ہوم << کتاب’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ کا جائزہ – محمد شفیق اعوان
600x314

کتاب’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ کا جائزہ – محمد شفیق اعوان

زیرِ نظر کتاب ’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ کی تحقیق، تدوین اور تالیف محترم محمود عالم صدیقی نے کی ہے۔ اسے کراچی کے اشاعتی ادارے ’’زیک بُکس‘‘ نے شائع کیا۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن 2020ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس کی ضخامت 293 صفحات کے علاوہ ابتدائی 12 صفحات پر مشتمل ہے۔ یوں یہ مجموعہ محض چند مضامین یا مختصر تاثرات تک محدود نہیں، بلکہ خاصی وسعت کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔

کتاب مجلد ہے، اس کا سرورق رنگین ہے اور جلد پر بارہ شخصیات کی آرا شامل کی گئی ہیں۔ سرورق ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرتب نے مولانا مودودیؒ کی شخصیت کو ایک سے زیادہ زاویوں سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابتدائی صفحات میں کتاب کا نام، حقوق و اشاعتی کوائف، اشعار، سلیم منصور خالد کی گزارشات، شاہ نواز فاروقی کی تقریظ، محمود عالم صدیقی کا عرضِ مؤلف اور فہرستِ ابواب و مضامین شامل ہیں۔کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا موضوعاتی تنوع ہے۔ اس میں مولانا مودودیؒ کی اپنی تحریروں اور یادداشتوں سے لے کر اہلِ خانہ کے تاثرات، مشاہیر کی آرا، دانش وروں کے تجزیات، علماء کی علمی گفتگو، اخبارات کے اداریوں اور قومی و عالمی رہنماؤں کے تعزیتی و تاثراتی کلمات تک مختلف النوع لوازمہ یکجا کیا گیا ہے۔ اس طرح قاری کو ایک ہی شخصیت کے بارے میں متعدد زاویۂ ہائے نظر سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

کسی شخصیت کی سوانح مرتب کرتے وقت عموماً واقعات کی زمانی ترتیب کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے، لیکن جب مقصد اس شخصیت کے اثرات اور اس کے عہد میں اس کے مقام کو سمجھنا ہو تو مختلف لوگوں کی شہادتیں بھی اہم ہوجاتی ہیں۔ اہلِ خانہ کسی انسان کے نجی مزاج اور گھریلو زندگی سے واقف ہوتے ہیں، شاگرد اس کے علمی طریقِ کار کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں، جب کہ ہم عصر اہلِ قلم اس کے فکری اثرات اور علمی مباحث کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔ اس کتاب میں ان مختلف النوع شہادتوں کو یکجا کرنے کی کوشش، اس کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔

کتاب کے آٹھ ابواب: ایک جامع مطالعہ
کتاب کو آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر باب مولانا مودودیؒ کی شخصیت اور خدمات کے ایک مخصوص پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ فہرستِ مضامین پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتب نے لوازمہ کو محض ناموں اور مضامین کے انبار کی صورت میں پیش کرنے کے بجائے مختلف موضوعاتی عنوانات کے تحت جمع کیا ہے۔

باب اوّل: ابتدائیہ، اپنی نظر میں اور تحریک کے آغاز کی روداد
پہلا باب کتاب کی فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس میں مظفر احمد ہاشمی کا ابتدائیہ شامل ہے۔ اس کے بعد ’’اپنی نظر میں‘‘ کے عنوان سے محمود عالم صدیقی کی مرتب کردہ تحریر پیش کی گئی ہے۔ مولانا مودودیؒ کے خاندانی پس منظر اور بچپن سے متعلق ان کی اپنی تحریر بھی شامل ہے، جو ’’میرا بچپن‘‘ اور ’’میری آپ بیتی‘‘ سے ماخوذ ہے۔
اس باب کا ایک اہم مضمون ’’میں نے تحریکِ اسلامی کیوں شروع کی‘‘ ہے، جو خود مولانا مودودیؒ سے منسوب ہے۔ اس مضمون کی موجودگی قاری کو ان کے تحریکی سفر کے محرکات اور مقاصد سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔کسی بھی رہنما کی زندگی کو سمجھنے کے لیے اس کی اپنی آواز سننا ضروری ہوتا ہے۔ دوسروں کے تاثرات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب متعلقہ شخصیت خود اپنے حالات، تجربات اور مقاصد بیان کرے تو قاری کو اس کی فکر تک براہِ راست رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے پہلے باب کی اہمیت نمایاں ہے۔

باب دوم: اپنوں کی نظر میں
کتاب کا دوسرا باب مولانا مودودیؒ کے خاندانی اور نجی پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے۔ اس میں ان کے بھائی سیِّد ابوالخیر مودودی کی تحریر ’’ابوالاعلیٰ بحیثیت برادر‘‘ شامل ہے۔ ان کی اہلیہ کے تاثرات ’’ایسا سمندر جو کبھی متلاطم نہ ہوا‘‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ’’ہمارا خاندان‘‘، ’’اباجان کی پسند‘‘، ’’انتہائی شفیق والد محترم‘‘، ’’میرے اباجان‘‘، ’’ایک دردمند باپ‘‘، ’’میرے والد محترم‘‘ اور ’’ضبط و تحمل کے کوہِ گراں‘‘ جیسے عنوانات کے تحت ان کے اہلِ خانہ کے تاثرات شامل ہیں۔ ان مضامین کے مصنفین میں ابومحمود، سیِّد عمر فاروق، ڈاکٹر سیِّد احمد فاروق، سیدہ حمیرا، سیِّد محمد فاروق، سیِّد حسین فاروق، سیِّد حیدر فاروق اور سیِّد خالد فاروق شامل ہیں۔

