ہوم << عرفہ کا روزہ کب رکھیں؟ عمیر اقبال

عرفہ کا روزہ کب رکھیں؟ عمیر اقبال

احادیث میں یوم عرفہ کی بڑی فضیلت آئی ہے ایک طرف حجاج کے لئے وقوف عرفات کا دن ہے جس دن اللہ تعالی عرفات میں وقوف کرنے والوں پر فخر کرتاہے اور کثرت سے انہیں جہنم سے رستگاری دیتا ہے تو دوسری طرف عام مسلمانوں کے لئے اس دن روزہ رکھنے کا حکم ملاہے جو ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔
چنانچہ ابوقتادہ رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صیام عرفہ کےبارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : "يُكفِّرُ السنةَ الماضيةَ والباقيةَ" (صحيح مسلم:1162)
ترجمہ: یہ گذرے ہوئے اورآنے والے سال کے گناہوں کاکفارہ ہے۔
اس روزے سے متعلق آج سے پہلے کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا تھا مگر آج گلوبلائزیشن (میڈیاکی وجہ سے ایک گھرآنگن )کی وجہ سے لوگوں کے درمیان یہ اختلاف پیداہوگیا کہ عرفہ کا روزہ کب رکھاجائے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ روزہ سعودی عرب کے حساب سے وقوف عرفہ والے دن رکھنا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ ہرملک والا اپنے یہاں کی تاریخ سے 9/ذی الحجہ کا روزہ رکھے گا۔
اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ روزہ کے سلسلہ اسلامی احکام کیا ہیں تب آپ خود بات واضح ہوجائے گی۔
*روزہ سے متعلق اسلام کے دو اہم قاعدے ہیں۔
*پہلا قاعدہ: رویت ہلال کا ہے یعنی روزہ رکھنے میں چاند دیکھنے کا اعتبار ہوگا جسے عربی میں قمری نظام بھی کہہ سکتے ہیں۔
بخاری شریف میں آپ ﷺ کا حکم ہے۔
"صوموا لرؤيَتِهِ وأفطِروا لرؤيتِهِ ، فإنْ غبِّيَ عليكم فأكملوا عدةَ شعبانَ ثلاثينَ" (صحيح البخاري:1909)
ترجمہ: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے تیس دن پورے کر لو۔
یہ حدیث روزہ سے متعلق عام ہے خواہ کوئی بھی روزہ ہو اس میں یہی حکم لگے گا یعنی روزہ میں اپنے اپنے ملک کی رویت کا اعتبار ہوگا۔ اسی وجہ سے دیکھتے ہیں کہ رمضان كا روزہ رکھنے کے لئے چاند دیکھا جاتا ہے نہ کہ سعودی عرب کو، اور اسی طرح جب افطارکیاجاتاہے تو اس وقت بھی چاند ہی ڈوبنے کا انتظار کیاجاتا ہے ۔
*دوسرا قاعدہ: اختلاف مطالع کا ہے۔
ایک شہر کی رویت قریبی ان تمام شہر والوں کے لئے کافی ہوگی جن کا مطلع ایک ہو۔ مطلع کے اختلاف سے ایک شہر کی رویت دوسرے شہر کے لئے نہیں مانی جائے گی۔
دلیل: أنَّ أمَّ الفضلِ بنتَ الحارثِ بعثَتْه إلى معاويةَ بالشامِ.
قال: فقدمتُ الشامَ ، فقضيتُ حاجتَها ، واستهلَّ عليَّ رمضانُ وأنا بالشامِ ، فرأيتُ الهلالَ ليلةَ الجمعةِ ، ثم قدمتُ المدينةَ في خرِ الشهرِ ، فسألني عبدُ اللهِ بنُ عباسٍ رضي اللهُ عنهما ، ثم ذكر الهلالَ
فقال لهم متى رأيتُم الهلالَ فقلتُ: رأيناه ليلةَ الجمعةِ .
