہ گوشت اور ہڈیاں ملا کر تقسیم کا کام شروع کروں، اور آپ چونکہ دور سے آئے ہیں میں پہلے آپ کاحصہ دوں‌گا۔
دوسرے لفظوں میں ایک طرف سے فقراء کی آوازیں ہو‌ں گی تو دوسری طرف قربانی کرنے والے مالدار ہوں گے جو اُن فقراء اور مساکین اور یتامیٰ کی منتیں کر رہیں ہوں گے کہ کہیں اللہ کے یہ آئے ہوئے مہمان ناراض نہ ہو جائیں۔
لیکن یہ کیا؟
مجھےگلیوں میں سڑکوں کے کنارے یا خیموں کی اوٹ میں یا تو قصائی نظر آئے یا قربانی کرنے والے، کسی فقیر یا مسکین کو میری نظر نے نہیں دیکھا، بہت کوشش کی کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔
پہلے مجھے لگا یہ آپﷺ کے نام لیوا ہیں، شاید یہ گوشت کے حصے بنا کے فقراء اور مساکین کے گھروں میں خود پہنچانے جائیں گے، لیکن ایسا صرف میرا خیال تھا، وہم تھا، گوشت تھیلیوں میں بند ہو کے جا رہا تھا، پر اُن کو جو خود قربانی کر رہے تھے۔
جی ہاں! جا تو رہا تھا لیکن خُوشامد کی جگہ۔
میں نے آتے ہوئے سوچا، شاید میں سوچتے سوچتے چودہ سو سنتیس سال پیچھے چلاگیا، جہاں قربانی کرنے والے میرے پیارے آقاﷺ ہوتے، آپ کے گرد یتیموں فقراء و مساکین کی لائنیں لگی ہوتیں۔ کہیں سے ایک یتیم کی آواز ہوتی یارسول اللہ! میرے بابا اسلام کی سربلندی کے لیے آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہوگئے، میرے گھر کھانے کے لیے کچھ نہیں، میں گوشت لینے آیا ہوں، آپﷺ اسے شفقت اور پیار بھی دیتے اور یہ کہتے ہوئے اسے عطا کرتے کہ میں ہوں نا تمہارا بابا۔
کہیں سے کسی مسکین کی آواز ہوتی یارسول اللہ! میں مدینہ کے فلاں محلے سے آیا ہوں، میرے پورے خاندان کو مشرکین مکہ نے اسلام کی پاداش میں مکہ سے نکالا، آپﷺ اسے یہ کہتے ہوئے گوشت دے رہے ہوتے بیٹا کوئی بات نہیں، میں بھی تو ہجرت کرکے آیا ہوں، میں بھی مہاجر ہوں۔ سارا گوشت یتامیٰ فقراء مساکین میں تقسیم کر دیتے اور شام کو بھوک کی وجہ سے فرما رہے ہوتے، عائشہ و حفصہ و زینب! بھوک لگی ہے، اگر کہیں سے ایک دو کجھوریں مل جائیں؟ جواب ملتا آقا آج کھانے کے لیےگھر میں کچھ بھی نہیں، ازواج مطہرات پوچھتیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے جو قربانی کی تھی، اس کا گوشت؟ میرے آقا کا جواب ہوتا: آج یتیم، مسکین، ضرورت مند بہت زیادہ آئے تھے، گوشت ان میں تقسیم کردیا۔ اللہ اکبر کبیرا

Comments

Click here to post a comment