اسی باب میں جوش ملیح آبادی کی تحریر ’’ایک ہمدم دوست‘‘، حبیب اللّہ اوج کی روایت میں ’’ایک مثالی پڑوسی‘‘ اور محمد حنیف و عبدالغفور کے تاثرات بھی شامل ہیں۔یہ مضامین اس پہلو سے اہم ہیں کہ ایک معروف رہنما کی شخصیت صرف اس کی تقریروں، تصانیف اور عوامی سرگرمیوں سے نہیں بنتی۔ اس کا گھریلو برتاؤ، اہلِ خانہ سے تعلق، دوستوں کے ساتھ رویہ، پڑوسیوں کے حقوق کا احساس اور روزمرہ زندگی میں اس کا مزاج بھی اس کی شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں۔عوامی زندگی میں کسی انسان کی شہرت اس کے کردار کا ایک رخ دکھاتی ہے، جب کہ نجی زندگی میں اس کے رویّے کو جاننے سے شخصیت کے دوسرے پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس باب میں شامل تحریریں قاری کو مولانا مودودیؒ کی شخصیت کے اسی انسانی اور گھریلو پہلو سے روشناس کرانے کی کوشش کرتی ہیں۔

باب سوم: مشاہیر کی نظر میں
تیسرے باب میں مختلف علمی و ادبی شخصیات کے مضامین شامل ہیں۔ سیِّد ابوالحسن علی ندوی کی تحریر ’’ایک متکلمِ اسلام‘‘، پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی کا مضمون ’’مولانا مودودیؒ: ایک مفسرِ قرآن‘‘ اور عبدالوکیل علوی کی تحریر ’’مولانا مودودیؒ اور دفاعِ سنت‘‘ اس باب کی اہم کڑیاں ہیں۔اسی سلسلے میں جاوید احمد غامدی کا مضمون ’’تاریخِ علومِ اسلامی میں سیِّد مودودیؒ کا مقام‘‘، اے کے بروہی کی تحریر ’’سب سے بڑا وکیل‘‘، حکیم محمد سعید کا مضمون ’’آشنائے رموزِ حکمت‘‘ اور اشتیاق احمد کی تحریر ’’ایک منفرد انشا پرداز‘‘ شامل ہیں۔ ڈاکٹر پروفیسر عبدالمغنی نے ادب میں ان کے مقام پر گفتگو کی ہے، جب کہ پروفیسر حمداللّہ کی تحریر ’’ایک بہت بڑا آدمی‘‘ بھی اس باب کا حصہ ہے۔

ان مضامین کے عنوانات ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا مودودیؒ کو صرف ایک دینی جماعت کے رہنما کی حیثیت سے نہیں دیکھا گیا، بلکہ ان کے تفسیری، علمی، ادبی، استدلالی اور فکری کام کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔یہ تنوع قاری کے لیے اس اعتبار سے مفید ہے کہ وہ کسی ایک زاویے سے قائم ہونے والے تاثر پر اکتفا کرنے کے بجائے مختلف علمی میدانوں میں ان کے کام کے بارے میں آرا سے واقف ہوسکتا ہے۔ البتہ ان آرا سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ قاری متعلقہ موضوعات پر مولانا مودودیؒ کی اصل تحریروں کا مطالعہ بھی کرے۔

باب چہارم: دانش وروں کی نظر میں
چوتھے باب میں دانش وروں اور اہلِ قلم کے تاثرات کو جگہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر سفیر اختر فاروقی کا مضمون ’’نیاز فتح پوری، نگار اور سیِّد مودودی‘‘، میاں عبدالحمید کی تحریر ’’ایک نڈر اور بے باک صحافی‘‘ اور فیض احمد فیض سے منسوب مضمون ’’ایمان کی لذت اور ندرتِ استدلال‘‘ شامل ہیں۔محمد حنیف رامے کی تحریر ’’مولانا مودودیؒ اور میں‘‘، نوابزادہ نصراللّہ خاں کا مضمون ’’قومی سیاست اور مولانا مودودیؒ‘‘ اور سیِّد شریف الدین پیرزادہ کی تحریر ’’مولانا مودودیؒ اور تحریکِ پاکستان‘‘ بھی اسی باب کا حصہ ہیں۔اس باب کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ اس میں مولانا مودودیؒ کی شخصیت کو مختلف فکری، ادبی اور سیاسی پس منظر رکھنے والے افراد کی نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے عہد کے سیاسی مباحث، صحافتی ماحول اور قومی مسائل کو سمجھنے کے لیے ایسی تحریریں مفید ہوسکتی ہیں۔کسی بھی فکری رہنما کی تاریخی اہمیت جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس کے معاصرین نے اسے کس نظر سے دیکھا، اس کے افکار سے کس حد تک متاثر ہوئے اور کن امور میں اس سے اختلاف کیا۔ یہ باب اسی نوعیت کے مطالعے کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرتا ہے۔