فقال: أنت رأيتَه..؟ فقلتُ: نعم ورأه الناسُ ، وصاموا وصام معاويةُ ،
فقال: لكنا رأيناه ليلةَ السَّبتِ ، فلا تزال نصومُ حتى نكمل ثلاثينَ ، أو نراه ، فقلتُ: أو لا تكتفي برؤيةِ معاويةَ وصيامِه ؟
فقال : لا هكذا أمرَنا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ (صحيح مسلم:1087)
ترجمہ : حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا۔ حضرت کریب کو اپنے ایک کام کے لیے حضرت معاویہ کے پاس شام میں بھیجتی ہیں۔ حضرت کریب فرماتے ہیں کہ وہاں ہم نے رمضان شریف کا چاند جمعہ کی رات کو دیکھا، میں اپنا کام کر کے واپس لوٹا یہاں میری باتیں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہو رہی تھیں۔
آپ نے مجھ سے ملک شام کے چاند کے بارے میں دریافت فرمایا تو میں نے کہا کہ وہاں چاند جمعہ کی رات کو دیکھا گیا ہے، آپ نے فرمایا تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں میں نے بھی دیکھا۔ اور سب لوگوں نے دیکھا، سب نے بالاتفاق روزہ رکھا۔ خود جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے، لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے، اور ہفتہ سے روزہ شروع کیا ہے، اب چاند ہو جانے تک ہم تو تیس روزے پورے کریں گے۔ یا یہ کہ چاند نظر آ جائے میں نے کہا سبحان اللہ! امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کا دیکھا ہوا چاند اور روزہ کیا آپ کو کافی نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا ہر گز نہیں! ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔
یہ حدیث مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد وغیرہ میں موجود ہے ، اس حدیث پہ محدثین کے ابواب سے بات اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔
"امام مسلم کا باب : باب بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ"
ترمذی کا باب : باب مَا جَاءَ لِكُلِّ أَهْلِ بَلَدٍ رُؤْيَتُهُمْ
نسائی کا باب: باب اخْتِلاَفِ أَهْلِ الآفَاقِ فِى الرُّؤْيَةِ
ان دونوں اصولوں کی روشنی میں عرفہ کا روزہ بھی اپنے ملک کے حساب سے 9/ذی الحجہ کو رکھا جائے گا۔ یہی بات دلائل کی رو سے ثابت ہوتی ہے۔
اگر روزے سے متعلق رویت ہلال کا حکم نکال دیا جائے تو روزہ بے معنی ہوجائے گا ، ایک دن کا بھی کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا ہے ، نہ سحری کھاسکتا اور نہ ہی افطار کرسکتا ہے ۔ ایسے ہی اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرنے سے مسلمانوں کے روزے ،نماز،قربانی، عیدین اور دیگر عبادات کی انجام دہی مشکل ہوجائے گی۔
*عرفہ کے روزہ سے متعلق اشکالات کا جواب
*پہلا اشکال: جن لوگوں کا کہنا ہے کہ حدیث میں تاریخ کا ذکر نہیں ہے بلکہ عرفہ کا لفظ آیا ہے اور عرفہ کا تعلق عرفات میں وقوف کرنے سے ہے اس لئے حاجی کے وقوف عرفہ کے دن ہی سارے مسلمان عرفہ کا روزہ رکھیں۔
یہ استدلال کئی وجوہ سے صحیح نہیں ہے ۔
