ہوم << ہمارے افغان مہمان-عبدالقادر حسن

ہمارے افغان مہمان-عبدالقادر حسن

m-bathak.com-1421902610abdul-qadir-hassan
صورت حال کچھ یوں ہے اور وہ اب کسی کے بس میں بھی نہیں ہے۔ اس کی تفصیلات میں جا کر میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ ہمارے سیاست دان اب سیاسی گرمجوشی سے زیادہ مارکٹائی پر اتر آئے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کے گھر جا کر گڑبڑ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کوئی رائیونڈ مارچ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے تو کوئی کسی دوسرے کے گھر پر یلغار کا اعلان کر رہا ہے لیکن اصل بات جو ہر پاکستانی کے دل کو لگی ہے وہ ہمارے جرنیل راحیل شریف کی ہے جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم دوستی کرنا اور دشمنی کا قرض اتارنا دونوں جانتے ہیں۔ دشمن خبردار رہیں پاکستان ناقابل تسخیر ہے پاکستانی اپنے وطن عزیز کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور کرتے رہے ہیں، اس کی پوری دنیا اور خصوصاً ہمارے دشمن گواہ ہیں۔
پاکستان دشمنوں میں گھرا ہوا ملک ہے، اس کے نئے اور پرانے دشمن اسے پریشان کرنے پر ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس ملک کی تشکیل کچھ اس انداز میں ہوئی ہے کہ جیسے اسے دشمنوں سے چھینا گیا ہے اور اس کے دشمن یہ سب خوب جانتے ہیں۔ بھارت سے پاکستان کی دشمنی اس کے خون میں رچی بسی ہوئی ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان کا ایک نظریاتی مخالف ہے اس کے وجود کو بھی برداشت نہیں کرتا اور اس کی تباہی میں اپنی زندگی سمجھتا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی سے اس کا ایک اور خوامخواہ دشمن بھی پیدا ہو گیا ہے جو افغانستان ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے تعلق کی تاریخ دشمنی کی نہیں۔ یہ دونوں ملک کاروباری ساتھی رہے ہیں۔ افغان قوم ایک مزدور قوم بن کر پاکستان سے دوستی کا دم بھرتی رہی۔ پاکستان میں تعمیرات کا کام ہو یا کوئی دوسرا تعمیری کام اس میں افغانستان کے لوگ مزدور بن کر کام کرتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے۔ پانی کی فراہمی کے لیے ہم نے گھر کے صحن میں ایک کنواں کھدوایا، چھوٹا کنواں جسے ہم کھوئی کہتے ہیں۔ یہ ہمارے گاؤں میں مزدوری کرنے والے افغانوں نے کھودی تھی۔ ہم بچے اس کی کھدائی کا تماشا دیکھا کرتے تھے اور پھر اس میں سے پانی نکلتا بھی دیکھا جس نے نہ صرف ہمارے گھر کی بلکہ اڑوس پڑوس کی پانی کی ضروریات بھی پوری کر دیں اور ہمارے گاؤں کا ایک حصہ گھریلو پانی میں خودکفیل ہو گیا۔ اس سے پہلے قریب کے علاقے سے پانی مزدوری پر لایا جاتا تھا اور گھر کی ضروریات پوری کی جاتی تھیں۔ اب جب میں کراچی میں پانی بکتا دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے۔