باب پنجم: علماء اور دیگر شخصیات کی نظر میں
پانچواں باب اپنے موضوع اور وسعت کے لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں مولانا امین احسن اصلاحی کے تاثرات، جو سلیم منصور خالد کے انٹرویو کے ذریعے پیش کیے گئے ہیں، اور مولانا سیِّد جلال الدین عمری کا مضمون ’’مولانا مودودیؒ: دینی خدمات اور عصری معنویت‘‘ شامل ہیں۔مفتی عتیق الرحمن کی تحریر ’’تاریخ پر گہرے اثرات کا ذریعہ‘‘، ڈاکٹر مصطفیٰ الزرقا کا مضمون ’’علمِ شریعت کا امام‘‘، شیخ عبدالعزیز المبارک کی تحریر ’’وہ ہر آزمائش پر پورے اترے‘‘ اور پروفیسر محمد قطب کا مضمون ’’تحریکِ اسلامی کا بنیادی ستون‘‘ بھی اس باب میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ متعدد اکابرین اور علماء کے بارے میں ایک جامع حصہ مرتب کیا گیا ہے۔ ان میں مولانا مناظر احسن گیلانی، علامہ سیِّد سلیمان ندوی، مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا قاری محمد طیب، مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی اور مولانا عامر عثمانی جیسی علمی شخصیات شامل ہیں۔اسی حصے میں علامہ عقیل ترابی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا عبدالرحمن سلفی، مولانا عبدالقادر روپڑی، علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا سیِّد احمد جوہر دہلوی کے نام بھی درج ہیں۔

ممتاز شیعہ عالم علامہ طالب جوہری، بدیع الزماں کیکاؤس اور صاحبزادہ فضل الحق رضوی کے تاثرات کو بھی جگہ دی گئی ہے۔مریم جمیلہ، جو پہلے مارگریٹ مارکوس کے نام سے معروف تھیں، کی تحریر ’’سیِّد مودودیؒ کا مقام‘‘ بھی اسی باب کا حصہ ہے۔ مزید برآں محمد صلاح الدین کا مضمون ’’سیِّد مودودیؒ قیدیوں کی نظر میں‘‘ شامل ہے۔اس باب میں شامل مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے نام کتاب کے دائرۂ مطالعہ کو وسیع کرتے ہیں۔ اس سے قاری کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مولانا مودودیؒ کی علمی اور تحریکی شخصیت مختلف دینی و فکری حلقوں میں کس طرح دیکھی جاتی رہی۔تاہم علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں تعریف و تحسین کے ساتھ اس کے افکار، دلائل اور علمی نتائج کا تنقیدی مطالعہ بھی کیا جائے۔ اس کتاب کو زیادہ مفید بنانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس میں درج تاثرات کے ساتھ متعلقہ تصانیف کا مطالعہ کیا جائے اور مختلف آرا کا تقابل کیا جائے۔

باب ششم: اخبارات اور جرائد کی نظر میں
چھٹے باب میں اخبارات اور جرائد کے اداریوں اور مضامین کو جمع کیا گیا ہے۔ اس میں انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ کا اداریہ، روزنامہ ’’جنگ‘‘، روزنامہ ’’مشرق‘‘، روزنامہ ’’امروز‘‘ اور روزنامہ ’’جسارت‘‘ کے اداریے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اردو ڈائجسٹ کے مدیر الطاف حسن قریشی کا مضمون بھی درج ہے۔اخبارات کے اداریے اپنے عہد کے اجتماعی احساسات، صحافتی ترجیحات اور اہم شخصیات کے بارے میں رائج تصوّرات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کسی رہنما کے انتقال، اس کی خدمات یا اس کے اثرات پر مختلف اخبارات کا ردِعمل اس کے تاریخی مقام کے مطالعے میں مفید مواد فراہم کرسکتا ہے۔اس باب کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قاری مولانا مودودیؒ کے بارے میں صرف ذاتی یادداشتوں اور عقیدت مندانہ مضامین ہی پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ صحافت کے اجتماعی ردِعمل سے بھی واقف ہوتا ہے۔ اس طرح کتاب میں ذاتی تاثرات کے ساتھ ایک مختلف نوعیت کا لوازمہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔

باب ہفتم: قومی اور عالمی رہنماؤں کی نظر میں
ساتواں باب مولانا مودودیؒ کی شخصیت کے بین الاقوامی اور سیاسی اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔ اس میں جنرل محمد ضیاء الحق سے منسوب مضمون ’’اس صدی کے عظیم ترین مذہبی مفکر‘‘ شامل ہے۔ سعودی عرب کے شاہ خالد بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ فہد بن عبدالعزیز کے تاثرات کو ’’علم، زبان، قلم اور کردار سے اسلام کی خدمت کرنے والا مجاہد‘‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔ایران کے رہنما آیت اللہ خمینی سے منسوب تحریر ’’وہ پورے عالمِ اسلام کے قائد تھے‘‘، ترکی کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر نجم الدین اربکان کا مضمون ’’ہم ایک عظیم مفکر سے محروم ہوگئے‘‘، ملائیشیا کے وزیرِ اعظم الحاج تنکو عبدالرحمن سے منسوب تحریر ’’دنیاے اسلام کا ایک جلیل عظیم‘‘، لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کے تاثرات اور اردن کے ولی عہد شہزادہ حسن کا مضمون ’’ایک ناقابلِ تلافی نقصان‘‘ بھی اس باب میں شامل ہیں۔