*پہلی وجہ: قاعدے کی رو سے روزہ میں رویت ہلال اور اختلاف مطالع کا اعتبار ہوگا جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے ، عرفہ کے روزہ کو اس قاعدے سے نکالنے کے لئے واضح نص چاہئے جوکہ موجود نہیں ۔
*دوسری وجہ: اگر عرفہ کے روزہ سے متعلق بعض حدیث میں تاریخ نہیں آئی تو کوئی حرج نہیں ، دوسری حدیث میں نبی ﷺ سے تاریخ کے ساتھ 9/ذی الحجہ تک روزہ رکھنا ثابت ہے ۔ بعض ازواج مطہرات کا بیان ہے : "أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ كانَ يَصومُ تسع ذي الحجَّةِ ، ويومَ عاشوراءَ ، وثلاثةَ أيَّامٍ من كلِّ شَهْرٍ ، أوَّلَ اثنينِ منَ الشَّهرِ وخَميس" (صحيح أبي داود:2437)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ محرم ، ہر مہینے میں تین دن اور ہر مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔
اس حدیث میں عرفہ کا روزہ بھی داخل ہے جوکہ تاریخ کے ساتھ ثابت ہے،اس سے عرفہ کے روزہ کی اس ناحیہ سے تائید ہوتی ہے کہ اسے نو ذی الحجہ کو رکھا جائے گا ۔
*تیسری وجہ: اگر عرفات میں وقوف سے متعلق روزہ ہوتا تو عرفہ نہیں عرفات کا ذکر ہوتا۔
*چوتھی وجہ: اگر یہ وقوف عرفہ کی وجہ سے ہوتا تو حاجیوں کے لئے بھی یہ روزہ مشروع ہوتا مگر یہ حاجیوں کے لئے مشروع نہیں ہے ۔
*پانچویں وجہ: وقوف عرفہ کا ایک وقت متعین ہے جو کہ تقریبا زوال کے بعد سے مغرب کے وقت تک ہے ۔یہ وقت روزہ کے واسطےسعودی والوں کے لئے بھی کافی نہیں ہے کیونکہ روزے میں صبح صادق کے وقت سحری اور نیت کرنا پھر غروب شمس پہ افطار کرنا ہے۔گویا روزے میں وقوف کا اعتبار ہوا ہی نہیں اس میں تو نظام شمسی وقمری کا اعتبار ہوا۔ اس بناپر بھی نسبت کا ہی اندازہ لگاسکتے ہیں وقوف کا نہیں۔
*چھٹی وجہ: سعودی والوں کے لئے بھی عرفہ نو ذی الحجہ ہی ہے ، وہ روزہ رکھتے ہوئے عرفہ کے وقوف کو مدنظر نہیں رکھتے بلکہ قمری تاریخ کے حساب سے نو ذی الحجہ کو رکھتے ہیں ۔ اس کی دلیل حجاج کرام سے ہی ملتی ہے ، وہ لوگ قمری تاریخ کے حساب سے آٹھ ذی الحجہ (یوم الترویہ )سے حج شروع کرتے ہیں ، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ہے کہ ذی الحجہ کی سات تاریخ ہو اور حاجی منی جائے یا آٹھ تاریخ ہو اور حاجی عرفات چلا جائے ۔ مناسک حج میں بھی یوم الترویہ اور یوم عرفہ تاریخ کے طور پر ہی ہے کیونکہ اسلامی عبادات میں رویت ہلال کا بڑا دخل ہے ۔ اسی چیز کی طرف قرآن میں رہنمائی کی گئی ہے۔
اللہ کا فرمان ہے : يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الأَهِلَّةِ قُلْ هِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ." (سورة البقرة: 189)
ترجمہ: لوگ آپ سے ہلال کے بارے میں پوچھتے ہیں ،کہو یہ لوگوں کے لئے اوقات اور حج کی تعیین کا ذریعہ ہے۔
*دوسرا اشکال: قائلین وقوف عرفہ کا ایک اشکال یہ ہے کہ احادیث میں یوم عرفہ کی بڑی فضیلت وارد ہے اور عرفہ وقوف عرفات پہ ہے اس لئے عرفہ کے وقوف پہ ہی یہ روزہ رکھا جائے۔
