ہوم << انسانیت کا چیمپیئن اور اس کی انسانیت. سیف اللہ یوسفزئی

انسانیت کا چیمپیئن اور اس کی انسانیت. سیف اللہ یوسفزئی

انسانیت کا چیمپین اور اسکی انسانیت... تحریر: سیف اللہ یوسفزئی
.....................
سات دسمبر ۱۹۴۱ کے دن کو امریکی تاریخ کا ایک اہم ترین دن سمجھا جاتا ہے ـ اس دن جاپانی بمبار جہازوں نے پیسیفک میں موجود امریکی بحری اڈے پر دل کھول کر بمباری کی اور تقریبا ساڑھے تین ہزار امریکی سپاہیوں کو ماردیا ـ گوکہ جاپان کی طرف سے کیے گئےاس حملے کی پیشگی اطلاع امریکیوں کو اپنے جاپان میں موجود سفیر کے ذریعے سے مل چکی تھی ـ لیکن چند " ناگزیر " وجوہات کی بناء پر اس حملے سے بچاؤ کے اقدامات میں سقم چھوڑدیا گیا ـ بظاہر یہ دعوی مضحکہ خیز لگتا ہے کیونکہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پرل ہاربر کے بارے میں اگر امریکا نے دانستہ غفلت برتی تو کس وجہ سے؟ یعنی وہ کون سے فوائد ہیں جن کو نظر میں رکھ کر امریکا نے پرل ہاربر کی " قربانی " پیش کی؟ ـ
اس سارے منظر نامے کو سمجھنے کے لیے ہمیں دوسری جنگ عظیم کے پس منظر، امریکا کی اس میں شمولیت ( گوکہ یہ جنگ پیسیفک اور یورپ اور دیگر ان علاقوں میں لڑی جارہی تھی جن سے امریکا کو کسی نقصان کا کوئی خطرہ نہیں تھا) اور اس کے بعد امریکا کے معاشی، سیاسی اور عسکری سپرپاور کے طور پر ابھرنے کے عوامل کا جائزہ لینا ہوگا ـ
دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے کی بنیادی وجہ نازی جرمنی کا نسل پرستانہ تفاخر تھا ـ اسکی قیادت ایڈولف ھٹلر جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بچپن سے یہودیوں کی طرف سے کی گئی زیادتیوں نے اس کے دماغ پر گہرے اثرات نقش کیے تھے ـ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی ذلت آمیز شکست کے ذمہ دار ھٹلر کی نظر میں یہودی اور جرمن کمیونسٹ تھے ـ یوں جوانی میں ہی ھٹلر ان دونوں طبقات سے انتقام کے جزبات انتہا کی حد تک پہنچ چکے تھے ـ جرمن فوج میں ھٹلر ترقی کرتے کرتے بالآخر جرمن فوج کا سربراہ بن گیا اور جرمن قومپرستی اور آرین نسلی تفاخر کے نعرے کے سحر میں پوری جرمن قوم کو اس نے جکڑ لیا ـ یوں اس طاقت کے نشے میں جرمنی نے پورے یورپ اور مشرق میں سوویت یونین پر قبضے کا منصوبہ بنایا جسکی شروعات اس نے پولینڈ پر یکم ستمبر ۱۹۳۹ کوحملے سے کی ـ اور یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کی شرعات کا سبب بنا ـ لیکن بدقسمتی سے ایڈولف ھٹلر یا نازی جرمنی ہمارا سردست موضوع نہیں ہے اس پر بات پھر کبھی سہی ـ تو بات ہورہی تھی امریکا کے جنگ عظیم میں شمولیت کے اسباب پر ـ پرل ہاربر پر حملے سے پہلے امریکی عوام کی ۷۸ فیصد واضح اور فیصلہ کن اکثریت اس جنگ میں شمولیت کی مخالف تھی ـ لیکن امریکی سرمایہ دار اور شاطر سیاسی طبقہ کو دوسری جنگ عظیم کی صورت میں یورپ و ایشیاء میں اپنے قدم جمانے کا بہترین موقع نظر آرہا تھا ـ یوں پرل ہاربر پر حملے کے امکان کی پیشگی اطلاع کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے اور برضا و خوشی بقائمی ہوش و حواس دلجمعی کے ساتھ پرل ہاربر پر حملہ " ہونے " دیا گیا تاکہ امریکی عوام کو انتقام کے نام پر جنگ میں شمولیت پر راضی کیا جاسکے