ان تحریروں کی شمولیت سے کتاب کا دائرہ برصغیر سے آگے بڑھ کر عالمِ اسلام کی مختلف سیاسی و فکری شخصیات تک پھیل جاتا ہے۔ قاری کو یہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ مولانا مودودیؒ کی وفات کے موقع پر مختلف ملکوں اور سیاسی پس منظر رکھنے والے رہنماؤں نے ان کے بارے میں کیا اظہارِ خیال کیا۔البتہ ان بیانات کو ان کے تاریخی پس منظر میں پڑھنا ضروری ہے۔ کسی رہنما کے بارے میں تعریفی کلمات اس کی مقبولیت یا اس کے اثرات کا ایک پہلو تو دکھاتے ہیں، مگر اس کے افکار کی مکمل علمی جانچ کے لیے اصل تصانیف، تاریخی شواہد اور معروضی تجزیہ بھی ضروری ہوتے ہیں۔

باب ہشتم: حکیمِ جہاں اور چارہ گروں کی نظر میں
کتاب کا آٹھواں باب ’’حکیمِ جہاں؛ چارہ گروں کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ اس باب کی تفصیلی ذیلی فہرست فراہم کردہ کوائف میں درج نہیں، اس لیے اس کے مضامین کی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔کتاب کے اختتامی حصے میں مولانا مودودیؒ کا شجرۂ نسب، ان کی حیاتِ جاوداں کے ماہ و سال پر مشتمل زمانی خاکہ، اور ان کی تصنیفات، تالیفات و تراجم کی فہرست شامل ہے۔ یہ ضمیمے کتاب کی افادیت میں اضافہ کرتے ہیں، کیونکہ ان سے قاری کو سوانحی معلومات اور علمی کام کی تفصیلات ایک جگہ دستیاب ہوتی ہیں۔خصوصاً تصنیفات و تراجم کی فہرست ان قارئین کے لیے مفید ہوسکتی ہے جو مولانا مودودیؒ کی فکر کا منظم مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی دلچسپی کے موضوع کے مطابق کتابوں کا انتخاب کرسکتے ہیں اور پھر متعلقہ موضوع پر مزید تحقیق کی راہ اختیار کرسکتے ہیں۔

مرتب و مؤلف محمود عالم صدیقی: علمی و ادبی خدمات کا تعارف
کسی اہم کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے مرتب یا مؤلف کی علمی استعداد، تجربے اور موضوع سے وابستگی کا تعارف بھی ضروری ہے۔ ’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ کے مرتب محمود عالم صدیقی محقق، مصنف، مؤلف، مترجم اور شاعر ہیں۔ ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا دائرہ صحافت، نشریات، ترجمہ، شاعری، قرآنیات، اسلامی تحریکوں کی تاریخ اور علمی لوازمہ کی تدوین تک پھیلا ہوا ہے۔محمود عالم صدیقی نے 1967ء میں بی اے کیا، جب کہ 1969ء میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، کراچی یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تعلیمی زندگی کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ انہیں 1964ء میں ملک کے بہترین طالب علم شاعر قرار دیا گیا۔ وہ 1966ء سے 1967ء تک نیشنل کالج کی بزمِ ادب کے صدر بھی رہے۔ان کی یہ سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ان کی دلچسپی صرف انتظامی یا پیشہ ورانہ تعلیم تک محدود نہیں تھی، بلکہ ادب اور تخلیقی اظہار سے بھی ان کا تعلق ابتدائی زمانے ہی سے قائم تھا۔

ریڈیو، ٹیلی وژن اور صحافتی خدمات
محمود عالم صدیقی نے 1969ء سے 1973ء تک ریڈیو پاکستان کے شعبۂ خبر، عالمی سروس میں تبصرہ نگار، مترجم اور مصنف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں انہیں خبروں، عالمی حالات، تبصروں اور ترجمے سے متعلق کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوا۔بعدازاں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن اور اے آر وائی کے حالاتِ حاضرہ اور مذہبی پروگراموں کے لیے مسودے تحریر کیے۔ مختلف تشہیری اداروں کے لیے بحیثیت کاپی رائٹر فنی اور تخلیقی خدمات بھی انجام دیں۔ ان سرگرمیوں نے ان کے لیے مختلف موضوعات پر لوازمہ کی تیاری، زبان کے استعمال اور تحریر کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ان کا تعلق شاعری سے بھی رہا۔ پاکستان میں مختلف مشاعروں میں شرکت کے علاوہ نومبر 1998ء میں دہلی میں منعقدہ کل ہند و پاک مشاعرے میں بھی شریک ہوئے، جس کی صدارت گلزار دہلوی نے کی۔ انہوں نے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورموں پر مقالے بھی پیش کیے۔ان کے دوروں میں امریکہ، جاپان، تائیوان، انگلستان، جرمنی، فرانس، ہالینڈ، ہانگ کانگ، بھارت، نیپال اور جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔ بین الاقوامی روابط اور مختلف معاشروں سے واقفیت نے ان کے علمی و ادبی تجربے کے دائرے کو وسعت دینے میں کردار ادا کیا ہوگا۔