یہ بات صحیح ہے کہ عرفہ کی بڑی فضیلت آئی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے مگر عرفہ کے روزہ سے متعلق یہ کہنا کہ "اس کی فضیلت کی وجہ سے وقوف عرفہ پر ہی روزہ رکھنا ہے" غلط استدلال ہے۔ اللہ تعالی نے یوم عرفہ کو حجاج کے علاوہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے باعث فضیلت بنایا ہے۔ حاجیوں کو وقوف عرفہ کا ثواب ملتا ہے جبکہ دنیا والوں کو یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے ۔اور اس بات پہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ یوم عرفہ تو ایک ہی دن ہے، پھر اپنے اپنے ملکوں کے حساب سے کیسے فضیلت ہوگی؟ تب تو کئی ایام ہوجائیں گے۔
اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ اللہ تعالی نے لیلۃ القدر ایک بنائی ہے مگرسارے مسلمانوں کے لئے اپنے اپنے حساب سے فضیلت ملتی ہے ۔ سعودی میں ایک دن پہلے شب قدر ، ہندوپاک میں ایک دن بعد شب قدر ، رات ایک ہی ہے اور ثواب کی امید ہرملک والے اپنے اپنے ملک کے حساب سے شب قدر میں بیدار ہوکر رکھتے ہیں۔
*تیسرا اشکال: بعض لوگ ترمذی کی ایک روایت سے دلیل پکڑتے ہیں ۔ "الصَّومُ يومَ تَصومونَ ، والفِطرُ يومَ تُفطِرونَ ، والأضحَى يومَ تُضحُّونَ"(صحيح الترمذي:697)
ترجمہ: روزہ اس دن رکھا جائے جس دن لوگ روزہ رکھتے ہیں ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ بھی اسی دن منائی جائے جب لوگ مناتے ہیں۔
اس حدیث کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جس دن عرفہ کا روزہ سعودی عرب میں رکھا جاتا ہے اس دن سب لوگ رکھیں ۔ اس میں اتحاد ہے۔
اگر اس حدیث سے ایسا ہی مسئلہ استنباط کیا جائے (جبکہ اس میں لفظ عرفہ ذکر ہی نہیں) تو اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ پوری دنیا کے مسلمان ایک ساتھ رمضان کا روزہ رکھیں بلکہ ایک ساتھ سحری کھائیں، ایک ہی ساتھ افطار کریں ، ایک ہی ساتھ اور ایک ہی وقت میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نمازیں پڑھیں ۔ ظاہری بات ہے کہ وقوف عرفہ پہ روزہ رکھنے کے قائلین اس بات کو نہیں مانیں گے تو پھر عرفہ کے روزہ پر ہی پوری دنیا کا اتحاد کیوں..؟
اس حدیث کاصحیح مفہوم یہ ہے کہ روزہ اور عید ، جماعت اور لوگوں کی اکثریت کے ساتھ معتبرہے جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے۔
*چوتھا اشکال: ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ پہلے لوگ نہیں جان پاتے تھے کہ وقوف عرفہ کب ہے اس لئے اپنے ملک کے حساب سے نو ذی الحجہ کا روزہ رکھا کرتے تھے اس لئے معذور تھے اب زمانہ ترقی کرگیا اور وقوف عرفہ سب کو معلوم ہو جاتا ہے اس لئے وہ عذر ساقط ہوگیا۔
*اولا: آج بھی پوری دنیا میں ہرکس وناکس کو میڈیا کی ساری خبروں کا علم نہیں ہوپاتا ، میڈیا سے جڑے لوگوں کو ہی پتہ چل پاتا ہے ۔