ہمارے گاؤں میں تعمیرات کے کئی دوسرے کام بھی افغان مزدور کرتے تھے۔ جو لوگ کنواں کھودنے کا کام کر سکتے تھے وہ کسی دیوار کو بھی کھڑا کر سکتے تھے اور اس پر چھت ڈال سکتے تھے۔ ہمارے ہاں افغان مزدور دن اور رات کا کھانا مانگ کر یعنی گداگری کر کے کھاتے تھے۔ وہ گاؤں کی کسی گلی میں اپنی چادر بچھا کر اس کے اوپر کھانے کا سامان رکھ دیتے تھے، پانی قریب کے گھر سے مانگ لیتے تھے اور اس طرح وہ ایک وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھا لیتے تھے۔
اپنی مزدوری کا پورا سیزن وہ اسی طرح گزارتے تھے۔ جی بھر کر مزدوری کی، اس کا معاوضہ وصول کیا اور دو وقت کا کھانا گداگری کر کے یعنی مانگ کر حاصل کر لیا۔ اس طرح سیزن ختم ہونے پر وہ ان کے مطابق مزدوری کی ایک معقول رقم ساتھ لے گئے۔ وادی سون ایک نیم سرد علاقہ تھا اس لیے مزدوری کے لیے یہ ان کا پسندیدہ تھا۔ مناسب موسم، مناسب مزدوری اور دو وقت کا کھانا جو گاؤں والوں کے ’ذمے‘ تھا۔ اس طرح خان صاحبان ہمارے علاقے میں بہت خوش رہتے تھے اور تھوڑے دنوں کے لیے واپس جا کر جلدی ہی لوٹ آتے تھے۔ کسی کے پاس فروخت کے لیے پوستین بھی ہوتی تھی جو ایک معقول قیمت پر فروخت ہو جاتی تھی کیونکہ ہمارے ہاں بھی موسم قدرے سرد ہوا کرتا تھا۔ قیمتی اور نئی چیز ہونے کی وجہ سے پوستین خوشحال لوگوں کے فیشن میں بھی شامل ہو گئی تھی۔
میں عرض یہ کر رہا ہوں کہ افغانستان سے آنے والے لوگوں کے لیے ہمارا علاقہ ایک پسندیدہ اور کارآمد علاقہ تھا جہاں ان کو مزدوری بھی ملتی اور پناہ بھی۔ پناہ کا تو کوئی سوال نہیں تھا کہ یہ ایک پرامن علاقہ تھا بلکہ بعض افغان تو ایسے بھی آ جاتے تھے جو اپنے ہاں کسی قانونی گرفت میں ہوا کرتے تھے جن کے واپس چلے جانے کے بعد پتہ چلتا کہ وہ قانون کے بھگوڑے تھے لیکن ہمارے علاقے کے لوگوں کو اگر کسی کے بارے میں پتہ چل بھی جاتا تو وہ مہمان ہونے کی وجہ سے بچ نکلتے۔ یوں ہمارا علاقہ افغانوں کے لیے ایک بہت ہی موزوں علاقہ تھا۔
موسم مناسب، مزدوری عام اور کھانا مفت، کسی افغان کو اور کیا چاہیے۔ وہ تو جب وسطی ایشیاء میں حالات بدامنی کا شکار ہوئے تو یہ مزدور افغان بھی ان حالات سے بہت متاثر ہوئے اور پھر ان کی آمد رفتہ رفتہ کم ہو گئی اور اگر ہوتی بھی تو بچ بچا کر کیونکہ یہ لوگ ہمارے ہاں مشکوک ٹھہرے۔ خلاف معمول کچھ چوریاں بھی شروع ہو گئیں جو صرف مزدور افغانوں کے زمانے میں بالکل نہیں تھیں۔ وہ گاؤں کی مسجدوں میں قیام کرتے یا کسی زمیندار کے ڈیرے پر۔ مقامی آبادی ان مزدوروں کی وجہ سے خوش ہوتی تھی کہ جو کام وہ خود نہیں کرنا چاہتے تھے وہ کام یہ مزدور کر دیتے تھے۔ اس طرح افغان مزدور ہمارے ہاں پسند کیے جاتے تھے۔
وہ ہماری ضرورت پوری کرتے اور ہم ان کی مزدوری کا سیزن نفع بخش بنا دیتے۔ اس طرح افغان مزدور ہمارے ہاں ایک مقبول لوگ تھے مگر اب حالات کی تبدیلی نے سب کو پریشان کر دیا ہے اور افغان مہمان نہیں کچھ اور بن گئے ہیں جس پر وہ خود بھی خوش نہیں ہیں۔

Comments

Click here to post a comment