اسلامی تاریخ اور تحقیقی تدوین سے وابستگی
محمود عالم صدیقی کی علمی خدمات کا ایک اہم پہلو اسلامی تحریکوں اور جماعتِ اسلامی کی تاریخ کو مرتب کرنا ہے۔ فراہم کردہ کوائف کے مطابق وہ کئی برسوں سے جماعتِ اسلامی کراچی میں ’’جہدِ مسلسل‘‘ کے عنوان سے چار جلدوں پر مشتمل ایک تحقیقی منصوبے پر کام کرتے رہے ہیں۔ اس منصوبے میں سیِّد مودودیؒ، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اور سیِّد منور حسن کے ادوارِ امارت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کی پہلی دو جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔اس کام کی اہمیت اس امر میں ہے کہ کسی تحریک کی تاریخ مرتب کرتے وقت صرف نمایاں واقعات کو بیان کرنا کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اصل دستاویزات، مختلف ادوار کے حالات، شخصیات کے بیانات، تاریخی حوالوں، حواشی اور اشاریے کی مدد سے واقعات کو قابلِ تحقیق صورت میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ محمود عالم صدیقی کے اس تحقیقی منصوبے کی نوعیت بھی اسی علمی ضرورت سے وابستہ ہے۔

انہوں نے مولانا جلال الدین عمری کے حالات و خدمات، قرآنیات، فریضۂ اقامتِ دین، سیِّد مودودیؒ کے تصورِ جہاد، اعجازِ قرآن، جماعتِ اسلامی اور تحریکِ پاکستان، رمضان المبارک اور دیگر موضوعات سے متعلق معلوماتی کتابچوں اور مرتبہ تحریروں پر بھی کام کیا ہے۔ان کی مرتب کردہ تحریروں میں ’’قرآنیات‘‘، ’’فریضۂ اقامتِ دین اور سیِّد مودودی کا جہاد‘‘، ’’اعجازِ قرآن‘‘، ’’جماعتِ اسلامی اور تحریکِ پاکستان‘‘ اور رمضان المبارک کے بارے میں مولانا مودودیؒ کے مضامین کا مجموعہ قابلِ ذکر ہیں۔محمود عالم صدیقی نے ’’سیِّد مودودی یادگاری تحقیقی مرکز‘‘ بھی قائم کیا، جس میں قرآنِ مجید کے نسخوں، اسلام، تاریخِ اسلام، اسلامی تحریکوں، جماعتِ اسلامی اور مولانا مودودیؒ کی تصنیفات سے متعلق لوازمہ جمع کیا گیا ہے۔ ایسے تحقیقی مراکز کی افادیت اس بات میں ہے کہ علمی لوازمہ کو محفوظ کیا جائے اور آئندہ نسلوں کے لیے اس تک رسائی کے امکانات پیدا کیے جائیں۔

ان کے ان علمی کاموں کے پس منظر میں ’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ کو دیکھیں تو یہ کتاب ان کی تحقیق، تدوین اور تاریخی لوازمہ جمع کرنے کی سرگرمیوں کا ایک اہم نمونہ دکھائی دیتی ہے۔ کتاب کی تیاری میں مختلف مصنفین، اہلِ علم، اہلِ خانہ، اخبارات اور رہنماؤں کے تاثرات کو ایک جگہ جمع کرنا ایک ایسا کام ہے جس کے لیے لوازمہ کی تلاش، انتخاب، ترتیب اور موضوعاتی تقسیم کی ضرورت ہوتی ہے۔کتاب کے آغاز میں شامل فارسی اشعار پاکستانی شاعر رزمی امروہوی کے ہیں۔ یہ تفصیل بھی اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کسی کتاب کی تیاری میں مرتب کے اپنے کام کے ساتھ دیگر اہلِ قلم کے مواد اور ادبی سرمایے کو بھی مناسب جگہ دینا اہم ہوتا ہے۔