ـ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پرل ہاربر پر حملے والے دن دیگر بحری جہاز تو موجود تھے لیکن امریکا کے اس اڈے پر ہمہ وقت موجود Air Craft Carriers جو اسکی بحری قوت کی ریڑھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتے تھے " معجزانہ " طور پر موجود نہیں تھے ـ یوں وہ محفوظ رہے ـ اس ساری تمہید کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ امریکا اکثر اوقات جنگوں میں اپنے آپ کو خطرہ نا ہونے کے باوجود کود پڑتا ہے جس کے پیچھے اسکے سیاسی ، عسکری و معاشی مقاصد ہوتے ہیں ـ دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکا اور امریکی باقی دنیا سے تقریبا Isolated تھے اور اپنی دھن میں مگن تھے ـ اس وقت امریکا دنیا میں عسکری قوت کے لحاظ سے سترہویں نمبر پر تھا ـ لیکن جنگ ختم ہونے پر یہ پہلے نمبر پر موجود تھا. اسکی معاشی قوت اتنی بڑھی کہ اسکا G.N.P دوگنا ہوگیا ـ پوری دنیا کے کل قرضوں کا آدھا امریکا ساہوکار کی ملکیت تھا ـ اس جنگ سے پہلے امریکا کے اپنی سرزمین سے باہر صرف چار عسکری بیسز تھے جبکہ جنگ ختم ہونے پر پوری دنیا میں تیس ہزار مقامات پر اسکے فوجی تعینات ہوچکے تھے، یوں یہ دنیا کا ایک چودھری بن چکا تھا ـ لیکن امریکا کی اس سپرمیسی کی قیمت تین ہزار امریکیوں کے بدلے لاکھوں دوسرے انسان تھے جو امریکا کے ان عزائم کی کالی ماتا کی بھینٹ چڑھائے گئے ـ اسکی صرف ایک مثال سے اندازہ لگالیں کہ ۹ مارچ ۱۹۴۵ کو تین سو B-29 بمبار طیارے ٹوکیو کہ شہری آبادی پر بمباری کرتے ہیں اور سولہ مربع میل کے گنجان آباد علاقے کو چند گھنٹوں میں ملبے کا ڈھیر بنادیتے ہیں جسکے نتیجے میں نوے ہزار نہتے شہری ہلاک اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہوجاتے ہیں ـ اسکے علاوہ پانچ ماہ بعد یعنی چھ اگست ۱۹۴۵ کو ہیروشیما اور ۸ اگست کو ناگاساکی پر پھینکے گئے دنیا کے مہلک ترین ھتیار " ایٹم بم " کے نتیجے میں چند لمحوں کے اندر ڈھائی لاکھ سے زائد افراد زندہ جلادیے گئے ـ عسکری ماہرین جو دوسری جنگ عظیم پر گہری نظر رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ ایٹم بم گرائے بغیر بھی جاپان ھتھیار ڈالنے کو تیار تھا لیکن امریکا کو خدشہ تھا کہ کہیں سوویت یونین اس سے پہلے جاپان پر قبضہ نا جمالے ـ یوں قبضہ اور توسیع کے اس شیطانی کھیل میں جاپان پر ایٹم بم گراکر امریکا نے اپنی " نیوکلیر " حکمرانی کا آغاز کیا ـ یوں دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوجی مہم جو ساڑھی تین ہزار امریکی میرینز کے " بدلے " کے طور پر شروع ہوئی لاکھوں انسانوں کو قتل و اپاہج کرنے کروڑوں کو بےگھر اور دربدر کرکے اختتام پذیر ہوئی ـ امریکن ایمپائر ان لاکھوں کھوپڑیوں کے مینار پر کھڑی ہے لیکن آج یہی امریکا دنیا میں دھشتگردی کے خاتمے کے نام پر مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجارہا ہے، اور انسانیت انسانیت کی راگنی بھی گائے جارہا ہے ـ
( نوٹ ـ دوسری جنگ عظیم میں سے صرف جاپان کی مثال دیکر یہ بات ثابت کی گئی ہے ورنہ امریکا کی پچھلی ستر سالہ تاریخ انسانیت کے خلاف جرائم سے بھری پڑی ہے جس پر ھزاروں جلدوں پر مبنی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں)

Comments

Click here to post a comment