*ثانیا: اسلام نے جو آفاقی دین دیا ہے وہ انٹرنیٹ اور میڈیا کا محتاج نہیں ہے ۔ بطور مثال یہ کہوں کہ انٹرنیٹ اور میڈیا ختم ہوجائے تو تب آپ کیا کہیں گے کہ ابھی پھر سے لوگ معذور ہوگئے ۔ یہ تو مشینری چیز ہے چل بھی سکتی ہے اور کبھی اس کا نظام درہم برہم بھی ہوسکتا ہے ۔اس کا مشاہدہ کبھی کبھار بنکوں اور آفسوں میں ہوتاہے ۔ جب نٹ کنکشن غائب رہتا ہے تو لوگوں کی کیا درگت ہوتی ہے۔ لیکن اسلام کا نظام ہمیشہ بغیرمیڈیا اور انٹرنیٹ کے چلتا رہاہے اور قیامت تک چلتا رہے گا۔ دنیا والوں کو بغیر انٹرنیٹ کے قمری نظام سے رمضان کا روزہ ، ایام بیض ، عاشواء اور عرفہ معلوم ہوتا رہے گا۔
*قائلین صیام عرفات پہ چند محاکمہ
(1)جب ایسے لوگوں سے کہا جائے کہ بعض ممالک لیبیا ، تیونس اور مراکش وغیرہ میں سعودی سے پہلے عید ہوجاتی ہے ، اس صورت میں وقوف عرفہ ان کے یہاں عید کا دن ہوتا ہے وہ کیسے روزہ رکھیں ؟ عید کے دن روزہ منع ہے ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا: "نهى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن صومِ يومِ الفطرِ والنحرِ" ( صحيح البخاري:1991)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اورعیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔
تو جواب دیتے ہیں ایسے لوگوں سے روزہ ساقط ہوجاتا ہے ۔ روزہ کے متعلق اصول واحکام واضح ہیں انہیں بالائے طاق رکھ کر بغیر ثبوت کے روزہ ساقط کرواکر لوگوں کو بڑے اجر سے محروم کردینا بڑی ناانصافی ہے۔
(2)جب ان سے کہا جائے کہ آج سے سوسال پہلے لوگ عرفہ کا روزہ رکھتے تھے کہ نہیں ؟ اگر رکھتے تھے تو یقینا وہ اپنے ملک کے حساب سے رکھتے ہوں گے( اس کا انکار کرنے کی کسی کو ہمت نہیں)تو جواب دیتے ہیں کہ اس وقت پتہ نہیں چل پاتا تھا اس لئے وہ معذور تھے۔
یہ جواب کچھ ہضم نہیں ہوپاتا۔ اس جواب کو مان لینے سے یہ ماننا پڑے گا کہ قرون اولی سے لیکر آج تک کسی نے عرفہ کا روزہ صحیح نہیں رکھا سوائے عرب والوں کے، جبکہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے وہ سب کے لئے یکساں دستور پیش کرتا ہے خواہ سعودی عرب كا ہو یا دوسرے ملک کا، اور اسلام پر عمل کرنے کےلئے کسی میڈیا کی بھی ضرورت نہیں۔
*ایک اہم نکہ: نیوزی لینڈ اور سعودی میں گیارہ گھنٹے کا فرق ہے، جب سعودی میں نو ذی الحجہ کا سورج نکلتا ہے تو نیوزی لینڈ میں آٹھ ذی الحجہ کا سورج غروب ہوتاہے۔ تو کیا نیوزی لینڈ والے رات کو روزہ رکھیں گے؟ اور اگر رات گزار کر روزہ رکھیں تو ان کے یہاں تو ذی الحجہ کی نو تاریخ ہوگی مگر سعودی میں دس تاریخ یعنی عید کا دن ہوگا، تو کیا نیوزی لینڈ والے عید کے دن روزہ رکھیں گے جو کہ ممنوع ہے۔ عرفہ کا روزہ سمجھنے کے لیے یہ ایک اہم نکتہ ہے.
خلاصہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ عرفہ کا روزہ اپنے اپنے ملک کے حساب سے ذی الحجہ کی نو تاریخ کو رکھا جائے گا۔
محمد عمیر اقبال

Comments

Click here to post a comment