کتاب کی ادبی، تحقیقی اور تاریخی اہمیت
’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ کی بنیادی اہمیت اس کے جامع موضوعاتی دائرے اور مختلف نوعیت کے لوازمہ کے اجتماع میں ہے۔ مولانا مودودیؒ کی شخصیت پر لکھنے والے افراد میں اہلِ خانہ، دوست، شاگرد، علماء، دانش ور، صحافی، ادیب اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔ اس تنوع کے ذریعے قاری کو ایک ہی شخصیت کے بارے میں مختلف قسم کے تاثرات اور تجزیات تک رسائی ملتی ہے۔کتاب کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں مولانا مودودیؒ کی شخصیت کو صرف ان کی سیاسی یا تحریکی شناخت تک محدود نہیں کیا گیا۔ ان کی خاندانی زندگی، علمی جدوجہد، صحافت، تصنیف، تفسیر، دینی فکر اور بین الاقوامی اثرات سے متعلق لوازمہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ یوں یہ کتاب سوانحی مطالعے کے ساتھ ساتھ برصغیر کی فکری اور دینی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی قابلِ توجہ بنتی ہے۔اس کتاب کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں ذاتی یادداشتوں اور تعریفی مضامین کے ساتھ اخبارات کے اداریوں اور مختلف علمی و فکری شخصیات کی آرا کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ اس سے قاری کو ایک ایسی تحریری فضا میسر آتی ہے جس میں شخصیت کا مطالعہ مختلف ذرائع کی مدد سے کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اس نوعیت کی کتاب کو پڑھتے وقت ایک اہم علمی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے: تاثرات، تاریخی واقعات، ذاتی یادداشتوں اور مستند دستاویزی شواہد کی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کسی مضمون میں درج ذاتی تاثر اپنی جگہ اہم ہے، مگر اسے کسی واقعے کا قطعی ثبوت سمجھنے سے پہلے متعلقہ ماخذ کی جانچ ضروری ہے۔ اسی طرح مختلف شخصیات کے اقوال کی نسبت، تاریخی تاریخوں، علمی اسناد اور دیگر سوانحی تفصیلات کی تصدیق کے لیے اصل حوالوں سے رجوع کرنا چاہیے۔یہ اصول کتاب کی اہمیت کم نہیں کرتا، بلکہ اس کے مطالعے کو زیادہ سنجیدہ اور بامقصد بناتا ہے۔ اگر قاری کتاب میں موجود معلومات کو متعلقہ اصل تصانیف، تاریخی دستاویزات اور دیگر مستند مآخذ کے ساتھ ملا کر دیکھے تو اس کے لیے ایک زیادہ متوازن اور جامع فہم پیدا ہوسکتی ہے۔

مولانا مودودیؒ کی شخصیت: علم، عمل اور استقامت
مولانا مودودیؒ کی شخصیت کے بارے میں ان کے مداحوں کے تاثرات میں ایک نمایاں پہلو قول و عمل کی یکسانیت، فکری استقامت، علمی انہماک اور مقصد سے وابستگی کا ہے۔ انہیں ایک مفسرِ قرآن، ادیب، صحافی، محقق، مفکر، قائد، مصنف اور دینی رہنما کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ ان کے حامیوں کے لیے فکری تحریک کا ذریعہ ہے، جب کہ دوسرے قارئین کے لیے یہ برصغیر کی دینی و سیاسی تاریخ کے ایک مؤثر کردار کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔مولانا مودودیؒ نے اپنے قلم کو دینی و فکری مباحث کے لیے استعمال کیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ اس سلسلے میں ان کی نمایاں ترین علمی خدمات میں شمار ہوتی ہے۔ اس تفسیر میں قرآنِ مجید کے پیغام کو معاصر انسانی، معاشرتی اور اجتماعی مسائل کے تناظر میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کی دوسری تصانیف میں بھی فرد اور معاشرے کی اصلاح، اخلاقی ذمہ داری، اجتماعی عدل، دینی شعور اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ملتی ہے۔ ان کے کام سے یہ سبق لیا جاسکتا ہے کہ کسی نظریے کی خدمت محض جذباتی وابستگی سے نہیں ہوتی، بلکہ مطالعے، تحقیق، تحریر، تنظیم، کردار اور مسلسل جدوجہد سے ہوتی ہے۔
ان کی زندگی میں آزمائشیں اور مشکلات بھی آئیں۔ ان کے سیاسی و دینی موقف سے اختلاف کرنے والے بھی موجود رہے اور ان کی فکر پر تنقید بھی ہوتی رہی۔ ایک سنجیدہ قاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے افکار سے واقفیت حاصل کرے، ان کے دلائل کو سمجھے، ان کی خدمات کا جائزہ لے اور جہاں اختلاف ہو وہاں علمی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے۔کسی مفکر کی حقیقی قدر کا تقاضا یہ نہیں کہ اس کے ہر قول کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی علمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے افکار کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے۔ یہی رویہ علم کو شخصیت پرستی سے محفوظ رکھتا اور تحقیق کو زندہ رکھتا ہے۔ فکر و نظریہ اور عقیدہ پر کبھی بھی عقیدت کو غالب نہ آنے دیں۔

مولانا مودودیؒ کی وفات اور علمی ورثے کی یاد
مولانا مودودیؒ کی وفات 22 ستمبر 1979ء کو ہوئی۔ ان کی وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً 76 برس تھی۔ ان کی وفات سے متعلق سوانحی روایات کے مطابق انہیں گردوں اور قلب کی تکالیف کے علاج کے لیے امریکہ لے جایا گیا تھا، جہاں ان کے صاحب زادے طبی خدمات انجام دے رہے تھے۔ علاج اور آپریشن کے باوجود وہ صحت یاب نہ ہوسکے۔ان کی نمازِ جنازہ پہلے بفیلو، نیویارک، میں ادا کی گئی، بعدازاں ان کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت علامہ یوسف القرضاوی نے کی، جو اس وقت قطر یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے تھے اور اخوان المسلمون شام کے سابق رہنما کے طور پر بھی معروف تھے۔
ان کی وفات پر مختلف دینی، علمی اور سیاسی حلقوں سے تعزیتی تاثرات سامنے آئے۔ زیرِ نظر کتاب میں عالمی رہنماؤں، علماء اور اخبارات سے متعلق جو لوازمہ شامل کیا گیا ہے، وہ اسی تاریخی پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔کسی صاحبِ علم کی وفات کے بعد اس کی اصل میراث اس کی تصانیف، علمی مباحث، کردار اور ان افکار میں ہوتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مطالعے کا موضوع بنتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے بارے میں مرتب کی گئی یہ کتاب بھی ان کے علمی اور تحریکی ورثے کو محفوظ کرنے کی اسی کوشش کا حصہ ہے۔

نئی نسل کے لیے اس کتاب کا پیغام
آج کی نسل ایسے دَور میں زندگی گزار رہی ہے جہاں معلومات کی فراوانی ہے، لیکن سنجیدہ مطالعے، تحقیق، یکسوئی اور فکری تربیت کے مواقع کو شعوری طور پر تلاش کرنا پڑتا ہے۔ چند سطروں کی معلومات، مختصر ویڈیوز یا سنی سنائی باتیں کسی مفکر کی شخصیت کو پوری طرح سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے اصل تصانیف پڑھنا، تاریخی پس منظر سمجھنا اور مختلف آرا کا تقابلی مطالعہ کرنا ضروری ہے۔’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ نوجوان قارئین کو ایک ایسی شخصیت کے بارے میں متعدد تحریریں فراہم کرتی ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مطالعے، تصنیف، صحافت، دینی فکر اور تحریکِ اسلامی کے لیے وقف کیا۔ اس کتاب سے یہ ترغیب حاصل کی جاسکتی ہے کہ انسان اپنی علمی تربیت کو عمر کے کسی ایک مرحلے تک محدود نہ کرے، بلکہ زندگی بھر سیکھنے کا عمل جاری رکھے۔

طلبہ کے لیے یہ کتاب مطالعے اور تحقیق کے ذوق کو بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اساتذہ اور اہلِ قلم کے لیے اس میں مختلف زاویوں سے مرتب کیا گیا لوازمہ دلچسپی رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ اور تحریکات پر تحقیق کرنے والے افراد کے لیے یہ ایک ایسا مجموعہ ہے جس سے متعلقہ شخصیات، تحریروں اور موضوعات کی نشان دہی ہوسکتی ہے۔ عام قارئین بھی اس کے ذریعے مولانا مودودیؒ کی زندگی اور خدمات کے بارے میں ایک وسیع تر تعارف حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کتاب پڑھنے کا مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ اپنے فہم کو بہتر بنانا، سوالات پیدا کرنا، دلائل کو جانچنا اور زندگی میں علم کی روشنی سے فائدہ اٹھانا ہے۔ مطالعہ اسی وقت حقیقی معنویت اختیار کرتا ہے جب وہ انسان کے اندر غوروفکر، دیانت، برداشت اور حقیقت تک پہنچنے کی جستجو پیدا کرے۔

ایک مجموعی تبصرہ اور حاصلِ مطالعہ
’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ اپنی نوعیت کی ایک اہم مرتبہ کتاب ہے، جس میں مولانا سیِّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی زندگی، فکر، خدمات اور اثرات کے بارے میں مختلف شخصیات کے تاثرات اور تحریریں یکجا کی گئی ہیں۔ اس کی آٹھ ابواب پر مشتمل ترتیب، موضوعات کا تنوع، اہلِ خانہ سے لے کر عالمی رہنماؤں تک مختلف حلقوں کی نمائندگی، اخبارات کے اداریوں کی شمولیت اور آخر میں سوانحی و تصنیفی معلومات کی فراہمی اسے ایک وسیع دائرۂ مطالعہ رکھنے والا مجموعہ بناتی ہے۔کتاب کے مرتب محمود عالم صدیقی کی تحقیقی، تدوینی، صحافتی، ادبی اور تاریخی سرگرمیوں کا پس منظر بھی اس منصوبے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ریڈیو پاکستان سے وابستگی، ٹیلی وژن کے لیے تحریری کام، شاعری، تراجم، علمی کتابچوں کی تدوین، جماعتِ اسلامی کی تاریخ مرتب کرنے کا منصوبہ اور یادگاری تحقیقی مرکز کا قیام ان کی علمی دلچسپیوں کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔

اس کتاب کے مطالعے سے مولانا مودودیؒ کی شخصیت کے بارے میں کئی طرح کے سوالات پیدا کیے جاسکتے ہیں: ان کی علمی تشکیل کن مراحل سے گزری؟
صحافت نے ان کے طرزِ فکر کو کس طرح متاثر کیا؟
ان کی تحریروں نے اسلامی فکر کے مباحث میں کیا کردار ادا کیا؟
ان کے اہلِ خانہ اور معاصرین نے ان کی شخصیت کے کن پہلوؤں کو نمایاں کیا؟
اور ان کی تصانیف سے آج کے قاری کو کیا علمی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے یہ کتاب ایک نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد قاری مولانا مودودیؒ کی اصل تصانیف، متعلقہ تاریخی مآخذ اور مختلف علمی آرا کی مدد سے اپنے مطالعے کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔کتاب کے بارے میں ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ اس کے تمام مضامین کو یکساں نوعیت کا تحقیقی لوازمہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ کچھ تحریریں ذاتی یادداشتیں اور تاثرات ہیں، کچھ علمی تجزیے، کچھ صحافتی اداریے اور کچھ سیاسی و تعزیتی بیانات۔ ان سب کی اپنی اپنی اہمیت ہے، لیکن ان کی علمی حیثیت اور نوعیت میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مطالعہ کیا جائے تو کتاب سے زیادہ متوازن اور مستند استفادہ ممکن ہوگا۔

قارئین کے نام پیغام: کتاب خریدیے، پڑھیے اور علم کے سفر کو آگے بڑھائیے
کتابیں کسی قوم کا علمی سرمایہ ہوتی ہیں۔ وہ گزرے ہوئے زمانوں کے تجربات محفوظ کرتی ہیں، شخصیات کی جدوجہد سے روشناس کراتی ہیں اور نئی نسل کو یہ موقع دیتی ہیں کہ وہ ماضی کے مطالعے سے حال کو سمجھے اور مستقبل کے لیے بہتر راستے تلاش کرے۔’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ ان قارئین کے لیے قابلِ توجہ کتاب ہے جو مولانا مودودیؒ کی زندگی، علمی خدمات، فکری اثرات اور تحریکِ اسلامی کی تاریخ کے بارے میں متنوع لوازمہ ایک جگہ پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس میں موجود مختلف تحریریں قاری کو ایک ہی موضوع پر متعدد زاویوں سے غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔میری رائے میں اس کتاب کو خصوصاً طلبہ، اساتذہ، محققین، اہلِ قلم، تاریخ و سوانح کے قارئین اور اسلامی فکر میں دلچسپی رکھنے والے افراد تک پہنچنا چاہیے۔ مطالعے کے بعد قاری کو چاہیے کہ وہ مولانا مودودیؒ کی اصل تصانیف سے بھی رجوع کرے، مختلف آرا کا تقابل کرے اور علمی دیانت کے ساتھ اپنے نتائج اخذ کرے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل محض ناموں اور نعروں سے واقف نہ ہو، بلکہ علمی شخصیات کے افکار، تجربات، جدوجہد اور تاریخی کردار کو بھی سمجھے، تو ایسی کتابوں کا مطالعہ عام کرنا ہوگا۔ کتاب خریدنا اور پڑھنا صرف ایک مصنف یا مرتب کی حوصلہ افزائی نہیں، بلکہ علم کے سفر میں اپنا حصہ ڈالنا بھی ہے۔میری قارئین سے گزارش ہے کہ ’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ کو حاصل کیجیے، توجہ سے پڑھیے، اس میں پیش کردہ مختلف آرا پر غور کیجیے اور مولانا مودودیؒ کی اصل تصانیف کے مطالعے کی طرف بھی قدم بڑھائیے۔ کتاب کو محض الماری کی زینت بنانے کے بجائے اسے مطالعے، تحقیق، مکالمے اور فکری تربیت کا ذریعہ بنائیے۔ یہی کسی علمی کتاب سے حقیقی استفادے کا راستہ ہے۔

کتاب کے اشاعتی کوائف
نامِ کتاب: ’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘
تحقیق، تدوین و تالیف: محمود عالم صدیقی
ناشر: زیک بُکس، کراچی
سنِ اشاعت: 2020ء، طبعِ اوّل
ضخامت: 293 صفحات، علاوہ ابتدائی 12 صفحات
حصولِ کتاب کے لیے رابطہ: 0335-9235500
فراہم کردہ اشاعتی معلومات کے مطابق پاکستان بھر میں کتاب منگوانے کے لیے مذکورہ نمبر پر کال یا ایس ایم ایس کیا جاسکتا ہے۔ رابطہ کرنے سے پہلے کتاب کی دستیابی اور موجودہ قیمت معلوم کرلیجیے۔

اختتامی کلمات
مولانا سیِّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی زندگی کا مطالعہ ہمیں علم، مطالعے، تحریر، فکری جدوجہد اور مقصد سے وابستگی کی اہمیت یاد دلاتا ہے، جب کہ محمود عالم صدیقی کی مرتب کردہ یہ کتاب ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں تک رسائی کا ایک ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ اس کی اصل افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب قاری اسے محض تعریفی مضامین کا مجموعہ سمجھ کر نہیں، بلکہ ایک علمی و تاریخی دستاویز کے طور پر پڑھے گا، اس کے لوازمہ پر غور کرے گا اور متعلقہ اصل مآخذ کی طرف بھی رجوع کرے گا۔
کتابوں کی دنیا میں بعض تصانیف معلومات دیتی ہیں، بعض سوالات پیدا کرتی ہیں اور بعض انسان کو مزید مطالعے پر آمادہ کرتی ہیں۔ ’’سیِّد مودودیؒ نسلوں کے رہنما‘‘ ان قارئین کے لیے ایک قابلِ مطالعہ مجموعہ ہے جو ایک اہم دینی و فکری شخصیت کو مختلف نگاہوں سے سمجھنے اور اس کے علمی ورثے سے واقفیت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع کے حصول، حقائق کی دیانت دارانہ تحقیق، اختلافِ رائے کے احترام اور مطالعے سے حاصل ہونے والی بصیرت کو اپنی زندگیوں میں بروئے کار لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment